جب وقت آئے گا وزیر اعظم آرمی چیف کی میرٹ پر تعیناتی کریں گے: خواجہ آصف

پاکستان کے وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ جب وقت آئے گا وزیراعظم شہباز شریف میرٹ کے مطابق آرمی چیف تعینات کریں گے، فواد چوہدری نے درست کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات خراب ہونے پر گئی۔ ادھر لاہور میں خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان اس لیے جلدی الیکشن کرانا چاہتے ہیں تاکہ وہ آئندہ تقرریوں میں مداخلت کر سکیں۔

لائیو کوریج

  1. عمران خان کے پاس چار سالہ کارکردگی بتانے کے لیے کچھ نہیں ہے: مریم نواز

    مریم نواز

    پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کے پاس اپنی چار سالہ حکومت کی کارکردگی بتانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔

    لاہور کے حلقہ این اے 128 میں پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے عوامی رابطہ مہم کے تحتکارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز شریف نے سابق وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’میں چیلنج کرتی ہوں کہ عمران خان سے کہو کہ اپنی چار سالہ حکومت کی کارکردگی ایک منٹ میں بتائیں، لیکن وہ اپنی کارکردگی پر ایک لفظ بھی نہیں بول سکتے کیونکہ ان کے پلے کچھ بھی نہیں ہے۔‘

    مریم نواز نے ان کا موازانہ شہباز شریف سے کرتے ہوئے کہا کہ ’کہاں تاریخی نالائقی، نااہلی اور بیڈ گورننس سے ریکارڈ قائم کرنے والا عمران خان اور کہاں چند دنوں میں گورننس کا ٹریک سیدھا کرنے والا شہباز شریف، کہاں مافیاز کو نوازنے کے لیے 120 روپے کلو چینی کی قیمت کرنے والے عمران خان اور کہاں مشکل حالات میں چینی کو واپس 70 روپے میں لے آنے والے شہباز شریف۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ کہاں جو صبح 12 بجے اٹھنے والا عمران خان اور کہاں صبح پانچ بجے اٹھ کر کام پر جانے والا شہباز شریف، ان کا کوئی مقابلہ نہیں ہے، نواز شریف اور شہباز شریف کا مقابلہ تمہارے بس کی بات نہیں ہے۔

    انھوں نے سابق دور حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسلاآباد ایئرپورٹ سے میٹرو سروس چار سال تک بند رکھنے والے عمران خان اور کہاں وزارت اعظمی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد چار دنوں میں میٹرو بس کو چلانے والا شہباز شریف، اس سے بڑی کسی حکومت کی ناکامی نہیں ہو سکتی جب وہ حکومت سے نکلے تو دکھانے کے لیے ایک منصوبہ بھی نہ ہو۔‘

  2. کل تک نواز شریف کی سیاست کب ختم کہنے والے آج حکومت گرنے پر شور مچا رہے ہیں: مریم نواز

    مریم نواز

    ،تصویر کا ذریعہ@PMLN

    پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے سابق وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’کل تک یہ کہتے تھے نواز شریف کی سیاست ختم ہو گئی آج شور مچا رہے ہیں کہ نواز شریف نے لندن میں بیٹھ کر میری حکومت ختم کر دی۔

    لاہور کے حلقہ این اے 128 میں پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے عوامی رابطہ مہم کے تحتکارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز شریف نے سابق وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان نے 2018 میں پنجاب کا جو مینڈیٹ چھینا تھا آج اسے واپس لے لیا ہے۔

    انھوں نے سابق وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’سیاست میں سب سے بڑا جھوٹا، دنیا کا سب سے بڑا سازشی عمران خان ہے۔‘

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’جب نواز شریف وزیراعظم تھے تو یہ ان کے خلاف سازش کر رہے تھے تو اس وقت نواز شریف نے کہا تھا کہ سیاست تمھارے بس کی بات نہیں ہے جا کر کرکٹ کھیلو۔‘

