’امپورٹڈ حکومت کسی صورت قبول نہیں‘، عمران خان کی ملک گیر پرامن احتجاج کی کال

پاکستان کے وزیر عظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے اور وہ کسی امپورٹٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کریں گےاور انھوں نے عوام سے سے کہا ہے کہ وہ اتوار کی شب ملک بھر میں پر امن احتجاج کریں۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, وزیر اعظم عمران خان نے صدر کو قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کی تجویز دے دی

    PTI

    ،تصویر کا ذریعہFacebook.com/ImranKhanOfficial

    وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے مختصر خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے صدر عارف علوی کو تجویز دی ہے کہ اسمبلیاں تحلیل کر دی جائیں جس کے بعد اگلے الیکشن اور عبوری نظام کے لیے تیاریاں شروع ہوجائیں گی۔

    انھوں نے قوم کو تحریک عدم اعتماد کو مسترد کرنے پر مبارک باد پیش کی اور کہا کہ بیرونی طاقتوں کی مدد سے منتخب حکومت کو گرانے کی کوشش کی گئی، وہ ناکام کر دی گئی ہے۔

  2. بریکنگ, وزیر اعظم عمران خان: ساری قوم کو مبارک دیتا ہوں

    pti

    ،تصویر کا ذریعہFacebook.com/ImranKhanOfficial

    قوم کے نام پیغام میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سپیکر نے یہ فیصلہ اپنی پاورز استعمال کر کے کیا ہے۔

  3. وزیر اعظم کا قوم سے خطاب کچھ دیر میں، سپیکر کی جانب سے تحریک عدم اعتماد مسترد

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. بریکنگ, فواد چوہدری: پہلے عدم اعتماد کی قرارداد کی آئینی حیثیت طے کریں

    اجلاس کے آغاز میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ریاست سے وفاداری آئین کے آرٹیکل پانچ کی تحت ہر شخص کا بنیادی فرض ہے۔

    انھوں نے مبینہ دھمکی آمیز خط کا معاملہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’عمومی حالات میں عدم اعتماد کی قرارداد جمہوری حق ہے۔ (مگر) ہمارے سفیر کو طلب کیا جاتا ہے، دوسرے ملک کے حکام بھی وہاں موجود تھے۔ عدم اعتماد اس وقت آئی جب یہ ملاقات ہوئی۔‘

    ان کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے شیم شیم کے نعرے لگائے۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ ’جناب سپیکر! ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہمارے تعلقات کا دار و مدار اس عدم اعتماد کی کامیابی پر ہے۔ اگر یہ کامیاب ہوتی تو آپ کو معاف کر دیا جائے گا۔‘

    ’اگر کامیاب نہیں ہوتی تو راستہ سخت ہوگا۔ یہ بیرونی سازش ہے حکومت گرانے کے لیے۔ جناب سپیکر! اس کے ساتھ ہی ہمارے کچھ اتحادیوں کا اور اپنے لوگوں کا ضمیر جاگ جاتا ہے۔‘

    ’یہ فیصلہ عدم اعتماد کا نہیں، آرٹیکل پانچ کا ہے۔‘

    وزیر اطلاعات نے یہ بھی کہا کہ ’باہر کی طاقتیں بیٹھ کر حکومت بدلنا چاہتی ہے۔ کیا یہ آرٹیکل پانچ کی خلاف ورزی نہیں، کیا عوام کٹھ پتلی ہے۔ کیا ہم غلام ہیں، لیڈر آف اپوزیشن کے مطابق ہم بھکاری ہیں۔‘

    ’جناب سپیکر اگر ہم غیرت مند قوم ہیں تو یہ تماشہ نہیں چل سکتا۔ پہلے آپ اس کی آئینی حیثیت طے کریں۔‘

  5. بریکنگ, سپیکر کی جانب سے عدم اعتماد کی قرارداد مسترد

    قاسم سوری

    ،تصویر کا ذریعہNATIONAL ASSEMBLY

    ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے کہا ہے کہ یہ قرار آئین کے منافی ہے اس لیے سپیکر کی رولنگ کے مطابق اسے مسترد کیا گیا ہے۔

