سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جے آئی ٹی نے خود ہی نتیجہ نکال لیا کہ حمد بن جاسم الثانی کے انٹرویو کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات مکمل کیے بغیر یہ نتیجہ کیسے اخذ کیا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاناما کیس سے متعلق جے آئی ٹی کی رپورٹ پر سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید نے کہا ہے کہ بادی النظر میں عدالت میں جعلی دستاویزات پیش کی گئیں اور اس جعلسازی کے بارے میں قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جے آئی ٹی نے خود ہی نتیجہ نکال لیا کہ حمد بن جاسم الثانی کے انٹرویو کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات مکمل کیے بغیر یہ نتیجہ کیسے اخذ کیا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم کورٹ نے سماعت کے دوبارہ آغاز کے بعد قطری خط اور برٹش ورجن آئی لینڈ کی دستاویزات کو کھول دیا ہے اور فریقین سے کہا ہے کہ وہ رجسٹرار آفس سے یہ دستاویزات حاصل کر سکتے ہیں۔
سپریم کورٹ کے تین رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے
سماعت میں وقفے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما دانیال عزیز نے کہا ہے کہ مخالف فریق چاہتے ہیں کہ پاناما کیس ٹرائل کورٹ میں چلا جائے۔
دانیال عزیز نے بتایا کہ لندن فلیٹس سے فریق نمبر ایک (وزیراعظم) کا کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں فریق نمبر چھ سات اور آٹھ ( وزیراعظم کے بچے مریم نواز، حسن نواز، حسین نواز) پر بھی کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ سب سے بڑا جرم قوم کو بے وقوف سمجھنا ہے اور یہ سمجھنا کہ وہ ہر وقت پوری قوم کو بے وقوف بنا سکتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ ہے منی لانڈرنگ، کرپشن کے علاوہ شریف خاندان کا ایک اور جرم سامنے آرہا ہے کہ سپریم کورٹ میں انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے جعلی دستاویزات پیش کرنا ہے۔
فی الوقت سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران وقفہ ہے اور وقفے کے بعد بھی سلمان اکرم راجہ کے دلائل جاری رہیں گے
جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ 1993 میں بچوں کی عمریں دیکھیں تو لگتا ہے کہ وہ فلیٹ نہیں خرید سکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر آمدن کے ذرائع ثابت ہو گئے تو بچے اور وزیراعظم بچ جائیں گے تاہم اگر بچے لندن کے فلیٹ خریدنے کے لیے دی گئی رقم کا ذریعہ ثابت نہ کر سکے تو اس کے نتائج پبلک آفس ہولڈر(وزیراعظم نوازشریف) پر مرتب ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ الزام یہ ہے کہ فلیٹس وزیراعظم نے خریدے اور درخواست گزار کہتے ہیں کہ وزیراعظم اس کے لیے استعمال شدہ رقم کا ذریعہ بتائیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ مونزیک فونسیکا کے مطابق ان فلیٹس کی مالک مریم نواز ہیں اگر ایسا ہے تو ہم دیکھیں گے کہ ان کے پاس فنڈز کہاں سے آئے۔
اس موقع پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم پر الزام کیا ہے، ہر کوئی اپنے مطلب کی بات نکالتا ہے۔
سلمان اکرام راجہ نے ان الزامات کو بھی مسترد کیا کہ لندن کے فلیٹس 1993 اور 1995 کے درمیان خریدے گئے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ الزام تو یہ بھی ہے کہ یہ فلیٹس آف شور کمپنیوں کے ذریعے خریدے گئے ہیں۔
بینچ کے سربراہ اعجاز افضل نے کہا کہ الزامات یہ بھی ہیں کہ جس وقت یہ فلیٹس خریدے گئے اس وقت حسن اور حسین نواز کی مالی حالت اچھی نہیں تھی اور درخواست گزار یہ بھی کہتے ہیں کہ وزیراعظم نے یہ پیسے ادا کیے ہیں۔
جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ہم نے جو آپ سے سوال پوچھنے ہیں کیا پہلے اخبار میں اشتہار دیں پھر آپ جواب دیں گے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ کیا آپ کے موکل کے پاس مختارنامہ ہے کہ دو حصہ داروں کی رقم ادا کر دی گئی ہے۔
سلمان اکرم راجہ کا جواب تھا کہ اتنا عرصہ گزرنے کے بعد اگر کوئی عدالت میں نہیں گیا تو بادی النظر میں یہ بات طے ہے کہ ادائیگیاں کر دی گئی ہوں گی۔ اگر یہ حصہ دار چاہیں تو عدالت میں اپنا موقف دے سکتے ہیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وہ ڈاکومنٹس دکھائیں کہ جن میں باقی دو حصے داروں کے شیئرز حسین نواز نے خرید لیے ہیں۔ سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ 65 ملین حسین نواز کو ملے اور وہ اسے استعمال کرنے کے مجاز تھے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے سلمان اکرام راجہ سے سوال کیا کہ وہ دستاویزات دکھائیں کہ آپ نے باقی دو حصے داروں کی ادائیگیاں بھی کر دی ہیں۔
اس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ دستاویزات جیب میں موجود نہیں کہ نکال کر دکھا دوں۔
ان کے اس جواب پر جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے کے لیے ہی جے آئی ٹی بنائی گئی تھی۔
بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عزیزیہ مل کے واجبات کسی خفیہ شخص نے ادا کیے ہیں۔
اس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں معلوم کروں گا کہ یہ واجبات کس نے ادا کیے ہیں۔
بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ حتمی نہیں ہے۔جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ ہم یہ لکھ کر دے دیتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ جے آئی ٹی کی فائنڈنگز پر نہیں کرنا۔
جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ جو دستاویزات آپ دکھا رہے ہیں وہ نجی دستاویزات ہیں اور ان میں آپ یہ بھی لکھوا سکتے ہیں یہ مشینری ٹائٹینک کے ذریعے جدہ بھجوائی گئی۔ جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ کیا یہ درست نہیں ہے کہ عزیزیہ سٹیل مل کے واجبات 21 ملین تھے جبکہ 53 ملین حسین نواز کو دیے گئے۔
اس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے اپنی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حسین نواز کو 63 ملین کے بجائے 42 ملین ملے اور 63 ملین کی رقم عزیزیہ سٹیل مل کے اکاؤنٹ میں موجود ہے۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ جو دستاویزات پیش کی گئی ہیں ان میں حسین نواز کے بارے میں یو اے ای کے محکمہ انصاف نے غلط بیانی کی اس لیے ہم محکمہ انصاف کے خلاف قانونی کارروائی کا حق رکھتے ہیں۔
اس پر جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ عدالت اس وقت تک آپ کے جواب کا انتظار کرے جب تک آپ یو اے ای کے محکمہ انصاف کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کر لیتے۔
جواب میں سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ مقدمے کی کارروائی آگے بڑھانے کے لیے ایسا کرنا ناگزیر ہے۔

،تصویر کا ذریعہSALMAN AKRAM RAJA
جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ جو دستاویزات آپ آج دے رہے ہیں وہ پہلے کیوں نہیں دیں، جب بھی کوئی سوال اٹھایا جاتا ہے تو آپ کوئی نہ کوئی دستاویزات لے کر آجاتے ہیں۔