آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سپریم کورٹ ایف آئی اے کے افسران کی موت پر از خود نوٹس لے: عمران خان کا مطالبہ
عمران خان نے کہا کہ اس ملک میں طاقتور مجرم کو نہیں پکڑا جاتا، اسی لیے قتل کی سازش کرنے والے سب کرداروں کے نام بتا دیے ہیں۔ مریم نواز نے کہا عمران خان ویڈیو سامنے لائیں اور پھر نواز شریف کا ظرف دیکھنا کہ کیسے شہاز شریف سے بھی زیادہ نواز شریف تمھیں سیکیورٹی دیں گے۔
لائیو کوریج
یہ حقیقی آزادی کی تحریک ہے، الیکشن کا اعلان ہونے تک جاری رہے گی: عمران خان
پاکستان کے سابق وزیراعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ الیکشن کا اعلان ہونے تک حقیقی آزادی کی تحریک جاری رہے گی، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
انھوں نے اٹک میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحریک حقیقی آزادی کی تحریک ہے، یہ سیاست نہیں جہاد ہے۔
عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ’فیصلہ ہونے جا رہا ہے کہ ہم آزاد ملک ہیں یا امریکہ کے غلام۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’جیل جانے کو اور جان کی قربانی دینے کو تیار ہوں لیکن امریکہ کی غلامی تسلیم نہیں کروں گا۔‘
بریکنگ, جلد انتخابات کا فیصلہ سیاستدانوں نے کرنا ہے، فوج کا اس میں کوئی کردار نہیں بنتا: ترجمان آئی ایس پی آر
پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں مزید کہا ہے کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ خدا ناخواستہ فوج میں کوئی تقسیم ہو سکتی ہے تو اس کو فوج کی روایات اور کلچر کا پتا ہی نہیں ہے۔
ترجمان آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ ’جائز تنقید سے کسی کو مسئلہ نہیں ہے، لیکن آج کل سوشل میڈیا پر کیا جا رہا ہے وہ تنقید نہیں پراپیگینڈا ہے۔
’جلد انتخابات کا فیصلہ سیاستدانوں نے کرنا ہے، فوج کا اس چیز میں کوئی کردار نہیں بنتا۔ پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ اتنی قابل ہے کہ وہ آپس میں بیٹھ کر اس بارے میں بات کر سکتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’فوج کا کردار جب بھی کسی سیاسی معاملے میں فوج کو بلایا گیا ہے یا اس نے مداخلت کی وہ متنازع ہو گیا ہے۔ اسی لیے فوج کی لیڈرشپ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم نے اپنے آپ کو سیاسی چیزوں سے دور رکھنا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس چیز کا فیصلہ جب بھی پاکستان کی سیاسی قیادت کرے گی، اور اگر الیکشن کے انتظام میں فوج کی ضرورت پڑی تو سکیورٹی دینے کے لیے الیکشن کمیشن فوج کو بلا سکتا ہے۔‘
انھوں نے ایک سوال کے جواب میں یہ بھی کہا کہ ’فوج کی جانب سے سیاست دانوں کو نہیں بلایا جاتا بلکہ سیاستدان خود ملنے کی درخواست کرتے ہیں۔‘
بریکنگ, بدقسمتی ہے کہ ہمیں بیان دینا پڑا، لیکن یہ کسی مخصوص جماعت کے بارے میں نہیں: ترجمان آئی ایس پی آر
پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے پروگرام تقطہ نظر میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بدقسمتی ہے کہ ہمیں یہ بیان دینا پڑا ہے، یہ کسی ایک مخصوص جماعت کے بارے میں نہیں ہے۔
ترجمان پاک فوج نے پروگرام میں تفصیل سے بات کی ہے اور کہا ہے کہ ’پچھلے کئی دنوں میں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے کئی ایسے بیانات دیے ہیں جو ہماری مسلح افواج کی سینیئر لیڈرشپ، مسلح افواج بطور ادارے پر ان کے مورال اور وقار پر اثرات مرتب کر سکتا ہے اور کر رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پچھلے کچھ عرصے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سیاسی معاملات، سیاسی گفتگو سے پاکستان کی مسلح افواج کو باہر رکھیں۔