    مریم نواز نے کہا کہ ’نواز شریف نے لندن سے بیٹھ کر تمہیں جس کنٹینر سے اترے تھے، اسی میں واپس بھیج دیا، آج نواز شریف کا شہباز شریف وزیراعظم اور حمزہ وزیراعلیٰ پنجاب ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ’ عمران خان کہتے تھے کہ شہباز شریف نے شیروانی تیار کر لی ہے تو آج شہباز شریف نے شیروانی پہن بھی لی اور پاکستان کے وزیراعظم بھی بن گئے ہیں۔‘

  3. عمران خان اب دھرنے کا سوچنا بھی مت، اداروں کو بدنام نہ کرو: حمزہ شہباز شریف

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے نو منتخب وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز شریف نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اب سازش کا رونا اور اداروں کو بدنام کرنا بند کریں۔‘

    لاہور کے حلقہ این اے 128 میں پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے عوامی رابطہ مہم کے تحتکارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’آپ نے ماضی میں بھی دھرنا دیا اور 126 دن عوام کا وقت ضائع کیا اب ایسا سوچیے گا بھی مت۔‘

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ عید کے بعد آپ جہاں جہاں جلسہ کریں گے آپ کے پیچھ ہم بھی آپ کے جلسے کا جواب دیں گے۔‘

    انھوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان سازش کے بیانیے سے ملک کی بدنامی کرکے اپنی سیاست کر رہے ہیں، عوام کے ساتھ مل کر ان کی سیاست کو سمندر برد کریں گے۔‘

  4. ’عمران خان کا ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ نوجوانوں کے خلاف سازش تھی‘: حمزہ شہباز شریف

    حمزہ شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہ@PMLN MEDIA

    پنجاب کے نو منتخب وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز نے سابق وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آج یہ سازش کا شور مچا رہے ہیں کیا سازش اس وقت نہیں ہوئی تھی جب آپ نے ملکی معیشت کو ڈوبو دیا گیا اور پاکستانی روپے میں 38 فیصد کمی کر دی۔`

    حمزہ شہباز نے کارکنوں سے خطاب میں سابق وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ’یہ تو کہتے تھے خودکشی کر لوں گا آئی ایم ایف نہیں جاؤں گا، کیا سازش اس وقت نہیں ہوئی تھی؟‘

    لاہور کے حلقہ این اے 128 میں پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے عوامی رابطہ مہم کے تحت نو منتحب وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’سابق دور حکومت میں نوجوانوں کو ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا گیا جو دراصل ملک کے نوجوانوں کے خلاف سازش تھی۔‘

    حمزہ شہباز شریف کا مزید کہنا تھا اسی طرح پچاس لاکھ گھر دینے کا وعدہ بھی کھوکھلا نکلا۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان مافیاز کے خلاف کارروائی کرنے کا کہتے تھے جبکہ چینی مافیا، یا ادویات کی قیمتوں میں اضافے کرنے والے مافیاز آپ کی کابینہ کا حصہ تھے۔

  5. بلاول بھٹو: ’پہلے اصلاحات پھر انتخابات‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا ہے کہ پہلے اصلاحات ہوں گی اور اس کے بعد ہی ملک عام انتخابات کی طرف جائے گا۔

    پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم ’عمران خان کی سیاست جھوٹ اور پروپیگنڈا پر مبنی ہے۔ عمران جو اس وقت مہم چلا رہا ہے وہ ’مجھے کیوں نہیں بچایا‘ کی مہم ہے، اور ہر ادارہ اس وقت عمران خان کی بندوق کی نشت پر ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’جمہوری اور انتخابی اصلاحات بہت ضروری ہیں تاکہ ہم صاف و شفاف انتخابات کی جانب بڑھ سکیں۔‘

    ’عمران خان جب حکومت میں تھا اس وقت بھی ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کو شکست دی تھی، اور اب اگر وہ اپوزیشن میں رہ کر سوچتا ہے کہ جھوٹ کی بنیاد پر وہ انتخابات جیتے گا تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔‘

