آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

تفتیشی اداروں میں مبینہ حکومتی مداخلت پر سپریم کورٹ کا از خود نوٹس

پاکستان کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تفتیشی اداروں میں مبینہ طور پر حکومتی مداخلت سے متعلق از خود نوٹس لیا ہے اور اس کی سماعت انیس مئی کو دن ایک بجے سپریم کورٹ کا پانچ لارجر بینچ دن ایک بجے اس کی سماعت کرے گا۔

لائیو کوریج

  1. ’یہ اب امریکیوں کو کہیں گے کہ ہمیں ڈالر دو ورنہ عمران خان پھر آ جائے گا‘

    کوہاٹ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ آئی ایم ایف سے دوحہ میں مذاکرات کے دوران موجودہ حکومت امریکہ سے ڈالر مانگیں گی اور بدلے میں مزید غلامی کا وعدہ کرے گی۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ امپورٹڈ حکومت ڈری ہوئی ہے، یہ پھنس گئے ہیں۔ آگے ٹائیگرز ہیں اور پیچھے سمندر۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’شہباز شریف کو وزیر اعظم بننے کا شوق تھا، اس نے بڑی محنت کی۔ اس کے پاس جوتے پالش کرنے کا فن ہے۔ دو قسم کے جوتے پالش کرتا ہے، فوجی بوٹ بڑی اچھی طرح پالش کرتا ہے، امریکی سفارتخانے سے کوئی بوٹ آجائے وہ بھی بڑا اچھا پالش کرتا ہے۔‘

    ’ن لیگ کے مقابلے آصف زرداری سب پر بھاری ہے، ساری گالیاں شہباز شریف کو پڑ رہی ہیں۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’تینوں نے مل کر ہماری حکومت گرائی۔ اب ان کے پاس ایک ہی راستہ ہے۔ آئی ایم ایف سے مذاکرات میں امریکیوں کو کہیں گے ہمیں ڈالر دو ورنہ عمران خان پھر آ جائے گا۔

    ’امریکی کبھی اپنے ڈالر ایسے نہیں دیتے۔ وہ اگر ڈالر دیں گے تو پہلے مزید غلامی کرائیں گے۔ ان کو حکم دیں گے خارجہ پالیسی ہمارے مطابق بنے گی اور روس سے تیل نہیں منگوا سکتے۔ ہم نے 30 فیصد تیل اور گندم روس سے منگوانے کا معاہدہ کر لیا تھا۔ انھوں نے آتے ساتھ ہی وہ معاہدے ختم کیے۔‘

  2. ’ہماری رائے میں پارٹی سے انحراف تبھی ہوگا اگر کوئی رکن مخالف ووٹ دے‘

    وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ’ہماری رائے میں انحراف تبھی ہوگا اگر کوئی رکن پارٹی مخالف ووٹ دے اور وہ گِنا جائے۔‘

    ٹوئٹر پر پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’مگر سپریم کورٹ کا فیصلہ سرآنکھوں پر آئین شکنی کو روکنے کے لیے رات کو کُھلنے والی عدالت کو پسند کا فیصلہ نہ آنے پر ٹارگٹ کرنا یکسرغلط ہے۔ سچ بول کر جیو۔‘

  3. کابینہ کی نیب قوانین میں ترامیم کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری

    وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں قومی احتساب نیورو (نیب) کے قوانین میں ترامیم کے لیے وزیر قانون کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دی گئی ہے۔

    وزیر اعظم ہاؤس کے مطابق اس کمیٹی میں وکالت، بنکاری، بیوروکریسی اور دیگر شعبوں سے منسلک نامور شخصیات ہوں گی۔

    اس بیان میں کہا گیا ہے کہ کابینہ اجلاس میں نیب ترامیم کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی اور کابینہ اراکین نے اظہار کیا کہ ’نیب کا کالا قانون صرف سیاسی انتقام، سرکاری اہلکاروں اور کاروباری طبقے کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال ہوتا رہا۔‘

    ’انھی قوانین کی وجہ سے بیوروکریسی فیصلے لینے سے ڈرتی ہے جس کی وجہ سے اہم ترین امور میں ملک کا نقصان ہو جاتا ہے۔‘