’پچھلے 74 سال سے پاکستان کی عوام اور سیاسی قیادت کا بھی ہمیشہ یہی مطالبہ رہا ہے کہ فوج کا مختلف جگہوں، مواقع پر جو بھی سیاسی کردار رہا ہے اس سے فوج کو باہر آنا چاہیے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آج ادارے نے جب یہ فیصلہ کیا اور اس کو واضح طور پر بتا دیا، اور یہ ادارے میں کسی فردِ واحد کا فیصلہ نہیں بلکہ ادارے کی لیڈرشپ اور پورے ادارے کا فیصلہ ہے۔
’ہمارے سکیورٹی چیلنج اتنے بڑے ہیں کہ ہم ملک کی سیاست میں مداخلت نہیں کر سکتے۔ ہمیں اپنے ملک کی حفاظت کے لیے بہت محنت کی ضرورت ہے۔ اگر ملک کی حفاظت میں کسی بھی قسم کی بھول چوک ہوئی تو اس کی کوئی معافی نہیں ہے۔‘
تاج محل کے کمرے کھولنے کی درخواست خارج: ’کل آپ کہیں گے کہ ہمیں ججوں کے چیمبر میں بھی جانے دیا جائے‘
بریکنگ, کور کمانڈر پشاور کے حوالے سے اہم سینیئر سیاستدانوں کے حالیہ بیانات انتہائی نامناسب ہیں: آئی ایس پی آر
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ کور کمانڈر پشاور کے حوالے سے اہم سینیئر سیاستدانوں کے حالیہ بیانات انتہائی نامناسب ہیں۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پشاور کور پاکستان آرمی کی ایک ممتاز فارمیشن ہے۔ پشاور کور دو دہایئیوں سے دہشت گردی کے خلاف قومی جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے اس اہم کور کی قیادت ہمیشہ بہترین پروفیشنل ہاتھوں میں سونپی گئی ہے۔‘
بیان کے مطابق ’پشاور کور کمانڈر کے حوالے سے اہم سینیئر سیاستدانوں کے حالیہ بیانات انتہائی نامناسب ہیں۔
’ایسے بیانات سپاہ اور قیادت کے مورال اور وقار پر منفی طور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ افواج پاکستان کے بہادر سپاہی اور آفیسرز ہمہ وقت وطن کی خودمختاری اور سالمیت کی حفاظت اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر رہے ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اس لیے سینیئر قومی سیاسی قیادت سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ادارے کے خلاف ایسے متنازعہ بیانات سے اجتناب کریں۔‘
خیال رہے کہ گذشتہ روز پاکستان کے سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے لیفٹینٹ جنرل فیض حمید جو ان دنوں کور کمانڈر پشاور تعینات ہیں سے متعلق سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’فیض حمید بیچارہ تو کھڈے لائن ہے۔‘
اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کی جانب سے بھی اپنی تقریروں میں فیض حمید کا ذکر کیا جاتا رہا ہے۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ آئی ایس پی آر کی جانب سے سیاسی بیانات میں فوج کے بارے میں بات کرنے کے حوالے سے بیان جاری کیا گیا ہو۔ اس سے قبل، گذشتہ اتوار کو آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ’فوج کو سیاست سے دور رکھا جائے اور اس کے خلاف غیر مصدقہ اشتعال انگیز بیانات دینے کی روش نقصان دہ ہے۔‘
لندن میں پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی ملاقات کا احوال
لندن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی ملاقات کی تفصیلات جانیے ہمارے ساتھی جاوید سومرو سے۔
ان کے مطابق یہ میٹنگ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ یہ توقع کی جا رہی ہے کہ آج ملاقات ہے کہ اختتام پر ایک اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔
صدر علوی کا چیف جسٹس کو خط: ’حکومت تبدیلی سازش‘ کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست
پاکستان کے صدر عارف علوی نے ایک ٹویٹ کے ذریعے بتایا ہے کہ ’حکومت تبدیلی سازش‘ کی تحقیقات کے لیے چیف جسٹس سے جوڈیشل کمیشن بنانے کے لیے خط لکھا ہے۔
صدر کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ’مبینہ حکومت تبدیلی سازش کی تحقیقات اور سماعت کے لیے جوڈیشل کمیشن کی سربراہی ترجیحاً چیف جسٹس خود کریں۔‘
ان کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ملک کو سیاسی و معاشی بحران سے بچانے، صورتحال مزید بگڑنے سے روکنے کی ضرورت ہے۔ ملک میں ایک سنگین سیاسی بحران منڈلا رہا ہے اور حالیہ واقعات کے تناظر میں پاکستان کے عوام میں بڑی سیاسی تفریق پیدا ہو رہی ہے۔‘
صدر کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ’تمام اداروں کا فرض ہے کہ ملک کو مزید نقصان اور بگاڑ سے بچانے کے لیے بھرپور کوششیں کریں۔ افسوس کہ تبصرے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے جا رہے ہیں، غلط فہمیاں بڑھ رہی ہیں۔‘
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ’سپریم کورٹ نے ماضی میں قومی سلامتی، سالمیت، خودمختاری اور مفاد عامہ کے معاملات میں عدالتی کمیشن تشکیل دیے۔
’قوم سپریم کورٹ کا احترام کرتی ہے، اپنی توقعات پر پورا اترنے کی امید کرتی ہے، کمیشن کو معاملے کی تحقیقات قانون کی تکنیکی بنیادوں پر نہیں بلکہ انصاف کی اصل روح کے مطابق کرنی چاہیے۔‘
بریکنگ, تحریکِ انصاف نے سات اپریل کو ڈپٹی سپیکر کی رولنگ پر عدالتی فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست دائر کر دی, شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر کر دی ہے۔
نظرثانی کی اس درخواست میں استدعا کی گئی ہے سپیکر یا ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کا عدالت جائزہ نہیں لے سکتی اور نہ ہی پارلیمٹ میں ہونے والی کارروائی کا جائزہ لے سکتی ہے اور ایسا کرنے سے سات اپریل کے فیصلے کے ذریعے اختیارات کی تقسیم کے آئینی اصول سے انحراف کیا گیا ہے۔
اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ اور متعلقہ حکام نے دھمکی آمیز مراسلہ بھیجے جانے کی تصدیق کی تھی جس کی بنیاد پر ڈپٹی اسپیکر نے تحریک عدم اعتماد کے خلاف رولنگ دی۔
اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ پر ججز کی دو اپریل کو میٹنگ اور اتوار کے روز سماعت منفرد ہے اور اتوار کو عدالت لگانے کی کوئی ایمرجنسی نہیں تھی۔
واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان عوامی جلسوں میں اعلیٰ عدلیہ کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد پر عدالتی حکم پر عمل درآمد کے حوالے سے رات بارہ بجے عدالتیں کیوں لگائی گئیں۔
ادھر پاکستان کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے بارے میں سپریم کورٹ کے متعدد ججز نے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا اور انھوں نے کہا تھا کہ چونکہ یہ ایک آئینی معاملہ ہے اس لیے سپریم کورٹ کو اس بارے میں از خود نوٹس لینا چاہیے۔
عمران خان کی طرف سے دائر کی گئی اس درخواست میں یہ استدعا کی گئی ہے کہ جب تک نظرثانی کی درخواست پر حتمی فیصلہ نہیں آتا اس وقت تک سات اپریل کا فیصلہ معطل کیا جائے۔
مسجد نبوی کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے سے روک دیا, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اسلام آباد
اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسجد نبوی واقعے پر پولیس کو مقدمات درج کرنے سے روک دیا ہے۔
واضح رہے کہ مسجد نبوی واقعے پر تحریک انصاف رہنماوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کی گئی تھی۔