    بلاول کا کہنا ہے کہ ’پچھلے ساڑھے تین سال ایک ایسا نظام ہم پر مسلط کیا گیا جس نے ہر صوبے سے اس کا حق چھینا ہے کیونکہ اس دور میں 18ویں ترمیم پر عمل نہ کرتے ہوئے این ایف سی ایوارڈ نہیں دیا گیا جس سے پاکستان کے ہر صوبے کو نقصان ہوا۔‘

    ’عمران خان پارلیمان اور جمہوریت پر یقین نہیں رکھتا، اور پچھلے 4 سال سے اس کی کوشش تھی کہ پاکستان کے ہر ادارے کو ٹائیگر فورس میں تبدیل کیا جائے۔‘

  6. لاپتہ افراد کا معاملہ: ’اگر وزیر اعظم با اختیار نہیں تو کون بااختیار ہے؟‘

  7. ’جلد پوری سابق کابینہ پکڑی جائے گی، ان کو ضمانتیں بھی نہیں ملنی‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف نے ٹوئٹر پر متنبہ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی پوری کابینہ ’جلد پکڑی جائے گی اور ان کو ضمانتیں بھی نہیں‘ ملیں گی۔

    ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ بقول ’توشہ خان کے 60 فیصد کابینہ ضمانت پر ہے تو کان کھول کہ سنُ لو، بہت جلد تم سمیت تمھاری پوری سابق کابینہ پکڑی جائے گی اور ان کو ضمانتیں بھی نہیں ملنی۔‘

    ’ہمیں تو جھوٹے مقدمات اور انتقام میں پکڑا تھا نا، تمھارے مقدمات بڑے جرائم اور نا قابلِ تردید شواہد پر ہوں گے۔‘

    خیال رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ان کی حکومت مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں نہیں کرے گی مگر قانون کے مطابق احتساب کیا جائے گا۔

  8. اوگرا کی پنجاب بھر میں پیٹرول، ڈیزل کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی, تنویر ملک، صحافی

    اوگرا کی پنجاب بھر میں پیٹرول، ڈیزل کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ڈیزل کی قلت سے متعلق رپورٹس کا نوٹس لیا ہے۔

    اوگرا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اپنی انفورسمنٹ ٹیموں کو پنجاب کے مختلف علاقوں میں روانہ کر دیا ہے تاکہ ڈیزل کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی یا مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے۔

    اس میں مزید کہا گیا ہے کہ چیف سیکریٹری پنجاب کو پہلے ہی تمام ضلعی انتظامیہ کو احکامات جاری کرنے کی ہدایات دی گئی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ علاقوں میں پیٹرول پمپس کا معائنہ کرنے کے لیے ٹیموں کو متحرک کریں اور جو بھی ذخیرہ اندوزی یا مصنوعی قلت میں ملوث پایا جائے، اس کے خلاف قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے اور رپورٹ اوگرا کو ارسال کی جائے۔

  9. ’حمزہ شہباز کے حلف سے متعلق فیصلہ کل صبح دس بجے سنایا جائے گا‘, لاہور ہائیکورٹ کا عدالتی عملہ

    حمزہ شہباز

    ،تصویر کا ذریعہPMLN

    لاہور ہائیکورٹ کے عدالتی عملے کا کہنا ہے کہ نو منتخب وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے حلف سے متعلق فیصلہ ’کل صبح دس بجے سنایا جائے گا۔‘

    اس سے قبل آج لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا ہے۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس امیر بھٹی نے ریمارکس دیے کہ عدالتی حکم میں ہدایات صدر پاکستان کے لیے تھیں اور وزیر اعظم کی معاونت کی ضرورت نہیں تھی۔