    وزیر اعظم عمران خان کے خلاف آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ ہونا تھی۔ تاہم قاسم سوری، جو سپیکر اسد قیصر کے خلاف عدم اعتماد آنے پر اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، نے اس قرارداد کو مسترد کر دیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’عدم اعتماد کی تحریک آئین، قانون اور رولز کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ کسی غیر ملکی طاقت کو حق نہیں کہ سازش کے تحت پاکستان کی منتخب حکومت کو گرائے۔ عدم اعتماد کی تحریک آئین اور قومی مختاری و آزادی سے منافی ہے۔ اور رولز اور ضابطے کے خلاف ہے۔ یہ قرارداد میں مسترد کرنے کی رولنگ دیتا ہوں۔ ایوان کی کارروائی روک دی جاتی ہے۔‘

    انھوں نے قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔

  6. اجلاس کا آغاز، وفاقی وزیر فواد چوہدری کا آئین کے آرٹیکل پانچ اے کا حوالہ

    وفاقی وزیر اطلاعات و قانون فواد چوہدری نے اجلاس کے آغاز کے ساتھ ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کو مخاطب کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل پانچ اے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ آیا غیر ملکی قوتوں کی مدد سے پاکستان کی حکومت تبدیل کی جا سکتی ہے؟

    واضح رہے کہ آرٹیکل پانچ اے کے تحت ریاست سے وفاداری ہر شہری کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

  7. چین اور ترکی کو پاکستان کی صورتحال پر تشویش ہے: وزیر خارجہ

    Shah Mehmood

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ترکی اور چین جیسے دوست ممالک کو پاکستان کی سیاسی صورتحال پر تشویش ہے۔

    پاکستان کے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج صبح مجھے ترکی کے وزیر خارجہ کا فون آیا اور انھوں نے پاکستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ترکی کے وزیر خارجہ نے پوچھا کہ کیا ہو رہا ہے کیونکہ ہم صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ میں نے ان کو بتایا وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا معاملہ ہے اور ہم اس کا دفاع کر رہے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ترکی کے وزیر خارجہ نے عمران خان کے ساتھ اظہار یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کی پانچ سالہ آئینی مدت مکمل کرنے کا کہا۔ میں نے وزیر اعظم کو ان کے خیالات کے متعلق بتایا تو وزیر اعظم نے ترک بھائیوں کا شکریہ ادا کیا۔

  8. بریکنگ, قومی اسمبلی کے اجلاس کا آغاز

    bbc

    پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے ووٹنگ کے سلسلے میں قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی صدارت میں شروع ہو گیا ہے۔

    بی بی سی کی حمیرا کنول کے مطابق اجلاس کے آغاز کے موقع پر وزیراعظم کی کرسی اب بھی خالی ہے تاہم ان کے وزرا کی بڑی تعداد ایوان میں ہے۔

    خیال رہے کہ اگر عدم اعتماد کی تحریک میں اپوزیشن کو کامیابی ملتی ہے تو نہ صرف وزیراعظم کو جانا ہو گا بلکہ ان کی کابینہ بھی تحلیل ہو جائے گی۔

  9. عدم اعتماد کی تحریک کے آغاز سے قبل حکومتی اراکین کا صلح مشورہ، وزیر اعظم تاحال اسمبلی نہیں پہنچے

    bbc

    نامہ نگار بی بی سی حمیرا کنول کے مطابق قومی اسمبلی میں آہستہ آہستہ اراکین کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے تاہم حکومتی بینچز کی اکثریت خالی نظر آ رہی ہے اور وزیر اعظم عمران خان بھی ابھی تک اسمبلی میں نہیں پہنچے ہیں۔

    bbc
  10. اپوزیشن کی سٹریٹجی اب کیا ہے؟

    جہاں تحریک عدم اعتماد کے لیے ووٹنگ کا عمل آج مکمل کیا جائے گا وہیں اپوزیشن اراکین مستقبل کی تیاریوں کی بھی بات کر رہے ہیں، ان کی کیا سٹریٹجی ہوگی جانیے اس ویڈیو میں۔

