بھارتیہ جنتا پارٹی کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے اقدام سے قبل ہی کشمیر میں صورتِ حال کشیدہ تھی اور اس اعلان سے قبل انڈیا کے وادی میں ہزاروں اضافی فوجی تعینات کیے جا چکے ہیں۔
وادی میں دفعہ 144 نافذ ہے جبکہ حکام نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ جموں کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد لون کو ان کے گھر میں نظربند کیا گیا ہے۔
دفعہ 144 کے تحت لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد ہے اور وادی کے تمام تعلیمی ادارے بھی بند کر دیے گئے ہیں۔
سری نگر میں بی بی سی ہندی کے نامہ نگار عامر پیرزادہ نے بتایا ہے ' اتوار کی شام تک کشمیر میں لینڈ لائن، موبائل اور انٹرنیٹ سب چل رہا تھا لیکن پھر مواصلات کے تمام ذرائع کو مرحلہ وار بند کر دیا گیا۔ صبح جب لوگ گھروں سےباہر آئے تو ہر گلی، ہر موڑ پر سکیورٹی کے دستے تعینات تھے۔‘
نامہ نگار کے مطابق یہ ایسا کرفیو ہے جس کا کوئی پیشگی اعلان نہیں کیا گیا۔
’ہر سڑک پر بڑے پیمانے پر سکیورٹی فورسز کو تعینات کیاگیا ہے۔ کشمیر کے دوسرے حصوں میں کیا ہو رہا ہے کوئی نہیں جانتا کیونکہ تمام رابطے منقطع کیے جا چکے ہیں۔
کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ لینڈ لائن ٹیلیفون بھی بند کر دیے گئے ہیں۔ حکومتی اہلکاروں کو آپس میں رابطے کے لیے سیٹلائٹ فون دیے گئے ہیں کیونکہ ان کے بھی ٹیلیفون اور موبائل بھی بند ہیں۔
نامہ نگار کے مطابق کشمیر میں ڈر اور خوف کا ماحول ہے، لوگ گھروں میں بند ہوگئے ہیں۔ لوگوں نے مہینوں کے لیے خوراک کا ذخیرہ کر رکھا ہے۔