آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

سپریم کورٹ ایف آئی اے کے افسران کی موت پر از خود نوٹس لے: عمران خان کا مطالبہ

عمران خان نے کہا کہ اس ملک میں طاقتور مجرم کو نہیں پکڑا جاتا، اسی لیے قتل کی سازش کرنے والے سب کرداروں کے نام بتا دیے ہیں۔ مریم نواز نے کہا عمران خان ویڈیو سامنے لائیں اور پھر نواز شریف کا ظرف دیکھنا کہ کیسے شہاز شریف سے بھی زیادہ نواز شریف تمھیں سیکیورٹی دیں گے۔

لائیو کوریج

  1. مانسہرہ میں واپڈا کے گرڈ سٹیشن کے افتتاح کے لیے تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن میں تنازعہ, محمد زبیر خان، صحافی

    صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے علاقے چھترپلین میں چھترپلین گرڈ سٹیشن میں نئے تعمیر ہونے والے فیڈر کے وی کے افتتاح پر مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے کارکنان کے درمیان تنازعہ اور کشیدگی روکنے کے لیے انتظامیہ نے دونوں کو اپنی الگ الگ افتتاحی تقریب منعقد کرنے کی اجازت دی ہے۔

    دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ رکاوٹوں اور مخالفت کے باوجود افتتاح کرنے پہنچے ہیں اور دوسرے کو روکنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

    پولیس نے کشیدگی اور تصادم روکنے کے لیے سنیچر کے روز مانسہرہ سے چھتر پلین تک مختلف رکاوٹیں کھڑی کرکے روڈ کو بھی بلاک رکھا تھا۔

    ضلع مانسہرہ انتظامیہ اور پولیس کے مطابق دونوں جماعتوں کے کارکناں میں اشتعال پایا جاتا ہے۔

    حالات کو احسن طریقے سے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ گرڈ سٹیشن واپڈا کی ملکیت ہے۔

    اس پر فیڈر کاکام بھی واپڈا ہی نے کروائے تھے۔ واضح رہے کہ نئے فیڈر پر کام مکمل ہوچکا ہے مگر ابھی اس سے بجلی کی سپلائی شروع نہیں ہوئی ہے۔

    مسلم لیگ ن نےاعلان کررکھا تھا کہ سنیچر کے روز کیپٹین (ر)صفدر اور سردار یوسف اس گرڈ سٹیشن کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے۔ تاہم اس اعلان کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤں سینیٹر اعظم سواتی، بابر سلیم سواتی اور ایم این اے صالح محمد کی قیادت میں تحریک انصاف کے کارکناں نے گزشتہ روز جمعے کو یہاں جلسہ منعقد کیا اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ انھوں نے اس سٹیشن کا افتتاح کردیا ہے۔

  2. حکومت واضح شواہد کے بغیر توہین مذہب کے مقدمات درج نہ کرے: فواد چوہدری کی درخوست پر عدالت کا تحریری فیصلہ

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی قیادت کے خلاف توہین مذہب مقدمات کے خلاف دائر درخواستوں پر تحریری حکمنامہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت یقینی بنائے کہ پی ٹی آئی قیادت کے واقعے میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد کے بغیر مقدمہ درج نہیں ہو گا۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ کے تحرحر کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئی جی اسلام آباد یقینی بنائیں کہ سعودی عرب واقعے سے متعلق کوئی غلط مقدمہ درج نہ کیا جائے۔

    خیال رہے کہ تحریک انصاف رہنما فواد چوہدری کی جانب سے دائر کی جانے والے درخواست میں کہا گیا تھا کہ حکومت کی طرف سے عمران خان اور پی ٹی آئی قیادت کے خلاف انتقامی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

    اس مقدمے میں درخواست گزار نے عدالت کی توجہ مسجد نبوی کے واقعے پر دلاتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب واقعے کے مقدمات سیاسی طور پر پاکستان میں درج کیے جا رہے ہیں۔

