آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

سپریم کورٹ ایف آئی اے کے افسران کی موت پر از خود نوٹس لے: عمران خان کا مطالبہ

عمران خان نے کہا کہ اس ملک میں طاقتور مجرم کو نہیں پکڑا جاتا، اسی لیے قتل کی سازش کرنے والے سب کرداروں کے نام بتا دیے ہیں۔ مریم نواز نے کہا عمران خان ویڈیو سامنے لائیں اور پھر نواز شریف کا ظرف دیکھنا کہ کیسے شہاز شریف سے بھی زیادہ نواز شریف تمھیں سیکیورٹی دیں گے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, ’ملک کو معاشی، آئینی بحرانوں سے نکالنے کے لیے حتمی فیصلوں کا اعلان جمعرات کو‘

    لندن میں وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کے اہم رہنماؤں کی جماعت کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے بعد وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملک کو معاشی، آئینی بحرانوں سے نکالنے کے لیے حتمی فیصلوں کا اعلان کل (جمعرات) ہو گا۔

    مسلم لیگ ن کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری کردہ بیان کے مطابق ان تمام فیصلوں کا اعلان اتحادی جماعتوں کی تائید و حمایت سے کیا جائے گا۔

    مریم اورنگزیب کے مطابق نوازشریف کی زیرصدارت پارٹی قیادت کے اہم مشاورتی اجلاس کی پہلی نشست بدھ کو ہوئی جس میں موجودہ حکومت کو ورثے میں ملنے والے سنگین معاشی، آئینی اور انتظامی بحرانوں پر نواز شریف کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کی زیرصدارت حتمی فیصلوں کے لیے جمعرات کو پھر اجلاس ہو گا جس میں ملک اور عوام کو بحران سے نکالنے کے لتے حکمت عملی کی منظوری دی جائے گی

    بیان کے مطابق بدھ کو ہونے والے اجلاس میں اتفاق رائے پایا گیا کہ آئین شکن عناصر سے آئین اور قانون کے مطابق نمٹا جائے گا اورایسے عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے لیے مختلف تجاویز پر مشاورت بھی ہوئی۔

  2. پاکستان کی انڈیا کے ساتھ تجارت کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی: وزارتِ تجارت

    پاکستان کی وزارت تجارت کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان کی انڈیا کے ساتھ تجارت کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور وہاں ٹریڈ افسر کی تعیناتی کا انڈیا کے ساتھ تجارت چلانے یا موجودہ تناظر میں کسی اور طرح سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ نئی دہلی میں پاکستان کی جانب سے تجارت اور سرمایہ کاری کے افسر کا عہدہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے موجود ہے اور نئی دہلی سمیت تجارت اور سرمایہ کاری کے افسران کے انتخاب کا عمل دسمبر2021 میں شروع ہوا تھا اور موجودہ حکومت نے 15 ٹریڈ افسران کے انتخاب کے لیے سابق حکومت کی سفارشات پر حتمی منظوری دی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ تجارت اور سرمایہ کاری افسر نئی دہلی کی تقرری کو انڈیا کے ساتھ تجارتی پابندیوں میں کسی نرمی کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔

  3. ن لیگ سے کہتی ہوں کہ عمران خان کی بری کارکردگی کا ٹوکرا اپنے سر پر اٹھانے کی ضرورت نہیں: مریم نواز

    پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے ملک میں جتنے مسائل پیدا کیے انھیں حل کرنے میں دو سے تین ماہ نہیں بلکہ دو سے تین سال لگیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ن لیگ اور اپوزیشن جماعتوں کو عوام کو گواہ بنا کر یہ کہنا چاہتی ہوں کہ عمران خان کی بدبودار اور بری کارکردگی کا ٹوکرا اپنے سر پر اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔

    پاکستان مسلم لیگ ن کو کہتی ہوں کہ ’عمران خان کی بری کارکردگی جو کلنک کا ٹیکا ہے اسے اپنے منھ پر لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔ عمران خان کو جانے دو عوام میں تاکہ عوام سوال پوچھے کہ ملک کا یہ حال کیوں کیا۔‘

    صوابی میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’اگلے الیکشن میں خیبرپختونخوا کی بھی عمران سے جان چھوٹنی چاہیے۔ عمران خان چار سال حکومت کرنے کے بعد چار سیکنڈ بھی کارکردگی نہیں بتا سکتا۔‘

