آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پی آئی اے طیارہ حادثہ، کب کیا ہوا؟

پی آئی اے کے حکام کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر چترال سے اسلام آباد آنے والا مسافر طیارہ حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہو گیا ہے اور اس پر تمام 48 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. پی کے 661 کے بارے میں معلومات

    پی آئی اے کا لاپتہ پونے والا طیارہے اے ٹی آر 42 ہے جو 2007 میں تیار کیا گیا تھا۔

    اس طیارے کی عمر اس وقت نو سال 6 مہینے ہے اور اس نے پہلی بار پرواز 3 مئی 2007 کو بھری تھی۔

    پی آئی اے نے اس طیارے کو 16 مئی 2007 میں اپنے بیڑے میں شامل کیا تھا۔

    اس طیارے میں پریٹ اینڈ وٹنی کے دو انجن لگے ہوئے ہیں۔

  2.   حویلیاں کے ڈی ایس پی خورشید تنولی نے نامہ نگار ذیشان ظفر کو بتایا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائینز کا جہاز پی کے 661 چترال سے اسلام آباد آ رہا تھا جب ایبٹ آباد کے قریب حویلیاں میں جہاز کا رابطہ کنٹرول ٹاور سے منقطع ہو گیا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ بٹولنی گاؤں کے قریب واقعہ پہاڑیوں پر جہاز گرا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس گاؤں تک گاڑیوں کے ذریعے جانے کا راستہ موجود ہے جائے حادثہ تک آدھے گھنٹے پیدل چلنے کے بعد ہی جایا جا سکتا ہے۔ پرواز پی کے 661 کی روانگی کا وقت تین بج کر تیس منٹ تھا جبکہ اسلام آباد آمد کا وقت 4 بج کر 40 منٹ تھا۔ ذرائع کا بتانا تھا کہ اسلام آباد پہنچنے سے کچھ پہلے طیارے کا ریڈار سے رابطہ منقطع ہوگیا۔   

  3. جہاز میں سوار افراد

     حادثے کا شکار ہونے والے مسافر جہاز میں 42 مسافر اور عملے کے پانچ اراکین سوار تھے۔

    پی آئی اے کا کہنا ہے جہاز میں عملے کے پانچ افراد سوار تھے۔ طیارے کے کپتان کیپٹن صالح جنجوعہ،معاون پائلٹ احمد جنجوعہ، فرسٹ آفیسر علی اکرم تھے۔

    فضائی میزبانوں میں عاصمہ عادل اور صدف فاروق جہاز پر سوار تھیں۔

    طیارے میں 31 مرد 9 خواتین اور دو شیر خوار بچے سوار تھے۔

  4. پی آئی اے کا جہاز چترال سے اسلام آباد آ رہا تھا

    پاکستان کی سول ایوی ایشن کے مطابق بدھ کو صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر چترال سے اسلام آباد آنے والا پی آئی اے کا جہاز حویلیاں کے قریب لاپتہ ہو گیا ہے۔