آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

تفتیشی اداروں میں مبینہ حکومتی مداخلت پر سپریم کورٹ کا از خود نوٹس

پاکستان کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تفتیشی اداروں میں مبینہ طور پر حکومتی مداخلت سے متعلق از خود نوٹس لیا ہے اور اس کی سماعت انیس مئی کو دن ایک بجے سپریم کورٹ کا پانچ لارجر بینچ دن ایک بجے اس کی سماعت کرے گا۔

لائیو کوریج

  1. صدر مملکت عارف علوی نے سینیٹ کا اجلاس طلب کر لیا

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سینیٹ کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔ یہ اجلاس 23 مئی بروز سوموار سہ پہر چار بجے طلب کیا گیا ہے۔

    ایوان صدر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اجلاس آئین کے آرٹیکل 54 (1) کے تحت وزیراعظم کی ایڈوائس پر طلب کیا گیا۔

  2. لیاقت علی خان سے عمران خان تک: پاکستان کے وہ وزرائے اعظم جنھیں اپنے قتل کیے جانے کا خدشہ رہا

  3. کیا عمران خان پاکستان کی نئی اسٹیبلشمنٹ ہیں؟: عاصمہ شیرازی کا کالم

  4. سابق ایس ایس جی کمانڈو عمران خان کے نئے سیکیورٹی انچارج تعینات

    پاکستان تحریک انصاف نے سابق وزیراعظم عمران خان کی سیکیورٹی کے لیے نئے انتظامات کرتے ہوئے سابق ایس ایس جی کمانڈو لیفٹیننٹ کرنل (ر) عاصم کو چیرمین عمران خان کا سیکیورٹی انچارج تعینات کردیا ہے-

    خیال رہے کہ اس سے قبل عمران خان نے عوامی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انھیں قتل کرنے کی سازش تیار کی جا رہی ہے۔

  5. عوام فیصلہ کریں گے ملک کی قیادت کون کرے گا، عمران خان

    تحریک انصاف چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ الیکشن جلد از جلد کروائے جائیں۔

    صوابی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ ’ہم صرف الیکشن چاہتے ہیں۔‘

    ’ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کے لوگ فیصلہ کریں کہ ملک کی قیادت کون کرے گا۔‘

    عمران خان نے جلسے کے شرکا سے مخاطب ہوتے ہوئے اپیل کی کہ ’آپ نے گرمی دیکھنی ہے اور نا یہ دیکھنا ہے کہ بارش نہیں ہوئی۔ آپ سب سے اسلام آباد آنا ہے۔‘

  6. حکومت ایف آئی اے کو تباہ کر رہی ہے، عمران خان

    تحریک انصاف چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت ایف آئی اے کے ادارے کو تباہ کر رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ایف آئی اے کے جن افسروں نے شریف خاندان کے خلاف تحقیقات کیں، ان میں سے ایک کی موت ہوئی اور دوسرا زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے۔‘

    صوابی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ ’اسی طرح ادارے ختم ہوتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں بتاوں گا کہ کون سی زہر استعمال کی جاتی ہے جو کھانے میں ڈالتے ہیں جس سے ہارٹ اٹیک ہو جاتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جاپان پر ایٹم بم گرایا گیا لیکن وہ قوم پھر بھی کھڑی ہو گئی۔ افغانستان میں 40 سال سے انتشار ہے پھر بھی وہ قوم تگڑی ہے۔ جب ایک قوم اچھے اور برے کی تمیز چھوڑ دیتی ہے تو وہ ختم ہو جاتی ہے۔‘

  7. پاکستان کے باہر اور اندر سے مل کر سازش ہوئی، عمران خان

    تحریک انصاف چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ان کی حکومت کے خلاف پاکستان کے باہر اور اندر سے مل کر سازش ہوئی۔

    صوابی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ ’جنھوں نے یہ حکومت مسلط کی ہے، ان کو پیغام دینا ہے۔‘