    مریم نواز نے کہا کہ عمران خان کبھی فوج، کبھی عدلیہ کے خلاف باتیں کرتا ہے، کہتا ہے یہ میر جعفر اور میر صادق ہیں، کرسی کھسک گئی تو تمھیں میر جعفر، میر صادق نظر آ گئے۔

    انھوں نے کہا کہ ’عمران خان کی شکایت یہ ہے جنپوں نے پہلے سر پر بٹھایا اب ساتھ دینے کو تیار نہیں، تمھاری غلاظت کا ٹوکرا افواج پاکستان کیوں اٹھائے۔‘

  4. نواز شریف سے بات کی ہے، انتخابی اصلاحات کے بعد ہی الیکشن ہوں گے: آصف زرداری

  5. لندن میں وزیر اعظم شہباز شریف کی مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے ملاقات

    وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی اپنے بڑے بھائی اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف سے لندن میں ملاقات جاری ہے۔

    اس ملاقات کے لیے شہباز شریف کے ہمراہ لندن جانے والی مسلم لیگ کی قیادت میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف، وزیرِ اطلاعات مریم اورنگزیب، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، ریلوے کے وزیر خواجہ سعد رفیق، ایاز صادق، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ، عطا اللہ تارڑ بھی شامل ہیں۔

    اس دورے پر راونہ ہونے سے قبل وزیرِ اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ کہ وزیراعظم شہباز شریف سمیت پارٹی کے رہنما ایک نجی دورے پر نواز شریف سے ملنے لندن جا رہے ہیں اور یہ ملاقات سیاسی مشاورت کے لیے ہو گی۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے اُن کا مزید کہنا تھا ’یہ پارٹی کا وفد ہے اور مسلم لیگ ن میں مشاورتی عمل جاری رہتا ہے۔ ہم پاکستانی عوام کے لیے جو بہتر ہو گا وہ جاری رکھیں گے۔‘

    جبکہ منگل کے روز لندن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا ’شہباز صاحب بدھ کو (لندن) پہنچیں گے، کل ہماری ملاقات ہو گی، بڑے ضروری امور ہیں جو زیر بحث آئیں گے۔‘

    دوسری جانب وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس ملاقات کا سیاسی صورتحال سے کوئی تعلق نہیں‘۔

    اُن کا کہنا ہے کہ ’یہ خیرسگالی دورہ پہلے سے طے شدہ تھا تاہم پہلے موقع نہیں مل سکا اور اب مل رہا ہے لہٰذا اس دورے پر لندن جا رہے ہیں۔‘

  6. بریکنگ, الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کے خلاف بھیجا گیا ریفرنس مسترد کر دیا, شہزاد ملک، اسلام آباد

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اپنے 20 منحرف اراکینقومی اسمبلی کو پارٹی لائن کی خلاف ورزی کا ارتکارب کرنے پر نااہل کرنے کے حوالے سے دائر کردہ ریفرنس مسترد کردیا ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے مختصر فیصلہ پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ چونکہ ان ارکان نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد میں ووٹ نہیں دیا تھا اس لیے ان پر آئین کے آرٹیکل تریسٹھ اے (نااہلی) کا اطلاق نہیں ہوتا۔

    یہ ریفرنس سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے الیکشن کمیشن بھیجا تھا۔ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری کا کہنا ہے کہ وہ قیادت سے مشاورت کے بعد الیکشن کمیشن کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

    الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ متفقہ طور پر کیا ہے اور کسی ممبر نے اختلافی نوٹ نہیں لکھا۔ یہ فیصلہ آنے سے کچھ دیر قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ ’ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت (پی ٹی آئی)‘ کا الیکشن کمیشن پر اعتماد صفر ہو چکا ہے اسی لیے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    فیصلے سے قبل فریقین کے وکلا نے الیکشن کمیشن کے تین رکنی بینچ کے سامنے اپنے دلائل مکمل کیے۔ منحرف ارکان کے مشترکہ وکیل خالد اسحاق نے الیکشن کمیشن میں دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کے موکلین نے آگاہ کیا ہے کہ نہ ہی انھوں نے تحریک انصاف سے استعفی دیا ہے اور نہ ہی کسی دوسری سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کی ہے۔ خالد اسحاق کا کہنا تھا کہ چونکہ تحریک عدم اعتماد میں ووٹ ڈالنے کا کوئی کیس ہی نہیں ہے اسی لیے یہ 63 ون اے کا کیس نہیں ہے۔

