بریکنگ, ’فیصلہ عوام کے حق میں آئے گا‘
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم یہ نہیں جانتے کہ جے آئی ٹی میں کیا ہوا لیکن فیصلہ عوام کے حق میں آئے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے خلاف پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی حتمی رپورٹ وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے خلاف قومی احتساب بیورو میں ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم یہ نہیں جانتے کہ جے آئی ٹی میں کیا ہوا لیکن فیصلہ عوام کے حق میں آئے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کی سپریم کورٹ کے تین رکنی خصوصی بینچ کے سامنے دن ایک بجے سماعت کا آغاز ہوگا جس میں پاناما لیکس کے معاملے میں حتمی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی جائے گی۔ سپریم کورٹ کا یہ بینچ جسٹس اعجاز افضل، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل ہے۔
جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا اور دیگر ارکان جوڈیشل اکیڈمی پہنچ گئے ہیں جہاں سے وہ سپریم کورٹ جائیں گے جہاں یہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اپنی حتمی رپورٹ عدالتِ عظمیٰ میں جمع کروائے گی۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کے وقت ٹیم آج اپنی چوتھی اور حتمی رپورٹ سپریم کورٹ کی بینچ کے سامنے پیش کرے گی۔ اس موقع پر ریڈ زون کی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ کوئی رہنما اب تک سپریم کورٹ نہیں پہنچے۔
مریم نواز کی ٹویٹ کے جواب میں سماجی کارکن جبران ناصر نے جواب میں ٹویٹ کی ’بہادری کا تعلق جنس سے نہیں حق سے ہوتا ہے۔‘
یاد رہے کہ مریم نواز نے اس سے قبل ٹویٹ کی تھی کہ ’وہ مرد نہیں جو ڈر جائے۔۔۔‘
عدالت نے اس چھ رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو جن سوالات کا جواب تلاش کرنے کا حکم دیا وہ کچھ یوں تھے۔
مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کے وقت ٹیم کو ہر 15 روز بعد اپنی کارکردگی کی رپورٹ بینچ کے سامنے پیش کریں۔ اس سے قبل جے آئی ٹی تین رپورٹس پیش کر چکی ہے جبکہ آج پیش کی جانے والی رپورٹ چوتھی اور آخری رپورٹ ہے۔
مریم نواز نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’وہ مرد نہیں جو ڈر جائے ۔۔۔‘
پاناما لیکس کے معاملے کی تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اپنی رپورٹ آج سپریم کورٹ میں جمع کروا رہی ہے۔ اس ٹیم کی تشکیل کا حکم پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے 20 اپریل کو سنائے گئے فیصلے میں دیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا ذریعہAFP
وزیرِاعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے پاناما معاملے کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے بعد کہا ہے کہ اس تحقیقاتی ٹیم کے ارکان بھی نہیں جانتے کہ ان پر کیا الزامات ہیں۔
ان کا کہنا تھا جے آئی ٹی کی تحقیقات کا محور ان کے خاندان کا دہائیوں قبل کا کاروبار ہے اور 'پاکستان کے تمام ہی بڑے بڑے منصوبوں پر مسلم لیگ نواز کی مہر ہے مگر ان تمام منصوبوں میں ایک پائی کی بدعنوانی کا الزام نہیں لگا۔
'رہی بات خاندانی کاروبار کی۔ ساٹھ یا ستر ، اسی کی دہائی میں خاندان کے کاروبار سے متعلق سوال ہو رہے ہیں۔ اس میں اگر عوامی پیسہ شامل ہو تو اس کا جواب دینا بنتا ہے۔ لیکن ذاتی کاروبار پر نہ تو سوال کیا جا سکتا ہے اور نہ اس کا جواب دینا ضروری ہے۔ '

،تصویر کا ذریعہPID