    سابق حکومتوں کو دہشت گردی کے خلاف امریکہ کا ساتھ دینے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ صوابی کے جو لوگ اسلام آباد مارچ میں شامل نہیں ہو سکے وہ مقامی طور پر نکلیں۔

  8. ٹی وی چینلز ریاستی اداروں بالخصوص عدلیہ اور فوج کی ’تضحیک سے باز‘ رہیں: پیمرا

    پیمرا کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ چند ہفتوں سے ٹی وی چینلز کی نشریات میں اس حوالے سے کافی تشویش ناک مواد نشر کیا گیا جو کہ سراسر ریاستی اداروں کی ہرزہ سرائی اور توہین کے زمرے میں آتا ہے اور ریاستی اداروں کے خلاف بادی النظر میں پروپیگنڈا ہے۔‘

  9. ڈسپلن سے ہٹ کر ووٹ دیا جائے تو سیاسی پارٹی ٹی پارٹی بن جائے گی: چیف جسٹس, شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    پاکستان کی سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرینس کی سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے ہیں کہ عدالتی کندھے کمزور نہیں ہیں کیونکہ پاکستان کا آئین عدالتی کندھے ہیں۔

    پیر کو سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ صدارتی ریفرنس اہم نوعیت کا معاملہ ہے اور عدالت اس پر رائے دینا چاہتی ہے۔

    چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ بادی النظر میں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ موجودہ حکومت کی طرف سے تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں کیونکہ اٹارنی جنرل بھی وفاق کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ حکمراں اتحاد میں شامل بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے وکیل مخدوم علی خان اس وقت ملک میں موجود نہیں ہیں۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے وکیل مصطفی رمدے کا کہنا تھا کہ انحراف خالصتاً سیاسی اختلافات پر بھی ہوسکتا ہے اور آرٹیکل تریسٹھ اے میں ڈی سیٹ کی سزا فراہم کی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے بی این پی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں منحرف ارکان کے لیے ڈی سیٹ کی سزا کافی ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن قومی اسمبلی کے ارکان سے متعلق ریفرینس مسترد کر چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئین جہموریت کو فروغ دیتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آئین سیاسی جماعت کو مضبوطی بھی کرتا ہے۔ بی این پی کے وکیل کا کہنا تھا کہ پارٹی سربراہ بھی منحرف ارکان کے خلاف کارروائی نہیں کرتے اور ایسی صورت حال میں عدالت پارٹی سربراہوں کے کنڈیکٹ کو بھی سامنے رکھے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے منحرف رکن اپنے پارٹی سربراہ کو اپنے اقدام پر راضی کر لے جس پی بی این پی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہماری سیاسی جماعتوں میں اتنی جہموریت نہیں ہے اور ہر جماعت میں پارٹی سربراہ کی ڈکٹیر شپ ہے۔

    جسٹس اعجاز الااحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انحراف سے بہتر ہے استعفیٰ دے دیں۔ انھوں نے کہا کہ استعفیٰ دینے سے سسٹم بھی بچ جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ استعفیٰ دینے والے کو عوام ووٹ دیں تو وہ دوبارہ آجائے گا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ دنیا کے دو سو ممالک میں سے 32 ملکوں میں انسداد انحراف قانون ہے اور ان 32 ممالک میں صرف 6 ملکوں میں اس قانون پر عمل ہوتا ہے جس میں انحراف پر ارکان کو ڈی سیٹ کیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اگر انحراف غلط کام ہے تو آئین انحراف کی اجازت کیوں دیتا ہے۔ مصطفی رمدے نے اپنے دلائل میں کہا کہ یہ ریفرینس سیاسی مفاد کے لیے بھیجا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے سے آرٹیکل 95 کو غیر موثر نہیں کیا جاسکتا۔ چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ کیا آرٹیکل 95 کے تحت ارکان کو اپنے وزیراعظم کے خلاف ووٹ دینے کی اجازت دیتا ہے؟ بی این پی کے وکیل کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 95 ارکان کو پارٹی ڈسپلن سے ہٹ کر ووٹ دینے کی اجازت دیتا ہے جس پر چیف جسٹس نے بی این پی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس دلیل سے آپ نے سیاسی پارٹی کو ختم کردیا اور اس طرح سیاسی پارٹی ٹی پارٹی بن جائے گی۔ سماعت کے ددران بینچ کے سربراہ کی طرف سے یہ عندیہ بھی دیا گیا کہ عدالت منگل تک اس صدارتی ریفرنس پر اپنی سماعت مکمل کرلے گی۔