جمعرات کو کیس کی سماعت پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وفاق کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ مذہب کو سیاسی مقصد کے لیے استعمال کرنا خود توہین مذہب ہے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ یہ بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں سے ایک ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریک انصاف رہنماوں فواد چوہدری، قاسم سوری اور شہباز گل کی درخواستوں کو یکجا کر کے سماعت کی۔
سماعت کے بعد فواد چوہدری کے وکیل فیصل چوہدری نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ عدالت نے سیاست میں مذہب کے استعمال پر ناراضگی کا اظہار کیا۔
انھوں نے کہا کہ عدالت نے جس طرح بنیادی حقوق کا تحفظ کیا وہ قابل تحسین ہے۔
قلیل مدت کے لیے آئی مخلوط حکومت بڑے فیصلے نہیں کر سکتی، مریم نواز
نائب صدر ن لیگ مریم نواز نے کہا ہے کہ قلیل مدت کے لیے آئی مخلوط حکومت بڑے فیصلے نہیں کر سکتی۔
نائب صدر ن لیگ مریم نواز اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں سزا کے خلاف اپیل کی سماعت پر میڈیا سے گفتگو کر رہی تھیں۔
سیاسی صورت حال پر سوالات کا جواب دیتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ’چار ہفتے پہلے تک عمران خان کے وزرا پریس کانفرنس کرتے تھے کہ دنیا میں مہنگائی ہو رہی ہے۔ اب چار سال کی بربادی کی ذمہ داری چار دن کی حکومت پر ڈال رہے ہیں۔‘
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’عمران خان کی حکومت کو گھر بھیجنا غلطی نہیں تھی۔ اگر ملک گہری کھائی میں جا رہا ہو تو کیا ہم خاموش رہیں۔‘
الیکشن کب ہوں گے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ ’الیکشن تو ہونا ہے، وہی حل ہے۔‘
ایک صحافی نے مریم نواز سے سوال کیا کہ وہ وزیر دفاع خواجہ آصف کے بی بی سی کو انٹرویو میں اس بات پر کیا رد عمل دیں گی جس میں خواجہ آصف نے کہا تھا کہ اگر سابق آئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید کا نام آرمی چیف کے لیے نامزد لسٹ میں آیا تو اس پر بھی غور کیا جائے گا، مریم نواز نے جواب دیا کہ ’پاکستان کی فوج کا ادارہ بہت محترم ہے۔ پاکستان کی فوج کا سربراہ ایسے شخص کو ہونا چاہیے جو شک اور تنقید سے پاک ہو، جس کی ذات پر کوئی سوال نہ ہو، کوئی ایسا شخص جس پر کوئی داغ نہ ہو۔‘
اس سے پہلے انھوں نے کہا کہ ’میری اپیل کو شروع ہوئے تقریبا دس مہینے ہو گئے، نیب اب تک کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ جب حالات عمران خان کے کنٹرول میں تھے تو درخواست دی جا رہی تھی کہ روزانہ سماعت کی جائے اور اپیل کا فیصلہ کیا جائے۔‘
مریم نواز نے کہا کہ ’اگر نیب کے پاس ثبوت ہوتا تو دس مہینے کافی عرصہ ہوتا ہے کہ وہ ثبوت جج کے سامنے رکھے جاتے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگر میرے خلاف کوئی ثبوت ہے تو مجھے سزا دیں، مجھے ٹانگیں، ورنہ میری عزت کا سوال ہے، میں عدالت سے درخواست کرتی ہوں کہ اگر نیب جھوٹی ثابت ہوئی ہے تو پھر نیب کو کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے۔‘
بلاول بھٹو: ’پہلے اصلاحات، پھر انتخابات‘
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ہم جمہوری قوتیں ہیں اور ہم انتخاب چاہتے ہیں۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’پہلے اصلاحات، پھر انتخابات۔ ہمارا مطالبہ ماضی میں بھی یہ رہا ہے۔ وہ اصلاحات کیا ہو سکتی ہیں، اس کے لیے عوام اور دیگر اداروں سے رائے لینا ہو گی، سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنا ہو گا تاکہ جو کھیل سنہ 2018 میں کھیلا گیا وہ دوبارہ نہ کھیلا جائے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم میں سیاسی اتفاق رائے ہے کہ چارٹر آف ڈیموکریسی میں کافی چیزوں پر اتفاق ہو چکا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نئے چارٹر آف ڈیموکریسی پر شاید دیر لگے لیکن ایک کوڈ آف کنڈکٹ ہونا چاہیے کہ ملک میں سیاست کیسی ہونی چاہیے۔‘
