نواز شریف کا قافلہ گجرانوالہ سے لاہور کے لیے روانہ ہوگیا


نواز شریف نے لاہور واپسی کے سفر کے دوران گجرات، گوجرانوالہ اور مریدکے میں خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر عدلیہ کی جانب سے وزارتِ عظمیٰ سے اپنی نااہلی کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔


نواز شریف کی ریلی میں شامل جمیل بن کا کہنا ہے کہ اگر ایسے ہی حربے استعمال ہوتے رہے تو نواز شریف پہلے سے بھی زیادہ ووٹ لے کر آئیں گے۔
نامہ نگار ذیشان ظفر نے بتایا کہ سنیچر کے روز میاں نواز شریف کے لیے ناشتے میں گجرانوالہ کے روایتی پکوان جن میں نہاری اور پائے شامل ہیں، پیش کیے گئے تاہم میاں نواز شریف نے انتہائی سادہ ناشتہ کیا اور ان کھانوں کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ اس کے علاوہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے گجرانوالہ میں مقامی لیگی رہنمائوں سے طویل ملاقاتیں بھی کیں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
سابق وزیراعظم نواز شریف اس وقت گجرانوالہ بائی پاس کے قریب مسلم لیگ ن کے مقامی لیڈر باؤ آصف اور باؤ جاوید کی مشترکہ رہائش گاہ میں موجود ہیں اور کچھ ہی دیر میں ان کی لاہور کی جانب روانگی متوقع ہے۔ اس وقت اس مکان کے باہر سکیورٹی کی گاڑیاں کافی تعداد میں ہیں اور کارکنان کو اس رہائش گاہ میں آنے نہیں دیا جا رہا۔ اس مکان سے تقریباً 200 سے 300 گز دور ایک استقبالی کیمپ ہے جہاں بڑی تعداد میں لیگی کارکن موجود ہیں۔

گجرات میں جلسہ عام سے مختصر خطاب کے بعد گوجرانوالہ میں بھی میاں نواز شریف نے ایک مختصر خطاب کیا۔ مسلم لیگ ن کے حامیوں کی بڑی تعداد وہاں موجود تھی۔ اطلاعات کے مطابق آج شب نواز شریف اسی شہر جو کہ مسلم لیگ ن کا حلقہ بھی ہے میں قیام کریں گے اور کل لاہور پہنچیں گے۔

14 سالہ بچے کی ہلاکت کے بارے میں بات کرتے ہوئے نواز شریف نے اپنی تقریر کے اختتام میں کہا کہ وہ جاں بحق کارکن کے گھر جائیں گے اور جو ہو سکا مدد کریں گے۔
مقامی سطح پر ملنے والی اطلاعات کے مطابق 14 سالہ حامد میاں نواز شریف کے پروٹول میں شامل ایک گاڑی سے ٹکرا کر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا تھا۔ تاہم پنجاب کے وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ نے اپنے میڈیا بیان میں اس کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ بچے کی ہلاکت پروٹوکول کی گاڑی سے ٹکرانے سے نہیں ہوئی جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعے کی جامع تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر صارفین کی ایک بڑی تعداد مبینہ طور پر سابق وزیراعظم کے پروٹوکول میں شامل ایک گاڑی سے ٹکرانے پر بچے کی ہلاکت پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔
نواز شریف نے کہا کہ ان کے خلاف ساڑھے تین سال سے سازشیں ہو رہی ہیں اور آج انھیں وزارت عظمی سے بڑی رسوائی سے نکالا گیا ہے۔
انھوں نے ایک بار پھر پاناما لیکس کے فیصلے پر سوال اٹھایا کہ نواز شریف نے پاکستان سے کونسی عذاری کی، کویی کرپشن ثابت تو کرو۔ نواز شریف کو کیوں نکالا گیا۔
میاں نواز شریف نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک ترقی کر رہا تھا لوڈشیڈنگ ختم ہو رہی تھی امن قائم ہو رہا تھا تو ملک میں دھرنے شروع ہو گئے۔
سابق وزیراعظم نے گوجرانوالہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقے کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ جب ججوں کی بحالی کے لیے وہ لانگ مارچ کر رہے تھے تو جب لاہور سے گوجرانوالہ پہنچے تو اطلاع ملی تھی کہ معزول ججوں کو بحال کر دیا گیا ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پاکستان میں ٹاپ ٹرینڈز میں ایک سوال یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ نااہل وزیراعظم سڑکوں پر کیوں نکل کر آئے ہیں۔
سابق وزیراعظم گوجرانوالہ میں مسلم لیگ ن کے حامیوں سے خطاب کے لیے جلسہ گاہ پہنچ گئے ہیں۔



وفاقی وزیر دفاع خرم دستگیر جو کہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر گوجرانوالا سے ایم این اے منتخب ہوئے اپنے حلقے میں میاں نواز شریف کی آمد کے موقع پر جلسہ گاہ میں موجود ہیں اور کارکنان سے خطاب کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ میرا وزیراعظم نواز شریف ہے۔

پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا قافلہ گوجرانوالہ پہنچ گیا ہے۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق نواز شریف گوجنرانوالہ میں بھی کارکنوں سے خطاب کریں گے۔
حکومتِ پنجاب کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے گجرات میں پیش آنے والے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے اور اس واقعے کی جامع تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے۔
گجرات میں مبینہ طور پر سابق وزیراعظم کے سکواڈ میں شامل گاڑی سے ٹکرانے کے نتیجے میں بچے کی ہلاکت ہوئی۔
بی بی سی کے وجدان ڈار نے گجرات میں نواز شریف کے خطاب سے قبل جلسہ گاہ پہنچنے کے وقت چند مناظر فلمبند کیے۔