آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا: پاکستان میں 2426 متاثرین، سندھ میں پابندیاں مزید سخت

پاکستان میں جمعرات کو 100 سے زیادہ نئے مریض سامنے آنے بعد ملک میں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 2426 ہوگئی ہے جبکہ 35 افراد اس وبا سے ہلاک ہوئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں جس شرح سے کورونا پھیل رہا ہے اس سے نمٹنے کے وسائل موجود ہیں۔

لائیو کوریج

  1. وزیر اعظم کی جانب سے جامع حکمت عملی کا اعلان متوقع

    وزیر اعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے لاک ڈاؤن کی وجہ سے معیشت پر بُرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

    ان کے مطابق لاک ڈاؤن سے روزانہ کی اشیائے ضروریہ کی سپلائی بھی متاثر ہوئی ہے۔

    وزرات اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان پیر کو ایک جامع حکمت عملی کا اعلان کریں گے، جس سے ملک بھر میں اشیائے ضروریہ کی بغیر تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان لاک ڈاؤن کے حق میں نہیں تھے اور انھوں نے لاک ڈاؤن سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ اس سے غریب لوگ متاثر ہوں گے۔

  2. بریکنگ, سندھ میں کورونا وائرس سے مزید دو ہلاکتیں، پاکستان میں کل تعداد 18

    سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا افضل پیچوہو نے تصدیق کی ہے کہ صوبے میں کورونا وائرس کی وجہ سے مزید دو اموات ہوئی ہیں۔ اس سے سندھ میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد پانچ ہو گئی ہے جبکہ صوبے میں مصدقہ مریضوں کی تعداد بھی 508 ہو چکی ہے۔

    ہلاک ہونے والے یہ دونوں افراد جن کی عمر بالترتیب 52 اور 66 سال تھی کراچی کے رہائشی تھے اور ان میں تین دن قبل کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی اور انھیں یہ وائرس رائیونڈ میں تبلیغی اجتماع کے دوران لگا تھا۔

    ان ہلاکتوں کے نتیجے میں ملک میں کورونا سے کل ہلاکتوں کی تعداد 18ہے۔

    سب سے زیادہ ہلاکتیں پنجاب میں ہوئی ہیں جن کی تعداد چھ ہے جبکہ سندھ اور خیبر پختونخوا میں پانچ، پانچ جبکہ گلگت بلتستان اور بلوچستان میں ایک ایک مریض ہلاک ہوا ہے۔

    سندھ حکومت کے اعدادوشمار کے مطابق کراچی میں مزید چھ مریض سامنے آئے ہیں جنھیں یہ وائرس مقامی طور پر منتقل ہوا۔ اس کے بعد کراچی میں متاثرین کی کل تعداد 228 ہو گئی ہے جن میں سے 175 سے زیادہ معاملات مقامی منتقلی کے ہیں۔

    کراچی میں اب تک 13 افراد اس مرض سے صحت یاب جبکہ پانچ افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

    اس کے علاوہ ایران سے آنے والے 273 زائرین میں وائرس پایا گیا ہے اور وہ سکھر اور لاڑکانہ کے قرنطینہ مراکز میں ہیں۔

    سندھ میں حیدرآباد میں بھی تین جبکہ دادو میں ایک مریض میں کووڈ-19 پایا گیا جن میں سے حیدرآباد میں دو افراد زیرِ علاج ہیں جبکہ ایک صحت یاب ہو چکا ہے۔

  3. پشاور کی ویران سڑکیں

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ترجمان تیمور خان جھگڑا نے پشاور کی سڑکوں کی فضا سے لی گئی تصویر شیئر کرتے ہوئے عوام کا شکریہ ادا کیا ہے جوکورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر گھروں تک محدود ہو گئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان سب کا شکریہ جنھوں نے حکومت، صوبے اور ملک کو مضبوط بنانے کے لیے ان سڑکوں کو خالی چھوڑ دیا ہے۔

    ترجمان کے مطابق آج کام کا دن ہے لیکن سڑکوں پر بمشکل ہی کوئی ذی شعور نظر آرہا ہے۔

  4. کورونا: پاکستان میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 1625, 18 ہلاکتیں، 32 مریض صحت یاب

    پاکستان میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملک میں پیر کی صبح کووڈ 19 کے نئے مریضوں کے اضافے کے بعد مصدقہ متاثرین کی تعداد 1625 تک پہنچ گئی ہے۔

    ملک میں اس وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 18 ہے جبکہ 32 افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔

    آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا پاکستانی صوبہ پنجاب سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ بھی ہے جہاں 593 متاثرین موجود ہیں جبکہ چھ ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں۔

