جب وقت آئے گا وزیر اعظم آرمی چیف کی میرٹ پر تعیناتی کریں گے: خواجہ آصف

پاکستان کے وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ جب وقت آئے گا وزیراعظم شہباز شریف میرٹ کے مطابق آرمی چیف تعینات کریں گے، فواد چوہدری نے درست کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات خراب ہونے پر گئی۔ ادھر لاہور میں خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان اس لیے جلدی الیکشن کرانا چاہتے ہیں تاکہ وہ آئندہ تقرریوں میں مداخلت کر سکیں۔

لائیو کوریج

  1. فیب انڈیا: انڈیا کے مشہور کپڑے کا برانڈ دائیں بازو کے لیے پریشانی کا باعث کیوں؟

  2. قومی اسمبلی سے استعفوں کا نوٹیفیکیشن موصول نہیں ہوا، الیکشن کمیشن

    الیکشن کمیشن کو اب تک قانون کے مطابق قومی اسمبلی سے کسی بھی رکن اسمبلی کے استعفوں کا نوٹیفیکیشن موصول نہیں ہوا۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں موقف اختیار کیا گیا کہ جونہی استعفوں کا کیس سپیکر قومی اسمبلی سے الیکشن کمیشن کو موصول ہو گا، الیکشن کمیشن قانون کے مطابق اس پر کارروائی کرے گا۔

    اس اجلاس، جس میں ممبران الیکشن کمیشن کے علاوہ سیکرٹری اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی، کے دوران چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی طرف سے الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط پر غور کیا گیا۔

    اس خط میں عمران خان نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کی پارٹی نے قومی اسمبلی کی تمام سیٹوں (جنرل، خواتین اور مخصوص نشست برائے اقلیتی برادری) سے استعفے دے دیئے ہیں اور اب قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی کوئی نمائندگی نہیں۔

    الیکشن کمیشن کی مطابق جن ممبران قومی وصوبائی اسمبلی کے خلاف سپیکر قومی اسمبلی و سپیکر صوبائی اسمبلی سے آرٹیکل 63 ( اے ) 3 کے تحت نوٹیفیکیشن موصول ہو چکا ہے، ان تمام ممبران قومی اسمبلی کو 28 اپریل کے لئے نوٹس جاری کر دئے ہیں۔

    اسی طرح الیکشن کمیشن کی طرف سے ممبران صوبائی اسمبلی کو 6 مئی کے لئے نوٹس جاری کر دیئے گئے ہیں تاکہ ان کیسوں کی سماعت کی جا سکے۔اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو بھی نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

  3. منحرف اراکین پنجاب اسمبلی کے خلاف کارروائی کی جائے، پی ٹی آئی کا الیکشن کمیشن کو خط

    پاکستان تحریک انصاف نے پنجاب اسمبلی میں 25 منحرک اراکین اسمبلی کے خلاف کارروائی کے لیے الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا ہے۔

    تحریک انصاف نے ایڈوکیٹ اظہر صدیق کی وساطت سے الیکشن کمیشن کو خط میں کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 63 اے کے تحت 30 دن میں اس معاملے پر فیصلہ ضروری ہے۔

    تحریک انصاف کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے اب تک پارٹی کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔

    پی ٹی آئی نے اپیل کی ہے کہ ریفرنس کو نمبر لگا کر جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے اور منحرک اراکین کے خلاف کاروائی مکمل کر کے انہیں نااہل قرار دیا جائے۔

  4. پاکستان اور امریکہ کی مشترکہ بحری مشقیں، اہم ترین بین الاقوامی پانیوں میں گشت

  5. آئی ایم ایف سے مذاکرات میں پیش رفت سے سٹاک مارکیٹ میں تیزی، روپے کی قدر میں اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کے آئی ایم ایف سے ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت کا ہفتے کے پہلے کاروباری روز سٹاک مارکیٹ اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مثبت اثر ریکارڈ کیا گیا۔