    عدالت نے قرار دیا ہے کہ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ جہاں وقوعہ ہوا تحریک انصاف کی قیادت وہاں موجود نہ تھی۔ فیصلے کے مطابق سعودی حکام نے حکومت پاکستان کو پی ٹی آئی قیادت کو مشتبہ قرار دینے کی کوئی اطلاع نہیں دی ہے۔

    ریاست مذہب کے سیاسی یا ذاتی مفاد کے استعمال کو روکے

    ریاست کی ذمہ داری ہے کہ یقینی بنائے کوئی سیاسی یا ذاتی مفاد کے لیے مذہب کا استعمال نہ کر سکے۔

    ماضی میں ریاستی عناصر کی جانب سے مذہب کے غلط استعمال نے لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالیں۔ مذہب کی بنیاد پر غلط مقدمات سے پیدا ہونے والا ماحول عدم برداشت اور ماورائےعدالت قتل کا باعث بنا۔ مشال خان اور سری لنکن شہری کے بہیمانہ قتل اس کی ایک مثال ہیں۔

    جسٹس اطہر من اللہ کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ اس طرح کے قتل بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور آئین کے تحت چلنے والے معاشرے میں ناقابل برداشت ہیں، مذہب یا مذہبی جذبات کا ذاتی یا سیاسی مفادات کے لیے استعمال خود سے توہین مذیب ہے۔

    فیصلے میں عدالت نے کہا ہے کہ امید ہے وفاقی حکومت مذہبی جذبات کے غلط استعمال کے مبینہ تاثر کو زائل کرنے کے لیے اقدامات کرے گی۔

  3. سیالکوٹ میں پی ٹی آئی کے جلسے کی جگہ پر تنازعہ، جلسہ گاہ کا مقام تبدیل کر دیا گیا

  4. آصف زرداری کے خلاف 25 سال پرانے کیسز، نیب اپیلیں ایک بار پھر سماعت کے لیے مقرر

    پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف 25 سال پرانے کیسز میں نیب کی اپیلیں ایک بار پھر سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہیں۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ پیر کے روز آصف زرداری کی بریت کے خلاف نیب اپیلوں پر سماعت کرے گا۔

    عدالت نے نیب کو مزید عدالتی وقت ضائع نہ کرنے اور کیس کی تیاری کی ہدایت دے رکھی ہیں۔

    نیب نے آصف زرداری کی ارسسز ٹریکٹر، اے آر وائی گولڈ ریفرنس اور ایس جی ایس اورکوٹیکنا ریفرنسز میں بریت کو چیلنج کیا ہے۔

  5. لندن میں ملک و قوم کے لیے اچھے فیصلے ہو رہے ہیں، حمزہ شہباز

    لاہور کی خصوصی عدالت میں منی لانڈرنگ کے مقدمے میں پیشی کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’لندن میں ملک و قوم کے لیے اچھے فیصلے ہو رہے ہیں۔‘

    انھوں نے ملک میں مہنگائی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ مہنگائی کے خلاف جہاد کریں گے اور عام آدمی کو ہر ممکن ریلیف دینے کی کوشش کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں نے کمر کس لی ہے میں خود ہر جگہ جاؤں گا۔‘

    حمزہ شہباز نے سابق وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ اداروں کا مذاق اڑاتے ہیں لیکن مسلم لیگ ن انتقام نہیں لے گی لیکن قانون کو حرکت میں لا کر قانون کا احترام ضرور سکھائے گی۔‘

  6. منی لانڈرنگ کیس: شہباز شریف، حمزہ شہباز پر فرد جرم کی کارروائی مؤخر

    لاہور کی خصوصی عدالت میں وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمے میں فرد جرم کی کارروائی موخر کر دی گئی ہے۔

    ایف آئی اے کے وکیل نے کیس کی تیاری کے لیے عدالت سے مزید وقت مانگ لیا ہے۔

    عدالت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں 21 مئی تک توسیع بھی کر دی ہے۔