    پنجاب میں ڈیرہ غازی خان، ملتان، فیصل آباد اور رائیونڈ میں بنائے گئے قرنطینہ مراکز میں اس وقت 318 مریض موجود ہیں۔

    پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بھی مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور اب وہاں 116 مریض ہیں۔ لاہور میں اس وائرس سے دو ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔

    صوبہ سندھ جہاں وبا کے آغاز میں زیادہ مریض سامنے آئے تھے اب متاثرین کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے تاہم وہاں بھی تعداد 500 سے بڑھ چکی ہے۔

    سندھ میں موجود 508 متاثرین میں سے کراچی میں اب متاثرین کی تعداد 220 سے بڑھ چکی ہے جن میں سے 170 سے زیادہ مقامی منتقلی کے معاملے ہیں۔

    اس کے علاوہ تین متاثرین کا تعلق حیدرآباد جبکہ ایک کا دادو سے ہے۔

    ان کے علاوہ صوبے میں ایران سے آنے والے 273 زائرین میں بھی کورونا کا وائرس پایا گیا ہے اور انھیں سکھر اور لاڑکانہ میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

    خیبر پختونخوا میں بھی پیر کو مزید تین مریض سامنے آئے جس کے بعد وہاں تعداد 195 ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں 144، گلگت بلتستان میں 128، اسلام آباد میں 51 اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں چھ متاثرین موجود ہیں۔

  5. کورونا وائرس اگر شامی پناہ گزین کیمپوں میں پھیل گیا تو کیا ہو گا؟

  6. سپیکر قومی اسمبلی: پارلیمانی کمیٹی کورونا وائرس پر حکومتی اقدامات کا جائزہ لے گی

    سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرنے کہا ہے کہ حکومت اورحزب اختلاف کے رہنماؤں پر مشتمل ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو ملک میں کورونا وائرس کی وبا پرقابو پانے کے لیے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لے گی۔

    سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی کو انھوں نے بتایا کہ موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے ساتھ مل کرایک مشترکہ حکمت عملی وضع کی جائے۔

    سپیکرنے کہا کہ حکومت کامیابی کے ساتھ کوروناوائرس کے خاتمے کے لیے حزب اختلاف کی سفارشات اورتجاویز پرغورکرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

  7. کورونا ریلیف پیکج پر اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس

    وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا خصوصی اجلاس مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی صدارت میں پیر کو ہوگا جس میں کورونا متاثرین کے لیے پیکج کی منظوری دی جائے گی۔

    کمیٹی کا معمول کا یہ اجلاس بدھ کو ہونا تھا تاہم منگل کو وفاقی کابینہ میں کورونا ریلیف پیکج کی منظوری لیے جانے کے امکان کی وجہ سے یہ اجلاس پیر کو طلب کر لیا گیا ہے۔

    کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے غربا کے لیے 570 ارب روپے کا ریلیف پیکج کا اعلان کیا تھا۔

    ریلیف پیکج کے تحت 480 ارب روپے ملک میں کاروباری اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے خرچ کیا جائے گا جبکہ 190 ارب ایمرجنسی رسپانس کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

    کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی بجٹ کے مطابق اس پیکج کو قابل عمل بنا کر منگل کو وفاقی کابینہ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کر دے گی۔ .

  8. سندھ: نادار لوگوں کے لیے موبائل رجسٹریشن کا اعلان

    سندھ حکومت نے صوبے کے نادار اور غریب لوگوں کی مالی مدد کے لیے موبائل رجسٹریشن نظام متعارف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کےتحت غربا کو رقم جیز کیش ٹرانفسر کے ذریعے دی جائے گی۔

    سندھ حکومت یہ منصوبہ نادرہ کے ساتھ مل کرے گی تاکہ درست افراد کی نشاندہی ہو سکے۔

    یہ پتا چلانے کے لیے کہ خاندان کا کوئی دوسرا فرد یا کوئی کھاتا پیتا خاندان تو کیش موصول نہیں کر رہا، سندھ حکومت نے اس پہلو کو یقینی بنانے کےلیے ایف آئی اے، سٹیٹ بینک اور ایف بی آر سے بھی مدد طلب کر لی ہے۔

    بیرون ملک سفر کرنے والا یا اکاؤنٹ میں مناسب رقم رکھنے والا اس مدد کا مستحق نہیں ہو گا۔ تاہم ایسے لوگ جو حج یا عمرے کے لیے بیرون ملک جا چکے ہیں وہ اس سے مستثنی ہوں گے۔ صوبائی حکومت کے نوٹیفیکیشن کے مطابق کچھ غریب افراد بھی اس مقدس عبادت کے لیے چلے جاتے ہیں۔

