پاناما کیس: سپریم کورٹ کا مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا حکم

پاناما دستاویزات کے بارے میں پاکستانی وزیراعظم نواز شریف سمیت چھ افراد کی نااہلی سے متعلق درخواستوں پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, پاکستان کے عوام قانون کی حکمرانی دیکھیں گے

     تحریکِ انصاف کے رہنما اسد عمر نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی جگہ چلے جائیں لوگوں سے ایک ہی لفظ سننے کو ملتا ہے انشااللہ۔ پاکستان کے عوام قانون کی حکمرانی دیکھیں گے۔ فیصلہ ضروری نہیں کہ صرف ہاں یا نہیں میں ہوں۔ اس میں کئی معاملے ہیں۔ کل میٹنگ ہوئی تھی جس میں فیصلہ یہ ہوا تھا کہ عدالتی فیصلہ سننے کے بعد مشاورت ہوگی اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔  

  2. بریکنگ, ’ہماری نیت صاف ہے اور ہم عوام کے سامنے سرخرو ہوں گے‘

    پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں نے کہا ہے ’ہماری نیت صاف ہے اور ہم عوام کے سامنے سرخرو ہوں گے‘۔

    سپریم  کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے دانیال عزیز نے کہا کہ سنہ 2000 میں کالا دھن سفید کرنے والے عمران خان نے اثاثے چھپائے اور وہ سند یافتہ ٹیکس چور ہیں۔

  3. بریکنگ, چاہتے ہیں کہ عدالت سے نصیحت نہیں فیصلے ہوں

    سراج الحق

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق کا سپریم کورٹ پہنچنے پر کہنا تھا کہ احتساب سب کا ہونا چاہیے۔ کرپشن کے خلاف مہم 1996 سے جاری ہے۔ اس لیے قوم کی نظریں عدالت پر لگی ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ عدالت سے نصیحت نہیں فیصلے ہوں۔ ہم کہہ چکے ہیں کہ ہم ججوں کی عدالت میں ہیں اور وہ اللہ کی عدالت میں۔ نتیجہ جو بھی آئے، قوم میں کرپشن کے خلاف شعور بیدار ہوا ہے۔  

  4. بریکنگ, ’اگر وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیت پر سوال نہ اٹھا ۔۔۔‘

     پاکستان مسلم لیگ نواز کے ممبر قومی اسمبلی طلال چوہدری نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ’اگر وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیت پر سوال نہ اٹھا تو کیس صرف وزیر اعظم نواز شریف ہی نہیں جیتیں گے بلکہ ان کی تین نسلیں یہ کیس جیتیں گی۔‘  

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم آج یومِ تشکر اور عمران خان یومِ شرمندگی منائیں گے۔ ہم آئینی اور قانونی جنگ جیتیں گے۔

  5. بیٹھکیں

    پاناما

    ہماری نامہ نگار فرحت جاوید نے بتایا کہ پاناما کیس کے فیصلے سے قبل سپریم کورٹ کی عمارت میں تقریباً تمام ہی کمروں میں بیٹھک لگی ہوئی ہے۔ ان بیٹھکوں میں یا تو کوئی سیاسی رہنما یا پھر کوئی وکیل میڈیا کے لوگوں کے ساتھ بیٹھی پیشنگوئی کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

  6. کمرۂ عدالت کے باہر رش

    پاناما کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے کورٹ روم نمبر ایک میں سنایا جائے گا اور نامہ نگار عبداللہ فاروقی کے مطابق اس کمرۂ عدالت کے باہر وکلا، صحافیوں اور پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد موجود ہے

    سپریم کورٹ
  7. بریکنگ, مسلم لیگ ن کے رہنما عدالت میں

    ہمارے نامہ نگار عبداللہ فاروقی نے بتایا کہ پاناما کیس کے فیصلے کو سننے کے لیے وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب اور وزیر اعظم کے ترجمان مصدق ملک کورٹ روم ون پہنچ گئے ہیں۔ 

  8.   پاکستان تحریک انصاف کے سینٹرل ایڈیشنل سیکریٹری اطلاعات فیصل جاوید خان نے ٹویٹ کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں  

  9. پاناما پیپرز کس نے لِیک کیے؟

    ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات جرمن اخبار سودیوچے زیتنگ نے حاصل کیے، جس نے انھیں تحقیقاتی صحافیوں کے بین الاقوامی کنسورشیم آئی سی آئی جے کے ساتھ شیئر کیا۔