  7. وزیراعظم شہباز شریف شیخ خلیفہ بن زید النھیان کی وفات پر تعزیت کے لیے متحدہ عرب امارات جائیں گے

    وزیراعظم شہبازشریف یو اے ای کے صدر شیخ خلیفہ بن زید النھیان کی وفات پر تعزیت کے لیے سنیچر کو لندن سے متحدہ عرب امارات جائیں گے۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ شیخ خلیفہ بن زید النھیان کی وفات امت مسلمہ کا ایک بڑا نقصان ہے۔

    وزیراعظم شہبازشریف اتوار کے دن یو اے ای کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النھیان سے صدر کی وفات پر تعزیت، یواے ای کی قیادت اور عوام سے اظہار افسوس کرنے کے لیے یو اے ای جا رہے ہیں۔

  8. بریکنگ, منی لانڈرنگ کا مقدمہ: عدالت نے وزیرِاعظم شہباز شریف کی ایک دن حاضری سے استثنی کی درخواست منظور کر لی

    آج لاہور کی خصوصی عدالت میں وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمے کی سماعت جاری ہے۔

    ایف آئی اے کے پراسیکوٹر نے عدالت کو بتایا ہے کہ وہ اس مقدمے میں پہلی مرتبہ عدالت میں پیش ہوئے ہیں اور فرد جرم عائد کرنے کے لیے تمام ملزمان کا عدالت میں پیش ہونا ضروری ہے۔

    عدالت نے میاں شہباز شریف کی ایک دن کے لیے حاضری سے استثنی کی درخواست منظور کر لی۔

  9. منی لانڈرنگ کا مقدمہ: وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد ہونے کا امکان

    آج لاہور کی خصوصی عدالت میں منی لانڈرنگ کے مقدمے میں وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد ہونے کا امکان ہے۔

    شہباز شریف پر الزام ہے کہ انھوں نے 2008 سے لے کر 2018 تک 16 بلین روپے کی منی لانڈرنگ کی ہے اور اس مقصد کے لیے انھوں نے اپنے خاندان اور خاندانی کاروبار سے منسلک کم آمدن والے ملازمین کے اکاؤنٹس بھی استعمال کیے ہیں۔

    گذشتہ روز وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کے کیس کے لیے نیا پراسیکیوٹر مقرر کیا تھا۔

    وزارت قانون اور انصاف کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ‘فاروق باجوہ کو کیس میں سپیشل پبلک پراسیکیوٹر مقرر کیا گیا ہے۔‘

    وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز اس وقت عدالت میں موجود ہیں جبکہ میاں شہباز شریف ملک میں موجود نہیں ہیں۔

  10. عمران خان کا سیالکوٹ جلسہ: عثمان ڈار کا گرفتاری کا دعویٰ، پولیس کی تردید

    تحریکِ عدم اعتماد کے نتیجے میں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک بھر میں سابق وزیراعظم عمران خان کے جلسوں کا سلسلہ جاری ہے اور آج وہ سیالکوٹ میں جلسے سے خطاب کرنے والے ہیں۔

    تاہم تحریکِ انصاف جس جگہ پر جلسہ کرنا چاہتی ہے وہ مسیحی برادری کی ملکیت ہے اور مالکان نے وہاں پر جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔

    گذشتہ روز پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار نے جلسے کی اجازت نہ دینے پر سیالکوٹ‌ شہر بند کرنے کی کال دی تھی اور کارکنان کو ہدایت کی تھی کہ رات جلسہ گاہ میں رہیں۔

    عثمان ڈار نے پولیس وین سے بنائی گئی ویڈیو میں دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے انھیں اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا ہے تاہم مقامی پولیس کے مطابق ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی جس گراؤنڈ میں جلسہ کرنا چاہتی ہے وہ مسیحی برادری کی ملکیت ہے اور مالکان نے وہاں پر کسی قسم کا سیاسی جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے عثمان ڈار کے بھائی عمر ڈار اور اسجد ملہی کو اس وقت حراست میں لیا جب وہ جلسہ گاہ پر تیاریوں کی نگرانی کر رہے تھے اور ضلعی انتظامیہ نے جلسے کی اجازت نہیں دی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ چھ مزید کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق پولیس نے پی ٹی آئی کے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا بھی استعمال کیا ہے۔

