کلبھوشن جادھو کیس: ’پاکستان سزائے موت پر نظر ثانی کرے‘
عالمی عدالت انصاف دہشت گردی کے الزامات میں پاکستان کی فوجی عدالت سے موت کی سزا پانے والے مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو سے متعلق انڈیا کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان کو انھیں قونصلر رسائی دینے اور سزا پر نظرِثانی کرنے کا حکم دیا ہے۔
لائیو کوریج
شجاع ملک and عابد حسین
بریکنگ, پاکستان نے کلبھوشن جادھو کو آرٹیکل 36 کے تحت اس کے حقوق کے بارے میں بتایا نہیں: عدالت, پاکستان نے اس حوالے اپنی ذمہ داری مکمل نہیں کی: عدالت
بریکنگ, 2008 کے معاہدے کے تحت بھی قونصلر رسائی روکی نہیں جا سکتی: عدالت
عدالت کے مطابق انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک دوسرے کے شہریوں کی گرفتاریوں کے حوالے 2008 میں طے ہونے والے معاہدے کی شق 6 کے تحت قونصلر رسائی نہیں روکی جا سکتی

،تصویر کا ذریعہICJ
بریکنگ, آرٹیکل 36 میں جاسوسی کے الزام کی بنیاد پر قونصلر رسائی روکنے کی اجازت نہیں: عالمی عدالتِ انصاف
بریکنگ, عدالت نے انڈین اپیل کے قابلِ سماعت ہونے پر پاکستان کا دوسرا اعتراض بھی مسترد کر دیا, عدالت کا کہنا ہے کہ پاکستان نے جن الزامات کی بنیاد پر قونصلر رسائی روکی ہے ان کا واضح تعلق سامنے نہیں لایا گیا۔

،تصویر کا ذریعہICJ
بریکنگ, عدالت کو اس بات پر کوئی شک نہیں کہ کلبھوشن جادھو انڈین شہری ہے
عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ سماعت کے دوران فریقین نے کلبھوشن کو بطور انڈین شہری تصور کیا ہے اور پیش کردہ شواہد سے عدالت کو اس بات پر تسلی ہے کہ ہیش کردہ شواہد کی روشنی میں بغیر کسی شک و شبہہ کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ کلبھوشن جادھو ایک انڈین شہری ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی اپیل کے قابلِ سماعت ہونے پر تین پاکستانی اعتراضات تھے
انڈیا کی اپیل کے قابلِ سماعت ہونے پر پاکستان نے تین مرکزی اعتراضات اٹھائے تھے۔
ان میں عدالتی طریقہ کار کو غلط طریقے سے استمعال کرنا ہے اور یہ ہے کہ انڈیا نے ثالثی کرنے کے دیگر ذرائع استعمال نہیں کیے۔
عدالت نے انڈیا کا یےہ موقف مان لیا کہ ہم نے پاکستان کی جانب دیکھا کہ وہاں پر اپیل کی جائے اور معافی حاصل کی جائے۔عدالت کے مطابق دوسرے ذرائع استعمال کرنے کے حوالے سے پاکستان اعتراض اس لیے رد کر دیا کیونکہ وہ مشروط راستے ہیں۔ عدالت کے مطابق انڈیا پر ایسی کوئی پابندی نہیں تھی کہ وہ عالمی عدالت انصاف آنے سے قبل کسی اور ذریعے سے انصاف حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
بریکنگ, عدالت نے انڈیا کی طرف سے عدالتی قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی کے پاکستانی الزام کو مسترد کر دیا
عدالتی کارروائی لائیو دیکھیے!, عالمی عدالتِ انصاف کی ویب سائٹ پر کارروائی براہِ راست دکھائی جا رہی ہے
عالمی عدالتِ انصاف کی ویب سائٹ پر کارروائی براہِ راست دکھائی جا رہی ہے جو آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔
بریکنگ, تین ججز آج عدالتی کارروائی میں شامل نہیں ہو سکے, پینل کے سربراہ کو ججز نے غیر حاضری کی وجوہات بتائی تھیں
بریکنگ, کمرہ عدالت میں ججز پہنچ گئے
’عالمی عدالت کے فیصلے ماننے چاہیئیں‘
ماہرِ بین الاقوامی قانون احمر بلال صوفی نے نامہ نگار فریحت جاوید سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ذمہ دار ملک کو عالمی عدالت کے فیصلوں کو تسلیم کرنا چاہیےاور ان فیصلوں کو بائنڈنگ ماننا چاہیے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں کچھ ممالک نے عالمی عدالت کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کیا اور ایسے میں سکیورٹی کونسل اس ملک کی جانب سے فیصلہ تسلیم نہ کرنے کی وجوہات پر غور کرتی ہے۔
فیصلے کی توقعات کے بارے میں احمر بلال صوفی نے بتایا کہ اس حوالے حقیقی طور پر غیر واضح قانونی صورتحال ہے اسی لیے عالمی عدالت نے اس کیس میں دیگر ممالک کو بھی دعوت دی تھی کہ وہ اپنی رائے سے عدالت کو آگاہ کریں۔

