
پاناما کیس: سپریم کورٹ کا مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا حکم
پاناما دستاویزات کے بارے میں پاکستانی وزیراعظم نواز شریف سمیت چھ افراد کی نااہلی سے متعلق درخواستوں پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج۔
لائیو کوریج

،تصویر کا کیپشنسپریم کورٹ کے باہر سکیورٹی سخت ہے اور بڑی تعداد میں پولیس اہلکار موجود ہیں۔ بریکنگ, ’عوامی حمایت‘ دیکھ کر مریم حیران اور شکرگزار
وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی اور پاناما کیس کی ایک مدعا الیہ مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ فیصلہ جو بھی ہو وہ نواز شریف کے لیے حمایت دیکھ کر حیران اور شکرگزار ہوں۔ کسی رہنما کے لیے یہی سب سے بڑا اثاثہ ہے
بریکنگ, ’آج کے فیصلے سے سیاست کے رخ کا تعین ہو گا‘
پاناما کیس کا فیصلہ آج دوپہر دو بجے سنایا جا رہا ہے جس کے لیے سیاسی رہنما سپریم کورٹ پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق نے کہا ’سپریم کورٹ کا فیصلہ پاکستان تحریک انصاف کو منظور ہو گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ آج کے فیصلے سے سیاست کے رخ کا تعین ہو گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ فیصلہ جو بھی ہو بدعنوانی کے خاتمے کے لیے پی ٹی آئی کے جدوجہد جاری رہے گی۔
سیاسی جماعتیں سر جوڑ کر بیٹھ گئیں
پارک لین کے فلیٹس کب خریدے گئے، کب بِکے
’ہمارے لیے نیب وفات پا گیا‘
بریکنگ, پاناما کیس کی کہانی: خصوصی ضمیمہ
پانامہ مقدمے میں فیصلے کے بعد کی صورتحال میں غیر یقینی کے پیش نظر اسلام آباد کے بعض سکولوں میں چھٹی دے دی گئی ہے۔
سکول انتظامیہ نے اپنے طلبا کے والدین کو بھیجے گئے پیغامات میں کہا ہے کہ اسلام آباد میں عدالت عظمیٰ میں ہونے والے مقدمے کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی ممکنہ غیر یقینی صورتحال کے باعث اسکول کو وقت سے پہلے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس لیے اپنے بچوں کو پونے ایک بجے سکول سے لے لیں۔
/5.0 �m<�1�
کورٹ روم ون دپہر دو بجے
پاکستان کی سپریم کورٹ کے مطابق پاناما دستاویزات کے بارے میں وزیراعظم نواز شریف سمیت چھ افراد کی نااہلی سے متعلق درخواستوں پر 23 فروری کو محفوظ کیا جانے والا فیصلہ جمعرات یعنی آج دوپہر دو بجے کورٹ روم نمبر ایک میں سنایا جائے گا۔
23 فروری کو ان درخواستوں کی سماعت کی تکمیل پر عدالت نے مختصر فیصلہ جاری نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایسا مقدمہ نہیں جس کا مختصر فیصلہ سنایا جائے۔
سماعت مکمل ہونے کے بعد بینچ کے سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدالت آئین اور قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے ان درخواستوں پر فیصلہ دے گی اور اس بات سے عدالت کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ملک کے کروڑوں لوگ ان کے فیصلے سے خوش ہوتے ہیں یا نہ خوش۔
گذشتہ سال پاناما پیپرز کے نام سے شائع ہونے والی دستاویزات میں پاکستانی وزیراعظم کے اہل خانہ کا نام سامنے آتے ہی تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے شریف خاندان پر بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے انھیں اقتدار سے الگ کرنے کے لیے مہم کا آغاز کیا تھا۔
اسی سلسلے میں انہوں نے سپریم کورٹ میں وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے لیے درخواست دائر کی تھی۔
26 صفحات پر مشتمل اس درخواست میں وزیراعظم نواز شریف اور ان کے تینوں بچوں سمیت کل دس افراد کو فریق بنایا گیا تھا۔
’آخری گیند‘