    سیالکوٹ کے ڈپٹی کمشنر عمران قریشی کے مطابق انتظامیہ نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ متبادل جگہ کے لیے درخواست دیں۔

  11. کیا میثاق جمہوریت فوج کو مستقل غیر جانبدار رکھ سکتا ہے؟

  12. اگلے 48 گھنٹے میں حتمی فیصلے کر کے پاکستان کی عوام کو اعتماد میں لے لیں گے: خواجہ آصف

    پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگلے 48 گھنٹے میں حتمی فیصلے کر کے پاکستان کی عوام کو اعتماد میں لے لیں گے۔

    لندن میں آج بھی پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی مشاورت جاری رہی جس کے بعد میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے بتایا کہ اتوار تک اس حوالے سے کوئی حتمی بات کی جائے گی۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم ساری مشاورت اپنے اتحادیوں کے سامنے رکھیں گے کیونکہ ہم اکیلے فیصلے کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کیونکہ سٹیک صرف ہمارے نہیں تمام اتحادی جماعتوں کے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ہم پر کسی کا دباؤ نہیں صرف پاکستانی قوم کا دباؤ ہے۔

  13. سازش کا پتا چلا تو ان لوگوں کے پاس گیا جو سازش روک سکتے تھے، لیکن اسے نہیں روکا گیا: عمران خان

    پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے مردان میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہ کیا تو اسلام آباد آنے والا سمندر سب کو بہا کے لے جائے گا۔

    عمران خان کی جانب سے جسلے سے خطاب کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر حکومتی اتحاد کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ’امریکی سازش‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم امریکہ کے غلام اور نوکر نہیں ہیں۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ہمیں اقتدار میں آنے کے بعد 20 ارب ڈالر کا خسارہ ملا، ہمارے پاس پیسے نہیں تھے کہ ان کے لیے گئے قرضوں کے پیسے دیتے۔

    ’جب پانچ اعشاریہ چھ سے ملک کی دولت بڑھ رہی تھی، تب انھوں نے سازش کی ہمارے خلاف، بیرونی سازش اندر میر جعفر اور میر صادق کے ساتھ مل کر ہماری حکومت گرائی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ جب مجھے پتا چلا سازش کا تو میں ان لوگوں کے پاس گیا جو سازش روک سکتے تھے۔ اور انھیں بتایا کہ اگر آج یہ سازش کامیاب ہوئی تو ہماری معیشت نیچے جائے گی، تباہی کی طرف۔‘

    انھوں نے کہا کہ وزیرِ خزانہ شوکت ترین کو بھی بھیجا انھوں نے بھی بتایا لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ نہیں روکا گیا اور آج ذرا حالات دیکھیں۔

    عمران خان نے کہا کہ ’مجھے پتا ہے کہ کس کس آدمی نے سازش کی ہے۔ ایک ایک سازشی میر جعفر کی شکل میرے دل کے اوپر لکھی ہوئی ہے کہ کس نے سازش کروائی۔‘

    خیال رہے کہ عمران خان کی جانب سے اس سے قبل ایک ٹویٹ میں کہا گیا تھا کہ ’نیوٹرلز‘ کو متنبہ کیا تھا کہ اگر ہماری حکومت کے خلاف سازش کامیاب ہوئی تو معاشی بحالی ڈوب جائے گی۔

    جس کے بعد اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیرِ انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا تھا کہ ’جب کوئی دیکھے کہ ملک تباہی کی جانب جا رہا ہے، ملک کے خلاف بیرونی سازش ہو رہی ہے تو کیا کوئی نیوٹرل رہ سکتا ہے، سب کو پتا ہے کہ نیوٹرل، نیوٹرل نہیں تھے۔‘

