2017 میں اہلِ خانہ سے ملاقات، 'یہ آخری ملاقات نہیں تھی'
دسمبر 2017 میں کلبھوشن جادھو کی اسلام آباد میں ان کے اہلِ خانہ سے ملاقات کروائی گئی۔ ملاقات کے بعد پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ یہ ملاقات انسانی ہمدری کی بنیاد پر کروائی گئی اور یہ کلبھوشن تک ’قونصلر رسائی‘ نہیں تھی۔ اس ملاقات کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ 'یہ آخری ملاقات نہیں تھی۔'
ترجمان کا کہنا تھا کہ ملاقات کے دوران انڈین سفارتکار بذات خود موجود تھے تاہم وہ کمانڈر جادھو کی ملاقات دیکھ سکتے تھے اور انھیں اس ملاقات میں ہونے والی گفتگو سننے یا اس دوران بولنے کی اجازت نہیں تھی۔
کلبھوشن جادھو کے اہلخانہ نے دفترِ خارجہ پہنچنے پر اور ملاقات کے بعد بھی میڈیا سے کوئی بات چیت نہیں کی۔

،تصویر کا ذریعہMOFA

،تصویر کا ذریعہMOFA

،تصویر کا ذریعہMOFA

،تصویر کا ذریعہMOFA

،تصویر کا ذریعہMOFA