    ’صدر پاکستان پہلے سو رہے تھے، اس عدالت نے انھیں جگایا‘

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے استفسار کیا کہ ’تحمل کے ساتھ ہی کیس صدر پاکستان کو بھیجا تھا۔ جو صدر نے ہائیکورٹ کے آرڈر کا حشر کیا وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ آپ تحمل کی بات کرتے ہیں، پچھلے 25 دن سے آئین کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟‘

    ریمارکس میں مزید کہا گیا کہ ’صدر کو احساس نہیں ہوسکا کہ صوبہ کا کیا کرنا ہے۔‘

    لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب سے استفسار کیا کہ ’کوئی قانون بتا دیں کہ جس کے تحت صوبہ بغیر چیف ایگزیکٹو (وزیر اعلیٰ) کے رہ سکتا ہے۔‘

    چیف جسٹس امیر بھٹی نے ریمارکس دیے کہ ’صوبے میں حکومت اور کابینہ نہیں ہے تو صدر پاکستان نے کیا اقدامات کیے۔ مجھے بتائیں صدر پاکستان نے آج تک کیا کیا ہے۔ کیا اقدامات کیے۔‘

    ’چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے صدر پاکستان کو آرڈر بھیجا لیکن انھیں پرواہ ہی نہیں۔ عدالت نے صدر کو ریاست کے سربراہ کے طور پر پورا موقع دیا۔ آپ لوگوں کی آنکھ پندرہ دن بعد کھلے گی یا پہلے بھی کھل سکتی ہے۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’صدر پاکستان پہلے سو رہے تھے اس عدالت نے انھیں جگایا ہے۔ صدر پاکستان کہتے ہیں ابھی ان کے پاس پندرہ دن ہیں، وہ اس معاملے کو دیکھ لیں گے۔‘

    ’گورنر سے یکم اپریل سے چیف منسٹر کا استعفی منظور کر رکھا ہے۔‘

  10. ’وزیر اعظم شہباز شریف اور اتحادی ذاتی خرچ پر سعودی عرب جا رہے ہیں‘, مریم اورنگزیب کی وضاحت

    مریم اورنگزیب

    وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف، ان کے وزرا اور اتحادی سعودی عرب کے دورے پر سرکاری خرچ پر نہیں بلکہ اپنے ذاتی خرچ پر جا رہے ہیں۔

    منگل کو پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے سعودی عرب کے دورے پر پاکستانی وزرا کی روانگی پر وضاحت جاری ہے۔

    خیال رہے کہ ایسی رپورٹس پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ پر چل رہی تھیں جن میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ شہباز شریف اپنی کابینہ، اہم اتحادیوں اور خاندان کے افراد کو پاکستان کی قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کے جہاز پر سعودی عرب لے کر جا رہے ہیں۔

    تاہم مریم اورنگزیب نے کہا کہ ’کل سے یہ چیز چل رہی ہے۔ بہت کوشش کی اصل حقیقت بتا سکوں لیکن پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔‘

    ’عمران خان کے سعودی عرب دورے اور شہباز شریف کے دورے میں ایک فرق ہے۔ پچھلے جتنے دورے عمران خان نے کیے وہ سرکاری خرچ پر کیے۔ سفری ضرورت کے لیے ایک بلین کا ہیلی کاپٹر چلایا۔‘

    ’(تاہم) شہباز شریف کا سعودی عرب دورہ تمام ذاتی خرچ پر ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ وزارت خارجہ کا خط ’ایس او پی کا حصہ ہے۔ یہ وزیر اعظم کی ہدایت پر پی آئی اے کو نہیں لکھا گیا۔ وزارت خارجہ نے پی آئی اے کو کہا کہ جہاز سٹینڈ بائی پر رکھیں۔ یہ نہیں لکھا کہ بُک کریں۔‘

    مریم اورنگزیب کہتی ہیں کہ ’شہباز شریف کے سامنے یہ آپشنز رکھی گئیں۔ شہباز شریف نے یہ آپشن رد کی۔ 10 سال بطور وزیر اعلیٰ پنجاب وہ تمام دورے اپنے خرچ پر کرتے رہے۔‘