  11. بریکنگ, پنجاب اسمبلی کا اجلاس: گھنٹیاں بجنا شروع، پریس گیلری بند

    bbc
    ،تصویر کا کیپشنپنجاب اسمبلی میں میڈیا نمائندوں کو پریس گیلری میں جانے سے روکا دیا گیا

    پنجاب اسمبلی میں پریس گیلری کو تالا لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔

    نامہ نگار ترہب اصغر کا کہنا ہے کہ میڈیا نمائندوں کو پریس گیلری میں جانے سے روکا گیا ہے۔

    گھنٹیاں بجنے کے بعد اجلاس کا آغاز کچھ دیر میں ہو رہا ہے۔ اس اجلاس میں نئے وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب کیا جائے گا۔

    وزارت اعلیٰ کے لیے اپوزیشن کے امیدوار حمزہ شہباز کا مقابلہ حکومت کی حمایت یافتہ پرویز الہی سے ہونے جا رہا ہے۔

  12. لیگی رہنما مریم اورنگزیب کی اپوزیشن اراکین کی بڑھتی ہوئی تعداد پر ایک اور ٹویٹ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. بریکنگ, قومی اسمبلی میں عدم اعتماد تحریک کے آغاز سے قبل اراکین کی عددی صورتحال

    cvv

    قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے لیے اجلاس شروع ہونے والا ہے اور اپنے قارئین کو ہم بتاتے چلیں کہ اس وقت حکومت اور اپوزیشن کے اراکین کی کیا تعداد ہے۔

  14. پوزیشن نے اعتراف کر لیا وہ قوم کو بھکاری بنانا چاہتے ہیں: شبلی فراز

    Shiblee Faraz

    ،تصویر کا ذریعہPID

    وفاقی وزیر اور تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نے اعتراف کر لیا وہ قوم کو بھکاری بنانا چاہتے ہیں۔ جبکہ عمران خان قوم کو خوددار آزاد بنانا چاہتا ہے۔

    شبلی فراز کا کہنا ہے کہ قوم فیصلہ دیکھے گی کہ کون کہاں کھڑا ہے اور کون ملکی مفادات کا سودا کر کے اقتدار حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنی کرپشن کو چھپانے کے لیے یہ ساری تگ و دو کی گئی ہے کاش اتنی محنت یہ لوگ اس ملک کی ترقی کے لیے بھی کر لیتے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج بہت سے سرپرائز ملے گے اور کپتان اپنے فیصلے آخری منٹ میں کرتا ہے۔

  15. سابق صدر آصف زرداری کی حکومتی وزرا حماد اظہر اور شوکت ترین سے ملاقات

    bbc

    سابق صدر آصف علی زرداری راجہ پرویز اشرف کے ہمراہ حکومتی بینچوں کی جانب بڑھے اور حماد اظہر اور شوکت ترین سے ملاقات کی۔

  16. پنجاب اسمبلی کے باہر بھی گہما گہمی، اجلاس کا آغاز کچھ دیر میں, اجلاس کے آغاز کے لیے گھنٹیاں بج گئیں

    لاہور میں پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے آغاز کے لیے گھنٹیاں بج گئی ہیں۔ صوبائی اسمبلی کے باہر آج صبح سے کیا ہو رہا ہے، تفصیلات کے لیے دیکھیے بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر کی رپورٹ۔

  17. ’اعتماد ہے آج کا میچ عمران خان جیتیں گے‘, حماد اظہر

    حماد

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    وفاقی وزیر حماد اظہر کا کہنا ہے کہ انھیں مکمل اعتماد ہے آج کا میچ وزیر اعظم عمران خان جیتیں گے۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اپوزیشن کو سرپرائز دیں گے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایوان میں اکثریت بیرونی سازش کے ساتھ ہے ’تاکہ خارجہ پالیسی کو ناکام کیا جائے۔‘

    ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ عسکری قیادت سیاسی سازش کو ناکام نہیں کرسکتی یہ کام عدلیہ اور عوام کا ہے۔

    حماد اظہر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت ہے جو ’کوئی غیر آئینی اور غیر قانونی کام نہیں کرے گی۔‘

