آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پی آئی اے طیارہ حادثہ، کب کیا ہوا؟

پی آئی اے کے حکام کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر چترال سے اسلام آباد آنے والا مسافر طیارہ حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہو گیا ہے اور اس پر تمام 48 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے امدادی سرگرمیوں میں صوبائی حکومت کی مدد کی ہدایات جاری کی ہیں۔

  2. پاکستان میں فضائی حادثات کی تاریخ

     پاکستان میں کسی طیارے کو تقریباً ساڑھے چار سال بعد حادثہ پیش آیا ہے۔ پاکستان میں آخری فضائی حادثہ اسلام آباد میں  20 اپریل 2012 کو ہوا تھا جس میں اسلام آباد کے بینظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب نجی ائیر لائن کے طیارے گر کر تباہ ہوا تھا۔

  3. بریکنگ, تباہ ہونے والے طیارے کے مسافروں کی فہرست

  4. پی آئی اے کے حکام نے ہماری نامہ نگار شمائلہ خان کو بتایا کہ وہ مسافروں کی فہرست میں پاکستانیوں اور غیر ملکیوں میں تفریق نہیں کرتے۔ ’آپ خود ناموں سے اندازہ لگا لیں کہ کون پاکستانی ہے اور کون غیر ملکی۔‘

  5. اندھیرے کی وجہ سے امدادی کاموں میں دشواری

    مقامی صحافی محمد زبیر کا کہنا ہے کہ اندھیرے کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں دشواری کا سامنا ہے۔ اُن کے مطابق جائے وقوعہ کی جانب بڑھتے ہوئے انھوں نے دو ایمبولینس دیکھیں۔ ایدھی اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں ریسکیو کے کاموں میں حصہ لے رہی ہیں۔

  6. بریکنگ,

    • پاکستان کی سول ایوی ایشن کے مطابق بدھ کو صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر چترال سے اسلام آباد آنے والا پی آئی اے کا جہاز حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہو گیا ہے۔
    • حادثے کا شکار ہونے والے مسافر جہاز میں 42 مسافر اور عملے کے پانچ اراکین سوار تھے۔
    • پی آئی اے کا کہنا ہے جہاز میں عملے کے پانچ افراد سوار تھے۔ طیارے کے کپتان کیپٹن صالح جنجوعہ، معاون پائلٹ احمد جنجوعہ، فرسٹ آفیسر علی اکرم تھے۔
    • فضائی میزبانوں میں عاصمہ عادل اور صدف فاروق جہاز پر سوار تھیں۔
    • طیارے میں 31 مرد 9 خواتین اور دو شیر خوار بچے سوار تھے۔
    • رواز پی کے 661 کی روانگی کا وقت تین بج کر تیس منٹ تھا جبکہ اسلام آباد آمد کا وقت 4 بج کر 40 منٹ تھا۔
  7. , اسلام آباد ایئرپورٹ کی صورتحال

    اسلام آباد کے بے نظیر بھٹو ایئر پورٹ پر موجود بی بی سی کی نامہ نگار شمائلہ خان کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ پر سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پی آئی اے کی جانب سے انفارمیشن ڈیسک بنا دیے گئے ہیں۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ پر حادثے کا شکار ہونے والے مسافروں کے لواحقین ابھی موجود نہیں ہیں۔ البتہ میڈیا کے نمائندوں کی بڑی تعداد ایئر پورٹ پر موجود ہے۔

  8. بریکنگ, ’بظاہر طیارہ انجن کی خرابی کی وجہ سے تباہ ہوا‘

    سیکریٹری ایوی ایشن عرفان الہی کی اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر بی بی سی اردو سے گفتگو

  9. اطلاعات کے مطابق جہاز میں ماضی کے مشہور گلوکار اور بعد ازاں مبلغ بن جانے والے جنید جمشید بھی سوار تھے۔

  10. صوبائی وزیر مشتاق غنی کا کہنا ہے کہ ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہیں لیکن انہیں ملبہ تلاش کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملبہ کافی بڑے علاقے میں پھیلا ہوا ہے۔ تاہم انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ کسی کے بچنے کا امکان نہیں ہے۔

  11. بےنظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی صورتحال

    بی بی سی کی نامہ نگار شمائلہ خان کے مطابق میڈیا کے نمائندوں کو پہلے بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل کے اندر داخل نہیں ہونے دیا جا رہا لیکن اب سکیورٹی حکام نے انھیں اندر داخل ہونے کی اجازت دے دی ہے۔

  12. پی آئی اے کا بیان

  13. پی آئی اے کے بیان میں مزید کہا گیا کہ حویلیاں کے قریب طیارے کا رابطہ منقطع ہو گیا اور تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اس کی تلاش جاری ہے۔ پی آئی اے نے ایمرجنسی رسپانس سینٹر بھی قائم کر دیا ہے۔

  14. پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی ہیلی کاپٹر اور فوجی دستے جائے وقوعہ کی جانب روانہ کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹرز کی ایک ٹیم بھی روانہ کر دی گئی ہے۔ 

  15.  حویلیاں کے ڈی ایس پی خورشید تنولی نے نامہ نگار ذیشان ظفر کو بتایا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائینز کا جہاز پی کے 661 چترال سے اسلام آباد آ رہا تھا جب ایبٹ آباد کے قریب حویلیاں میں جہاز کا رابطہ کنٹرول ٹاور سے منقطع ہو گیا۔   

  16. ریڈیو پاکستان اور مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جہاز میں مشہور گلوکار جنید جمشید اور ان کے اہلخانہ بھی سوار تھے۔