    ’میڈیا پر یہ فہرستیں شہباز شریف کو موصول ہونے والی درخواستیں ہیں۔ ان پر فیصلہ لیا گیا تھا کہ کوئی بھی وزیر اعظم کے ساتھ سعودی عرب نہیں جائے گا۔‘

    انھوں نے مزید وضاحت کی کہ سرکاری وفد 13 لوگوں پر مبنی ہے۔

    ’وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اتحادی سمیت تمام لوگ اپنے ذاتی خرچ پر جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ لوگ کمرشل پروازوں پر جا رہے ہیں۔‘

    مریم اورنگزیب نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ ’کوئی صحافی بھی سرکاری خرچے پر سعودی عرب کے دورے پر نہیں جا رہا۔‘

    ’یہ دورہ ذاتی خرچے پر پاکستان کے عوام کے لیے ہے اور سٹریٹیجک شراکت داری کے دروازے کھولنے کے لیے ہے۔‘

  11. بریکنگ, لاہور ہائی کورٹ کے ایک اور جج نے مریم نواز پاسپورٹ واپسی کیس سننے سے معذرت کر لی

    لاہور ہائیکورٹ کے ایک اور جج سٹس اسجدگھرال نے بھی مریم نواز پاسپورٹ واپسی کیس کی سماعت سے معذرت کر لی ہے۔

    یاد رہے اس سے بیچ میں شامل جسٹس فاروق حیدر نے بھی مریم نواز پاسپورٹ واپسی کیس کی سماعت سے معذرت کر لی تھی۔

    یاد رہے مریم نواز نے پاسپورٹ واپسی کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے اور یہ دوسرا موقع ہے کہ مریم نواز کی درخواست پر ہائی کورٹ کا بینچ ٹوٹا ہے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آج جب لاہور ہائی کورٹ میں مریم نواز کے عمرہ ادائیگی کے لیے پاسپورٹ واپسی کی درخواست پر سماعت جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں شروع ہوئی تو جسٹس فاروق حیدر نے کیس کی سماعت سے معذرت کر لی۔

    جس کے بعد جسٹس علی باقر نجفی نے کیس کی فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی تھی۔

  12. پاکستان تحریک انصاف کا الیکشن کمیشن کی جانب داری پر لاہور اور اسلام آباد میں احتجاج

    BBC

    پاکستان تحریک انصاف الیکشن کمیشن کی جانب داری پر لاہور اور اسلام آباد میں احتجاج ریکارڈ کروا رہی ہے۔

    سابق وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اپوزیشن نے الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کیا ہم نے تو ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی نہیں کیں مگر آج ریڈ زون کی طرف جانے والے تمام راستے کنٹینرز لگا کر بند کیے گئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام ہوا ہے اور الیکشن کمیشن کا جھکاؤ نظر آیا ہے۔ انھوں نے چیف الیکشن کمشنر سے مستعفی ہونے کا بھی مطالبہ کیا۔

    BBC
    BBC
  13. بریکنگ, لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کا کیس سننے سے معذرت کر لی

    reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے مریم نواز کے پاسپورٹ واپسی کیس کی سماعت سے معذرت کر لی ہے۔

    لاہور ہائی کورٹ میں مریم نواز کے عمرہ ادائیگی کے لیے پاسپورٹ واپسی کی درخواست پر سماعت جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں شروع ہوئی تھی لیکن جسٹس فاروق حیدر نے کیس کی سماعت سے معذرت کر لی ہے۔

    جسٹس علی باقر نجفی نے کیس کی فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی ہے۔

    یاد رہے مریم نواز نے پاسپورٹ واپسی کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔

    لاہور سے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق مریم کے وکلا اب جلد از جلد نیا بینچ تشکیل دلوانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

