40 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد کی خریداری کے لیے ٹیکس دہندہ ہونا لازمی ہو گا: مفتاح اسماعیل
مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا چھٹا بجٹ
پاکستان کے وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے قومی اسمبلی میں مالی سال 2018-19 کی بجٹ تجاویز پیش کر دی ہیں: بجٹ اجلاس پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج۔
لائیو کوریج
شیراز حسن، تابندہ کوکب، شجاع ملک
بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن کے نامنظور نامنظور کے نعرے
وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کی بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن اراکین نامنظور نامنظور کے نعرے لگا رہے ہیں
بریکنگ, وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 59 کھرب 32 ارب 50 کروڑ روپے ہے جو کہ گذشتہ بجٹ سے 16.2 % ہے۔
بریکنگ, تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس میں چھوٹ
- تنخواہ دار افراد کے لیے ٹیکس کی چھوٹ کی حد میں اضافہ کیا گیا ہے اور اب 12 لاکھ روپے سالانہ تک آمدن ٹیکس فری ہو گی۔
- 12 لاکھ سے 24 لاکھ روپے سالانہ کمانے والوں کو 12 لاکھ سے زیادہ آمدن پر پانچ فیصد ٹیکس دینا ہوگا
- 24 لاکھ سے 48 لاکھ روپے آمدن والوں کو 24 لاکھ سے زیادہ آمدن پر 10 فیصد ٹیکس دینا ہوگا
- 48 لاکھ سے زائد آمدن رکھنے والوں کو 15 فیصد ٹیکس کی ادائیگی کرنا ہوگی۔
آج نواز شریف کی اس اجلاس میں کمی محسوس کر رہے ہیں: مفتاح اسماعیل
بریکنگ,
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’آئندہ حکومت کے پاس مکمل اختیار ہو گا کہ جو فریم ورک اور بجٹ ہم نے دیا وہ اسے تبدیل کر سکیں۔‘
بریکنگ, بجٹ تقریر کا آغاز
وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اپوزیشن کے احتجاج کے بعد بجٹ تقریر کا آغاز کر دیا ہے اور ان کا کہنا تھا کہ اگلی حکومت کے پاس اختیار ہو گا کہ وہ اس بجٹ میں تبدیلیاں کر سکیں
بریکنگ, اپوزیشن بجٹ اجلاس سے احتجاجاً واک آوٹ کر گئی
بریکنگ, مفتاح اسماعیل کو وزیرِ خزانہ بنانا ستم ظریفی ہے: شاہ محمود قریشی
تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ کو قومی اقتصادی کونسل نے منظور نہیں کیا ہے جبکہ ایک غیر منتخب شخص کو وزیرِ خزانہ بنانا اور اس سے بجٹ پیش کروانا ستم ظریفی ہے
بریکنگ, ’حکومت کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ ایک سال کا بجٹ پیش کرے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اگر تین یا چار ماہ کا بجٹ پیش کرتی تو ان کی جماعت کو اعتراض نہ ہوتا لیکن حکومت اگلی حکومت کا حق چھین رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اخلاقی طور پر اس حکومت کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ ایک سال کا بجٹ پیش کرے۔
نامہ نگار سارہ حسن کے مطابق خورشید شاہ نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کا پنپنا اور اپنی مدت پوری کرنا خوش آئند ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ منتخب وزیر کو ہٹا کر ایک غیرمنتخب شخص کو بجٹ پیش کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رانا افضل کو بجٹ پیش کرنا چاہیے تھا۔
’جس حکومت کا ایک ماہ باقی ہو اسے بجٹ پیش کرنے کا حق نہیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- پاکستان کے ایوانِ بالا میں قائد حزب اختلاف شیری رحمان کا کہنا ہے کہ جس حکومت کا صرف ایک ماہ باقی ہے اسے کوئی حق نہیں کہ پورے سال کا بجٹ پیش کرے۔
- اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں بجٹ کے بارے میں اپوزیشن کی تمام پارلیمانی پارٹیوں سے مشاورت ہوگی۔
بجٹ کی کاپیاں اسمبلی پہنچ گئیں
قومی اسمبلی میں موجود بی بی سی اردو کی نامہ نگار سارہ حسن کے مطابق بجٹ کی کاپیاں اسمبلی پہنچا دی گئی ہیں۔ جہاں سے انہیں ٹرالی میں ڈال کر اندر لے جایا جا رہا ہے۔

بریکنگ, بجٹ کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس
قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے کو ہے جس میں آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ تجاویز پیش کی جائیں گی۔ پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ایوان میں موجود ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
بریکنگ, بجٹ تجاویز کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کا اجلاس
مالی سال 19-2018 کے بجٹ کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔ پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اس اجلاس کی صدارت جس میں آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ تجاویزکی منظوری دے دی گئی۔ اب یہ بجٹ دستاویز وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل پارلیمان میں پیش کریں گے۔
مہنگائی میں کمی
اقتصادی جائزے کے مطابق مہنگائی کی شرح 2013 میں 7.9 فیصد تھی جو اس سال تک کم ہو کر 3.8 فیصد تک رہ گئی ہے۔
آئندہ بجٹ میں گذشتہ سال کے مقابلے کیا مختلف ہوگا؟
اب سے کچھ دیر میں ملک کے وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل آئندہ مالی سال کا ترقیاتی بجٹ پیش کرنے والے ہیں۔ اس موقعے پر دیکھیں کہ گذشتہ سال حکومت نے کیسا بجٹ پیش کیا تھا؟
مسلم لیگ نواز کا چھٹا اور آخری بجٹ گذشتہ بجٹس سے مختلف کیسے ہے؟
پڑھیے ہماری نامہ نگار سارہ حسن کی تحریر: آخری بجٹ گذشتہ بجٹس سے مختلف کیسے ہے؟
’ بجٹ میں حکومت کسی قسم کے نئے منصوبے متعارف نہیں کروائے گی‘
یہ انٹرویو پڑھنے کے لیے اوپر دیے گئے لنک پر کلک کریں
خسارے پر قابو پانے میں ناکامی
اقتصادی سروے کے مطابق مالیاتی خسارے کو حکومت قابو میں نہیں رکھ سکی اور اس دوران جاری خسارہ دو برس میں دوگنا بڑھا۔
اقتصادی ترقی کی شرح 13 برس میں سب سے زیادہ
اس سال اقتصادی ترقی کی شرح 5.79 فیصد رہی ہے جو گذشتہ 13 برس میں سب سے زیادہ ہے۔
اقتصادی جائزے کے مطابق زراعت کے شعبے نے 3.8 فیصد مینوفیکچرنگ کے شعبے نے 5.8 فیصد، سروسز کے شعبے نے 6.4 فیصد اور بڑی صنعتوں نے 6.25 فیصد کی شرح سے سے ترقی کی۔