    سوموار کے روز پاکستان سٹاک مارکیٹ کے انڈیکس میں 520 پوائنٹس کا اضافہ ہوا تو دوسری جانب ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 70 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    پاکستان سٹاک مارکیٹ اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر گذشتہ ہفتے آئی ایم ایف سے مذاکرات سے قبل دباؤ کا شکار رہی جب سٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان غالب رہا تو روپے کی قدر میں بڑی کمی دیکھی گئی۔

    تجزیہ کار سمیع اللہ طارق نے آئی ایم ایف سے مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کو سٹاک اور کرنسی مارکیٹ میں بہتری کی وجہ قرار دیا ۔ انھوں نے کہا آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ہونے سے پاکستان میں ڈالر کی آمد سے بیرونی ادائیگیوں کے شعبے میں بہتری آئےگی، جس کا سٹاک مارکیٹ اور کرنسی مارکیٹ پر مثبت اثر پڑا۔

  6. پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی 14 رکنی کابینہ نے حلف اٹھا لیا, ایم اے جرال، صحافی

    Kashmir

    پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی 14 رکنی کابینہ نے آج پیر کے روز حلف آٹھا لیا ہے۔ اس سے قبل 18 اپریل کو وزیراعظم کی حلف برادری تقریب کے موقع پر دو رکنی قانون ساز اسمبلی خواجہ فاروق احمد اور چوہدری اخلاق نے بطور وزیر حلف اٹھایا تھا، جس کے بعد کابینہ کے ارکان کی کل تعداد 16 ہوگئی ہے۔

    حلف برادری کی تقریب ایوان وزیراعظم مظفرآباد میں منعقد کی گئی، جس میں وزیراعظم سردار تنویر الیاس کے علاوہ سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری انوارلحق اور بیورکریسی سمیت پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کی بڑی تعداد نےشرکت کی۔

    نئی کابینہ میں شامل ہونے والوں میں ضلع مظفرآباد سے دیوان علی چغتائی, چوہدری رشید، ضلع باغ سے سردار میر اکبر, ضلع سدھنوتی سے سردار فہیم اختر ربانی، ضلع کوٹلی سے انصر نثار ابدالیا، ملک ظفر، ضلع میرپور سے چوہدری ارشد، یاسر سلطان، اظہر صادق، بھمبر سے علی شان سونی، مہاجرین جموں وکشمیر مقیم پاکستان سے عبدالماجد خان، چوہدری مقبول، اکبر ابراہیم اور اکمل سرگالہ شامل ہیں۔

    تیرہویں آئینی ترمیم کے بعد وزرا کی تعداد سولہ سے تجاوز نہیں کی جا سکتی جبکہ حکومت دو مشیر اور دو پارلیمانی سیکرٹری مقرر کر سکتی ہے۔ محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کابینہ ونگ نے نئے وزرا کی کابینہ میں شمولیت کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نئے وزرا کے محکموں کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔

  7. عمران خان کہتے ہیں کہ عالمی سازش ہوئی ہے کبھی کہتے ہیں کہ ادارے ساتھ نہیں: وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عمران خان کو قانونی طور نکالا گیا ہے۔ عمران خان کہتے ہیں کہ عالمی سازش ہوئی ہے کبھی کہتے ہیں کہ ادارے ساتھ نہیں ہیں۔

    مراد علی شاہ کے مطابق جب عمران خان کو نکالا گیا تو پھر اتحادی حکومت بنی۔ ان کے مطابق ملک میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ ان کے مطابق ہمیں امید ہے کہ اب مہنگائی کا طوفان تھم جائے گا۔

  8. فارن فنڈنگ کیس کے تحریک انصاف اور پاکستانی سیاست پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟

  9. مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کی درخواست: لاہور ہائی کورٹ نے نیب سے جواب طلب کر لیا

    مریم نواز

    پیر لاہور ہائی کورٹ نے مریم نواز کے پاسپورٹ واپسی کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔

    مریم نواز کے وکیل احسن بھون نے عدالت کو بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ نے چوہدری شوگر مل کیس میں مریم نواز کو ضمانت دی تھی۔ جسٹس باقر نجفی نے ان سے استفسار کیا کہ آپ نے پاسپورٹ واپسی کے لیے پہلے بھی متفرق درخواست دائر کی تھی۔

    جسٹس علی باقر نجفی ایک درخواست کی موجودگی میں دوسری درخواست کیسے دائر ہو سکتی ہے۔ انھوں نے پوچھا کہ کیا نیب نے مریم نواز کی ضمانت کے فیصلے کو چیلنج کر رکھا ہے۔

    عدالت کے استفسار پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ مریم نواز کے ضمانت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔

    احسن بھون نے بتایا کہ مریم نواز کی اس عدالت کے سامنے درخواست صرف پاسپورٹ کی واپسی کی حد تک ہے۔ ان کے مطابق ای سی ایل میں نام کے حوالے سے حکومت خود دیکھے گی۔

    جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ ای سی ایل کے حوالے سے وفاقی حکومت نے جو رولز بنائے ہیں وہ پیش کریں۔

    وکیل نے بتایا کہ آخری عشرہ ہے، مریم نواز عمرہ پر جانا چاہتی ہیں، یہ نیکی کا کام ہے۔ آج کی سماعت کے اختتام پر عدالت نے مریم نواز کی پاسپورت واپسی کی درخوسات پر نیب کو منگل کے لیے نوٹس جاری کر دیا۔

  10. بریکنگ, پی ٹی آئی کی ممنوعہ فنڈنگ کا فیصلہ 30 دن میں کرنے کا حکم معطل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو تیس روز میں پی ٹی آئی کی ممنوعہ فنڈنگ کا فیصلہ کرنے سے متعلق سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کر دیا ہے۔

    عدالت نے الیکشن کمشن کو تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرنے سے متعلق بھی پی ٹی آئی کی درخواست پر نوٹس جاری کردیا ہے۔

    پی ٹی آئی کی طرف سے شاہ خاور ایڈووکیٹ پیر کو عدالت میں پیش ہوئے اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں دو رکنی بیچ نے نظرثانی کے اپیل کی سماعت کی۔

    پی ٹی آئی کے وکیل کا کہنا تھا کہ جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے فیصلے میں اختیار سے تجاوز کیا ہے انھوں نے کہا کہ اس عدالتی فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے ان کے خلاف کارروائی تیز کردی جس سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ جیسے پی ٹی آئی کو سنگل آؤٹ کیا جا رہا ہے۔

    مختصر سماعت کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سمیت 17 سیاسی جماعتوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 17 مئی تک جواب طلب کر لیا ہے۔

    ُۓ£

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    عدالت میں کیا ہوا؟

    آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں پاکستان تحریک انصاف کے ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کی مبینہ جانبداری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

    یار ہے پی ٹی آئی کے رہنما عامر کیانی نے وکیل انور منصور خان اور شاہ خاور ایڈووکیٹ کے ذریعے درخواست جمع کرائی تھی۔

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے جانبداری کا مظاہرہ کر رہا ہے اور پی ٹی آئی اکاؤنٹس کی طرح 17 سیاسی جماعتوں کے اکاؤنٹس کی سکروٹنی سے انکاری ہے۔

    عدالت سے درخواست کی گئی کہ وہ الیکشن کمیشن کو 17 سیاسی جماعتوں کے اکاؤنٹس کی چھان بین اور سٹیٹ بنک کو تمام سیاسی جماعتوں کے اکاؤنٹس کی چھان بین کرنے کا حکم دے اور سٹیٹ بنک کی رپورٹ کے بعد الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کے اکاؤنٹس کی تفصیلات عام کرے۔