دو ماہ پر محیط اس تحقیقاتی عمل کے دوران جہاں آغاز میں پاکستان مسلم لیگ کے رہنماؤں کی جانب سے تحقیقات میں تعاون کرنے اور 'سرخرو' ہونے کے بارے میں بیانات سامنے آتے رہے وہیں اختتامی ہفتوں میں ان بیانات کا لہجہ سخت اور تلخ ہوتا گیا۔
پہلےوزیراعظم پاکستان نے لندن میں صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ احتساب کے نام پر تماشا ہو رہا ہے اور ان کے ذاتی کاروبار کو کھنگالا جا رہا ہے۔نواز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'قوم کسی اور طرف جا رہی ہے جے آئی ٹی کسی اور طرف جا رہی ہے اور جے آئی ٹی کے سامنے ایسے لوگ پیش ہو رہے ہیں جو ہمارے بدترین دشمن ہیں۔'
انھوں نے یہ بھی کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو ان کے خلاف الزام کی حد تک بھی کچھ نہیں ملا۔
اور پھر جب وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار تین جولائی کو پیشی کے بعد باہر نکلے تو صحافیوں سے بات چیت میں ان کے لہجے میں غصہ عیاں تھا اور انھوں نے اپوزیشن رہنما اور تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان پر شدید تنقید کرتے ہوئے انھیں جھوٹا اور جواری قرار دیا۔
اس کے بعد رپورٹسپریم کورٹ میں جعع کرانے سے صرف دو دن پہلے آٹھ جولائی کو پاکستان مسلم لیگ نون کے وزیر دفاعاور پانی اور بجلی، خواجہ آصف نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ان کی جماعت سپریم کورٹ کے جانب سے قائم کی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ کو اس وقت تک تسلیم نہیں کرے گی جب تک قطر کے سابق وزیر اعظم، شہزادہ حمد بن جاسم الثانی کو تفتیش کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کی پیشی 27 جون کو ہوئی جبکہ ان کی اہلیہ مریم نواز اس تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے والیی شریف خاندان کی آخری رکن تھیں جو پانچ جولائی کو جے آئی ٹی کے سامنے بیان دینے گئیں۔
خیال رہے کہ جے آئی ٹی نے مریم نواز کو بطور گواہ طلب کیا تھا کیونکہ سپریم کورٹ نے جن افراد کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا تھا ان میں مریم کا نام شامل نہیں تھا۔
ان اہم شخصیات کے علاوہ وزیرِاعظم کے رشتہ دار طارق شفیع دو مرتبہ جبکہ نیشنل بینک کے صدر سعید احمد، سابق وزیرِ داخلہ رحمان ملک، ایس ای سی پی کے سربراہ ظفر حجازی اور قومی احتساب بیورو کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل(ر) امجد شعیب اور موجودہ سربراہ قمر زمان چوہدری ایک ایک بار جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔
قطر کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے شہزادہ حمد بن جاسم کو دو مرتبہ ٹیم کے سامنے پیش ہونے کے لیے بلایا تاہم انھوں نے پاکستان آ کر یا قطر میں پاکستانی سفارتخانے میں جا کر بیان دینے سے معذرت کی۔
تاہم ان کی جانب سے یہ پیشکش کی گئی کہ جے آئی ٹی کے ارکان قطر میں ان کی رہائش گاہ پر آ کر بیان لے سکتے ہیں۔
اس پیشکش کے بعد چار جولائی کو یہ خبر سامنے آئی کہ تحقیقاتی ٹیم کے دو ارکان عرفان نعیم منگی اور بریگیڈیئر کامران خورشید قطر گئے ہیں تاہم اس اطلاع کی نہ تو سرکاری سطح اور نہ ہی قطری شہزادے کی جانب سے کوئی تصدیق کی گئی کہ انھوں نے ان افراد سے ملاقات کی یا ان کے سامنے بیان دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان مسلم لیگ نون کے وزیر دفاع اور پانی اور بجلی، خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ان کی جماعت سپریم کورٹ کے جانب سے قائم کی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ کو اس وقت تک تسلیم نہیں کرے گی جب تک قطر کے سابق وزیر اعظم، شہزادہ حمد بن جاسم الثانی کو تفتیش کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق سنیچر کو اسلام آباد میں خواجہ آصف کے علاوہ وزیر برائے پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی، وزیر ریلوے سعد رفیق اور وزیر برائے پلاننگ احسن اقبال مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران پاناما پیپرز کی تحقیقات پر تخفظات کا اظہار کیا۔
پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انھیں جھوٹا اور جواری قرار دے دیا۔
اسحاق ڈار پیرکو پاکستان کی سپریم کورٹ کے حکم پر پاناما دستاویزات کے معاملے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے۔
اسحاق ڈار کی جانب سے اس بات کی تردید کی گئی کہ انھیں اس سے پہلے کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔
نواز شریف کے سمدھی اور ملک کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار تین جولائی کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمے میںاسحاق ڈار کو سب سے اہم گواہ سمجھا جاتا تھا لیکن جے آئی ٹی کے ارکان نے انھیں زیادہ انتظار بھی نہیں کروایا اور ان سے صرف ایک گھنٹے سے بھی کم پوچھ گچھ کی گئی۔
اسحاق ڈار سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف درج ہونے والے حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں وعدہ معاف گواہ بنے تھے۔
اپنے اس اعترافی بیان میں اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ وہ شریف خاندان کے لیے منی لانڈرنگ کرتے تھے تاہم جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے بعد انھوں نے کہا کہ یہ بیان انھوں نے اپنے ہاتھ سے نہیں لکھا تھا۔
1960 کی دہائی تک ایک عام پاکستانی کے نزدیک سعودی عرب کا تعارف مقاماتِ مقدسہ کے نگہبان ملک کا تھا۔ لوگ باگ ریاض سے واقف نہ تھے بس مکہ اور مدینہ جانتے تھے۔
متحدہ عرب امارات ، قطر ، کویت اور بحرین جیسے ناموں سے اس زمانے کا کوئی پڑھا لکھا پاکستانی واقف ہو تو ہو البتہ ایران اور ترکی کے ساتھ ثقافتی و تاریخی رشتوں کا خوب سرکاری و غیر سرکاری چرچا رہتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہAFP
وزیراعظم نواز شریف کو جے آئی ٹی نے 15 جون کو طلب کیا اور جب وہ پیش ہوئے تو ان سے تین گھنٹے سے زیادہ عرصے تک سوالات کیے گئے۔
اس پیشی کے بعد نواز شریف نے باہر آ کر صحافیوں کے سامنے ایک تحریر شدہ بیان بھی پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا تھا کہ'وہ زمانہ گیا جب سب کچھ پردوں کے پیچھے چھپا رہتا تھا اور اب کٹھ پتلیوں کے کھیل نہیں کھیلے جا سکتے۔'
نواز شریف کے بعد ان کے بھائی اور وزیرِ اعلیٰ پنجابشہباز شریف کی باری آئی جنھیں 17 جون کو طلب کیا گیا اور ان سے بھی کئی گھنٹے تک سوالات کیے جاتے رہے۔
پہلی پیشی سے قبل پاکستان مسلم لیگ نواز نےتحقیقاتی ٹیم کے دو ارکان بلال رسول اور عامر عزیز پر اپنے تحفظات کا اظہار کیاتاہم 30 مئی کو تحقیقات کی نگرانی کرنے والے بینچ نے یہ اعتراضات مسترد کر دیے۔
تین جون کوحسین نواز کی پیشی کے بعد ان سے تفتیش کے عمل کی ایک تصویر بھی منظرِعام پر آئی جس پر سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی سے جواب طلب کیااور تحقیقاتی ٹیم نے عدالت کو تصویر لیک کرنے والے شخص کا نام تو نہیں بتایا البتہ یہ ضرور کہا کہ اس شخص کی نشاندہی کے بعد اسے اس کے ادارے میں واپس بھیج دیا گیا ہے۔
حسن نواز دو ماہ کے عرصے میں تین مرتبہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ حسین کے علاوہ وزیراعظم نواز شریف کے چھوٹے بیٹے حسن نواز بھی دو ماہ کے عرصے میں تین مرتبہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