    اس ریفرنس پر بدھ کے روز ہونے والی کارروائی کے دوران تحریک انصاف کے وکیل نے الیکشن کمیشن کو اس ریفرنس سے متعلقہ مزید ریکارڈ فراہم کرنے کی درخواست کی تھی جو کہ مسترد کر دی گئی تھی۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے استدعا کی گئی تھی کہ ان کے پاس اس کیس کے حوالے سے مزید ریکارڈ موجود ہے جو وہ کمیشن کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں، تاہم منحرف اراکین کے وکلا نے پی ٹی آئی کی اس درخواست کی مخالفت کی تھی جس کے بعد الیکشن کمیشن نے اپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

  7. ’کسی رکن پر تاحیات پابندی لگانا بہت بڑی سزا ہے‘: جسٹس عطا بندیال

    سپریم کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ کسی رکن پر تاحیات پابندی لگانا بہت بڑی سزا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ منحرف ارکان کا معاملہ الیکشن کمیشن میں زیر التوا ہے اور عدالت الیکشن کمیشن میں ایسے ارکان کی نااہلی کے بارے میں جاری ریفرنس پر رائے نہیں دے سکتے۔

    اسی بارے میں جسٹس مظہر عالم میاں خیل کا کہنا تھا کہ اس معاملے کا جائزہ الیکشن کمیشن نے لینا یے اور اس کے فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ ہی آئے گی۔

    سماعت کے دوران مسلم لیگ ق کے وکیل اظہر صدیق کا کہنا تھا کہ ان کا مقدمہ نااہلی ریفرنس نہیں ہے بلکہ ’میرا مقدمہ یہ یے کہ دن کی روشنی میں پارٹی کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا۔‘

    اس پر جسٹس جمال خان مندوخیل کا کہنا تھا کہ ’آپ کی پارٹی کے کچھ لوگ ادھر کچھ اُدھر ہیں اور ق لیگ کے سربراہ خاموش ہیں۔‘

    جسٹس جمال خان مندوخیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ایک بلوچستان کی پارٹی ہے ان کے لوگوں کا پتہ نہیں وہ کدھر ہیں۔ آدھی پارٹی ادھر ہے آدھی پارٹی اُدھر ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’جس کی چوری ہوتی یے اس کو معلوم ہوتا ہے اور ان پارٹیوں کے سربراہ ابھی تک مکمل خاموش ہیں۔‘

    اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے انڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’انڈیا میں منحرف ارکان کے لیے ڈی سیٹ نہیں بلکہ نااہلی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔‘ اس پر جسٹس جمال خان مندوخیل نے سوال کیا کہ انڈیا کے شیڈول میں منحرف رکن کی نااہلی کی معیاد کتنی ہے؟

    ان کا کہنا تھا کہ یہ کیوں کہتے ہیں کہ سیاستدان چور ہیں اور جب تک تحقیقات نہیں کی جاتیں تو ایسے بیان کیوں دیے جاتے ہیں۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ ہم نے آئین کا تحفظ کرنا ہے اور اس لیے آرٹیکل تریسٹھ اے کی تشریح کا ریفرینس سن رہے ہیں۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کسی رکن پر تاحیات پابندی لگانا بہت بڑی سزا ہے اور آئین کے آرٹیکل 62(1) ایف کے اطلاق کی بھی بڑی شرائط ہیں۔

    چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا آرٹیکل 63 اے کے ساتھ آرٹیکل 62(1) ایف کو پڑھا جا سکتا ہے اظہر صدیق کا کہنا تھا کہ ان کی نظر میں یہ قانون غیرموثر ہے اور ابھی بھی ہارس ٹریڈنگ ہوتی ہے۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ انحراف ایک ناسور ہے تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قانون کے اندر عدالت کوئی تبدیلی نہیں کر سکتی۔ جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ انحراف بذات حود ایک آئینی جرم ہے جس کی ایک سزا ڈی سیٹ ہونا ہے جو کہ آئینی نتیجہ ہے تو ڈی سیٹ کے ساتھ دوسری سزا کیا ہو سکتی ہے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آرٹیکل 63 اے میں نااہلی کی معیاد کا ذکر نہیں اور سوال یہ ہے کہ آرٹیکل تریسٹھ اے کو کسی دوسرے آرٹیکل کے ساتھ ملا سکتے ہیں؟

