الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے تحریک انصاف کے 25 منحرف ممبران صوبائی اسمبلی کو ڈی سیٹ کیے جانے کے بعد یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں منحرف اراکین کے ووٹوں کی مدد سے وزیر اعلیٰ منتخب ہونے والے حمزہ شہباز کام جاری رکھ سکیں یا پھر انھیں دوبارہ ایوان میں اکثریت ثابت کرنا ہو گی۔
یاد رہے کہ حمزہ شہباز 197 ووٹ حاصل کر کے وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے تھے، جس میں تحریک انصاف کے 25 منحرف اراکین کے ووٹ بھی شامل تھے جو اب ڈی سیٹ کر دیے گئے ہیں۔
اگر حمزہ شہباز کو ایوان میں اکثریت ثابت کرنی پڑتی ہے تو اسی صورت میں صورتحال کافی دلچسپ ہو چکی ہے کیونکہ بظاہر راہ حق پارٹی کے منتخب ایک رکن صوبائی اسمبلی اور اسمبلی میں موجود چار دیگر آزاد اراکین کے ووٹ موجودہ صورتحال میں انتہائی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
مسلم لیگ نواز اور اتحادی جماعتیں
پنجاب اسمبلی کی ویب سائٹ کے مطابق اس وقت ایوان میں مسلم لیگ نواز کے ممبران کی تعداد 166 (بشمول جگنو محسن جنھوں نے حال ہی میں مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی ہے) ہے مگر ان میں سے چار اراکین ایسے ہیں جو پارٹی سے ناراض ہیں اور انھوں نے حال ہی میں ہونے والے وزیراعلی کے انتخاب میں حمزہ شہباز کو ووٹ نہیں دیا تھا۔
ان چار ممبران کی عدم موجودگی میں مسلم لیگ کے اراکین کی کُل تعداد 162 رہ جاتی ہے۔ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ نواز کی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین کی کُل تعداد سات ہے۔ یہ وہ اراکین ہیں جنھوں نے حالیہ الیکشن میں بھی حمزہ شہباز کو ووٹ دیا تھا۔
اس طرح مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے اراکین کی مجموعی تعداد 169 بن جاتی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف اور اتحادی جماعتیں
الیکشن کمیشن کے فیصلے سے قبل پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے اراکین کی تعداد 183 تھی تاہم 25 ارکان کے ڈی سیٹ ہو جانے کے بعد یہ تعداد گھٹ کر اب 158 رہ گئی ہے۔
اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ ق کے اراکین کی تعداد دس ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر ان اتحادیوں کی تعداد 168 بنتی ہے۔ راہ حق پارٹی کا ایک رکن اور چار آزاد امیدوار ایسی صورتحال میں اسمبلی میں موجود چار آزاد اراکین اور راہ حق پارٹی کا ایک رکن فیصلہ کن حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔
یاد رہے کہ راہ حق پارٹی کے ایک رکن نے حالیہ الیکشن میں حمزہ شہباز کو ووٹ دیا تھا تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ پارٹی مستقبل کے حوالے سے کیا فیصلہ کرتی ہے۔
پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کی کُل تعداد 168 جبکہ مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کی مجموعی تعداد 169 ہے۔ اور فی الحال ایسے ہی لگتا ہے کہ آزاد امیدواروں کا رخ جس جانب ہو گا پلڑہ ادھر کا ہی بھاری ثابت ہو گا۔
قانونی ماہرین کے مطابق ایسی صورتحال میں اگر وزیر اعلیٰ کا الیکشن ہوتا ہے اور کوئی امیدوار سادہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا ہے تو پھر اسی وقت ’رن آف الیکشن‘ ہو گا، جس میں کسی امیدوار کا ایک بھی ووٹ زیادہ ہو گا تو وہ وزیر اعلیٰ منتخب ہو جائے گا۔