رانا ثنا اللہ نے بی بی سی کی فرحت جاوید سے پارلیمنٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کہا کہ اُنھیں تقریریں کرنے دی جائیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس پر ہم نے کہا کہ اُن کی تقریریں بنتی نہیں ہیں، سو کیسے کرنے دی جائیں۔
اس پر اپوزیشن کو بتایا گیا کہ خان صاحب بھی ایسا چاہتے ہیں۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق پھر طے یہ ہوا کہ ’افطاری تک آپ تقریریں کریں، پھر آٹھ بجے ووٹ ہو۔‘
اُن کے مطابق ’سپیکر کے ساتھ آمنے سامنے بیٹھ کر اس پر بات ہوئی، پھر ہم واپس آئے اور متحدہ اپوزیشن کی قیادت کو بتایا، ہم نے انھیں بتایا کہ اس اس طرح بات ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ اس معاملے پر فی الوقت سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا مؤقف دستیاب نہیں ہو سکا ہے۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق اپوزیشن قیادت نے کہا کہ ’ویسے اتنی دیر پوائنٹ آف آرڈر پر تقاریر تو نہیں کروانی چاہییں، لیکن چلیں ٹھیک ہے۔‘
رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ اس کے بعد پھر سپیکر صاحب سے بات ہوئی کہ جب آپ اجلاس شروع کریں گے تو آپ رولنگ دیں گے کہ یہ طے ہوا ہے کہ افطار تک تقریریں لیں گے پھر آٹھ بجے ووٹ کروائیں گے۔
اس پر اُن کے مطابق اسد قیصر نے اتفاق کیا مگر جب اجلاس شروع ہوا تو دیکھا کہ امجد خان نیازی آ گئے ہیں۔
’تو ہم نے پوچھا تو اُنھوں نے بتایا کہ (عمران) خان صاحب نہیں مانے۔‘