  9. پاکستان میں آن لائن ذرائع سے تدریسی عمل جاری مگر طلبا کو مسائل کا سامنا

  10. بریکنگ, پنجاب میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد چھ ہو گئی، کل متاثرین 593

    پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد چھ ہو گئی ہے، جبکہ کل متاثرین کی تعداد 593 تک پہنچ گئی ہے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ٹویٹ کرتے ہوئے چھٹی ہلاکت کی تصدیق کی۔ کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والی 68 سالہ خاتون سعودی عرب سے واپس آئی تھیں اور رحیم یار خان میں زیر علاج تھیں۔

  11. بریکنگ, سندھ پیمنٹ ایکٹ کا نفاذ: تمام نجی ادارے اور فیکٹریاں 31 مارچ تک ملازمین کو تنخواہیں دیں

    حکومت سندھ نے سندھ پیمنٹ ایکٹ کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، اس نوٹیفیکشن کے مطابق تمام نجی ادارے اور فیکٹریاں 31 مارچ تک ملازمین کو تنخواہیں جاری کردیں۔

    ادارے ڈیلی ویجز، کنٹریکٹ اور مستقل ملازمین کو تنخواہ ادا کرنے کے پابند ہوں گے۔نوٹیفیکشن میں مزید کہا گیا ہے کہ تنخواہوں کے معاملات کے لیے سیسسی کا ایمرجنسی سیل بنادیا گیا ہے، ادارے یا ملازم تنخواہوں سے متعلق مسائل کے لیے ایمرجنسی سیل سے رابطہ کریں۔واضح رہے کہ نوٹیفیکشن وزیر محنت سعید غنی کی ہدایت پر سیکریٹری محنت نے جاری کیا۔

  12. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں نئے کیسز کے بعد علاقہ سیل، وزیر اعظم کی ’کرفیو کی دھمکی‘

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں میرپور ڈویژن کے کمشنر محمد رقیب خان نے کہا ہے کہ بھمبر سے تعلق رکھنے والی دو خواتین جن میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے ان کے علاقے غازی گڑھ کو فوج اور پولیس کی مدد سے سیل کر دیا گیا ہے جبکہ ان کے خاندان کے پانچ افراد کو بھمبر میں قرنطینہ سنٹر میں منتقل کر دیا ہے۔

    صحافی ایم اے جرال کے مطابق کورونا وائرس سے متاثرہ خواتین کے سفر اور ملاقاتوں کی ہسٹری بھی چیک کی جا رہی ہے۔یاد رہے متاثرہ خواتین سرائے عالمگیر اپنے ایک عزیز کے وفات پانے پر ان کے گھر تعزیت کرنے گئیں تھیں جہاں ان کی اپنے ایک اور عزیز سے بھی ملاقات ہوئی جو سپین سے آیا تھا۔

    دوسری جانب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے خطے میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد چھ تک پہنچنے پر لوگوں کے نام ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ’اگر لوگوں نے حکومت کی ہدایت کے مطابق لاک ڈاون کا احترام نہ کیا تو پھر حکومت کرفیو لگانے پر مجبور ہوجائے گی.‘انھوں نے کہا کہ کشمیر کے اس خطے کے لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ کرفیو کا مطلب کیا ہوتا ہے اور اس کی خلاف ورزی پر کیا سزا ملتی ہے۔

    کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے کورونا جیسی وبا سے نجات کی خاطر اس خطے کے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پیر کے روز تیس مارچ کو روزہ رکھیں۔

  13. کورونا وائرس: دنیا میں اب تک کیا ہوا؟

  14. کشمیر میں آٹھویں جماعت تک کے تمام طلبہ کامیاب قرار

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے محکمہ تعلیم نے ایک نوٹیکفکشن جاری کیا ہے جس کے مطابق ہیلتھ ایمرجنسی کے نفاذ اور ملک بھر میں جاری لاک ڈاون کے پیش نظر اس خطے کے تمام سرکاری تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات کو سالانہ امتحان میں کامیاب قرار دے دیا گیا ہے۔

    صحافی ایم اے جرال کے مطابق لاک ڈاؤن کے پیش نظر سالانہ امتحانات کی تکمیل اور نتائج کی تدوین ممکن نہیں ہو پائی تھی۔ چنانچہ جماعت اول سے لےکر جماعت ہشتم تک کے تمام طلبہ و طلبات کو کامیاب قرار ددے کر باالترتیب اگلی جماعتوں میں ترقی دینے کی منظوری دی گئی ہے۔

