پاکستان
تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ
کے وقت کا صرف چیئرمین عمران خان کو علم ہے اور اگر لانگ مارچ میں عمران خان کو
کچھ ہوا تو حالات قابو نہیں کر سکیں گے۔
اسلام آباد
میں پارٹی رہنماؤں علی زیدی اور عمر ایوب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسد عمر
کا کہنا تھا کہ فیصلوں کا وقت آ گیا ہے اگر آپ فیصلہ نہیں کریں گے تو تاریخ آپ کو
معاف نہیں کرے گی۔
لانگ مارچ کی
تاریخ کے اعلان کا صرف عمران خان کو پتا ہے، اس کی کال کے وقت کا صرف انھیں علم
ہے۔ حکومت عمران خان کی سیکورٹی اور لانگ مارچ کے شرکا کی سکیورٹی کی مکمل طور پر
ذمہ دار ہے۔
’اگرعمران
خان کو کچھ ہوا یا انھیں حراست میں لینے کی کوشش کی گئی تو حالات قابو میں رکھنا
کسی کے بس میں نہیں رہیں گے۔‘
انھوں نے
حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’عدالتوں کے سزا یافتہ افراد کی سکیورٹی کی ذمہ دار
حکومت ہے اور ملک کے سابق اور مستقبل کے وزیر اعظم اور ملک کی سب سے بڑی جماعت کے
لیڈر کو حکومت سکیورٹی نہیں دے سکتی۔‘
لانگ مارچ کے
متعلق پلان پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کے پی، گلگت
بلتستان اور مظفر آباد سے لوگ اسلام آباد آئیں گے اور سندھ اور بلوچستان کیونکہ
اسلام آباد سے دور ہیں تو یہاں ان کی نمائندگی تو ہو گی لیکن جس دن لانگ مارچ کیا
جائے گا تو ان صوبوں کے تمام بڑے شہروں کی سڑکوں پر لوگ نکلیں گے اور عوامی یکجہتی
کا اظہار کیا جائے گا۔
ان کا کہنا
تھا کہ ہماری حکومت جانے کے بعد سے روپے کی ڈالر کے مقابلے میں قدر گرنے سے پاکستان
کے قرض میں اب تک دو ہزار آٹھ سو ارب سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے۔ فیصلے کرنے والے کان کھول کر سن لیں، تاریخ معاف
نہیں کرتی۔
انھوں نے کہا
کہ معاشی حالات کو قابو کرنا مفتاح اسماعیل کے بس کی بات نہیں، ان کے باس کو پیغام
دیتا ہوں ان پر رحم کریں۔
اسد عمر کا
کہنا تھا کہ موجودہ الیکشن کمیشن پر ہمیں صفر اعتماد ہے، اب صرف الیکشن نہیں ہونا
بلکہ صاف اور شفاف الیکشن ہونا ضروری ہے۔ جو الیکشن کروائے اس پر تمام سیاسی
جماعتوں کا اعتماد ہونا ضروری ہے۔
اس موقعے پر پی
ٹی آئی کے رہنما علی زیدی نے ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ 63 اے کا فیصلہ
بھی اس رات بارہ بجے سنا دیا جاتا تو حالات ٹھیک رہتے۔
بلاول بھٹو پر
تنقید کرتے ہوئے علی زیدی نے کہا کہ ’ان کے دورۂ امریکہ کا موازنہ عمران خان یا شاہ
محمود کے دورے سے کر لیں، وہ کل کے بچے ہاتھ باندھے انٹونی بلنکن کے سامنے کھڑے نظر
آئے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بچہ کیا مذاکرات کرے گا،
کیا دو طرفہ بات چیت ہو گی اور یہ کیا بھیک مانگیں گے۔‘