سات ہزار افراد کا قافلہ روک لیا گیا
گوجرانوالہ کے علاقے کامونکی سے صوبائی اسمبلی کے امیدوار چوہدری اختر علی خان کی قیادت میں نکلنے والے جلوس کو سادھوکی کے قریب روک لیا گیا ہے۔ مقامی پولیس کے مطابق اس جلوس میں شرکا کی تعداد سات ہزار سے زائد ہے۔
ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا پانے والے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی گرفتاری کے بعد ایک خصوصی طیارہ انھیں لاہور سے لے کر اسلام آباد پہنچ گیا اور وہاں سے انھیں طبی معائنے کے لیے اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ بی بی سی اردو کی لائیو کوریج۔
ذیشان حیدر، حسن زیدی، رضا ہمدانی ذیشان علی، حمیرا کنول
گوجرانوالہ کے علاقے کامونکی سے صوبائی اسمبلی کے امیدوار چوہدری اختر علی خان کی قیادت میں نکلنے والے جلوس کو سادھوکی کے قریب روک لیا گیا ہے۔ مقامی پولیس کے مطابق اس جلوس میں شرکا کی تعداد سات ہزار سے زائد ہے۔
نواز شریف نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’اگر نیب کی ٹیم مجھے ابو ظہبی سے گرفتار کرتی ہے یا لاہور سے میں اس کے لیے تیار ہوں۔‘
’گرفتار مجھے یہاں سے کرتے ہیں یا لاہور پہنچ کر کرتے ہیں، میں تیار ہوں۔ میں اپبی بیوی کو وہاں پر ایک تشویشناک حالت میں چھوڑ کر یہاں پہنچ گیا ہوں اور مجھے پتہ ہے کہ وہ مجھے سیدھا جیل میں لے کر جائیں گے۔ مریم کو بھی لے کر جائیں گے۔ اس سے آگے اور کیا بات ہو سکتی ہے۔ میں ملک و قوم کے لیے ڈٹ کر کھڑا ہوا ہوں اگر میری ذات کی بات ہوتی تو میں وہیں بیٹھا رہتا اور اپنا کوئی اور کام کرتا۔‘
ملک کے دیگر شہروں کی طرح پشاور سے بھی مسلم لیگ ن کا ایک قافلہ لاہور کی جانب روانہ ہوا ہے جس کی قیادت مسلم لیگ کے رہنما امیر مقام کر رہے ہیں۔ قافلے کی روانگی سے قبل بکرے کی قربانی بھی دی گئی۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا ذریعہafp

،تصویر کا ذریعہAFP

میاں نواز شریف نے صحافیوں کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو میں پیغام میں کہا کہ ’میں کسی مقصد کے لیے آرہا ہوں اور قوم کو اس مقصد کے بارے میں پتہ ہے اور میڈیا کو بھی گھبرانا نہیں چاہیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کو بھی تھوڑا سا سٹینڈ لینا چاہیے۔ میڈیا آگے بڑھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جو پنجاب میں صورتحال ہے کارکنوں کو پکڑا جا رہا ہے وہ صورتحال دوسرے صوبوں میں نہیں۔‘
’اگر آٹھ دس چینل ہی سٹینڈ لے لیں صرف پانچ ہی لیں لیں تو دیکھیں صورتحال تبدیل ہوتی ہے یا نہیں۔‘
سابق وفاقی وزیر دفاع خرم دستگیر کے قافلے کو بھی چن دا قلعہ بائی پاس کے قریب روک لیا گیا ہے۔
خرم دستگیر نے ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپنے لیڈر کا استقبال کرنا ان کا جمہوری حق ہے لیکن نگراں حکومت ایک منصوبے کے تحت اُنھیں اور ہزاروں کارکنوں کو روکا جارہا ہے۔
سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کا قافلہ جو سیالکوٹ سے چلا تھا اس کو ڈسکہ کے قریب روک دیا گیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین سینیٹر مصطفیٰ کھوکھر نے دعویٰ کیا ہے کہ بلاول بھٹو کے جہاز کو لاہور ایئرپورٹ سے اڑنے سے روک دیا گیا۔ بلاول بھٹو نے لاہور سے پشاور جانا تھا۔
’کچھ دیر پہلے عمران خان کا جہاز جانے دیا گیا۔ سول ایوی ایشن نے لاڈلے کو جانے دیا اور بلاول بھٹو کو روک دیا۔‘
بی بی سی کے سکندر کرمانی نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ نواز شریف کے ابوظہبی سے پرواز ای وائی 243 ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے لاہور پہنچے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ 20 صحافیوں کی موجودگی میں کئی اور مسافر اپنی ٹکٹیں منسوخ کر رہے ہیں۔
شہباز شریف نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ مسلم لیگ نواز کے سینکڑوں کارکنان کو غیر قانونی آپریشن میں حراست میں لیا گیا ہے۔ ’ہمارے کارکنان کو ایم پی او کے تحت 30 دن کے لیے نظربند کر دیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ یہ واضح دھاندلی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
صحافی منیزے جہانگیر نے مریم نواز کی تصویر ٹویٹ کی ہے جس میں لکھا ہے کہ مریم نواز ایئرپورٹ پر بوٹس سٹور سے پیناڈول اور دیگر اشیا خرید رہی ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