بلاول بھٹو نے یہ بھی کہا کہ ’کیا ہم عزت سے سیاسی اختلافات رکھیں گے؟ جہاں ہم اختلاف رکھتے ہوئے مسائل کا حل کر سکتے ہیں، جس میں ان جماعتوں کو بھی شامل کیا جائے جو ایوان میں موجود نہیں۔‘
پارلیمانی کمیشن کے نکتے پر ضرور فیصلہ کیا جائے گا، سپیکر قومی اسمبلی
سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے قومی اسمبلی اجلاس میں کہا کہ آئین کے خلاف کوئی بھی قدم جمہوریت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’کسی شخص کو اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ آئین کی بے توقیری کرے۔‘
سپیکر نے کہا کہ ’بلاول بھٹو نے جو نکتہ اٹھایا ہے پارلیمانی کمیشن کا اس کو قانونی اور آئینی زاویوں سے دیکھ کر اس پر ضرور فیصلہ کیا جائے گا۔‘
بلاول بھٹو: ’غیر آئینی اقدامات میں ملوث افراد کی نشاندہی کے لیے کمیشن قائم کیا جائے‘
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے غیر آئینی اقدامات میں ملوث افراد کی نشاندہی کے لیے کمیشن قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔
وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی کمیشن کام شروع کرے کہ اپریل 3 سے آئین پر جو حملے ہوئے، ان پر اقدام اٹھایا جائے۔
انھوں نے کہا کہ چار سال چور چور کا شور مچایا گیا لیکن کسی ایک کو سزا نہیں دلوا سکے۔
بلاول بھٹو نے عمران خان کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’ٹرانپرنسی انٹرنیشنل کے مطابق چار سال میں کرپشن میں اضافہ ہوا۔ کوئی ان سے پوچھے ان کے اور خاتون اول کے دوستوں کی دولت میں اضافہ کیسے ہوا۔‘
بلاول نے مزید کہا کہ ’وہ اداروں پر حملہ کرتا ہے، معیشت اور آئین کے ساتھ کھیل کھیلتا ہے۔ کوئی اس شخص سے پوچھے کہ پاکستان کو کیسے آپ نے اپنی ضد اور انا کی وجہ سے، سیاست کی وجہ سے اتنا نقصان پہنچایا تو وہ جواب میں جھوٹ بولتا ہے، حملہ آور ہوتا ہے، اس ادارے پر یا کسی اور ادارے پر۔ اس کو ہمیں روکنا پڑے گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’خان صاحب کو جمہوری طریقے سے ہٹایا گیا لیکن ان کا جواب کیا رہا؟ کہ زبردستی ان کی ٹرمز پر الیکشن ہوں یا وہ ایسے حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں جس سے کسی تیسری قوت کو موقع ملے۔‘
بلاول بھٹو نے یہ بھی کہا کہ ’عدم اعتماد سے ایک رات پہلے مجھے پیغام پہنچایا گیا، دھمکی دی گئی کہ فوری الیکشن مانیں یا مارشل لا ہو گا۔ یہ دھمکی ایک حکومتی وزیر نے ایک ساتھی کے ذریعے مجھ تک پہنچائی۔ ان کی یہ حکمت عملی ناکام رہی۔ ہمارے سارے ادارے، عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ، ان کی کوشوں کے باوجود اپنی حدود میں رہ کر کام کرتے رہے۔ آج بھی ان کی کوشش ہے کہ ایسے غیر ذمہ دارانہ حملے کرتے رہیں۔‘
روپے کے مقابلے میں ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 190.90 پر, تنویر ملک، صحافی
پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافے کا رجحان تسلسل سے جاری ہے۔ جمعرات کو ایک ڈالر کی قیمت 191 روپے تک چلی گئی۔
گزشتہ روز ایک ڈالر کی قیمت 190.02 پر بند ہوئی تھی جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح تھی۔