    جسٹس جمال خان مندوخیل کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ منحرف رکن کو نااہل کرنے کا طریقہ کار کیا ہو گا، کیا نااہلی کے لیے ٹرائل ہو گا؟ اگر رشوت کا الزام لگا ہے تو اس کے شواہد کیا ہوں گے عدالت میں ریفرینس کی سماعت جاری ہے اور اظہر صدیق ایڈووکیٹ کے دلائل مکمل ہو گئے ہیں۔

  8. بریکنگ, پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمیشن کے خلاف ریفرنس لانے کا فیصلہ, پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ ’ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت‘ کے رہنما کا الیکشن کمیشن پر اعتماد صفر ہو چکا ہے۔

    پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف نے حیف الیکشن کمیشنر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے رہنما فیصل واڈا آج الیکشن کمیشن کے سندھ کے ممبر نصار احمد درانی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس لائیں گے۔

    فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن بطور ادارہ غیر قعال ہو چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ‘ عمران خان کا اس الیکشن کمیشن پر اعتماد صفر ہو چکا ہے اور عمران خان ایک جلسے میں کہہ چکے ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر نون لیگ میں کوئی عہدہ لے لیں۔

    فواد چوہدری نے چیف الیکشن کمشنر کے حوالے سے کہا کہ ’ملک کی سب سے بڑی قیادت کا اگر آپ پر اعتماد نہیں ہے تو باعزت طریقہ یہ تھا کہ وہ گھر چلے جاتے۔ اس الیکشن کمیشن میں پنجاب اور کے پی کی نمائندگی ہی نہیں تو یہ نامکمل الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے خلاف پارٹی بنا ہوا ہے۔

  9. منحرف اراکین نااہلی ریفرنس پر محفوظ فیصلہ آج سنائے جانے کا امکان

    پی ٹی آئی کے 20 منحرف اراکین اسمبلی کے نااہلی ریفرنس کی سماعت کرنے والے بینچ نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    سیکریٹری الیکشن کمیشن افس کے مطابق آج ہی محفوظ فیصلہ سنائے جانے کا امکان ہے۔

  10. چونکہ تحریک عدم اعتماد میں ووٹ نہیں ڈالا گیا اس لیے نااہلی کا کیس نہیں بنتا: وکیل منحرف اراکین

    منحرف ارکان کے مشترکہ وکیلخالد اسحاق نے الیکشن کمیشن میں دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے موکلین نے آگاہ کیا ہے کہ نہ ہی انھوں نے پارٹی سے استعفی دیا ہے اور نہ ہی کسی دوسری سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کی ہے۔

    خالد اسحاق کا کہنا تھا کہ چونکہ تحریک عدم اعتماد میں ووٹ ڈالنے کا کوئی کیس ہی نہیں ہے اسی لیے یہ 63 ون اے کا کیس نہیں ہے۔

  11. منحرف اراکین نااہلی کیس: الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کی مزید ریکارڈ فراہم کرنے کی درخواست مسترد کر دی

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کے 20 منحرف اراکین قومی اسمبلی کے خلاف نااہلی ریفرنس کیس کی سماعت کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی جانب سے کمیشن کو مزید ریکارڈ فراہم کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

    بدھ کے روز چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے تین رکنی بنچ نے اس درخواست پر سماعت کی۔ اس سے قبل پی ٹی آئی کی جانب سے استدعا کی گئی تھی کہ ان کے پاس اس کیس کے حوالے سے مزید ریکارڈ موجود ہے جو وہ کمیشن کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں، تاہم منحرف اراکین کے وکلا نے پی ٹی آئی کی اس درخواست کی مخالفت کی تھی جس پر الیکشن کمیشن نے اپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    بدھ کے روز یہ محفوظ فیصلہ سنایا گیا ہے۔

    فیصلہ سامنے آنے کے بعد پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ کچھ چیزیں درست انداز سےریکارڈ پر سامنے نہیں آئیں اور یہ کہ ان کا کیس تعصبانہ ہو چکا ہے۔

  12. پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس: ’لوگ پی ٹی آئی کے نام پر پیسے اکھٹے کر رہے تھے جس کا سختی سے نوٹس لیا گیا‘