  15. بلوچستان میں کوریئر کمپنیوں کو لاک ڈاﺅن کے دوران کام کرنے کی اجازت

    محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان نے مختلف کوریئر کمپنیوں کو لاک داﺅن کے دوران کام کرنے کی اجازت دی ہے۔

    ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق جن کمپنیوں کو کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے ان میں پاکستان پوسٹ ، ٹی سی ایس، او سی ایس، ایم اینڈ پی، ڈی ایچ ایل، لیپررڈز اور فیڈیکس شامل ہیں۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق یہ کمپنیاں تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کے پابند ہوں گے۔

  16. بریکنگ, بلوچستان میں لاک ڈاؤن کی مدت میں اضافہ ہو سکتا ہے: جام کمال

    بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام کمال نے کہا ہے کہ صوبے میں لاک ڈاؤن کی مدت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

    اتوار کو ٹوئٹر پر سوال و جواب کے سیشن کے دوران ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن مزید ایک ہفتہ یا اس سے بھی زیادہ دیر تک چل سکتا ہے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بلوچستان میں مزید ٹیسٹ کٹس آنے کے بعد ٹیسٹنگ کے عمل کا دائرہ بڑھا دیا جائے گا۔

  17. پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا میں کورونا کی صورتحال پر بھی نظر ڈالیے

    پاکستان میں کورونا کے متاثرین کی تعداد جہاں 1571 تک پہنچ گئی ہے وہیں دنیا بھر میں اس کے مریضوں اور اس سے ہلاکتوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

    اتوار کی شام تک دنیا میں اس وائرس سے چھ لاکھ 85 ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 32 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔

  18. بریکنگ, گوادر میں مشتبہ مریض کی ہلاکت کے بعد علاقے کی نگرانی سخت

    بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں ایک مشتبہ مریض کی ہلاکت کے بعد اسماعیلیہ وارڈ میں نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق گوادر میں موجود کورنا وائرس کے فوکل پرسن ڈاکٹر عبدالواحد کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ مشتبہ مریض سے تعلق رکھنے والے اور علاقے میں رہائش پذیر 17 دیگر مزدوروں کو احتیاطی طور پر سخت حفاظتی حصار میں بسوں کے ذریعے جی آئی ٹی قرنطینہ مرکز منتقل کیا گیا ہے۔

    اعلامیے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والا شخص گوادر کا مقامی ہے یا اس کا تعلق دوسرے علاقے سے ہے۔

    خیال رہے کہ گوادر پورٹ اور سی پیک کے دیگر منصوبوں کی وجہ سے گوادر میں چینی شہری بھی موجود ہیں۔

  19. بریکنگ, کوئٹہ میں مزید تین اور خیبر پختونخوا میں چار مریضوں میں کورونا وائرس کی تصدیق, پاکستان میں کل متاثرین 1570، 13 ہزار سے زیادہ مشتبہ مریض

    اتوار کی شام جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں مزید تین جبکہ خیبر پختونخوا میں چار افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    اس اضافے کے بعد پاکستان میں متاثرین کی کل تعداد 1570 تک پہنچ گئی ہے۔

    بلوچستان

    صوبائی ہیلتھ ڈائریکٹریٹ کورونا وائرس سیل بلوچستان کی جانب سے سے جاری بیان کے مطابق ان تین مصدقہ کیسز کے سامنے آنے کے بعد صوبے میں کورونا وائرس مثبت نتیجے والے مریضوں کی کل تعداد 141 ہو گئی ہے۔

    بیان کے مطابق اب بھی صوبے میں 1710 مشتبہ مریض موجود ہیں۔

    بیان کے مطابق کورونا وائرس سے مزید دو مریض صحت یاب ہو گئے ہیں۔

    خیبر پختونخوا

    خیبر پختونخوا میں چار مزید افراد میں کورونا کی تصدیق مشیر اطلاعات اجمل وزیر نے اتوار کی شب کی۔

    ان کے مطابق اب صوبے میں متاثرین کی تعداد 192 ہو گئی ہے جبکہ اتوار کو ایک مریض کی ہلاکت کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بھی پانچ ہو گئی ہے۔

    خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ مریض ضلع مردان میں ہیں جن کی تعداد 79 ہے جبکہ پشاور میں 23 اور ڈیرہ اسماعیل خان کے قرنطینہ میں 55 مریض موجود ہیں۔

    خیال رہے کہ مردان کی یونین کونسل منگاہ ہی وہ علاقہ ہے جہاں سب سے زیادہ مریض سامنے آئے ہیں اور یہیں پر ملک میں کورونا سے پہلی ہلاکت بھی ہوئی تھی۔