جمعرات کے روز کاروبار کے آغاز پر ڈالر کی قیمت 191 تک چلی گئی جس میں بعد ازاں دس پیسے کی کمی دیکھی گئی۔
کرنسی ڈیلرز کے مطابق اس وقت ڈالر کا ریٹ 190.90 روپے ہے جو اس کی بلند ترین سطح ہے۔
انھوں نے کہا کہ ملک کے بیرونی ادائیگیوں کے شعبے میں عدم توازن کی وجہ سے ڈالر کی قیمت چڑھ رہی ہے جب کہ بیرونی ملک سے ڈالر کی آمد بہت کم ہے۔
بریکنگ, مسجد نبوی کیس: اب تک کوئی کارروائی نہیں کی، ایف آئی اے کا اسلام آباد ہائی کورٹ میں جواب, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اسلام آباد
اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کی درخواست پر ایف آئی اے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مسجد نبوی کیس میں ان کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔
کیس کی سماعت کے دوران ایف آئی اے کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ اس ضمن میں اب تک صرف سعودی عرب میں کارروائی کی گئی ہے جب کہ پاکستان میں معاملہ پولیس کے پاس ہے۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف رہنما اور سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے مسجد نبوی واقعے پر درج ہونے والی ایف آئی آر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
جمعرات کو ہونے والی کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ کیا قاسم سوری کا بطور ڈپٹی سپیکر استعفی منظور ہو چکا ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ قاسم سوری کو بطور رکن اسمبلی اب تک ڈی نوٹیفائی نہیں کیا گیا جس پر عدالت نے ہدایت کی کہ قاسم سوری کو سپیکر قومی اسمبلی کی اجازت کے بغیر گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔
منی لانڈرنگ کیس: 14 مئی کو وزیر اعظم شہباز شریف پر فرد جرم عائد ہو گی, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اسلام آباد
لاہور کی ایک خصوصی عدالت کے جج اعجاز حسن اعوان نے حکم دیا ہے کہ 14مئی کو منی لانڈنگ کیس میں وزیر اعظم شہباز شریف سمیت تمام ملزمان عدالت میں حاضری یقینی بنائیں اور اسی دن ان پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔
عدالت نے 27 اپریل کی سماعت کے حکم نامے میں واضح کیا ہے کہ عدالت نے شہباز شریف کی درخواست پر حاضری سے استثنیٰ دیا تھا جس کے بعد ان کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دینے کے لیے وقت مانگا تھا۔
عدالت کے حکم کے مطابق 14 مئی کے دن سماعت پر تمام ملزمان حاضری کو یقینی بنائیں اور وکیل دفاع بھی اپنے دلائل مکمل کریں۔ عدالت کے مطابق کیس میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی۔
آرٹیکل 63 اے پر سپریم کورٹ، فارن فنڈنگ کیس پر الیکشن کمیشن میں آج سماعت ہو گی
جمعرات کو سیاسی طور پر اہم سمجھے جانے والے آرٹیکل 63 اے اور فارن فنڈنگ کیس کی سماعت جاری رہے گی۔
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بنچ آرٹیکل 63 اے پر سماعت کو جاری رکھے گا جہاں گزشتہ روز مسلم لیگ ق کے وکیل اظہر صدیق نے دلائل دیے تھے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کی سماعت بھی الیکشن کمیشن میں ہو گی۔
ادھر لاہور ہائی کورٹ میں پانچ رکنی بنچ تحریک انصاف کی اس درخواست پر سماعت کرے گا جس میں وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کے حلف کو چیلنج کیا گیا ہے۔
تحریک انصاف چیئرمین عمران خان بھی آج عوامی رابطہ مہم میں اٹک میں جلسہ کریں گے۔
ڈیپ فیک کی اچھی اور بری باتیں: ڈیپ فیک کیا ہے اور اسے پکڑنا کتنا مشکل ہے؟
فواد چوہدری نے مریم اورنگزیب کے بیان کو مس انفارمیشن قرار دے دیا