آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

آرٹیکل 370: پاکستان میں پارلیمان کا مشترکہ اجلاس: کب کیا ہوا؟

کشمیر کے معاملے پر پاکستان میں پارلیمان کے مشترکہ اجلاس اور انڈین لوک سبھا میں آرٹیکل 370 کے خاتمے پر بحث پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج۔

لائیو کوریج

ذیشان حیدر, عابد حسین and دانش حسین

  1. بریکنگ, انڈین لوک سبھا میں آرٹیکل 370 کے خاتمے پر بحث

    پاکستانی پارلیمان کے علاوہ انڈین پارلیمان کے ایوانِ زیریں یعنی لوک سبھا میں بھی انڈین آئین کی شق 370 کے خاتمے پر منگل کو بحث ہوئی ہے۔

    اس بحث کے دوران کانگریس، راشٹریا جنتا دل، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا اور اس کے مارکسسٹ دھڑے، مسلم لیگ، کیرالہ کانگریس، اور ایم ڈی ایم کی جانب سے اس شق کے خاتمے کی مخالفت کی گئی جبکہ بی جے پی، عام آدمی پارٹی، بھوجن سماج پارٹی، شیو سینا، اکالی دل، ایل جے پی، آر پی آئی، وائی ایس آر کانگریس، بی جے ڈی اور ٹی ڈی پی نے اس تجویز کی حمایت کی۔

    لوک سبھا میں اس قرارداد کے حق میں 125 جبکہ مخالفت میں 61 ووٹ آئے۔

  2. بریکنگ, بیس منٹ گزر جانے کے باوجود اجلاس دوبارہ شروع نہیں ہوا

    سپیکر اسد قیصر کی جانب سے مشترکہ اجلاس ایک گھنٹے کے بعد بھی شروع نہیں ہوا حالانکہ انھوں نے صرف 20 منٹ کا وقفہ دیا تھا۔

  3. امریکہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہونے والی گرفتاریوں پر فکرمند

    امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان مارگن اورٹاگس نے انڈیا کے اپنے زیر انتظام کشمیر کے حوالے سے آرٹیکل 370 ختم کرنے کے فیصلے پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کشمیر میں لوگوں کو ’حراست میں لیے جانے کی اطلاعات پر فکرمند ہے اور زور دیتا ہے کہ انفرادی حقوق کا تحفظ کیا جائے اور متاثرہ کمیونٹی سے بات کی جائے‘۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ لائن آف کنٹرول پر امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جائے۔‘

  4. بریکنگ, وزیر اعظم عمران خان پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    ایوان میں موجود نامہ نگار اعظم خان کے مطابق وزیر اعظم عمران خان پارلیمنٹ ہاؤس میں موجود اپنے چیمبر میں پہنچ گئے ہیں۔

  5. ’مشترکہ قرارداد پر کوئی تنازع نہیں چاہیے‘

    وزیر اعظم کی مشیر برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے اسمبلی کے باہر پریس سے بات کرتے ہوئے انڈیا کے اقدامات کی مذمت کی اور کہا کہ پاکستان کی جانب سے کشمیر کی جانب یکجہتی کا پیغام جانا ضروری ہے اور کشمیر ہمارا مشترکہ مسئلہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کشمیر کے بغیر ادھورا ہے‘انھوں نے کہا کہ اپوزیشن نے اجلاس میں پیش کیے گئے ایجنڈے میں آرٹیکل 370 کی جانب نشاندہی کی ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ اس معاملے پر کوئی تنازع ہو چناچہ ایجنڈے میں ترمیم کی جا رہی ہے۔

  6. مریم نواز کی عمران خان پر تنقید

  7. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صدر، وزیراعظم ایوان میں موجود

    پاکستان کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صدر سردار مسعود احمد خان اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر موجود ہیں۔ انھوں نے بازو پر سیاہ پٹی بھی بطور احتجاج باندھی ہوئی ہے۔

  8. قرارداد میں آرٹیکل 370 کا ذکر ندارد

    حکومت کی جانب سے اجلاس کے آغاز میں پیش کی گئی قرارداد کا عکس جس میں آرٹیکل 370 کا ذکر موجود نہیں تھا۔