  14. کون بچائے گا پاکستان؟ عاصمہ شیرازی کا کالم

  15. بریکنگ, سندھ ہاؤس حملہ کیس: پی ٹی آئی کے مستعفی اراکینِ قومی اسمبلی گرفتار

    SCREEN GRAB

    ،تصویر کا ذریعہSCREEN GRAB

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سندھ ہاؤس حملہ کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی عطا اللہ اور فہیم خان کی ضمانت منسوخ کر دی ہے۔

    پولیس نے دونوں اراکینِ قومی اسمبلی کو کمرہ عدالت کے باہر سے گرفتار کر لیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے عطا اللہ اور فہیم خان کی ضمانت مسترد کی ہے۔

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی کارکنان نے گذشتہ ماہ سندھ ہاؤس پر دھاوا بولا تھا اور دروازہ توڑ کر اندر داخل ہونے کے بعد وہاں ہنگامہ آرائی کی تھی جس کے بعد سے پیپلز پارٹی کی جانب سے شدید ردِ عمل سامنے آیا تھا۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اسلام آباد میں سندھ ہاؤس پر حملے کو ’سندھ پر حملے‘ کے برابر قرار دیا تھا۔

  16. پی ٹی آئی کا الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج، اسلام آباد پولیس نے ٹریفک پلان جاری کر دیا

    الیکشن کمیشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی سابق حکمران جماعت کی جانب سے منگل کو الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر احتجاج کی کال کے بعد اسلام آباد پولیس نے متعدد راستے بند کر دیے ہیں۔

    ذرائع ابلاغ کے مطابق اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس نے ریڈ زون میں کسی بھی سیاسی سرگرمی کو روکنے کے لیے متعدد راستے بند کر دیے ہیں۔

    اس ضمن میں اسلام آباد پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی کی طرف سے الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کے حوالے سے ٹریفک پلان جاری کیا گیا ہے۔

    اسلام آباد پولیس کے ٹریفک پلان کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون میں داخلے/باہر نکلنے کے لیے درج ذیل راستے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

    مارگلہ روڈ، ایوب چوک اور سرینا چوک۔

    جبکہ جن راستوں کو بند کیا گیا ہے ان میں ایکسپریس چوک، نادرا چوک شامل ہیں۔

    یاد رہے اس سے قبل پی ٹی آئی کے سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کارکنوں سے کہا کہ تھا کہ وہ چند ہفتوں میں اسلام آباد آنے کی کال دیں گے اور جب تک الیکشن کا اعلان نہیں ہوتا تمام کارکن اسلام آباد میں ہی دھرنا دیں گے۔

  17. وزیر اعلی پنجاب کے حلف نہ لینے کی آئینی وجوہات کا وضاحتی خط وزیر اعظم دفتر کو بھجوا دیا گیا

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    پنجاب کے نو منتخب وزیر اعلٰی پنجاب حمزہ شہباز شریف کی حلف برداری کے معاملے سے متعلق صدر مملکت کے سرکاری اکاؤنٹ سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے۔

    اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ گورنر پنجاب کی طرف سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو 23 اپریل 2022 کو لکھے گئے خط، جس میں انھوں نے مبینہ طور پر منتخب وزیر اعلیٰ پنجاب کے حلف نہ لینے کی آئینی وجوہات کی وضاحت کی ہے، آج وزیر اعظم سیکرٹریٹ کو بھیجا گیا ہے۔‘

    صدر پاکستان کے سرکاری اکاؤنٹ سے جاری کردہ اس سلسلہ وار ٹوئٹر پیغام میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ کا 22 اپریل 2022 کو رٹ پٹیشن نمبر 24320/2022 کا حکم نامہ بھی آئین و قانون کے مطابق ضروری کارروائی کے لیے 22 اپریل 2022 کو وزیراعظم سیکرٹریٹ کو بھجوا دیا گیا ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

