مولانا فضل الرحمان کے پلان بی کے تحت متعدد شاہراوں پر دھرنے
آزادی مارچ پر بی بی سی اردو کی کوریج اختتام کو پہنچی۔ اب یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
مولانا فضل الرحمان کے پلان بی کے بارے میں جاننے کے لیے بی بی سی اردو پر آئیں
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 12 روزہ آزادی مارچ کے خاتمے کے بعد مولانا فضل الرحمان کی جانب سے پلان بی کے تحت چاروں صوبوں میں اہم شاہراہوں کو بند کرنے کا عمل جاری ہے۔
آزادی مارچ پر بی بی سی اردو کی کوریج اختتام کو پہنچی۔ اب یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
مولانا فضل الرحمان کے پلان بی کے بارے میں جاننے کے لیے بی بی سی اردو پر آئیں
مولانا فضل الرحمان جمعے کو نوشہرہ اور مردان دھرنوں میں شرکت کریں گے جبکہ جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی سربراہ مولانا عطاالرحمان خود چکدرہ میں موجود ہیں جہاں مالاکنڈ ڈویژن کے چاروں اضلاع کو جانے والے راستے بند کیے گئے ہیں۔
چکدرہ چوک کو گیٹ وے کا درجہ حاصل ہے جہاں سے سوات، دیر، چترال اور شانگلہ کی جانب راستے جاتے ہیں۔ سوات جانے والے مسافر نئی تعمیر ہونے والی موٹر وے کے ذریعے جا رہے ہیں۔
مولانا عطا الرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ان کے مطالبات منظور نہیں کیے جاتے البتہ اگر صوبائی قائدین اپنے حالات کے مطابق اگر کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو پھر اس پر غور کیا جائے گا ۔
حکومت کے خلاف آزادی مارچ کے دوسرے مرحلے یعنی پلان بی کے تحت خیبر پختونخوا میں جمعے کو دوسرے روز بھی شاہرایں بند ہیں۔
خیبر پختونخوا میں تین مختلف سمتوں میں جانے والی سڑکوں کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کیا گیا ہے ۔ پشاور سے جنوبی اضلاع اور آگے کراچی جانے والے شاہراہ انڈس ہائی وے کو بنوں لنک روڈ کے قریب ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بلاک کیا گیا ہے اور یہاں مظاہرین نے رات سڑکوں پر گزاری۔
چھوٹی مسافر گاڑیاں متبادل راستوں سے جا رہی ہیں جبکہ قریبی علاقوں میں جانے والے مسافر رکاوٹیں پیدل عبور کر کے دوسری جانب سے گاڑیوں میں بیٹھ کر اپنی منزلوں کی جانب جا رہے ہیں تاہم بڑی گاڑیاں ترک اور ٹرالر دوسرے روز بھی سڑکوں پر کھڑے ہیں۔
پشاور کو راولپنڈی سے ملانے والے جی ٹی روڈ کو نوشہرہ کے قریب حکیم آباد کے مقام پر بلاک کیا گیا ہے تاہم پشاور اسلام آباد موٹر وے کھلی ہے جہاں سے ٹریفک معمول کے مطابق جاری ہے۔ جی ٹی روڈ پر نوشہرہ ، جہانگیرہ، اور صوابی تک جانے والی ٹریفک متاثر ہوئی ہے۔
حکومت کے خلاف جمعیت علمائے اسلام کے آزادی مارچ کے دوسرے مرحلے یعنی پلان بی کے تحت خیبر پختونخوا میں آج دوسرے روز بھی شاہراہیں بند ہیں ۔
سپیکر پنجاب اسمبلی اور حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن چوہدری پرویز الہی نے کہا ہے کہ آزادی مارچ نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ مولانا فضل الرحمان اس وقت پاکستان کی واحد اپوزیشن لیڈر ہیں۔ 'ان کے علاوہ نہ تو اسمبلیوں کے اندر اور نہ ہی باہر کوئی اپوزیشن لیڈر نہیں ہے۔' پرویز الہی کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں ہونے والے دھرنوں کے برعکس جمعیت علمائے اسلام ف کا دھرنا انتہائی پرامن اور منظم تھا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہم آزادی مارچ کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایک اجتماع کے بجائے اب ملک بھر میں اجتماعات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور پاکستان کی تقریباً تمام بڑی شاہراؤں پر اس وقت کارکن اور ان کے ساتھ عوام جمع ہو رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ کارکنوں کو کہا گیا ہے کہ آپ نے مسافروں، مریضوں اور ایمبولینسز کا خیال رکھنا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر یہ استعفیٰ دے دیتے تو شاید یہ معاملہ پورے ملک میں نہ پھیلتا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو تشدد کی طرف نہ لے کر جایا جائے ہم پرامن لوگ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ سے کہنا چاہتے ہیں کہ وہ احتیاط کریں اور کارکنان سے بھی کہنا چاہتے ہیں کہ وہ پرامن رہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم شہریوں کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے آزادی مارچ کے پلان بی کے تحت اہم صوبائی شاہراہیں اور راستے بند کرنے کے عمل کا آغاز ہو گیا ہے۔
صحافی زبیر خان کے مطابق شاہراہِ قراقرم کو چھتپلین کے مقام پر رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ چمن کو کوئٹہ سے ملانے والی شاہراہ تو بدھ کی دوپہر سے ہی بند کر دی گئی تھی۔
جے یو آئی ایف کے ذرائع کے مطابق ملک بھر کی کم از کم دو درجن مرکزی شاہراؤں اور موٹر وے کو بند کر کے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کیا جائے گا۔
پارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل محمد اسلم غوری نے بی بی بی سی کو بتایا کہ پورے ملک میں بند کی جانے والی شاہراؤں، ہائی ویز، موٹر ویز کی منصوبہ بندی اور نشان دہی کرلی گئی ہے۔
