بریکنگ, وزیر اعظم عمران خان مشترکہ اجلاس میں شرکت کے لیے ایوان پہنچ گئے
پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کا دوبارہ آغاز ہونے والا ہے اور وزیر اعظم عمران خان ایوان میں پہنچ گئے ہیں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کشمیر کے معاملے پر پاکستان میں پارلیمان کے مشترکہ اجلاس اور انڈین لوک سبھا میں آرٹیکل 370 کے خاتمے پر بحث پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج۔
ذیشان حیدر, عابد حسین and دانش حسین
پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کا دوبارہ آغاز ہونے والا ہے اور وزیر اعظم عمران خان ایوان میں پہنچ گئے ہیں۔
بی بی سی کے اعظم خان نے بتایا کہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کا ترمیم شدہ ایجنڈا دوبارہ پیش کر دیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ اجلاس بہت جلد دوبارہ شروع ہو جائے گا۔
پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کے لیے پنجاب کے وزیر اعلی عثمان بزدار اور سندھ کے وزیر اعلی مراد علی شاہ بھی پارلیمنٹ ہاؤس میں موجود ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ سیشن اب جلد دوبارہ شروع ہو جائے گا۔
’ہمارا ایشو یہ ہے کہ یہ اتنا سنجیدہ معاملہ ہے، پاکستان کے لیے اتنا بڑا چیلنج ہے، تو وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کا یہاں ہونا ضروری ہے اور ان کا نہ ہونا حکومت کی غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ قرارداد کی عبارت سے بھی اختلاف تھا لیکن وہ ٹھیک کر دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم بھی ایوان میں آئیں گے اور آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے بی بی سی کے اعظم خان کو بتایا ہے کہ حکومت نے اپوزیشن کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے ہیں اور ۔کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس جلد ہی دوبارہ شروع ہو جائے گا۔
ادھر پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے ہیں
اپوزیشن نے حکومت سے تین مطالبات کیے تھے
1۔ قرارداد میں انڈیا کے آرٹیکل 370 اور 35-A کو شامل کیا جائے
2۔ عمران خان خود اجلاس میں شریک ہوں
3- آصف زرداری سمیت گرفتار رہنماؤں کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے ٹویٹ میں پیغام دیا کہ منگل کو جنرل ہیڈ کوارٹرز میں ہونے والی کور کمانڈرز کی میٹنگ میں کشمیر کا معاملہ زیر بحث آیا جہاں حکومت کی جانب سے انڈین اقدامات کو مسترد کیے جانے کی مکمل حمایت کی گئی۔
انھوں نے ٹویٹ میں مزید کہا کہ پاکستان نے کبھی بھی انڈیا کی جانب سے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35-A کی مدد سے کشمیر پر قبضے کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش کو تسلیم نہیں کیا ہے۔
ٹویٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’پاکستانی فوج کشمیریوں کی جدوجہد کے ساتھ آخری وقت تک کھڑی ہے ۔ ہم اس بارے میں مکمل طور پر تیار ہیں اور اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے۔‘
پارلیمان میں موجود بی بی سی کے نمائندہ اعظم خان کے مطابق پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا اب تک دوبارہ آغاز نہیں ہو سکا۔ حکومت کی جانب سے سینیٹر اعظم خان سواتی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں مگر ظاہری طور پر انھیں اب تک کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
اپوزیشن کے حکومت سے کیے گئے تین مطالبات اب تک سامنے آ چکے ہیں۔
1- قرار داد کی عبارت تبدیل کر کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کا ذکر اس میں شامل کیا جائے
2- وزیر اعظم بذات خود اجلاس میں شرکت کریں۔ یاد رہے کہ اگرچہ وزیر اعظم عمران خان پارلیمان میں واقع اپنے چیمبر میں موجود ہیں مگر وہ اب تک اس ہال میں نہیں گئے جہاں مشترکہ اجلاس جاری تھا۔
3- آصف زرداری، شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر گرفتار اراکین اسمبلی کے آج کے اجلاس کے لیے پروڈکشن جاری کیے جائیں۔
خیبرپختونخوا کے ضلع کرم کے شہر پاڑہ چنار میں بھی آرٹیکل 370 کے خاتمے کے خلاف مظاہرہ کیا گیا جس میں عام شہریوں اور اور قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔
پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما خواجہ آصف قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے چیمبر میں موجود تھے جہاں سینیٹر اعظم سواتی انھیں منانے کے لیے گئے لیکن ناکام رہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آج اجلاس نہ ہونے کی ذمہ داری حکومت پر ہے۔ ’ہم نے کل ہی بتا دیا تھا کہ قرارداد میں آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35A ذکر ہونا چاہئے۔‘اپوزیشن کے رکن دیگر ممبر اسمبلی آصف زرداری اور شاہد خاقان عباسی سمیت گرفتار پارلیمنٹیرینز کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے اور وزیر اعظم کے ایوان میں آنے کا مطالبے کررہی ہے۔
