الیکشن کمیشن میں سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے پچیس منحرف اراکین کی نااہلی سے متعلق ریفرنس کی سماعت کے دوران ایک منحرف رکن علیم خان کے وکیل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کے تحت پارلیمانی پارٹی ارکان کو ہدایات جاری کرتی ہے اور اگر پارٹی پالیسی جاری نہ کرے تو منحرف ارکان پر آرٹیکل 63 اے کا اطلاق نہیں ہوتا۔
انھوں نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی اور پارٹی چیئرمین میں واضح فرق ہے۔
اس تین رکنی بینچ میں شامل نثار درانی سے استفسار کیا کہ کیا پارلیمانی پارٹی کا لیڈر بھی پالیسی جاری کرسکتا ہے جس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ پارٹی چیئرمین ہدایات جاری نہیں کرسکتا اور ہدایات جاری کرنا پارلیمانی پارٹی کا اختیار ہے۔
انھوں نے کہا کہ ارکان پنجاب اسمبلی کو پارلیمانی پارٹی کی جانب سے کوئی ہدایات نہیں دی گئیں۔
انھوں نے کہا کہ ان کے موکل کو 16 اپریل کو
شوکاز نوٹس جاری کیا گیا جبکہ شوکاز جاری کرنے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے اس ریفرنس میں پارلیمانی پارٹی کی طرف سے جو ہدایات جاری کی گئیں تھیں اس کا کہیں بھی زکر نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ پارٹی چیئرمین کی جانب سے علیم خان کو کوئی شوکاز نوٹس جاری ہی نہیں ہوا۔
پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ منحرف ارکان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں اس لیے وہ تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ ٹیکنیکل خامی کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہے۔ فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی کے منحرف اراکین کے خلاف کے ریفرنس کے ساتھ پنجاب اسمبلی ریکارڈ لگایا ہوا ہے جس میں وزیر اعلیٰ کے امیدوار کے لیے ہونی والی ووٹنگ کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔
علیم خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ منحرف اراکین کے خلاف الیکشن کمیشن کو 18 اپریل کو بھجوایا گیا ریفرنس غیر قانونی ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف نے دستاویزات میں جعل سازی کی ہے۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ارکان پنجاب اسمبلی کو چار اپریل کو خط کے ذریعے پرویز الہی کو ووٹ دینے کی ہدایت دی گئی۔ انھوں نے کہا کہ خط میں واضح طور پر درج ہے کہ ہدایت پارٹی چیئرمین عمران خان کی جانب سے دی گئی جبکہ خط میں پارلیمانی پارٹی کے فیصلے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
بینچ کے رکن نثار درانی نے ریمارکس دیے کہ آپ کا نقطہ ہے کہ پارلیمانی پارٹی میں فیصلہ نہیں کیا گیا۔ علیم خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ارکان اسمبلی پارٹی چیئرمین کی سوچ کے غلام نہیں ہیں اور ہر رکن کی اپنی آزاد سوچ ہے جس کو سننا پارٹی چیئرمین کا فرض ہے۔
اس ریفرنس کی سماعت سترہ مئی تک ملتوی کردی گئی۔