،تصویر کا ذریعہICJ
- YouTube پوسٹ نظرانداز کریںGoogle YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
- X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس سے پہلے کیا پاکستان اور انڈیا عالمی عدالت میں آمنے سامنے آ چکے ہیں؟
آخری مرتبہ عالمی عدالت انصاف میں دونوں ملکوں کے درمیان سنہ 1999میں آمنا سامنا ہوا تھا جب پاکستان نے پاک بحریہ کے ایک جہاز کو نشانہ بنانے کا معاملہ بین الاقوامی عدالت میں اٹھایا تھا۔ اس واقعہ میں سولہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
بین الاقوامی عدالت نے دونوں ملکوں کا موقف سننے کے بعد یہ فیصلہ دیا تھا کہ وہ اس طرح کے معاملات میں مداخلت کرنے کی مجاز نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہICJ
’کلبھوشن جادھو کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہیں‘
اگست 2018 میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امید ظاہر کی تھی کہ پاکستان انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کے خلاف عالمی عدالتِ انصاف میں مقدمہ جیت لے گا کیونکہ ہمارے پاس کلبھوشن یادیو کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
’شق 36 میں جاسوسوں کے بارے میں استثنیٰ کی گنجائش ہو سکتی ہے‘
پاکستان کی طرف سے یہ موقف سامنے آیا کہ اس کیس کے حقائق دیکھتے ہوئے کلبھوشن کو سفارتی سروسز نہیں دینی چاہییں۔
’انڈیا "نان سینس" باتوں کی طرف عدالت کو متوجہ کرنا چاہتا ہے‘
پاکستان کی طرف سے وکیل خاور قریشی نے کہا کہ اگر شِق 36 کو جاسوسی کے زُمرے میں دیکھا جائے تو سفارتی مشاورت رد کرنے کا جواز بنتا ہے یعنی سفارت خانے تک ان کی رسائی روک سکتے ہیں۔
ساتھ ہی خاور قریشی نے موقف کی وضاحت کے لیے بین الاقوامی وکیلوں کی شِق 36 کے بارے میں آرا اور قانونی زاوئیے پیش کیے۔
خاور قریشی نے کہا کہ اوّل تو انڈیا نے پاکستان کے سوالات کا تحریری جواب نہیں دیا ہے اورانڈیا "نان سینس" باتوں کی طرف عدالت کو متوجہ کرکے پاکستان کی طرف سے کیے گئے سوالات کا جواب نہیں دینا چاہتا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
ویانا کنونشن کی شِق 39
انڈیا کا زیادہ تر زور ویانا کنونشن اور اس کی شِق 36 کی تشریح پر تھا۔
شِق 36 کسی ایک ملک کے شہری کو دوسرے ملک میں گرفتار ہونے کی صورت میں سفارتی مشاورت کی اجازت دیتی ہے۔ یعنی سفارت خانے کے حکام اس کو مل سکتے ہیں اور خط و خطابت بھی کرسکتے ہیں۔
انڈیا کا موقف یہ رہا ہے کہ کوئی بھی ملک ایسا کرنے کا پابند ہے کیونکہ یہ قانون سب کے لیے یکساں ہے اور اس کا جاسوس ہونے یا نہ ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ویانا کنونشن پر دونوں ملکوں نے اتفاق کرتے ہوئے دستخط کیے ہوئے ہیں۔
انڈیا نے اس بات پر بحث کی کہ پاکستان نے ان کی سفارتی مشاورت کی درخواست رد کر کے ویانا کنونشن 1963 کی نفی کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
’کونسلر رسائی نہیں دی گئی‘
انڈیا نے بین الاقوامی عدالتِ انصاف سے استدعا کی تھی کہ پاکستان میں جاسوسی کے الزام میں موت کی سزا پانے والے کلبھوشن جادھو کی سزا معاف کرنے کا حکم دیا جائے۔ ان کی اپیل میں یہ بات شامل تھی کہ پاکستان نے کلبھوشن جادھو کو کونسلر رسائی نہیں دی۔

،تصویر کا ذریعہEPA