ان کے مطابق ان مقامات پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے کارکناں جمعرات کو دھرنا دینا شروع کر رہے ہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے کارکن شہری علاقوں میں دھرنے نہیں دیں گے اور کوشش کریں گے کہ شہریوں کو تکلیف کم سے کم ہو۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے ’پلان بی‘ کو حمایت حاصل نہیں ہو سکی ہے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) نے اپنے پلان بی کے تحت چاروں صوبوں میں اہم شاہراہوں کو بند کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی نے سندھ میں اس کی مخالفت کا عندیہ دیا ہے۔
وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے بدھ کو مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر کوئی ایسا فیصلہ ہوتا ہے کہ مرکزی شاہراہیں بند کی جائیں تو اس سے میں سمجھتا ہوں عام لوگوں کو بھی تکلیف ہوگی جو پہلے ہی حکومت کی نااہلی کے شکار ہیں۔‘
نجی نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے سندھ کے صوبائی مشیر مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ ’ہر شخص کو قانونی اعتبار سے آئینی حدود میں رہتے ہوئے احتجاج کا حق ہے لیکن اگر آپ عوام کو پریشانی دیں گے تو یہ غلط بات ہوگی۔‘
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں جاری آزادی مارچ ختم کیا جا رہا ہے اور ’پلان بی‘ کے تحت کارکن اب ملک کے دیگر شہروں میں ہونے والے احتجاج کا حصہ بنیں گے۔
نامہ نگار عزیزاللہ خان کے مطابق پلان بی کے تحت چاروں صوبوں میں شاہراہوں کو ٹریفک کے لیے بند کیا جائے گا۔ پلان اے میں جس شدت کا اظہار کیا گیا تھا اس کے برعکس پلان بی میں کسی سخت اقدامات کا ذکر نہیں ہوا بلکہ کارکنوں کو منظم رہنے اور لوگوں کو رعائتیں دینے کی بات کی گئی ہے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما حافظ حسین احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’آزادی مارچ‘ کے اگلے مرحلے میں صوبوں کو ذمہ داریاں دی جا رہی ہیں جہاں وہ اپنے مطابق احتجاج کی منصوبہ بندی کریں گے۔
جمیعت علمائے اسلام (ف) کے ذرائع کے مطابق وہ ملک بھر کی کم از کم دو درجن مرکزی شاہرائیں اور موٹر وے کو بند کر کے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کردیں گے۔
پارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل محمد اسلم غوری نے بی بی بی سی کو بتایا کہ پورے ملک میں بند کی جانے والی شاہراؤں، ہائی ویز، موٹر ویز کی منصوبہ بندی اور نشان دہی کرلی گئی ہے۔ ان کے مطابق ان مقامات پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے کارکناں جمعرات کو دھرنا دینا شروع کردیں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں دھرنا دینے والے کارکنان سے کہا کہ اب آپ نے جانا ہے اور منظم انداز میں جائیں۔ انھوں نے حکومت اور اداروں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اپنے علاقوں کو جانے والے افراد کو روکا نہ جائے۔
مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب کے آخر میں کہا کہ نواز شریف بیمار ہیں اور حکومت نے بداخلاقی کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ انھیں باہر جانے سے روک رہی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت استعفیٰ دے اور عام انتخابات کروائے، اس سے کم پر کچھ نہیں ہوگا۔
انھوں نے کارکنان سے کہا کہ جو اسلام آباد نہیں آ سکے اب وہ اپنے علاقوں میں سڑکوں پر نکلیں۔
انھوں نے کہا کہ وہ اسلام آباد میں موجود اپنے کارکنان کو سلام پیش کرتے ہیں۔
اپنے خطاب میں انھوں نے ایک بار پھر کشمیر کے معاملے اور امریکہ میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حوالے سے بات کی۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ان کے کارکنان شہروں سے باہر جا کر شاہراؤں پر بیٹھیں گے۔ انھوں نے کہا کہ یقیناً ہم دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شہریوں کے معمولات زندگی کو متاثر نہیں کرنا چاہتے۔
’کسی ایمبولینس کا راستہ بند نہیں ہونا چاہیے۔ کسی مریض کا راستہ بند نہیں ہونا چاہیے۔۔۔‘
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے کہا کہ ہم پوری قوم کو بین الاقوامی دباؤ اور ناجائز حکمرانی سے نکالنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے بھی اس مارچ کی حمایت کریں۔
مولانا فضل الرحمان نے دھرنے کے شرکا سے کہا کہ دنیا نے ان کے منظم ہونے کو تسلیم کیا ہے اور اب وہ دوسرے محاذ پر جا رہے ہیں تو پرامن ہی رہیں۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے نئے مرحلے کا اعلان کرتے ہوئے شرکا سے کہا ہے کہ وہ ملک کے دوسرے حصوں میں موجود کارکنان کی ساتھ شامل ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ’آپ کی رسد کے منتظر ہیں۔‘
مولانا فضل الرحمان کنٹینر پر دیگر جماعتوں کے رہنماؤں کے ہمراہ موجود ہیں۔ انھوں نے آزادی مارچ کے شرکا سے کہا کہ ہاں آپ کی موجودگی نے حکومت کی جڑیں کاٹی ہیں، اگلے مرحلے میں اس تنے کو کاٹ دیں گے اور اب دیوار ہل چکی ہے۔