  10. عمران خان کے دو فون چوری، شہباز گل کا دعویٰ

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل نے دعویٰ کیا ہے سیالکوٹ میں تحریکِ انصاف کے جلسے کے بعد جماعت کے سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان کے دو فون چوری کر لیے گئے۔

    شہباز گل نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ ’عمران خان کے جلسہ گاہ جانے کے بعد ایئرپورٹ سے فون چوری کروائے گئے‘۔

    تاہم انھوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں دیں۔

    خیال رہے کہ عمران خان نے سیالکوٹ میں جلسے سے خطاب میں ہی دعویٰ کیا تھا کہ ان کی جان لینے کی سازش کی جا رہی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس مبینہ سازش میں ملوث افراد کے نام انھوں نے ایک ویڈیو میں بتائے ہیں اور اگر انھیں کچھ ہوا تو وہ ویڈیو ریلیز کر دی جائے گی۔

    شہباز گل کا اپنی ٹویٹ میں یہ بھی کہنا تھا کہ سیالکوٹ کے جلسے کے دوران عمران خان کو کوئی سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی۔

    ’پرسوں سیالکوٹ میں ایک طرف جان بوجھ کر عمران خان کو کوئی سکیورٹی مہیا نہیں کی گئی اور دوسری طرف ان کے دو فون چوری کیے گئے۔‘

  11. موسمیاتی تبدیلی پر ٹاسک فورس کا قیام، وزیراعظم کی چولستان میں پانی کی فراہمی کی ہدایت

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت حالیہ گرمی کی شدید لہر (Heat Wave) اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر اعلی سطح کا ہنگامی اجلاس بھی ہوا جس میں وفاقی وزرا سید خورشید شاہ اور شیری رحمن نے بھی شرکت کی۔

    وزیرِ اعظم کی ہدایت پر موسمیاتی تبدیلی پر فوری طور پر ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جس کا کام موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی بنانا شامل ہے۔

    اس ٹاسک فورس میں متعلقہ وفاقی وزرا، سیکٹریز، صوبائی چیف سیکٹریز و متعلقہ صوبائی سیکٹریز، چیئرمین این ڈی ایم اے اور دیگر اداروں کے اعلیٰ افسران شامل ہیں۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ٹاسک فورس آج شام کو ہی اپنا پہلا اجلاس منعقد کرے اور آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کرے۔ وزیراعظم نے چولستان میں انسانی بستیوں اور جانوروں کے لیے پانی کی فوری فراہمی یقینی بنانے کی بھی ہدایات جاری کیں۔

  12. وزیراعظم شہباز شریف کی اتحادی رہنماؤں کو دعوت

    وزیر اعظم شہباز شریف نے حکومتی اتحادیوں کو عشائیے پر مدعو کیا ہے۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق یہ عشائیہ پیر کی رات وزیراعظم ہاؤس میں ہوگا۔

    ذرائع کے مطابق اس ملاقات کے لیے آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری، مولانا فضل الرحمان، خالد مقبول صدیقی، خالد مگسی سمیت دیگر اتحادی رہنماؤں کو دعوت دی گئی ہے اور وزیراعظم ان رہنماؤں سے ملکی معاشی و سیاسی صورتحال پر مشاورت کریں گے۔