  9. بریکنگ, کشمیر پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس ملتوی

    نامہ نگار اعظم خان کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے مذمتی قرارداد میں آرٹیکل 370 کا ذکر نہ ہونے پر احتجاج کے بعد سپیکر اسد قیصر نے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس 20 منٹ کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔

    نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے ’کشمیر کا سودا نامنظور‘ کے علاوہ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے خلاف بھی نعرے بازی کی۔

    خیال رہے کہ وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ دونوں ہی اس اجلاس کے آغاز پر ایوان میں موجود نہیں تھے۔

    وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سعودی عرب میں ہیں جبکہ وزیراعظم ہاؤس کے مطابق عمران خان اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔

  10. آرٹیکل 370 کا ذکر نہ ہونے پر حزب اختلاف کا احتجاج

    مشترکہ اجلاس کے آٖغاز پر وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے مذمتی قرارداد پڑھ کر سنائی جس میں بھارتی فوج کی جانب سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کلسٹر بموں کے حملے اور شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافے کا ذکر شامل تھا۔

    تاہم اس موقع پر قائدِ حزبِ اختلاف نے سپیکر کی توجہ اس نکتے پر دلوائی کہ مذمتی قرارداد میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کا ذکر ہی موجود نہیں۔

    پیپلز پارٹی کے رضا ربانی نے اس بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 370 کو ایجنڈے میں شامل کیا جائے جبکہ حکومتی بینچوں سے وفاقی وزیر شیخ رشید نے رضا ربانی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 370 کو قرارداد میں شامل کیا جائے۔

    اس پر وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ حکومت قرارداد میں اس بارے میں ترمیم کر رہی ہے۔

  11. ’ایل او سی پر مسافروں کی آمد و رفت جاری‘

    پیر کو جب انڈین حکومت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تبدیل کیا تو پاکستان اور انڈیا کے درمیان لائن آف کنٹرول کے اردگرد کے علاقوں میں بھی کرفیو نافذ تھا لیکن مسافروں کی آمد و رفت کو نہیں روکا گیا۔

    بی بی سی کی نامہ نگار حمیرا کنول کے مطابق تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ کی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موجود انتظامیہ کا کہنا ہے صورتحال کے پیش نظر انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر جانے والے مسافروں کو مشورہ دیا گیا کہ رک جائیں لیکن ان کا جواب تھا نہیں ہم نے جانا ہے ہم اپنے رسک پر جائیں گے۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کراسنگ ساڑھے گیارہ بجے ہوئی۔ اس پار سے 13 کشمیری واپس لوٹے جبکہ جانے والے مسافروں کی تعداد بھی یہی تھی۔ گذشتہ روز جانے اور آنے والے مسافر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہر پیر کو مسافروں کی دونوں جانب کراسنگ ہوتی ہے۔

    ابھی تو کرفیو اور غیر یقینی کی صورتحال ہے اگلے پیر کو عید کی تعطیل کی وجہ سے کراسنگ نہیں ہو گی لیکن دو ہفتے بعد کیا صورتحال ہو گی ابھی اس بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ خیال رہے کہ پلوامہ حملے کے بعد لائن آف کنٹرول پر دونوں جانب کے کشمیریوں کے مابین تجارتی سرگرمیاں بند کر دی گئی تھیں تاہم صرف تیتری نوٹ سے دونوں جانب کے مکینوں کو سفر کی اجازت تھی۔

  12. پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کا آغاز

    بی بی سی کے نامہ نگار اعظم خان کے مطابق پارلیمان کا مشترکہ اجلاس شروع ہو گیا ہے جہاں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر پہنچ چکے ہیں جبکہ پرائم منسٹر آفس سے جاری اعلامیہ کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان بھی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

  13. مظفرآباد میں احتجاج کا سلسلہ جاری

    بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق منگل کی صبح بھی انڈین فیصلے کے خلاف احتجاج جاری ہے اور شہری مظفر آباد میں اقوام متحدہ کے مبصرین کے دفتر کے باہر جمع ہیں۔

  14. اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کا لائن آف کنٹرول کا دورہ, انڈیا کی جانب سے کی گئی فائرنگ سے متاثرہ شہریوں سے بھی تفصیلات لیں

    آرٹیکل 370 کے خاتمے کا فیصلہ ہونے سے چند دن قبل ہی پاکستان اور انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر بھی حالات کشیدہ ہو گئے تھے۔