  4. سپریم کورٹ کے فیصلے میں کیا ہے؟, آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا صدارتی ریفرنس

    سپریم کورٹ کا آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے صدارتی ریفرنس پر فیصلہ آ گیا، منحرف رکن کا ووٹ شمار نہیں ہوگا، تاحیات نااہلی پر قانون سازی پارلیمان کرسکتی ہے۔

    اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے مزید کیا فیصلے کیے، جانیے اس فیس بک لائیو میں۔۔۔

  5. ’خان واپس آرہا ہے‘: شہباز گل کا ردعمل

    رہنما تحریک انصاف شہباز گل کہتے ہیں کہ ’آج کے فیصلے سے عمران خان اور پاکستان کا موقف جیت گیا۔‘

    ’حمزہ ککڑی بھی فارغ اور ساتھ ساتھ یہ پورا امپورٹڈ ٹولا فارغ۔ اب تحریک انصاف کے لوگ الیکشن کی تیاری کریں کیونکہ پنجاب میں جو صورتحال پیدا ہو گئی ہے اس کو اب ککڑی اور اس کے حواری کنٹرول نہیں کر سکتے۔ انشاللہ خان واپس آ رہا ہے۔‘

  6. ’لوٹوں پر بنی حکومت کا ایک دن بھی اور چلنے کا کوئی جواز نہیں‘, رہنما تحریک انصاف اسد عمر

    آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کسی جماعت کے منحرف رکن کا ووٹ شمار نہیں ہوگا۔

    اس پر ردعمل دیتے ہوئے سابق وفاقی وزیر اور رہنما تحریک انصاف اسد عمر کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی عوام کو مبارک۔ لوٹے فارغ۔‘

    ’پنجاب حکومت کا جواز ختم۔ وفاقی حکومت فوری طور پر استعفیٰ دے۔ بیرونی مداخلت اور لوٹوں پر بنی حکومت کا ایک دن بھی اور چلنے کا کوئی جواز نہیں۔‘

    رہنما تحریک انصاف بابر اعوان کہتے ہیں کہ ’تازہ فیصلے کی روشنی میں، پنجاب حکومت فارغ ہوگئی۔ اگلا آئینی آپشن کیا ہے؟‘

  7. منحرف رکن کا ووٹ شمار نہیں ہوگا، تاحیات نااہلی پر قانون سازی پارلیمان کرسکتی ہے: سپریم کورٹ

  8. ’آئی ایم ایف سے مذاکرات کل سے شروع ہوں گے‘

    وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ فنانس ڈویژن کی ٹیم عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایف ایف) کے مشن سے مذاکرات کے لیے آج رات دوحہ روانہ ہوگی۔

    بدھ کو فنانس ڈویژن اور آئی ایم ایف کے درمیان ملاقاتیں ہوں گی۔

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بھی کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کل سے شروع ہوں گے۔

  9. بریکنگ, چیئرمین نیب کا عہدہ 2 جون کے بعد خالی ہو جائے گا: وزیر قانون

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے سربراہ کا عہدہ 2 جون کے بعد خالی ہوجائے گا۔

    جیو نیوز سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ دو جون کے بعد موجودہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہیں گے اور چیئرمین نیب کا عہدہ 2 جون کے بعد خالی ہوجائے گا۔

    صدارتی ریفرنس کے بعد انھیں چار ماہ کی توسیع دی گئی تھی تاہم اب وزیر قانون کا کہنا ہے کہ قانونی اثر کے تحت جاوید اقبال اس عہدے پر برقرار نہیں رہیں گے اور نیب ترمیمی آرڈیننس کی مدت دو جون کو ختم ہوجائے گی۔

    خیال رہے کہ سابقہ حکومت نے انھیں نئے چیئرمین نیب کی تقرری تک کام جاری رکھنے کی ہدایت دی تھی۔