  14. ’منحرف ارکان روٹی کو ’چوچی‘ نہیں کہتے، انھوں نے جان بوجھ کر پارٹی کو نقصان پہنچایا‘

    تحریک انصاف کے منحرف ارکان پنجاب اسمبلی کے خلاف الیکشن کمیشن میں ریفرنسز پر سماعت میں بیرسٹر علی ظفر کے دلائل مکمل ہونے کے بعد پی ٹی آئی کے ایک اور وکیل فیصل چوہدری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’منحرف ارکان روٹی کو ’چوچی‘ نہیں کہتے، انھوں نے جان بوجھ کر پارٹی کو نقصان پہنچایا۔‘

    وکیل فیصل چوہدری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یکم اپریل کو پی ٹی آئی کے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں پرویز الہی کو امیدوار نامزد کیا گیا۔

    فیصل چوہدری نے تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی اجلاس کے منٹس بھی الیکشن کمیشن میں پیش کر دیے۔

    انھوں نے کہا کہ وزیراعلی کا انتخاب پہلے تین اپریل کو ہونا تھا جو پھر مؤخر ہو گیا۔

    فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ گورنر ہاؤس لاہور میں بھی پانچ اپریل کو عمران خان کی زیرصدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں منحرف ارکان نے ووٹ ڈالنے سے انکار نہیں کیا۔

    انھوں نے کہا کہ لاہور کے نجی ہوٹل میں جعلی الیکشن ہوا جس میں تمام منحرف ارکان شریک ہوئے۔

    پی ٹی آئی کے وکیل کا کہنا تھا کہ منحرف ارکان کو 7 اپریل کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے ان منحرف ارکان کو آفیشل ایڈریس پر نوٹس بھیجے گیے اور ٹی سی ایس کا ثبوت ہے کہ انھیں نوٹس بھیجا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’اس سے انکار سچی بات نہیں۔ یہ نوٹس اخبار میں بھی آ گیا تھا اور ان ارکان نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔‘

    فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ ان ارکان نے حلف کی خلاف ورزی کی اور یہ ارکان تحریک عدم اعتماد میں آلہ کار بنے اور یہ پارٹی سے غداری کے مرتکب ہوئے۔

    پی ٹی آئی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان ارکان نے پارلیمنٹ کے باہر اور اندر آئین قانون کی دھجیاں اڑائیں اور ان سب ارکان نے پنجاب اسمبلی میں جا کر مخالف امیدوار حمزہ شہباز کو ووٹ دیا اور اسمبلی کی ووٹنگ کا ریکارڈ موجود ہے۔

  15. ’سپریم کورٹ میں پارٹی پالیسیوں سے انحراف کرنے والوں کی نا اہلی پر بات ہو رہی ہے‘

    تحریک انصاف کے منحرف ارکان پنجاب اسمبلی کے خلاف الیکشن کمیشن میں ریفرنسز پر دوران سماعت پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی ارکان کے خلاف فیصلے میں الیکشن کمیشن نے کہا کہ ان پر آئین کے آرٹیکل 63 اے کا اطلاق نہیں ہوتا۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ صدارتی ریفرنس میں 63 اے سپریم کورٹ میں زیر غور ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس بارے میں سپریم کورٹ میں اس نقطے پر بحث ہو رہی ہے کہ کیا پارٹی پالیسیوں سے انحراف کرنے والوں کی نااہلی عمر بھر کے لیے ہوگی یا انھیں صرف ڈی سیٹ کیا جا سکے گا۔

    علی ظفر کا کہنا تھا کہ ارکان منحرف ہو جائیں تو آئین کی خلاف ورزی ہے اور آئین کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ آئین میں منحرف ارکان کے حوالے سے واضح ہے کہ وہ استعفے دیں، دوسری جماعت میں شامل ہوں اور پارلیمانی پارٹی کی ہدایت کے برخلاف وزیر اعلیٰ کو ووٹ دیں یا ووٹ دینے سے اجتناب کریں۔