،تصویر کا ذریعہAFP
سماعت کے اختتام پر اس مقدمے کے مرکزی درخواست گزار پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ انھوں نے ’آخری گیند‘ تک ملک میں انصاف کے لیے اور کرپشن کے خلاف کوشش کی ہے اور اب کامیابی کے لیے خدا سے دعاگو ہیں۔
’ایسا مقدمہ نہیں جس کا مختصر فیصلہ سنایا جائے‘
پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاناما دستاویزات کے بارے میں وزیراعظم نواز شریف سمیت چھ افراد کی نااہلی سے متعلق درخواستوں کی سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
عدالت کا کہنا ہے کہ یہ ایسا مقدمہ نہیں جس کا مختصر فیصلہ سنایا جائے۔
فیصلہ محفوظ
سپریم کورٹ نے 23 فروری کو پاناما کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جج بیماری سے واپس
فروری کے آغاز میں مقدمے کی سماعت بینچ کے رکن جسٹس عظمت سعید کی طبعیت اچانک ناساز ہونے پر دو ہفتے تک ملتوی رہی اور 15 فروری سے یہ مقدمہ دوبارہ سنا گیا اور موضوعِ بحث حدیبیہ پیپرز مل سے متعلق معلومات ہی رہیں۔
21 فروری کی سماعت میں نیب کے سربراہ نے کہا ہے کہ وہ حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر نہ کرنے کے فیصلے پر قائم ہیں جبکہ بینچ کے سربراہ نے دورانِ سماعت اس امید کا اظہار کیا کہ اگلے دو روز میں ان درخواستوں کی سماعت مکمل ہو جائے گی۔
اسحاق ڈار کی وضاحت اور سعد رفیق کی کھلی کتاب
عدالت نے آئندہ سماعت میں قومی احتساب بیورو سے اس اجلاس کی کارروائی کی تفصیلات مانگ لیں جس میں حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
تاہم سماعت کے بعد اسحٰق ڈار نے وضاحت جاری کی کہ نواز شریف کے مالی معاملات کے بارے میں ان سے بیان دباؤ کے تحت لیا گیا تھا۔
اگلی سماعت میں نیب کے اجلاس کی رپورٹ پیش کر دی گئی تاہم اس سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے ریمارکس میں وفاقی وزیرِ ریلوے خواجہ سعد رفیق کا نام لیے بغیر کہا کہ ایک رکن پارلیمان نے عوامی جلسے میں اُن ریمارکس پر عدالت کو ڈانٹا جن میں کہا گیا تھا کہ 'وزیر اعظم نے خود کہا تھا کہ اُن کی زندگی ایک کھلی کتاب ہے لیکن اس کتاب کے کچھ صفحے مسنگ ہیں۔'
قطری شہزادے کا ایک اور خط
26 جنوری کی سماعت میں ایک پھر وزیر اعظم کے صاحبزادے حسین نواز کے وکیل کی جانب سے قطری شہزادے کا ایک نیا خط سامنے آیا جس میں شیخ حماد بن جاسم بن جابر الثانی نے کہا کہ وزیر اعظم کے والد میاں شریف نے سنہ 1980 میں قطر میں ایک کروڑ بیس لاکھ قطری ریال کی سرمایہ کاری کی تھی۔

عدالت وزیراعظم کو طلب کر سکتی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP
دو دن کی سماعت کے بعد بات دوبارہ وزیراعظم کی قومی اسمبلی میں کی گئی تقریر پر ہوئی جس پر عدالت عظمی نے سوال اُٹھایا کہ کیا ذاتی الزامات کا جواب دینے کے لیے اسمبلی کا فورم استعمال کیا جاسکتا ہے جس پر جماعت اسلامی کے وکیل نے کہا کہ پارلیمانی استثنیٰ صرف قانون سازی کو حاصل ہوتا ہے جبکہ ذاتی وضاحت کے لیے پارلیمان کو استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
جماعت اسلامی کے وکیل نے ہی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کہ اگر عدالت کو اس بارے مزید شواہد یا کسی سوال کی وضاحت چاہیے تو عدالت وزیر اعظم کو طلب کرسکتی ہے۔ اس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑنے پر وزیر اعظم کو عدالت میں طلب کیا جا سکتا ہے ورنہ نہیں۔
حسین نواز کے تحفے اور کاروبار
استتثیٰ کے معاملے کے بعد وزیراعظم کے وکیل کی جانب سے 18 جنوری کو عدالت کو بتایا گیا کہ کہ وزیر اعظم کے بیٹے حسین نواز نے چار سال کے دوران اپنے والد کو 52 کروڑ روپے بھجوائے ہیں۔ اس بات کو بھی حزب اختلاف نے خوب اچھالا جبکہ عدالت میں جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے کبھی حسین نواز سے پوچھا ہے کہ وہ بیرون ممالک کرتے کیا ہیں اور کونسا کاروبار کرتے ہیں جس میں اتنا منافع ہو رہا ہے۔
وزیراعظم کا استثنیٰ
سولہ جنوری کی سماعت میں عدالت نے سوال اٹھایا کہ کہ قومی اسمبلی میں تقریر میں وزیر اعظم نے کوئی غلط بیانی نہیں کی تو پھر وہ اس بارے میں استثنیٰ کیوں مانگ رہے ہیں تاہم ایک دن کے بعد عدالت نے کہہ ہی دیا کہ وزیر اعظم کو وہ استثنی حاصل نہیں ہے جو آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت صدر مملکت اور گورنر کو حاصل ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
نیا بینچ بھی مقدمے کو طول دینے پر ناراض
پرانے بینچ کی طرح 12 جنوری کی سماعت میں موجودہ بینچ کو کہنا پڑا کہ درخواست گزار اور وزیر اعظم کے وکیل سچ سامنے آنے نہیں دینا چاہتے جبکہ عوام سچ جاننا چاہتی ہے۔ 18جنوری کی سماعت میں عدالت نے پھر کہا کہ فریقین سچ کو سامنے آنے نہیں دینا چاہتے اور کوئی بھی دستاویزات عدالت کے سامنے پیش نہیں کی گئیں۔ اُنھوں نے کہا کہ عدالت میں اب تک پیش کی گئی دستاویزات کو سامنے رکھتے ہوئے سچ تک پہنچنا آسان نہیں۔
عدالت تحقیقاتی ادارہ نہیں
دس جنوری کی سماعت میں تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں اسحاق ڈار کے اعترافی بیان کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ شریف برادران کی طرف سے منی لانڈرنگ سے متعلق ہے۔ حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے کی دوبارہ تحقیقات کرنے کے بارے میں قومی احتساب بیورو کو احکامات جاری کرنے کی استدعا پر بینچ کے سربراہ کہا کہ عدالت نہ کوئی ٹرائل کورٹ ہے اور نہ ہی کوئی تحقیقاتی ادارہ۔