لاہور کے تاریخی دروازے لوہاری دروازے کے باہر سرکلر روڈ پر واقع مسلم مسجد تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔
قیام پاکستان سے پہلے یہ مسجد تحریک آزادی کا گڑھ بھی رہی تھی۔ اس مسجد کی تعمیر 1920 کی دہائی میں ہوئی۔ اس مسجد کا نام تحریک پاکستان کے سرگرم رکن مولانا محمد بخش مسلم کے نام سے منسوب ہے۔
سنہ 1925 میں اسی مقام پر انجمن خادم المسلمین کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جو اس مسجد کے سیاسی کردار و اہمیت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ سنہ 1962 میں لاہور نقش نمبر میں مسلم مسجد کے حوالے سے تحریر ہے کہ ’مولوی مسلم قیام پاکستان کے بعد پاکستان میں نفاذ اسلام کے لیے کام کرتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ سنہ1970 کی دہائی میں جب نفاذ اسلام اور نفاذ مصطفیٰ کی تحریک چلی تو سرکاری اہلکاروں کی جانب سے چلائی گئی گولی کا نشانہ بنے۔ معصوم طالب علموں کے خون کے چھینٹے سالہا سال اس مسجد کی دیواروں کا حصہ بنے رہے۔‘
ابتدائی طور پر اس مسجد کا رقبہ پانچ سو مربع فٹ سے زیادہ نہ تھا تاہم قیام پاکستان کے نمازیوں کی گنجائش کو مدنظر رکھتے ہوئے 1950 میں اس کا نیا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا اور سرخ اینٹوں سے اس کی تعمیر کی گئی جس میں روایتی مغل طرز تعمیر کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔
لاہور کی مال روڈ جو عام طور پر گاڑیوں سے بھری ہوئی ہوتی ہی، آج غیر معمولی طور پر خالی ہے اور صرف اکا دکا گاڑیاں سڑک پر نظر آرہی ہیں۔


اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ٹوئٹر پر صارف ہالا بی ملک نے لکھا ہے کہ لاہور کے متعدد علاقے جیسے شادمان، گلبرگ، ماڈل ٹاؤن ،گارڈن ٹاؤن اور ڈی ایچ اے میں موبائل سروس کام نہیں کر رہی ہے۔
صوبہ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف اپنے بھائی نوازشریف کے استقبال کے اظہار یکجہتی مارچ کی قیادت کے لیے اندرون شہر پہنچ گئے۔ شہباز شریف مسلم مسجد لوہاری سے اظہار یکجہتی مارچ کی قیادت کریں گے۔ شہبازشریف اندرون شہر کارکنوں کے ساتھ موجود ہیں۔

راولپنڈی شہر میں حلقہ این اے 60 اور این اے 62 میں ن لیگ کے مرکزی الیکشن دفاتر میں کوئی ورکرز موجود نہیں


،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان مسلم لیگ نواز کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز ابھی کچھ ہی دیر میں اپنے ورکرز کے قافلے کے ساتھ ائرپورٹ کی طرف روانہ ہونگے۔