    درخواست میں عدالت سے یہ بھی درخواست کی گئی کہ الیکشن کمیشن کو ہدایت کی جائے کہ وہ 17 سیاسی جماعتوں کے کیسز روزانہ کی بنیاد پر سن کر ایک ماہ میں فیصلہ کرے اور پی ٹی آئی کے ساتھ جانبدارانہ رویہ نہ رکھے۔

    اس درخواست میں مسلم لیگ نواز پاکستان پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، جماعت اسلامی، عوامی مسلم لیگ، تحریک لبیک ، باپ، بی این پی ،اے این پی ،پی ٹی آئی و دیگر کو بھی فریق بنایا گیا۔

    درخواست گزار کی جانب سے شاہ خاور ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے جن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو کچھ اکاؤنٹس کی سکروٹنی کا سامنا ہے اور فرخ حبیب نے مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف الیکشن کمیشن میں درخواست دے رکھی ہے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن میں ان کا کیس سست روی کا شکار ہے اور پی ٹی آئی کو باقی پارٹیوں سے الگ کر کے ہماری خبروں کو ہائی لائٹ کیا جاتا ہے۔

    جس پر چیف جسٹس نے ان سے سوال کیا کہ ’یہی سوال آپ نے انٹرا کورٹ اپیل میں نہیں اٹھایا؟ وہ اپیل بھی آج لگی ہوئی ہے اور آج ہی سماعت کے لیے فکس ہے۔‘ عدالت نے پی ٹی آئی کی درخواست کو انٹراکورٹ اپیل کے ساتھ یکجا کر کے آج ہی سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

  11. پاکستان تحریک انصاف کا 26واں یوم تاسیس: عمران خان کی جماعت نے کیا کھویا، کیا پایا؟

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اُس وقت عمران خان کی جو سوچ تھی وہ یہی تھی کہ ہر صورت قانون کی بالادستی ہونی چاہیے۔ وہ لوگ جو شوکت خانم کی فنڈ ریزنگ میں ان کے ساتھ تھے، وہ بھی یہی کہتے تھے کہ جب ہم فنڈ ریزنگ کے لیے باہر نکلے تھے تو جس طرح کی پذیرائی ملی اس سے یہ اندازہ ہوا کہ کچھ اس سے بڑھ کر بھی کیا جا سکتا ہے۔

  12. کیا ’شہباز سپیڈ‘ وزارتِ عظمیٰ میں بھی برقرار رہ سکے گی؟, زبیر اعظم، بی بی سی اردو

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    سنہ 2008 سے 2018 تک مسلسل دو بار وزیر اعلیٰ پنجاب رہنے والے شہباز شریف کے دور اقتدار میں لاہور سمیت پنجاب میں ترقیاتی کاموں (جن میں میٹروز، اورنج ٹرین لائن جیسے بڑے منصوبے بھی شامل تھے) پر تیز رفتاری سے کام ہوا جس کے باعث ‘شہباز سپیڈ‘ کی اصطلاح عام ہوئی اور انھی پراجیکٹس کی بنیاد پر اُن کو کرپشن کے الزامات کی بنیاد پر بنائے گئے کیسز کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ دوسری جانب ان پر یہ تنقید بھی ہوتی رہی کہ انھوں نے پورے صوبے کی بجائے لاہور کو ہی توجہ اور ترقیاتی فنڈز کا مرکز بنائے رکھا۔

    ان الزامات اور کیسز کے باوجود شہباز شریف کی ایک اچھے ایڈمنسٹریٹر کے طور پر شہرت اب بھی کافی حد تک قائم ہے۔ تاہم شہباز شریف کے ناقدین کے مطابق صوبے کی وزارت اعلیٰ اور وفاق میں وزارت عظمیٰ کے معاملات چلانے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

  13. پاکستان کی سیاسی صورتحال پر بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید

    پاکستان کی سیاسی صورتحال پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں خوش آمدید۔

    ملک کی سیاست اور دن بھر پیش آنے والے اہم واقعات کے بارے میں آپ یہاں تازہ ترین خبریں دیکھ سکیں گے۔