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ پی ٹی آئی غیر ملکی فنڈنگ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

    دوران سماعت پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور کے دلائل دیے کہ سنہ 2010 میں ’پی ٹی آئی یو ایس اے‘ امریکہ میں رجسٹر ہوئی اور انھوں نے جو دستاویزات بینچ کے سامنے رکھی ہیں ان میں ’ڈونیشن پالیسی‘ کی دستاویزات لگی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ جون 2011 کا چیئرمین پی ٹی آئی کا لیٹر دستاویزات میں لف ہے، یہ لیٹر ویب پر بھی موجود ہے جو فنڈ ریزنگ کے حوالے سے ہے۔

    انھوں نے کہا چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے اس لیٹر میں لکھا تھا کہ لوگ پی ٹی آئی کے نام پرپیسہ اکھٹا کر رہے ہیں اور اس کا سختی سے نوٹس لیا گیا تھا اور تاکید کی گئی کہ پی ٹی آئی کے فنڈزصرف آفیشل اکاؤنٹ سے لیے جا سکتے ہیں اور یہ کہ سینٹرل فنانس کمیٹی کی اجازت کے بغیر کوئی فنڈنگ ہوئی تو پی ٹی آئی ذمہ دار نہیں۔

    اس موقع پر بینچ کے ممبر ناصر درانی نے سوال کیا کہ فنڈنگ کے ذرائع کیا تھے؟

    اس پر انور منصور نے بتایا کہ اُس وقت انفرادی فنڈنگ تھی، پالیسی میں لکھا تھا کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر کے تحت فنڈ اکھٹا ہو گا۔ انھوں نے بتایا کہ احسن اینڈ احسن کمپنی کو رکھنے کی وجہ ایک خط تھا کہ اکاؤنٹس غلط طریقے سے مینٹین ہو رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ احسن اینڈ احسن چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کمپنی کو پی ٹی آئی نے ٹاسک دیا کہ ایک جماعتاپنے اکاؤنٹس کو درست کرنا چاہتی ہے۔

    انور منصور نے دلائل دیے کہ سنہ 2013 سے پہلے گڑ بڑ ہو رہی تھی اور پی ٹی آئی کے چیئرمین نے خود مانا کہ ہمارے پاس اتنے سخت کنٹرول نہیں تھے اور اپنی غلطی تسلیم کی۔ انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس بھی اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال 2009 سے 2013 تک کی ہے۔

    انور منصور نے کہا کہ سب شروع ہونے سے قبل پی ٹی آئی نے ادراک کیا اور اصلاح کے لیے پالیسی بنائی، وارننگ لیٹر بھیجے، اصلاح کے لیے اڈٹ کروایا۔

    انھوں نے اپنے دلائل میں کہا کہ پارٹی نے احساس کیاکہ کوئی غلطی ہے تو اسے دور کیا جائے۔

  13. ’ریاست مخالف تقریر اور اشتعال انگیزی‘ پھیلانے کے کیس میں ایم این اے علی وزیر کی ضمانت منظور

    سندھ ہائیکورٹ نے جنوبی وزیریستان سے منتخب رکن قومی اسمبلی اور پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما علی وزیر کی شاہ لطیف ٹاؤن میں درج ایک مقدمے میں ضمانت منظور کر لی ہے۔ علی وزیر کے وکیل قادر خان نے ان کی ایک مقدمے میں ضمانت منظور ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کل انسداد دہشت گردی کی عدالت میں بھی ایک اور مقدمے کی سماعت ہونی ہے جس کے بعد ان کی رہائی کی بابت کچھ کہا جا سکتا ہے۔

    درخواست ضمانت کی سماعت سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے کی۔

    دوران سماعت علی وزیر کے وکیل صلاح الدین گنڈا پور نے دلائل دیے کہ علی وزیر پر الزام عائد کیا گیا کہ انھوں نے فوج کے خلاف بیان دیا اور اشتعال انگیزی کی مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس مبینہ تقریر کا سکرپٹ کہیں موجود ہے یا نہیں؟

    دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ کیا علی وزیر نے اپنی تقریر کے دوران نعرہ لگائے یا لگوائے جس پر اس کیس میں استغاثہ کے وکیل نے آگاہ کیا کہ علی وزیر تو تقریر کر رہے ہیں نعرے کسی اور نے لگائے۔

    پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اس کیس کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے کیونکہ جب یہ تقریر ہو رہی تھی تو پولیس کانسٹیبل ادھر موجود تھے۔

    اس پر عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے سوال کیا کہ پولیس کانسٹیبل کو چھوڑیں، ہمیں بتائیں تقریر کا ٹرانسکرپٹ کہاں ہے؟

    عدالت نے کہا کہ جس کو پشتو زبان نہیں آتی اسے کیا معلوم تقریر کرنے والے نے کیا بیان دیا۔ اس موقع پر جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے استغاثہ سے دریافت کی کہ اسی مقدمے میں نامزد دوسرے ملزم

    محسن داوڑ کہاں ہے؟ انھیں گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟

    جس پر اس کیس کے تفتیشی افسر نے بتایا کہ محسن داوڈ ایم این اے ہیں جن کی گرفتاری کے لیے سپیکر سے اجازت لینا ہوگی۔

    اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا علی وزیر کو گرفتار کرنے سے پہلے سپیکر سے اجازت لی گئی تھی؟ اس پر تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ علی وزیر سہراب گوٹھ تھانے میں درج مقدمے میں پہلے سے گرفتار تھے اسی لیے شاہ لطیف تھانے میں درج مقدمے میں ان کی گرفتاری جیل میں ان کی موجودگی میں ہی ڈالی گئی۔

    اس پر علی وزیر کے وکیل کا کہنا تھا کہ جب سپریم کورٹ نے ضمانت منظور کی تو علی وزیر کو دوسرے مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا۔

    عدالت نے اس موقع پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ سنہ 2018 سے مقدمہ زیر سماعت ہے مگر آج تک ایک بھی گواہ کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا اور علی وزیر کے علاوہ نامزد مفرور ملزمان کو گرفتار کرنے کی کوشش تک نہیں کی گئی۔

    اس پر تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ اس کیس میں نامزد ایک اور ملزم منظور پشتین مفرور ہیں جنھیں گرفتار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ جن ملزمان کی ضمانت منظور کی گئی کیا اسے چیلنج کیا گیا؟ اس پر عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ ملزمان کی ضمانت پر رہائی کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا گیا۔

  14. شہباز شریف سمیت پارٹی وفد کے لندن دورے کا سیاسی صورتحال سے کوئی تعلق نہیں: خواجہ آصف

    پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس ملاقات کا سیاسی صورتحال سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ خیرسگالی دورہ پہلے سے طے شدہ تھا تاہم پہلے موقع نہیں مل سکا اور اب مل رہا ہے لہذا اس دورے پر لندن جا رہے ہیں۔‘

    جبکہ اس سے قبل مسلم لیگ ن کی رہنما اور وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے تصدیق کی ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف سمیت پارٹی کے رہنما ایک ذاتی دورے پر نواز شریف سے ملنے لندن جا رہے ہیں۔‘

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات سیاسی مشاورت کے لیے ہوگی۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’یہ پارٹی کا وفد ہے اور مسلم لیگ ن میں مشاورتی عمل جاری رہتا ہے۔ بلا وجہ تنقید جاری رکھیں ہم پاکستانی عوام کے لیے جو بہتر ہو گا وہ جاری رکھیں گے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ لندن جانے والوں میں احسن اقبال، خواجہ آصف، سعد رفیق، ایاز صادق اور مفتاح اسماعیل شامل ہیں۔اس کے علاوہ مریم اورنگزیب بھی اس وفد میں شامل ہیں۔

  15. شہباز شریف سے اہم امور پر بات ہو گی، عمران سے آئندہ انتخابات میں جان چھوٹ جائے گی: نواز شریف

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کے دورۂ لندن کے دوران بڑے ضروری امور پر تبادلہ خیال ہو گا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں نواز شریف نے لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف (آج) یہاں پہنچیں گے، ہماری ملاقات ہو گی اور بڑے ضروری امور ہیں جن پر بات ہو گی۔

    واضح رہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کا پارٹی وفد نجی دورے پر مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف سے ملاقات کے لیے لندن پہنچا ہے۔

    گذشتہ روز وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے ہمراہ مسلم لیگ (ن) کا پارٹی وفد نجی دورے پر نواز شریف سے ملاقات کرنے کے لیے لندن جا رہا ہے۔