  18. عید کے بعد ن لیگ سیاسی مہم کا آغاز کرے گی، وفاقی وزیر داخلہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کے دوران کہا کہ ’عید کے بعد ن لیگ بھرپور سیاسی پروگرام کا اعلان کرنے جا رہی ہے جس میں بڑے جلسے ہوں گے، پنجاب اور دیگر صوبوں میں، جو الیکشن مہم کی طرز پر ہو گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سال آئینی طور پر حکومت کا آخری سال ہے جس میں تمام سیاسی جماعتیں الیکشن کی تیاری کا آغاز کرتی ہیں۔

    ’اسی طرح پی ٹی آئی نے بھی الیکشن لڑنا ہے، اگر انھوں نے کسی کے خلاف احتجاج کرنا ہے، یا اسلام آباد آ کر دھرنا دینا ہے تو بسم اللہ۔۔عمران خان کا دھرنا فیز ٹو ہو گا۔‘

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’ہم کوشش کریں گے ان کو پوری سہولت دیں، اور وہ پر امن طریقے سے اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان پہلے جیسی قوت کے ساتھ نہیں آ سکیں گے کیوں کہ پہلے ان کی سلیٹ کلین تھی۔

    ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’پارٹی کی خواہش ہو گی کہ الیکشن مہم میں نواز شریف پاکستان میں ہوں، لیکن اس وقت تک امید ہے کہ ان کا علاج ہو جائے اور کیسز کا فیصلہ ہو جائے۔‘

    ‏واضح رہے کہ پیر کے دن سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف چیئرمین عمران خان نے ایک اعلان میں کہا تھا کہ 'میں سب کو کہتا ہوں، میں چند ہفتوں کے اندر کال دوں گا، آپ نے اس وقت تک میرے ساتھ اسلام آباد میں بیٹھنا ہے جب تک الیکشن کا اعلان نہیں ہو گا۔'

  19. ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو کام سے روکنے کا حکم غیر قانونی تھا، عثمان بزدار

    وزیر اعلی پنجاب کی جانب سے جاری ایک حکم میں کہا گیا ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کو کام سے روکنے کا حکم غیر قانونی تھا۔

    واضح رہے کہ چند دن قبل محکمہ قانون پنجاب کی جانب سے ایک حکمنامہ سامنے آیا تھا جس میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کو کام کرنے سے روکنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

    لیکن آج وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے ایک نیا حکمنامہ سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزارت قانون کی جانب سے ان کے علم میں لائے بغیر حکم جاری کیا گیا۔

    وزیر اعلی عثمان بزدار نے سیکریٹری قانون پنجاب کو حکم نامہ جاری کیا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس آئین کے آرٹیکل 140 کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرتے رہیں گے اور صوبائی حکومت کی نمائندگی کرتے رہیں گے۔

    ایڈووکیٹ جنرل پنجاب

    ،تصویر کا ذریعہCM PUNJAB OFFICE

  20. نواز شریف کے لیے عام گرین پاسپورٹ جاری

    سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو پاکستان کا عام گرین پاسپورٹ جاری کردیا گیا ہے۔

    ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ برطانیہ میں مقیم ن لیگ کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کا پاسپورٹ پیر کے دن اسلام آباد میں وفاقی وزرات داخلہ کی منظوری کے بعد جاری کیا گیا جو منگل تک ان کو موصول ہو سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے پاسپورٹ کی معیاد گزشتہ سال پندرہ فروری کو ختم ہو گئی تھی جس کے بعد سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے اعلان کیا تھا کہ ان کے پاسپورٹ کی تجدید نہیں کی جائے گی۔

    اس پاسپورٹ کی تجدید نہ کرنے کی وجہ حکام نے یہ بتائی تھی کہ سابق وزیر اعظم کو پاکستان کی مختلف عدالتیں اشتہاری قرار دے چکی ہیں۔

    تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد ذرائع کے مطابق پاسپورٹ جاری کرنے کی درخواست نواز شریف کی جانب سے لندن میں پاکستانی سفارت خانے کو جمع کرائی گئی تھی جس کے بعد پیر کے دن عام گرین پاسپورٹ جاری کیا گیا۔