پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کے بعد اب ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کو بھی تحریکِ عدم اعتماد کا سامنا ہے۔
پارلیمانی امور کے ماہر احمد بلال محبوب کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد آج قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ لازم ہے۔
ٹوئٹر پر وہ کہتے ہیں کہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر ایسے اجلاس کی صدارت نہیں کر سکتے جس میں ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر بحث یا ووٹنگ کی جائے۔ ان کے مطابق اگر یہ دونوں اجلاس چیئر نہیں کرتے تو چھ افراد پر مشتمل ایک پینل اسی کام کے لیے موجود ہے۔
قومی اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے خلاف اپوزیشن نے جمعے کو قرارداد جمع کروائی ہے۔ اس تحریک میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی سپیکر نے بارہا قواعد، پارلیمانی طور طریقوں، جمہوری روایات اور یہاں تک کہ آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔
قرارداد میں ڈپٹی سپیکر کی جانب سے تین اپریل کی رولنگ کے ذریعے وزیر اعظم عمران خان کے تحریکِ عدم اعتماد مسترد کرنے، اور سات اپریل کو سپریم کورٹ کے فیصلے سے اسمبلی کی بحالی کا حوالہ دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو آئین سے متصادم قرار دیا تھا اور اس سے قبل اپوزیشن نے سپیکر کے خلاف بھی عدم اعتماد کی تحریک جمع کرائی تھی۔
ڈپٹی سپیکر کے خلاف قرارداد میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے جان بوجھ کر اور بدنیتی سے آئین کی خلاف ورزی کی ہے اور اُن کا یہ اقدام آئین کی شق 6 کے زمرے میں آتا ہے۔
اگر یہ قرارداد اکثریت سے منظور ہو جاتی ہے تو ڈپٹی سپیکر اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہیں گے۔
عمران خان نے گذشتہ روز سپریم کورٹ کے فیصلے پر مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’مجھے افسوس اس لیے ہوا کہ جو ڈپٹی سپیکر نے آرٹیکل پانچ کی وجہ سے عدم اعماد کو مسترد کیا۔ میں چاہتا تھا سپریم کورٹ کو کم از کم سازش کے الزام کو دیکھنا تو چاہیے تھا۔‘