    نواز شریف کا لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت ہر شعبے میں سر سے پاؤں تک بحران ہی پیدا کرتی رہی، چاہے وہ آئینی بحران ہوں چاہے وہ معاشی بحران ہوں چاہے وہ سیاسی یا معاشرتی بحران ہیں۔

    نواز شریف نے سابق وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بندہ پاکستان کو تباہی اور بربادی کی طرف لے کر جا رہا تھا شکر ادا کرو کہ اس سے جان چھٹی ہے اور اب ہمیشہ کے لیے جان چھٹے گی۔

    انھوں نے کہا کہ ہماری قوم کا کلچر بدل کر رکھ دیا گیا ہے اور بدتمیزی سکھا دی گئی ہے، بالکل افسوس ناک طریقے کے ساتھ گفتگو کے نئے کلچر کی بنیاد رکھی ہے، ہماری تو یہ روایات نہیں ہے، یہ روایات پتہ نہیں کہاں سے لے کر آئے ہیں اور پاکستان میں نافذ کردی ہیں۔

    نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں 70 سال میں پہلی دفعہ اس طرح کا کلچر دیکھ رہے ہیں۔

    سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے تقریر میں میر جعفر کہنے سے متعلق ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ عمران خان نے پاکستان کے اندروہ تباہی مچائی ہے، جو کسی نے نہ پہلے کبھی دیکھی ہے اور نہ شاید آئندہ کبھی دیکھے گا۔

  16. ’پراپیگنڈا اور جھوٹ‘ کو پاکستان کے ساتھ تعلقات میں آڑے نہیں آنے دیں گے: امریکہ

    امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ کسی بھی ملک بشمول پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے درمیان ’پراپیگنڈا، گمراہ کُن اور جعلی معلومات اور جھوٹ‘ کو آڑے نہیں آنے دے گا۔

    امریکی محکمہ خارجہ کی یومیہ پریس بریفنگ کے دوران پاکستان کے نجی ٹی وی چینل اے آر وائے کے صحافی نے وزرات خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس سے سوال کیا کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان امریکہ پر ان کی حکومت گرانے کا الزام عائد کر رہے ہیں اور اپنے سیاسی جلسوں میں امریکہ مخالف بیانیہ اپنا رہے ہیں، تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس سے سفارتی تعلقات میں دراڑ آ رہی ہے؟

    جس کے جواب میں ترجمان وزارت خارجہ نیڈ پرائس نے کہا کہ امریکہ کسی بھی ملک بشمول پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے درمیان ’پراپیگنڈا، گمراہ کُن اور جعلی معلومات اور جھوٹ‘ کو آڑے نہیں آنے دے گا۔

    اُنھوں نے مزید کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی قدر کرتا ہے۔

  17. ’اس سے زیادہ شرم کی بات نہیں کہ ملک کا سربراہ پیسے مانگے‘

    جہلم میں جلسے سے خطاب میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما کا کہنا تھا کہ روس پاکستان کو تیس فیصد کم قیمت پر تیل اور گندم بیچنے کو تیار تھا۔

    انھوں نے شہباز شریف کو مخاطب کر کے کہا کہ ’کیا روس سے تیس فیصد کم تیل خریدنے کی بات سکتے ہیں، نہیں! کیونکہ اس کے لیے اجازت لینی پڑی گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’بھٹو کے خلاف بھی سازش ہوئی تھی ، یہی وہ لوگ ہیں جو بھٹو کے خلاف نکلے انہیں گرایا اور پھانسی دی گئی۔‘

    انھوں نے کہا ’حکومت کے ساڑھے تین سال میں سب سے زیادہ شرم اس وقت آئی جب دوست ملکوں سے قرض مانگنا پڑا، کیونکہ میں نے کبھی نے کبھی اپنے والد سے پیسے نہیں مانگے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ مجھے سب سے زیادہ ندامت اس وقت محسوس ہوئی جب میں ملک کے لیے قرض مانگنے گیا، میں نے کبھی زندگی میں پیسے نہیں مانگے، ماں باپ بھی اس بچے کی عزت کرتے ہیں جس میں خود داری ہوتی ہے، ملک کا سربراہ کسی اورملک سے پیسے مانگے تواس سے زیادہ شرم والی بات نہیں۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ 20 تاریخ کے بعد اسلام آباد روانگی کی کال دیں گے۔ عمران خان کا کہنا تھا ’کس نے ہمیں مقروض کیا؟ دو خاندانوں نے تیس سال حکمرانی کر کے ملک کو مقروض کر دیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ جب ہم اسلام آباد آئیں گے تو ہمارا ایک ہی مطالبہ ہوگا کہ عام انتخابات کرواؤ اور امپورٹڈ حکومت نا منظور ہے۔

