پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ اُنھیں شیریں مزاری کی گرفتاری کا سن کر خوشی نہیں ہوئی۔
مسلم لیگ (ن) کی سوشل میڈیا ٹیم سے گفتگو میں اُنھوں نے کہا کہ شیریں مزاری پر یہ مقدمہ بزدار حکومت میں قائم ہوا اور 800 کنال کی اراضی محکمہ مال کی ہے جو انھوں نے بوگس کمپنی کے نام منتقل کی۔ اُنھوں نے کہا کہ اینٹی کرپشن نے اگر اُنھیں گرفتار کیا ہے تو کوئی وجہ ہو گی۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اس معاملے پر عورت کارڈ کھیل رہی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ جب دو مرتبہ اُنھیں گرفتار کیا گیا تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ اُن پر کوئی الزام تھا۔ ’ایک یہ تھا میں نے اپنے والد کی معاونت کی، اس وقت میری عمر بھی 16 یا 17 برس تھی۔‘
اُنھوں نے کہا کہ نیب نے چوہدری شوگر ملز کیس میں اُنھیں گرفتار کیا مگر اس میں اُن کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھے، تفتیش میں بھی ان سے ادھر ادھر کی باتیں کی جاتی رہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ اس کے باوجود اُنھوں نے اس کے باوجود کوئی مظلومیت کارڈ نہیں کھیلا۔
اُنھوں نے کہا کہ وہ انتقام پر یقین نہیں رکھتیں۔
مریم نواز نے کہا کہ اگر آج شیریں مزاری گرفتار ہوئی ہیں تو اُنھیں کسی الزام پر گرفتار کیا گیا ہے۔ اُنھیں ان الزامات کو غلط ثابت کرنا چاہیے اور اگر وہ اس میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو مریم نواز ان کے ساتھ کھڑی ہو گی۔