  10. چینی کمپنی سائنو ویک کی پاکستان میں ’سرمایہ کاری میں دلچسپی‘

    چینی کمپنی سائنو ویک کے ایک وفد نے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات میں انھیں ملک میں کووڈ 19 کی ویکسینیشن مہم کے دوران سائنو ویک کی طرف سے پاکستان کو فراہم کی گئی ویکسینز کے حوالے سے بریفنگ دی ہے۔

    وزیر اعظم ہاؤس کے مطابق سائنو ویک کی طرف سے پاکستان میں سرمایہ کاری کر کے بیماریوں کی تشخیص، بچاؤ اور علاج کے لیے اشتراک میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔

  11. بریکنگ, منحرف اراکین سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ کل سنایا جائے گا

    تحریک انصاف کے منحرف اراکین سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ کل یعنی بدھ کو 11 بجے سنایا جائے گا۔

  12. بریکنگ, پاکستان میں ایک ڈالر کی قیمت 195.74 روپے کی بلند ترین سطح پر, تنویر ملک، صحافی

    روپے کے مقابلے میں ڈالر کی اونچی اڑان کا سلسلہ منگل کے روز بھی جاری رہا اور ایک ڈالر کی قیمت مزید بڑھ کر ریکارڈ 195.74 سطح پر بند ہوئی۔

    انٹر بینک میں گذشتہ روز ڈالر کی قیمت 194.18 روپے پر بند ہوئی تھی جس میں منگل کے روز مزید 1.56 کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ پاکستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد سے لے کر اب تک ڈالر کی قیمت میں 12.81 روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔

    دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 199روپے کی سطح تک پہنچ گئی اور ایک ڈالر کی قیمت 200روپے کی حد سے صرف ایک روپے کم ہے۔

  13. بریکنگ, وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ختم

  14. نگران حکومت کے لیے تحریک انصاف کو اعتماد میں لینا ضروری: فواد چوہدری

    پاکستان میں قبل از وقت انتخابات اور نگران حکومت کی بازگشت جاری ہے جس دوران رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کو اس صورتحال میں اعتماد میں لینا ضروری ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’نگران حکومت کے لیے تحریک انصاف کو اعتماد میں لینا ضروری ہو گا۔ ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت تحریک انصاف ہے اور تحریک انصاف کے اعتماد کے بغیر کوئی نگران حکومت بن سکتی ہے نہ الیکشن کمیشن الیکشن کرا سکتا ہے۔‘

    ’(صرف) الیکشن ہی نہیں کرانا ہوتا (بلکہ) انتخابی عمل کا بااعتماد ہونا بھی ضروری ہے۔‘

    ادھر سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کہتے ہیں کہ دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں بڑے فیصلے ہو رہے ہیں اور موجودہ حکومت سے ملک نہیں چلے گا اس لیے نگران حکومت ہی بنے گی۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ زیادہ تر سیاسی جماعتیں الیکشن کی حامی ہیں۔

  15. فوری انتخابات: ’گدلے پانی سے نکل کر دوبارہ گدلے پانی میں اُترنا کوئی معقول بات نہیں‘

  16. سبسڈی کے خاتمے کی صورت میں پیٹرول و ڈیزل کی نئی قیمتیں کیا ہوں گی؟, تنویر ملک، صحافی

    وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے ہائی سپیڈ ڈیزل کے ایک لیٹر پر اس وقت 86.71 روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے اور ایک لیٹر پیٹرول پر حکومت کو سبسڈی کی مد میں 47.02 روپے ادا کرنا پڑے ہیں۔

    ڈیزل و پیٹرول کی قیمت پر دی جانے والی سبسڈی اس وقت بلند ترین سطح پر موجود ہے جو یکم مئی سے پندرہ مئی کے بیچ بالترتیب 73.04 روپے اور 29.60 روپے تھی۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے 28 فروری 2022 کو ملک میں ڈیزل و پیٹرول کی مقامی قیمتوں کو اگلے مالی سال کے بجٹ کے تک منجمد کر دیا تھا جسے نئی حکومت ابھی تک برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس وقت ملک میں ایک لیٹر ڈیزل کی قیمت 144.15روپے ہے اور ایک لیٹر پیٹرول 149.86 روپے پر دستیاب ہے۔

