وزیراعلیٰ سندھ سید مراد
علی شاہ نے کمشنر کراچی ، اور پولیس کے اعلی حکام کے ساتھ ملاقات میں لاک ڈاؤن میں
آنے والی مشکلات کے حوالے سے بات کی۔
ڈی ائی جی سائوتھ زون
نے بتایا کہ کراچی کی سوسائٹی بہت زیادہ متحرک ہے ’ڈی ایچ اے میں لوگوں کو سمجھانے
میں آسانی رہی ہے، تاہم اولڈ سٹی ایریاز جس میں لیاری اور صدر آتے ہیں ، لوگوں کو
گھروں میں رکھنے میں تھوڑی مشکل پیش آرہی ہے۔ اب جا کر لوگوں میں شعور بیدارہوا ہے
،وہ خود گھروں میں رہ رہے ہیں ۔ ہم ہدایات گراؤنڈ لیولپر لے گئے ہیں۔ 25 پوائنٹس
ایسے ہیں جہاں روزانہ عوام کے ساتھ بحث کرنا پڑتی ہے۔‘
اس موقعے پر وزیراعلیٰ
سندھ نے سوال کیا کہ ’پولیس والوں کو کیا ہدایات ہیں کہ وہ عوام کو کس طرح
سمجھائیں؟
ایس ایس پی ایسٹ کا
کہنا تھا ’جو غذائی اشیا، ادویات خریدنے اور فیکٹری میں کام کرنے جا رہے ہیں اُن
کو اجازت دی جاتی ہے، اگر کسی گلی میں ایک سے زیادہ لوگ ہوتے ہیں تو اُنہیں واپس
گھروں کو لوٹا دیا جاتا ہے۔‘
کمشنر کراچی کا کہنا
تھا ’گڈز کی ٹرانسپورٹ کی اجازت ہے اور لوگوں کوچہل پہل سے روکنا ہے، اس لیے پکٹس
پر سمجھدار پولیس والوں کو تعینات کیا گیا ہے۔‘
ایس ایس پی شیراز کا
کہنا تھا ’ہم ایسے لوگوں کے حوالے سے پولیس کو آگاہ کیا ہے جنہیں لاک ڈاؤن سے
استثنیٰ حاصل ہے۔ ’اگر کے الیکٹرک، واٹر بورڈ ، بینکس کا عملہ ہوتا ہے تو اُن کو
ہم چھوڑتے ہیں۔‘
لوگوں کو گھروں کو
لوٹائیں لیکن عزت کے ساتھ
اس موقع پر ڈی سی
کورنگی نے نے بتایا کہ راشن کے لیے اب رش لگنا شروع ہو گیا ہے۔ ’ہم امن کمیٹی کے
ذریعے لوگوں کو کہہ رہے ہیں کہجببھی راشن بٹے گا تو لوگوں کے گھروںپر پہنچائیں
گے۔‘
کمشنر کراچی نے پولیس
اورانتظامیہ کو ہدایت کی کہ ’جو لوگ گلیوں سے غیر ضروری نکل رہے ہیںتو اُنہیں
روکیں۔ اگر گلی میںایک یا دو لوگ ہیں تو انکو اجازت ہے اگر اس سے زیادہ ہوں تو
روکیں۔ آپ لوگوں کو باہر گھومنےسےمحتاط رکھیں۔‘
تاہم انھوں نے واضح کیا
کہ ’مجھے عوام کی عزت عزیزہے اُن کی کسی صورت بے عزتی نہیں ہونی چاہیے ۔‘
ان کا کہنا تھا آپ اگر
کسی رکشےمیں 2 سے زیادہ لوگ جائیں تو اُن کو واپسکریں اور رکشےکو قبضے میں لیں۔
آ لوگوں کو ماسک
پہننےکے لیے نہیں کہیں۔ ماسک وہ پہنے جس کو نزلہ، زکام ہو، لیکن نزلہوالے کو تو
گھر پر بیٹھناچاہیے ۔‘
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا
کہ ’دکانوں کے باہر سماجی فاصلہ ہونا چاہیے۔‘