  18. قائد حزب اختلاف شہباز شریف، آصف زرداری کی قومی اسمبلی میں آمد، اجلاس کا آغاز کچھ دیر میں متوقع

    bbc

    قومی اسمبلی میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار حمیرا کنول کے مطابق اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ایوان میں داخل ہو ئے تو اراکین نے ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا۔ اجلاس کے آغاز میں مقررہ وقت کے تحت اب ایک منٹ ہی رہ گیا ہی تاہم بظاہر لگتا ہے کہ اس بار بھی اجلاس دیر سے شروع ہو گا۔

    دوسریجانب نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق پکستان مسلم لیگ ق کے رکن طارق بشیر چیمہ کی آمد پر اپوزیشن نے ڈیسک بجا کر ویلکم کیا۔حکومتی بینچوں پر مرد اراکین سے زیادہ خواتین دکھائی دی رہی ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ کچھ ممبران نواز شریف کی تصویر لائے ہیں۔

  19. اسمبلی میں اپوزیشن رہنماؤں سے سوالات، ’اگر پی ٹی آئی کے تمام اراکین مستعفی ہو گئے تو کیا ہو گا‘

    bbc

    بی بی سی کی نامہ نگار حمیرا کنول کے مطابق اس وقت پارلیمنٹ کے گیٹ سے اندر آنے والے اپوزیشن رہنماؤں سے اراکین کے نمبر سے حوالے سے سوالات کیے بجائے یہ پوچھا جا رہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی کے تمام اراکین مستعفی ہو گئے تو کیا ہو گا۔

    جواب میں زیادہ تر اپوزیشن رہنما مسکراتے ہوئے یہی کہتے رہے ہاں تو ٹھیک ہے۔۔۔ اچھی بات ہے ۔۔۔ کوئی مسئلہ نہیں۔

    لیکن قانون کیا کہتا ہے پالیمان کے رولز کیا ہیں کیا اس پر کوئی اثر پڑتا ہے ؟ تو کیا ہو گا کیا آئینی بحران پیدا ہو گا ؟ اس سوال کے جواب میں پلاٹ کے سربراہ احمد بلال صوفی نے بی بی سی کو بتایا کہ قانونی طور پر پی ٹی آئی کے تمام ممبران بھی مستعفی ہو جائیں تو پارلیمان کے عمل پر کوئی فرق نہیں پڑتا وہ متاثر نہیں ہو سکتا جیسا کہ نئے وزیراعظم کے چناؤ میں۔اسی حوالے سے مزید تفصیلات کے لیے پڑھیے حمیرا کنول کا یہ مضمون۔

  20. کیا پاکستان کا آئین ملک کے اندرونی معاملات کے خلاف سازش کی اجازت دیتا ہے: شاہ محمود

    shah mehmood

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہےکہ اپوزیشن کے ٹولے سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا پاکستان کا آئین ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت دیتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف سازش ہو رہی ہے اور کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے۔

    اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کیا سازشی ٹولے کو ایک منتخب جمہوری حکومت کے خلاف سازش کرنا زیب دیتا ہے ایک ایسے وقت میں جب انڈیا کا میزائل ملکی حدود میں آ رہا ہے، جب افغانستان کا معاملہ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ کیا نیب کے کیسز کے خوف میں مبتلا ہو کر ایک ٹولہ ملک کے مفادات کو داؤ پر لگا دے کیا جمہوریت اس کا نام ہے۔

    تحریک عدم اعتماد کے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آخری گیند تک کھیلنے کا جذبہ لے کر آئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ کیا ان تین جماعتوں کے کا نظریہ، ایجنڈا ملتا ہے نہیں ان کا کچھ نہیں ملتا، یہ صرف عمران خان، جمہوریت، آئین پاکستان کے خلاف سازش کرنا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کا کوئی نظریہ نہیں ہے۔ اپنے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کارکنوں سے اپیل کرتا ہوں، کوئی توڑ پھوڑ نہیں کرنی، قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا۔ نظریہ کا دفاع پرامن رہ کر کرنا ہے۔