    حکومت کی جانب سے ڈیزل پر دی جانے والی سبسڈی کے خاتمے کی صورت میں ملک میں ایک لیٹر ڈیزل کی قیمت 230.86 کی بلند سطح پر پہنچ جائے گی اور پیٹرول پر دی جانے والی سبسڈی کے خاتمے سے ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت 196.88 تک پہنچ جائے گی۔

    عالمی مارکیٹ میں خام تیل اور اس سے تیار ہونے والی مصنوعات کی بلند سطح پر رہنے کے باوجود حکومت کی جانب سے پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں کو نچلی سطح پر رکھنے کے لیے ماہانہ اربوں کی سبسڈی ادا کرنا پڑی ہے۔

    سرکاری دستاویزات کے مطابق حکومت نے پیٹرول و ڈیزل کی منجمد قیمتوں پر فروخت کی وجہ سے مارچ اور اپریل کے مہینوں میں تیل کمپنیوں اور ریفائنریوں کو 100 ارب روپے کی سبسڈی دی جبکہ مئی کے مہینے میں اس سبسڈی کا تخمینہ 118 ارب روپے تک لگایا گیا ہے۔

    تیل کے شعبے کے ماہر اور مقامی ریفائنری کے چیف ایگزیکٹو زاہد میر نے کہا کہ تیل مصنوعات کی عالمی قیمتوں کی وجہ سے حکومت کو مقامی سطح پر بھی قیمتوں کو بڑھانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ فی الحال نئی حکومت کا بھی ڈیزل و پیٹرول کی قیمتیں بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں لگتا۔

    انھوں نے کہا کہ حکومت کو مرحلہ وار قیمتیں بڑھانے چاہییں۔ میر نے بتایا کہ اگر حکومت ہر پندرہ روز میں پیٹرول پر دس روپے اور ڈیزل پر بیس روپے قیمت بڑھا دے تو اس سے سبسڈی بھی مرحلہ وار ختم ہو جائے گی اور مرحلہ وار طریقے سے صارفین کو قیمتیں منتقل ہوں گی۔

    اگر اگلے نظر ثانی جائزے میں حکومت پیٹرول اور ڈیزل پر بالترتیب دس اور بیس روپے فی لیٹر قیمت بڑھاتی ہے تو ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت 159.86 روپے ہو جائے گی اور ڈیزل پر بیس روپے بڑھانے سے اس کی قیمت 164.15 روپے ہو جائے گی۔

    واضح رہے کہ قیمتوں میں اس اضافے کے باوجود پیٹرول و ڈیزل پر سیلز ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی کی شرح صفر ہوگی۔

  17. بریکنگ, منحرف اراکین سے متعلق الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر لیا

    الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف اور پنجاب میں اس کے منحرف اراکین کے وکلا نے منگل کو اپنے دلائل مکمل کر لیے ہیں، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    علی ظفر نے کہا کہ اب الیکشن کمیشن نے فیصلہ کرنا ہے کہ پارٹی کی ہدایات پر منحرف اراکین نے عمل کیا ہے یا نہیں ہے۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن کو 30 دن تک فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔

    ایڈیووکیٹ فیصل چوہدری نے نے کہا کہ اب دیکھتے ہیں اس فیصلے سے آئین کو بچایا جاتا ہے یا اس سے منحرف اراکین بچ جاتے ہیں۔

  18. بریکنگ, 63 اے کی تشریح: منحرف اراکین اسمبلی سے متعلق سپریم کورٹ فیصلہ آج شام 5 بجے سنائے گی

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے منحرف اراکین سے متعلق آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے صدارتی ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ عدالت اپنا فیصلہ آج شام 5 بجے سنائے گی۔

  19. وفاقی کابینہ کا اجلاس جاری، اتحادیوں کا مشکل فیصلوں میں حکومت کی حمایت کا اعلان

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع ہو گیا ہے۔ اس سے قبل دوران مشاورت حکومت کی اتحادی جماعتوں نے تمام مشکل فیصلوں میں حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔

    پیر کو برطانیہ اور متحدہ عرب امارات سے واپسی کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے حکمران اتحاد میں شامل اتحادی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور جمیعت علمائے اسلام (جے یو آےآئی-ف) سے مشاورت کی۔

    آصف زرداری، مولانا فضل الرحمٰن اور خالد مقبول صدیقی نے شہباز شریف کو اپنی بھرپور مدد کی یقین دہانی کرائی۔ وزیراعظم آفس کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات میں وزیراعظم نے کہا کہ سخت فیصلے کرتے ہوئے قومی مفاد کو مقدم رکھا جائے گا۔

    لندن میں مقیم سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو حالات سے گھبرانا نہیں چاہیے اور اسے سر اٹھانا چاہیے۔ انھوں نے سوال کیا کہ اگر آج ہم شدید معاشی حالات سے نہیں نمٹتے تو کیا فرشتے ہمیں بچانے کے لیے اتریں گے؟ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کے معاشی حالات اس حد تک خراب نہیں ہوئی کہ اسے بہتری کی طرف واپس نہیں لایا جا سکتا۔

    پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اور وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ان کی پارٹی مشترکہ طور پر 'سخت' فیصلوں کے نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔ 'ہم ملک کے بہترین مفاد میں فیصلے کریں گے چاہے جو بھی ان کی سیاسی قیمت ادا کرنا پڑے گی'۔ قمر زمان کائرہ کے مطابق یہ ملک کے ساتھ ناانصافی ہو گی اگر پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت کی غلطیاں دور کرنے کے لیے اقتدار میں آنے والی حکومت مسائل کا کوئی حل فراہم کیے بغیر گھر واپس چلی جائے۔ ایم کیو ایم نے اس بنیاد پر نئے انتخابات کی مخالفت کی کہ یہ عام شہریوں کے لیے مالیاتی خسارے کا باعث ہوگا، باوجود اس کے کہ فیصلہ پارٹی کے حق میں ہوگا۔

    وزیراعظم سے ملاقات کے بعد ایم کیو ایم کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ معیشت کو مستحکم کرنے کے ساتھ انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے سے قبل حکومت کو انتخابی اصلاحات کا آغاز کرنا ہوگا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ انتخابی اصلاحات کا کام ایک ہفتے میں کیا جا سکتا ہے، کیونکہ تمام پارٹیاں اپنا ہوم ورک کر چکی ہیں، اور اگر انہیں ضرورت ہو تو ہم اپنا ورکنگ پیپر بھی پیش کر سکتے ہیں۔

  20. امید ہے کہ آئندہ سماعت تک حنیف عباسی عوامی عہدہ استعمال نہیں کریں گے: عدالت

    وزیراعظم کے معاون خصوصی حنیف عباسی کے خلاف سباق وزیرداخلہ شیخ رشید احمد کی درخواست پر منگل کو سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔

    حنیف عباسی کی جانب سے احسن بھون ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی سزا یافتہ ہو تو وہ پبلک آفس ہولڈر نہیں ہو سکتا۔

    احسن بھون نے کہا میں عدالت کی معاونت کروں گا کہ معاون خصوصی کا عہدہ دیگر پبلک آفسز جیسا نہیں ہے۔ خیال رہے کہ اینٹی نارکوٹکس فورس کی ایک عدالت سے حنیف عباسی کو ایفی ڈرین کیس میں سزا سنائی گئی تھی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ حنیف عباسی کو آئندہ سماعت تک وزیراعظم کے معاون خصوصی کے طور پر کام سے روک دیتے ہیں، احسن بھون نے کہا کہ ایسا آرڈر نہ کریں، یہ تو حتمی ریلیف ہو جائے گا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ امید ہے کہ آئندہ سماعت تک حنیف عباسی عوامی عہدہ استعمال نہیں کریں گے۔

    عدالت کے مطابق معاون خصوصی کا کام وزیراعظم کو مشورہ دینا ہوتا ہے جو بغیر نوٹی فکیشن بھی دے سکتے ہیں، کیس کی مزید سماعت 27 مئی تک ملتوی کر دی گئی۔