پاکستان میں پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں سپیکر کی جانب سے 20 منٹ کے وقفے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس بات کو تقریباً دو گھنٹے گزر چکے ہیں مگر اجلاس تاحال شروع نہیں ہو سکا۔
نمائندہ بی بی سی اعظم خان کے مطابق مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما اور اراکینِ اسمبلی و سینیٹ پارلیمان میں اپنے اپنے چیمبرز میں موجود ہیں اور گفت و شنید جاری ہے۔
جنوبی اور وسطی ایشیا امریکہ کی قائم مقام اسسٹنٹ سیکرٹری ایلس ویلز پاکستان پہنچ گئی ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ایلس ویلز اپنے دورے کے دوران وہ دفتر خارجہ میں پاکستانی سیکریٹری خارجہ سہیل محمود سے وفود کی سطح پر مذاکرات کریں گی۔
دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے علاوہ جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور انڈین حکومت کی طرف سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی حثیت تبدیل کرنے کے معاملات کو بھی زیر بحث لایا جائے گا۔
امریکی سفارت خانے نے ایلس ویلز کی آمد پر ٹویٹ کرتے ہوئے انھیں خوش آمدید کا پیغام دیا اور اس توقع کا اظہار کیا کہ اگلے چند دن تک جاری رہنے والا دورہ کامیاب جائے۔
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے جموں و کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں جو طریقہ کار اپنایا گیا وہ غیر جمہوری تھا۔
’ہم اس بل کی حمایت نہیں کر سکتے۔ نہ ہی اس پر کوئی ووٹنگ ہوئی نہ کوئی بات چیت۔ انھوں نے جو کیا ہے وہ جمہوری نہیں۔
کانگریس کے رکن ادھیر رنجن چودھری کا کہنا تھا کہ میں جاننا چاہتا ہوں کہ جب آپ کشمیر کو اندرونی معاملہ کہتے ہیں تو کیا ایسا ہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس پر سنہ 1948 سے اقوام متحدہ کی نظر ہے۔ ہم نے شملہ معاہدے اور اعلانِ لاہور پر دستخط کیے تو کیا یہ اندورنی معاملہ ہے یا دو طرفہ؟
بحث میں حصہ لیتے ہوئے جنتا دل یونائیٹڈ کے رہنما للن سنگھ کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کا موقف واضح ہے کہ آرٹیکل 370 کے ساتھ چھیٹر چھاڑ نہیں کی جا سکتی۔للن سنگھ کے خطاب کے بعد ان کی جماعت نے لوک سبھا سے بطور احتجاج واک آؤٹ بھی کیا۔ گذشتہ روز راجیہ سبھا میں جاری اجلاس کے دوران بھی انھوں نے واک آؤٹ کیا تھا۔
انڈیا کی حزب اختلاف کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے فیصلے پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’یکطرفہ طور پر جموں کو کشمیر کو تباہ کرنا، منتخب نمائندوں کو حراست میں رکھنے اور آئین کی پامالی کرنے سے قومی یکجہتی نہیں قائم ہوتی۔
ایوان میں جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے مودی حکومت کے وزیر جتندر سنگھ کا کہنا تھا کہ ’ہم یہاں تاریخ رقم کرنے جا رہے ہیں مگر چند لوگوں کو اس کا ادراک ہی نہیں۔‘انھوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کو ختم کرنے میں اپنا حصہ ڈالنے والوں کو تاریخ یاد رکھے گی اور یہ تاریخی لمحہ 70 برس بعد آیا ہے۔ جتندر سنگھ نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ اب اگلا کام پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو انڈیا کا حصہ بنانا ہے۔
کانگریس کے رکن منیش تواری کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی اجازت کے بغیر آرٹیکل 370 کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ ہر چیز سیاہ اور سفید کی طرح واضح نہیں بلکہ اس کی کئی تہیں ہیں۔ منیش تواری نے سوال کیا کہ آرٹیکل 370 ختم کر کے ناگا لینڈ، آسام، منی پور، سکم اور اندھرا کو کیا پیغام دیا جا رہا ہے کیونکہ آئین میں آرٹیکل 371 بھی ہے جو ان علاقوں کے لوگوں کو خصوصی حقوق دیتا ہے۔
لوک سبھا سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ امت شاہ کا کہنا تھا کہ جب ہم جموں کشمیر کی بات کرتے ہیں تو اس کی حدود میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر بھی آتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ کشمیر کے لیے جان دینے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ ’جان دے دیں گے اس کے لیے۔‘
انھوں نے کانگریس سے سوال کیا کہ کیا وہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیریوں کو اپنا نہیں سمجھتے؟