    انھوں نے کہا کہ اگر ممبر پارٹی ہدایت کے خلاف ووٹ دے تو جرم ہو گیا ہے۔

    بینچ کی طرف سے سوال اٹھایا گیا کہ پارٹی نے کیا ہدایت دی تھی اور وزیر اعلی کے انتخاب میں ووٹ کے حوالے سے کیا ہدایت تھی۔

    پی ٹی آئی کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس کیس میں تمام ممبران پی ٹی آئی کے ہیں اور ان ممبران کو پارلیمانی پارٹی نے ہدایات بھی جاری کی تھیں اور یہ بھی کہا گیا کہ وزارت اعلیٰ کے امیدوار حمزہ شہباز کو ووٹ نہیں دینا۔

    انھوں نے کہا کہ یہ بھی دیکھنا ہے کہ ووٹ کا استعمال ہوا کہ نہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں تمام منحرف ممبران نے کہا کہ انھوں نے ووٹ ڈالا۔

    ’یہ بات واضح ہے کہ ان ارکان نے پارٹی پالیسوں سے انحراف کیا، اس لیے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔‘

    پی ٹی آئی وکیل کا کہنا تھا کہ ’منحرف ممبران کا کہنا ہے کہ انھیں سمن نہیں ملا، یہ بات بالکل غلط ہے۔ انھیں تین شوکاز نوٹس بھیجے گئے لیکن نوٹس کے باوجود ممبران پارٹی کے سربراہ کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

    علی ظفر نے بینچ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو دیکھنا چاہیے کہ پارلیمنٹ سے باہر کچھ ہو تو کیا وہ انحراف ہے کہ نہیں۔

    انھوں نے کہا کہ عوام اتھارٹی کی جانب دیکھتی ہے اور اس کیس کو تکینکی معاملات کا شکار نہ کریں۔

    پی ٹی آئی کے وکیل کا کہنا تھا کہ قوم اس وقت اپنی توقعات کیلئے الیکشن کمیشن کی جانب دیکھ رہی ہے اور الیکشن کمیشن کے پاس قوم کی توقعات پر پورا اترنے کا سنہری موقع ہے، جس پر بینچ کے رکن نثار درانی نے ریمارکس دیے کہ ’الیکشن کمیشن قانون اور آئین کے مطابق فیصلہ کرے گا۔‘

    سماعت کے دوران منحرف اراکین کے وکیل نے جواب الاجواب میں مزید شواہد پیش کرنے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر مزید شواہد پیش نہیں کیے جا سکتے اور کمیشن انھی ثبوتوں کی بنیاد پر ہی فیصلہ دے جو الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گئے تھے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان کا اعتراض نوٹ کر لیا گیا ہے۔

  16. اسلام آباد ہائی کورٹ کا بلوچ طلبہ کو ہراساں کرنے کی شکایات کمیشن کے سامنے رکھنے کا حکم

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے مختلف یونیورسٹیوں میں بلوچ طلبہ کو ہراساں کرنے کی شکایات وزارتِ انسانی حقوق کی جانب سے بنائے گئے نئے کمیشن کے سامنے رکھنے کا حکم دیا ہے۔

    عدالت نے درخواست گزاروں کی وکیل ایمان مزاری کو ہدایت کی کہ تمام بلوچ طلبہ کی تحریری شکایات سیکرٹری وزارت انسانی حقوق کو بھجوائیں۔

    عدالت نے وزارت داخلہ اور وزارت انسانی حقوق کو آئندہ سماعت تک رپورٹ جمع کرانے کا حکم بھی دیا۔ اس کے علاوہ عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو لاپتہ فیروز بلوچ سے متعلق الگ انکوائری کر کے رپورٹ جمع کرانے کا حکم بھی دیا۔