  13. وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے پارلیمانی پارٹی نے اراکین کو کوئی ہدایات نہیں دیں، نااہلی نہیں بنتی: وکیل علیم خان, شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    الیکشن کمیشن میں سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے پچیس منحرف اراکین کی نااہلی سے متعلق ریفرنس کی سماعت کے دوران ایک منحرف رکن علیم خان کے وکیل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کے تحت پارلیمانی پارٹی ارکان کو ہدایات جاری کرتی ہے اور اگر پارٹی پالیسی جاری نہ کرے تو منحرف ارکان پر آرٹیکل 63 اے کا اطلاق نہیں ہوتا۔

    انھوں نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی اور پارٹی چیئرمین میں واضح فرق ہے۔ اس تین رکنی بینچ میں شامل نثار درانی سے استفسار کیا کہ کیا پارلیمانی پارٹی کا لیڈر بھی پالیسی جاری کرسکتا ہے جس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ پارٹی چیئرمین ہدایات جاری نہیں کرسکتا اور ہدایات جاری کرنا پارلیمانی پارٹی کا اختیار ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ارکان پنجاب اسمبلی کو پارلیمانی پارٹی کی جانب سے کوئی ہدایات نہیں دی گئیں۔

    انھوں نے کہا کہ ان کے موکل کو 16 اپریل کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا جبکہ شوکاز جاری کرنے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

    سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے اس ریفرنس میں پارلیمانی پارٹی کی طرف سے جو ہدایات جاری کی گئیں تھیں اس کا کہیں بھی زکر نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ پارٹی چیئرمین کی جانب سے علیم خان کو کوئی شوکاز نوٹس جاری ہی نہیں ہوا۔

    پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ منحرف ارکان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں اس لیے وہ تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ ٹیکنیکل خامی کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہے۔ فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی کے منحرف اراکین کے خلاف کے ریفرنس کے ساتھ پنجاب اسمبلی ریکارڈ لگایا ہوا ہے جس میں وزیر اعلیٰ کے امیدوار کے لیے ہونی والی ووٹنگ کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔

    علیم خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ منحرف اراکین کے خلاف الیکشن کمیشن کو 18 اپریل کو بھجوایا گیا ریفرنس غیر قانونی ہے۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف نے دستاویزات میں جعل سازی کی ہے۔

    سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ارکان پنجاب اسمبلی کو چار اپریل کو خط کے ذریعے پرویز الہی کو ووٹ دینے کی ہدایت دی گئی۔ انھوں نے کہا کہ خط میں واضح طور پر درج ہے کہ ہدایت پارٹی چیئرمین عمران خان کی جانب سے دی گئی جبکہ خط میں پارلیمانی پارٹی کے فیصلے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

    بینچ کے رکن نثار درانی نے ریمارکس دیے کہ آپ کا نقطہ ہے کہ پارلیمانی پارٹی میں فیصلہ نہیں کیا گیا۔ علیم خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ارکان اسمبلی پارٹی چیئرمین کی سوچ کے غلام نہیں ہیں اور ہر رکن کی اپنی آزاد سوچ ہے جس کو سننا پارٹی چیئرمین کا فرض ہے۔

    اس ریفرنس کی سماعت سترہ مئی تک ملتوی کردی گئی۔

  14. رانا ثنا اللہ: ’عمران خان چاہیں تو جان کو خطرے کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن بھی بنا سکتے ہیں‘

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اگر سابق وزیراعظم عمران خان چاہیں تو ان کی جان کو لاحق مبینہ خطرات کے معاملے پر ایک جوڈیشل کمیشن بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ جوڈیشل کمیشن عمران خان کے فراہم کردہ شواہد اور معلومات کا جائزہ لے کر آزادانہ فیصلہ دے سکتا ہے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ جان کو ممکنہ خطرے سے متعلق اگر کوئی ٹھوس ثبوت عمران خان کے پاس ہیں تو اسے وزارت داخلہ سے فی الفور شئیر کریں، حکومت اس معاملے کی مکمل تحقیقات کروانے کے لیے تیار ہے۔