    پاکستان کی جانب سے انڈیا پر اس علاقے میں کلسٹر بم پھینکنے کا الزام عائد کیا گیا جبکہ انڈیا نے پاکستان پر اس کی مبینہ بارڈر ایکشن ٹیم کی مدد سے دراندازی کے الزامات لگائے۔

    اس صورتحال میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین نے پیر کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کنٹرول لائن کا دورہ کیا۔

    اس دورے میں فوجی مبصرین نے ایل اوسی پر ہونے والی خلاف ورزیوں کاجائزہ لیا اور انڈیا کی جانب سے کی گئی فائرنگ سے متاثرہ علاقوں کے مکینوں سے بھی تفصیلات لیں۔

  15. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور دیگر علاقوں میں انڈین فیصلے کے خلاف مظاہرے, انڈیا کی جانب سے آرٹیکل 370 ختم کرنے کی مذمت

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور پاکستان کے دیگر شہروں میں انڈیا کی جانب سے آرٹیکل 370 ختم کرنے کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں جن میں مظاہرین نے اس فیصلے کو ’مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی سازش‘ قرار دیا ہے

  16. ’انڈیا نے بہت بڑی سیاسی حماقت کی ہے‘

    پاکستان نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والی آئینی شق کے خاتمے کی مذمت کی ہے اور اس معاملے پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس منگل کو بلایا گیا ہے۔

    منگل کو ہی پاکستانی فوج کے کورکمانڈرز کا اجلاس بھی منعقد ہو رہا ہے۔

  17. کشمیر میں ڈر اور خوف کا ماحول ہے

    بھارتیہ جنتا پارٹی کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے اقدام سے قبل ہی کشمیر میں صورتِ حال کشیدہ تھی اور اس اعلان سے قبل انڈیا کے وادی میں ہزاروں اضافی فوجی تعینات کیے جا چکے ہیں۔

    وادی میں دفعہ 144 نافذ ہے جبکہ حکام نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ جموں کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد لون کو ان کے گھر میں نظربند کیا گیا ہے۔

    دفعہ 144 کے تحت لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد ہے اور وادی کے تمام تعلیمی ادارے بھی بند کر دیے گئے ہیں۔

    سری نگر میں بی بی سی ہندی کے نامہ نگار عامر پیرزادہ نے بتایا ہے ' اتوار کی شام تک کشمیر میں لینڈ لائن، موبائل اور انٹرنیٹ سب چل رہا تھا لیکن پھر مواصلات کے تمام ذرائع کو مرحلہ وار بند کر دیا گیا۔ صبح جب لوگ گھروں سےباہر آئے تو ہر گلی، ہر موڑ پر سکیورٹی کے دستے تعینات تھے۔‘

    نامہ نگار کے مطابق یہ ایسا کرفیو ہے جس کا کوئی پیشگی اعلان نہیں کیا گیا۔

    ’ہر سڑک پر بڑے پیمانے پر سکیورٹی فورسز کو تعینات کیاگیا ہے۔ کشمیر کے دوسرے حصوں میں کیا ہو رہا ہے کوئی نہیں جانتا کیونکہ تمام رابطے منقطع کیے جا چکے ہیں۔

    کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ لینڈ لائن ٹیلیفون بھی بند کر دیے گئے ہیں۔ حکومتی اہلکاروں کو آپس میں رابطے کے لیے سیٹلائٹ فون دیے گئے ہیں کیونکہ ان کے بھی ٹیلیفون اور موبائل بھی بند ہیں۔

    نامہ نگار کے مطابق کشمیر میں ڈر اور خوف کا ماحول ہے، لوگ گھروں میں بند ہوگئے ہیں۔ لوگوں نے مہینوں کے لیے خوراک کا ذخیرہ کر رکھا ہے۔

  18. ’اب کشمیریوں کا انڈیا پر سے اعتبار اٹھ گیا ہے‘

  19. ’ہم پاکستان پر انڈیا کو ترجیح دینے میں غلط تھے‘

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کے مطابق مودی حکومت کا ارادہ بہت واضح ہے کہ وہ زمین پر قبضہ کرنا اور ہم مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنا چاہتے ہیں اور ہمیں مکمل بےاختیار کرنا چاہتے ہیں۔‘