    عدالت نے کہا کہ اگر سیکرٹری داخلہ فیروز بلوچ کیس میں مطمئن نہ کر سکیں تو وہ ذاتی حیثیت میں عدالت کے سامنے پیش ہوں۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے دوران سماعت کہا کہ اس کمیشن کی تشکیل کا مقصد یہ ہے کہ وہ تمام سٹیک ہولڈرز کو سنے اور شکایات کا ازالہ کرے۔

    عدالت نے کیس کی مزید سماعت دس جون تک ملتوی کر دی ہے۔

  17. بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے اپریل میں ریکارڈ تین ارب ڈالر کی ترسیلات زر

    بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے اپریل کے مہینے میں 3.1 ارب ڈالر کی رقم پاکستان بھیجی گئی جو کسی ایک مہینے میں بھیجی جانے والی رقم کا ریکارڈ ہے۔

    اپریل میں بھیجی جانے والی ترسیلات زر گزشتہ سال اپریل کے مہینے کے مقابلے میں تقریباً 12 فیصد زیادہ ہیں۔

    موجودہ مالی سال کے پہلے دس ماہ میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے پاکستان بھیجی جانے والی رقم کا مجموعی حجم 26.1 ارب ڈالر تھی جو گزشتہ سال کے انھی مہینوں کے مقابلے میں 7.6 فیصد زیادہ ہے۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق سب سے زیادہ رقم سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور امریکہ میں بسنے والے پاکستانیوں کی جانب سے ملک بھجوائی گئی۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق ترسیلات زر میں اضافہ خوش آئند ہے جس نے کسی حد تک ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کو سہارا دیا ورنہ روپے کی سطح اور زیادہ کم ہوتی۔

  18. سپریم کورٹ کا 7 اپریل کا فیصلہ: سابق سپیکر اور ڈپٹی سپیکر نے نظر ثانی کی اپیلیں دائر کر دیں

    قومی اسمبلی کے سابق سپیکر اسد قیصر اور سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے سپریم کورٹ فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیلیں دائر کر دی ہیں۔

    ان درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے پاس پارلیمنٹ میں ہونے والی کارروائی میں مداخلت کا اختیار نہیں، اس لیے سپریم کورٹ اپنا 7 اپریل والا فیصلہ واپس لے جس کی روشنی میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تحریک عدم اعتماد پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔

    ان درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کے معاملات میں مداخلت اختیارات سے تجاوز کرنے کے مترادف ہے۔

    ان درخواستوں کو جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔

  19. پی ٹی آئی کے منحرف ارکان پنجاب اسمبلی کے خلاف نااہلی ریفرنس پر سماعت الیکشن کمیشن میں جاری

    پاکستان تحریک انصاف کے منحرف ارکان پنجاب اسمبلی کے خلاف نااہلی ریفرنس پر سماعت آج الیکشن کمیشن میں جاری ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن اس معاملے کی سماعت کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ منحرف ارکان پنجاب اسمبلی نے گزشتہ سماعت پر اپنے تحریری جوابات الیکشن کمیشن کو جمع کرا دیے تھے۔

  20. پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً دو سال کی کم ترین سطح تک گر گئے, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً دو سال پہلے کی کم ترین سطح پر گر گئے ہیں۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک کے پاس اس وقت 16.5 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر موجود ہیں جن میں صرف ایک ہفتے میں 10 کروڑ 78 لاکھ ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے۔

    سٹیٹ بینک کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر کی مالیت 10.308 ارب ڈالر ہے جب کہ کمرشل بینکوں کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت 6.607 ارب ڈالر ہے۔

    پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں گذشتہ کئی مہینوں سے کمی واقع ہو رہی ہے جس کی وجہ ملک کا بڑھتا ہوا تجارتی اور جاری کھاتوں کا خسارہ ہے جس سے مقامی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت بھی مسلسل چڑھ رہی ہے جو اس وقت تقریباً 192 روپے کے قریب موجود ہے۔