    رانا ثنا اللہ نے یہ بھی کہا کہ اگرعمران خان اپنی جان کو خطرے سے متعلق معلومات فراہم نہیں کرتے تو امریکی سازش کی طرح اس بیانیے کو بھی ایک پولیٹیکل سٹنٹ ہی تصور کیا جائیگا۔

  15. وزیراعظم کا صوبوں کو گندم کی خریداری کے لیے دیے اہداف پورے نہ کرنے پر برہمی کا اظہار

    وزیر اعظم شہباز شریف نے صوبوں کو گندم کی خریداری کے لیے دیے گئے اہداف پورے نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔

    وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ’عوام کو کسی صورت مشکل میں نہیں ڈالا جا سکتا، وفاقی حکومت ہر صورت کم قیمت پر آٹا فراہم کرے گی۔‘

    وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ صوبے یکم جون تک گندم کی خریداری کے اہداف پورے کریں۔

  16. بریکنگ, سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان، ڈالر 194 روپے کی سطح عبور کر گیا

    کاروباری ہفتے کے آغاز پر ہی ڈالر 194 روپے کی سطح عبور کر گیا ہے جبکہ دوسری جانب سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز سے ہی منفی رجحان دیکھنے میں آیا۔

    پاکستان میں موجودہ کاروباری ہفتے کے پہلے دن روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا جب ایک ڈالر کی قیمت میں 1.47 پیسے کا اضافہ ہوا۔

    اس وقت انٹر بینک میں ایک ڈالر کی قیمت 194 روپے پر موجود ہے جو جمعے کے روز 192.53 روپے پر بند ہوئی تھی۔

    پاکستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد سے اب تک ایک ڈالر کی قیمت میں 11.07 روپے کا اضافہ ہوا ہے اور گیارہ اپریل سے لے کر اب تک ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے ملک پر قرضے کے بوجھ میں 1400 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

    دوسری جانب کاروباری ہفتے کے پہلے روز پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کے رجحان کی وجہ سے 100 انڈیکس میں پہلے دس منٹ میں 800 پوائنٹس سے زائد کی کمی دیکھنے میں آئی۔

    سٹاک مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کی جانب سے تیل مصنوعات کی قیمتوں میں ردو بدل نہ کرنے کی وجہ سے پاکستان کے آئی ایم ایف سے ہونے والے مذاکرات کا مستقبل مخدوش نظر آرہا ہے کیونکہ عالمی ادارہ تیل پر دی جانے والی سسڈی کا خاتمہ چاہتا ہے۔

    پاکستان کے آئی ایم ایف سے مذاکرات کا مستقبل مخدوش ہونے کا سٹاک مارکیٹ پر منفی اثر ہوا اور انڈیکس میں آغاز سے ہی بڑی کمی دیکھنے میں کمی آئی۔

  17. عمران خان اپنی جان کو لاحق مبینہ خطرات سے وزارت داخلہ اور متعلقہ اداروں کو آگاہ کریں: وزارت داخلہ

    وفاقی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ وزارت کی جانب سے دیے گئے احکامات کی روشنی میں اسلام آباد پولیس نے سابق وزیراعظم عمران خان کی فُول پروف سکیورٹی کو یقینی بنایا ہے۔

    وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سابق وزیراعظم کے لیے مقرر سکیورٹی فورسز کی تعیناتی پر مکمل عملدرآمد کے لیے احکامات دیے گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے سنیچر کی شب سیالکوٹ جلسے میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میرے خلاف بند کمروں کے اندر، ملک کے اندر اور ملک سے باہر ایک سازش ہو رہی ہے۔ اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ عمران خان کی جان لے لی جائے۔

