جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں: کب کیا ہوا؟

وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے خلاف پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی حتمی رپورٹ وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے خلاف قومی احتساب بیورو میں ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, 59 اجلاس، 23 افراد سے تفتیش

    اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے چھ مئی کو کام شروع کیا اور دو ماہ کے عرصے میں اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے 59 اجلاس منعقد ہوئے اور اس دوران اس نے وزیراعظم پاکستان نواز شریف اور ان کے اہلخانہ سمیت 23 افراد سے تفتیش کی۔

    وزیراعظم نواز شریف کے بڑے بیٹے حسین نواز شریف سب سے زیادہ چھ مرتبہ فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے۔

  2. جے آئی ٹی اور نگران بینچ کی تشکیل

    تین مئی کو سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کی نگرانی کے لیے تین رکنی خصوصی بینچ تشکیل دے دیا جو جسٹس اعجاز افضل، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تھا۔ یہ وہی تینوں جج ہیں جنھوں نے پاناما لیکس کے فیصلے میں مزید تحقیقات کرنے کے لیے کہا تھا۔

    پانچ مئی کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم جس کی سربراہی ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا کو سونپی گئی جبکہ اس کے ارکان میں قومی احتساب بیورو کے افسر عرفان نعیم منگی، سکیورٹی اینڈ سٹاک ایکسچینج کمیشن کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر بلال رسول، سٹیٹ بینک میں تعینات افسر عامر عزیز شامل تھے۔

    ان کے علاوہ فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر نعمان سعید اور ملٹری انٹیلیجنس کے بریگیڈیئر کامران خورشید بھی اس تحقیقاتی ٹیم کا حصہ بنے۔