    یہ کنسورشیم76 ملکوں کے 109 میڈیا آرگنائزیشنز کے صحافیوں پر مبنی ہے۔ اس میں برطانوی اخبار گارڈیئن بھی شامل ہے اور ان دستاویزات کا تجزیہ کرنے میں ایک سال سے زیادہ لگا۔

    بی بی سی کو دستاویزات کو لیک کرنے کے ذرائع کی شناخت کا علم نہیں ہے۔

    یہ تاریخ کی سب سے بڑی لیکس ہیں جس کے مقابلے میں وکی لیکس بھی چھوٹے ہیں۔ پاناما لیکس میں دو لاکھ 14 ہزار افراد، کمپنیوں، ٹرسٹ اور فاؤنڈیشن کی تفصیلات ہیں۔

    ان دستاویزات میں 1977 سے لے کر 2015 دسمبر تک کی معلومات موجو ہیں۔ ان دستاویزات کا بڑا حصہ ای میلز پر مشتمل ہے لیکن معاہدوں اور پاسپورٹس کی تصاویر بھی شامل ہیں۔

  10. بریکنگ, ’آج عمران خان کے بے بنیاد الزامات کا خاتمہ ہوجائے گا‘

    اطلاعات کی وزیر مملکت مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان کی سیاست ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ 

    ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ چکوال کے حالیہ ضمنی انتخابات میں پاکستان کے عوام نے ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔  انھوں نے کہا کہ آج عمران خان کے بے بنیاد الزامات کا خاتمہ ہوجائے گا اورانھیں عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے سربراہ نے سیاسی مخالفین کے خلاف کیچڑ اچھالنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ 

  11. میڈیا فیصلے کا منتظر

    نامہ نگار عبداللہ فاروقی کے مطابق سیاسی کارکنوں کے برعکس میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد سپریم کورٹ کے باہر پہنچ چکی ہے اور کیمرے رہنماؤں کے منتظر ہیں

    میڈیا
  12. تلور سے پاناما تک!

    پاناما

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

     سعودی عرب نے تو نواز شریف کو تیسری بار برسرِ اقتدار آنے پر ڈیڑھ ارب ڈالر کی سلامی دی تھی مگر قطری شاہی خاندان تو شریف خاندان کا کاروباری پارٹنر بھی نکل آیا اور وہ بھی آج سے نہیں 30، 35 برس پہلے سے۔

    پڑھیے وسعت اللہ خان کا تجزیہ تلور سے پاناما تک!  

  13. سپریم کورٹ میں سکیورٹی کے تین حصار

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سپریم کورٹ میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور سپیشل برانچ ، پولیس اور رینجرز کے تین حصار بنائے گئے ہیں۔ جن افراد کے مقدمات آج کاز لسٹ میں تھے انھیں بھی اندر نہیں آنے دیا جا رہا۔ صرف خصوصی پاس رکھنے والے افراد کو ہی سپریم کورٹ کے احاطہ میں آنے دیا جا رہا ہے

    پولیس
  14. رہنما تاحال پہنچے نہیں، سیاسی کارکن غائب

    سپریم کورٹ میں موجود بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پاناما کیس کا فیصلہ آنے میں دو گھنٹے کا وقت بچا ہے لیکن سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں میں سے کوئی تاحال عدالت نہیں پہنچا۔ کسی سیاسی جماعت کا کوئی کارکن بھی سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر موجود نہیں۔

  15. پاناما کیس کا فیصلہ: ویڈیو ٹائم لائن

    ،ویڈیو کیپشنپانامہ کیس میں اب تک کیا ہوا؟
  16. ’وکیل بھی کبھی مقدمہ ہارتا ہے‘

    ،ویڈیو کیپشن’وکیل بھی کبھی مقدمہ ہارتا ہے‘
  17. لاہور میں نواز شریف کی حمایت میں بینر

    پاناما کیس کا فیصلہ آنے سے قبل ہی پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں وزیراعظم نواز شریف کی حمایت میں بینر لگ گئے تھے

    بینر
    بینر
    بینرز
  18. پاناما پیپرز کیا ہیں؟

    panama

     بڑے پیمانے پر خفیہ دستاویزات افشا ہونے سے پتہ چلا ہے کہ دنیا بھر کے چوٹی کے امیر اور طاقتور افراد اپنی دولت کیسے چھپاتے ہیں۔ یہ دستاویزات پاناما کی ایک لا فرم موساک فونسیکا سے افشا ہوئیں اور ان کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ ہے۔

  19. بریکنگ, ’لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘

    پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی یہ جاننے کی منتظر ہے کہ عدلیہ صرف ان کی جماعت کے سلسلے میں آزاد ہے یا دیگر کے لیے بھی ایسا ہی ہے۔