    وزارت داخلہ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کے بنی گالہ ہاؤس کی سکیورٹی کے لیے پولیس اور ایف سی کے 94 اہلکارتعینات کیے گئے ہیں جس میں اسلام آباد پولیس کے 22 جبکہ ایف سی کے 72 اہلکار شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ خیبرپختونخوا پولیس کی طرف سے 36، گلگت بلتستان پولیس کے چھ اہلکاروں کو بھی ان کی متعلقہ حکومتوں کی جانب سے سابق وزیراعظم کی سیکورٹی کے لیے تعینات کیاگیا ہے۔

    وزارت داخلہ کے مطابق ’ایس ایم ایس‘ سکیورٹی کمپنی کے 26 اور عسکری سکیورٹی کمپنی کے نو اہلکار بھی بنی گالا ہاؤس کی سکیورٹی پر معمور ہیں۔

    سابق وزیراعظم عمران خان کی دارالحکومت اسلام آباد سے باہر موومنٹ کے دوران اسلام آباد پولیس کی چار گاڑیاں اور 23 اہلکار جبکہ رینجرر کی ایک گاڑی اور پانچ اہلکار ان کے ساتھ ہمہ وقت موجود ہوتے ہیں۔

    وزارت داخلہ کے مطابق تھریٹ اسیسمنٹ کمیٹی سابق وزیراعظم عمران خان کی سکیورٹی سے متعلق معاملات کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس سلسلے میں واضح ہدایات دے رکھی ہیں۔

    سابق وزیراعظم عمران خان کے پاس اگر اپنی سکیورٹی کے حوالے سے خاص اطلاع ہے تو وہ اسے وزارت داخلہ سے ضرور شیئر کریں تاکہ سکیورٹی کے مزیدانتظامات کے جا سکیں۔

    یاد رہے کہ گذشتہ چند روز سے سابق وزیراعظم عمران خان عوامی اجتماعات میں اپنی جان کوممکنہ خطرات سے متعلق خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق بطور سابق وزیراعظم عمران خان کی قومی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی جان کو لاحق ممکنہ خطرات، سازش اور دیگر معاملات سے وزارت داخلہ اورمتعلقہ اداروں کوآگاہ کریں۔

    وزارت داخلہ، سابق وزیراعظم عمران خان سے حاصل شدہ معلومات اور شواہد کی روشنی میں مزید اقدامات کرے گی۔

  18. نئی حلقہ بندیوں سے متعلق درخواست: پی ٹی آئی کی الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرنے کی استدعا مسترد

    جسٹس اعجاز الااحسن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے پیر کی صبح پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے نئی حلقہ بندیوں سے متعلق درخواست پر سماعت کی ہے۔

    سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی جانب سے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرنے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ درخواست کو پہلے نمبر لگنے دیں اور نمبر لگنے کے بعد نوٹس جاری کرنے کے معاملے کو دیکھا جائے گا۔

    دوران سماعت اس کیس میں پی ٹی آئی کے وکیل فواد چوہدری نے دلائل دینے کی کوشش کی تاہم عدالت نے فواد چوہدری کو بطور وکیل بات کرنے سے روک دیا۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ پہلے اس درخواست پر رجسڑار آفس کی طرف سے نمبر لگنے دیں۔ مختصر سماعت کے بعد اس کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

  19. عمران خان کا رونا بتارہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے ان کا نمبر بلاک کر دیا ہے: مریم نواز

    مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے سابق وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’رونا پیٹنا بتا رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے ان کا نمبر بلاک کردیا ہے، نمبر بدل گیا ہے، اس نمبر پر فون کرتے ہیں تو آواز آتی ہے کہ مطلوبہ سہولت میسر نہیں۔‘

    گجرات میں سیاسی طاقت کا مظاہرے کرتے ہوئے جلسے سے خطاب میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ عمران خان تمہارا کھیل ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا۔

    مریم نواز نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ان جیسے جھوٹے اور ڈرامے باز شخص کا نام اپنی زبان سے لیتے ہوئے مجھے تکلیف ہوتی ہے، مگر میرا فرض ہے کہ میں اپنی قوم کو اس سے بچاؤں اس لیے نام لینا پڑتا ہے‘