  18. شہباز شریف میں جو میر جعفر کا کہتا ہوں وہ تم ہو: عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان کا جہلم میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر اپنی حکومت کے خلاف غیر ملکی سازش کا ذکر کیا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اس ان کا کہنا تھا کہ کہ ’بڑا بھائی اور بھتیجی فوج کو برا بھلا کہتا ہے اور چھوٹا بھائی جوتے پالش کرتا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان فوج کے خلاف بات کرتا ہے جس کی ہم اجازت نہیں دیں گے‘۔

    عمران خان نے ایک بار پھر میر جعفر کی اصطلاح کی وضاحت کرتے ہوئے شہباز شریف کو مخاطب کر کے کہا کہ ’میں جو میر جعفر کا کہتا ہوں وہ تم ہو۔‘

    انھوں نے آصف زرادی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں جلد سندھ آ رہا ہوں سندھ کو آصف زرداری سے آزادی کروانے۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ڈس انفو لیب نے پاکستانی فوج اور مجھے نشانہ بنایا، ڈونلڈ لو امریکی انڈرسیکرٹری ہمارے سفیر کو بلا کر تکبر میں حکم دیتا ہے کہ عمران خان کو عدم اعتماد میں نہ ہٹایا تو پاکستان پر مشکل وقت آئے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ لو کہتا ہے کہ اگر عمران خان کو ہٹا دیا تو سب معاف کردیا جائےگا، پھر ساری سازش ہوتی ہے یہاں کے میر جعفر اور میرصادق اس میں شرکت کرتے ہیں، 22 کروڑ عوام کے منتخب وزیراعظم کو سازش کے تحت نکالا گیا۔

  19. ڈالر کی قدر میں ایک بار پھر اضافہ، روپے کے مقابلے میں 188.66 پر جا پہنچا

    پاکستان پر بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کی وجہ سے منگل کے روز ڈالر کی قیمت ایک روپیہ تیرہ پیسے اضافے کے ساتھ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 188.66 روپے پر بند ہوا۔

    انٹر بنک میں ڈالر کی قیمت میں مسلسل کئی روز سے اضافہ ہو رہا ہے۔ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی گزشتہ بلند ترین سطح 188.16 سات اپریل 2022 کو ریکارڈ کی گئی تھی۔

    انٹر بنک میں ایک ڈالر کی قیمت 188.66 روپے پر بند ہوئی جو گزشتہ روز 187.53 روپے تھی۔

    ایک ڈالر کی قیمت 16 اپریل 2022 کو 181.75 روپے پر بند ہوئی تھی اس میں اب تک 19 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہےG

    جنرل سیکرٹری ایکسچینج کمپنیز آف ایسوسی ایشن آف پاکستان ظفر پراچہ نے ڈالر کی قیمت میں اضافے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ملک پر اس وقت بیرونی ادائیگیوں کا بے تحاشا دباؤ ہے جن میں درآمدات کی ادائیگیوں کے ساتھ بیرونی قرضوں کی قسطیں بھی ادا کرنی ہیں جب کہ دوسری جانب ملک میں ڈالر کی آمد رکی ہوئی ہے۔‘

    انھوں نے کہا ’آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے ساتھ قرضہ پروگرام پر پیش رفت نہیں ہو پا رہی تو دوسری جانب سعودی عرب اور دوسرے ممالک کی جانب سے بھی مالی معاونت کے سلسلے میں بھی کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔‘

  20. پاکستان کی سیاسی صورتحال پر بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    گذشتہ مہینوں کے دوران پاکستان کی سیاسی صورتحال تیزی تبدیل ہوئی ہے اور سنہ 2018 کے الیکشن کے بعد برسرِاقتدار آنے والی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد اب پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف پاکستان کے وزیرِ اعظم ہیں۔

    اس بدلتی سیاسی صورتحال پر بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    ملک کی سیاست اور دن بھر پیش آنے والے اہم واقعات کے بارے میں آپ یہاں تازہ ترین خبریں دیکھ سکیں گے۔