کلبھوشن جادھو کیس: ’پاکستان سزائے موت پر نظر ثانی کرے‘

عالمی عدالت انصاف دہشت گردی کے الزامات میں پاکستان کی فوجی عدالت سے موت کی سزا پانے والے مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو سے متعلق انڈیا کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان کو انھیں قونصلر رسائی دینے اور سزا پر نظرِثانی کرنے کا حکم دیا ہے۔

لائیو کوریج

شجاع ملک and عابد حسین

  1. 2017 میں اہلِ خانہ سے ملاقات، 'یہ آخری ملاقات نہیں تھی'

    دسمبر 2017 میں کلبھوشن جادھو کی اسلام آباد میں ان کے اہلِ خانہ سے ملاقات کروائی گئی۔ ملاقات کے بعد پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ یہ ملاقات انسانی ہمدری کی بنیاد پر کروائی گئی اور یہ کلبھوشن تک ’قونصلر رسائی‘ نہیں تھی۔ اس ملاقات کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ 'یہ آخری ملاقات نہیں تھی۔'

    ترجمان کا کہنا تھا کہ ملاقات کے دوران انڈین سفارتکار بذات خود موجود تھے تاہم وہ کمانڈر جادھو کی ملاقات دیکھ سکتے تھے اور انھیں اس ملاقات میں ہونے والی گفتگو سننے یا اس دوران بولنے کی اجازت نہیں تھی۔

    کلبھوشن جادھو کے اہلخانہ نے دفترِ خارجہ پہنچنے پر اور ملاقات کے بعد بھی میڈیا سے کوئی بات چیت نہیں کی۔

    کلبھوشن

    ،تصویر کا ذریعہMOFA

    کلبھوشن

    ،تصویر کا ذریعہMOFA

    کلبھوشن

    ،تصویر کا ذریعہMOFA

    کلبھوشن

    ،تصویر کا ذریعہMOFA

    کلبھوشن

    ،تصویر کا ذریعہMOFA

  2. کلبھوشن جادھو کون ہیں؟

    کلبھوشن جادھو

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    پاکستان کے خفیہ اداروں نے انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کو تین مارچ سنہ 2016 کو بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے گرفتار کیا تھا۔

    پاکستانی فوج نے گرفتار ہونے والے انڈین جاسوس کا ویڈیو بیان میڈیا کے سامنے پیش کیا تھا جس میں کلبھوشن جادھو نامی شخص نے اعتراف کیا تھا کہ وہ انڈین بحریہ کے حاضر سروس افسر ہیں اور وہ انڈیا کی ایجنسی را کے لیے کام کر رہے تھے۔

    ویڈیو کے آغاز میں ہی انڈیا کے مبینہ جاسوس کلبھوشن جادھو نے بتایا کہ انھوں نے 1991 میں انڈین بحریہ میں شمولیت اختیار کی۔

    چھ منٹ کے دورانیے پر مشتمل ویڈیو میں کلبھوشن جادھو نے بتایا کہ انھوں نے سنہ 2013 میں را کے لیے کام شروع کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ کراچی اور بلوچستان میں را کی جانب سے بہت سی کارروائیاں کرتے آئے ہیں اور وہاں کے حالات کو خراب کرتے رہے۔

    انھوں نے بتایا کہ تین مارچ سنہ 2016 کو پاکستانی حکام نے انھیں اس وقت گرفتار کیا جب وہ ایران سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کا مقصد پاکستان میں داخل ہو کر بی ایس این (بلوچ سب نیشنلسٹس) کے اہلکاروں سے ملاقات کرنی تھی جو آنے والے دنوں میں بلوچستان میں کوئی کارروائی کرنا چاہتے تھے۔

  3. انڈیا کا پہلے انکار پھر اعتراف

    انڈیا کی وزراتِ خارجہ نے کلبھوشن جادھو کی اعترافی ویڈیو کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان میں گرفتار کیے گئے شخص کا انڈیا کی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ ویڈیو جھوٹ پر مبنی ہے۔

    تاہم بعد میں انڈیا نے کلبھوشن کو اپنا شہری تسلیم کرتے ہوئے عالمی عدالتِ انصاف سے رجوع کیا۔

    کلبھوشن جادھو

    ،تصویر کا ذریعہISPR

  4. کلبھوشن جادھو کیس، کب کیا ہوا؟

    3 مارچ 2016 : انڈین شہری کلبھوشن جادھو کو پاکستان ایران سرحدی علاقے سے گرفتار کیا گیا۔

    24 مارچ 2016: پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا کہ کلبھوشن انڈین بحریہ کے افسر اور بھارتی انٹیلی جنس ادارے را کے ایجنٹ ہیں اور انہیں پاکستان اور ایران کے سرحدی علاقے سراوان سے گرفتار کیا گیا۔

    26 مارچ 2016 : حکومت پاکستان نے انڈین سفیر کو طلب کر کے بھارتی جاسوس کے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخلے اور کراچی اور بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے پر باضابطہ احتجاج کیا۔

    29 مارچ 2016: کلبھوشن جادھو کے مبینہ اعترافی بیان کی ویڈیو جاری کی گئی۔

    اپریل کے مہینے میں کلبھوشن کے خلاف بلوچستان کی حکومت نے دہشت گردی کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کروا دی۔

    10 اپریل 2017 : کلبھوشن جادھو کو فوجی عدالت نے ملک میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنا دی۔

    10 مئی 2017 : انڈیا نے کلبھوشن جادھو کی پھانسی کی سزا پر عمل رکوانے کے لیے عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائر کر دی۔

    15 مئی 2017 : عالمی عدالت میں بھارتی درخواست کی سماعت ہوئی۔ دونوں جانب کا مؤقف سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    18 مئی 2017: عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں پاکستان کو ہدایت دی کہ مقدمے کا حتمی فیصلہ آنے تک کلبھوشن جادھو کو پھانسی نہ دی جائے۔21 فروری 2019: عالمی عدالت انصاف میں فریقین کی جانب سے چار دن تک دلائل پیش کیے گئے جن کی تکمیل کے بعد عدالت نے اپنے فیصلے پر غور و خوض کرنا شروع کیا، جس کے بعد فیصلہ آج سنایا جائے گا۔

    کلبھوشن جادھو

    ،تصویر کا ذریعہISPR

  5. عالمی عدالتِ انصاف میں آج کلبھوشن جادھو کیس کا فیصلہ متوقع, عدالتی کارروائی مقامی وقت کے مطابق تین بجے شروع ہوگی

    کلبھوشن جادھو

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں جاری مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کے مقدمے کا فیصلہ آج متوقع ہے۔ پاکستانی وکلا کی ٹیم اٹارنی جنرل کی قیادت میں ہیگ پہنچ چکی ہے۔

    اپریل 2017 میں کلبھوشن جادھو کو پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کے الزامات میں ایک فوجی عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی۔ پاکستانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ انڈین جاسوس کا مقدمہ ایک فوجی عدالت یعنی فیلڈ جنرل کورٹ مارشل میں پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت چلایا گیا جس کے بعد انھیں سزائے موت سنائی گئی۔

    فوج کے بیان کے مطابق مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کو تین مارچ 2016 انسداد دہشت گردی کی ایک کارروائی کے دوران بلوچستان کے علاقے ماشخیل سے پاکستان کے خلاف جاسوسی اور سبوتاژ کی کارروائیوں میں ملوث ہونے پرگرفتار کیا گیا تھا۔