    انھوں نے عمران خان پر تنقید جاری رکھتے ہوئے کہا کہ قوم کے چار سال ضائع کرنے کے بعد جعلی خط کا ڈرامہ کیا، اس کے بعد بیرونی سازش کا بیانیہ لے آئے اور اور جان کو خطرہ کا جھوٹ کہہ کر عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی کارکردگی صفر ہے اس لیے آج تک اپنے کسی جلسے میں انھوں نے اپنی حکومت کی کارکردگی نہیں بتائی۔

    مریم نواز نے کہا کہ عمران خان کہتے ہیں انھوں نے ویڈیو ریکارڈ کرا کر رکھ دی ہے جس میں ان کے خلاف قتل کی سازش کرنے والوں کے نام ہیں، یہ عمران خان کے دیگر جھوٹوں کی طرح ایک جھوٹ ہے لیکن اگر واقعی میں کوئی ویڈیو ہے تو اس کو سامنے لائیں اور کسی حادثے کا انتظار نہ کریں انھیں نواز شریف، شہباز شریف سے زیادہ سکیورٹی فراہم کریں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ملک میں مہنگائی کرنے والا کہہ رہا ہے کہ مہنگائی ہوگئی، یہ کہتا ہے کہ مہنگائی ہوگئی، ڈالر اوپر چلا گیا تو اپنے خلاف چارج شیٹ پیش کرتا ہے۔‘

  20. مجھے کچھ ہوا تو پاکستانی عوام انصاف دلوائیں گے، عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے کچھ ہوا تو پاکستان کے عوام مجھے انصاف دلائیں، مجھے کچھ ہوا تو لوگوں وڈیو دیکھ کر مجھے انصاف دلانا، جن جن کے نام وڈیو میں ہیں ان کو کٹہرے میں لانا۔

    واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے سنیچر کی شب سیالکوٹ جلسے میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میرے خلاف بند کمروں کے اندر، ملک کے اندر اور ملک سے باہر ایک سازش ہو رہی ہے۔ اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ عمران خان کی جان لے لی جائے۔‘

    فیصل آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حقیقی آزادی کے لیے قوم میرے ساتھ نکل رہی ہے۔

    انھوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان سے ملک نہیں سنبھل رہا، روپیہ گر رہا ہے، ڈالر کی قیمت بڑھ رہی ہے، ہر روز روپیہ گر رہا ہے، سٹاک مارکیٹ گر رہی ہے۔

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جب یہ باہر نکلیں گے تو لوگ ان کو دو لفظوں سے پکاریں گے، ایک ’چور‘ اور دوسرا ’غدار‘، لوگوں نے میرے ساتھ نکل کر قوم کو ان چوروں سے آزاد کرانا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عوام کی سپورٹ دیکھ کر سازش کرنے والے خوفزہ ہوگئے اور فیصلہ کیا گیا کہ اب عمران خان کو دنیا سے فارغ کرنا ہے۔

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میرے اسلام آباد آنے کی کال سے گھبرا کر میرے قتل کی سازش تیار کی گئی، میں نے ایک ویڈیو ریکارڈ کرکے محفوظ کر لی ہے، ویڈیو پیغام میں سازش کرنے والے تمام لوگوں کے نام بتادیے ہیں۔

    انھوں نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے وہ ایف آئی اے کے افسران کی موت کی وجوہات جاننے کے لیے از خود نوٹس لے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف ایف آئی اے میں تحقیقات کرنے والے افسر ڈاکٹر رضوان کو دل کا دورہ پڑا اور وہ انتقال کرگئے، ایک اور تفتیشی افسر ہارٹ اٹیک کے باعث ہسپتال میں پڑا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں وہ زہر جانتا ہوں جو کھانے میں ملادیا جائے تو کھانے والے کو ہارٹ اٹیک ہوجا تاہے، میں اپنی عدالت سے کہتا ہوں کہ ہوں کہ وہ اس معاملے پر ازخود نوٹس لیں۔