عدالت کے مطابق استغاثہ کی ساری کہانی اس کے دو گواہوں اور
آسیہ بی بی کے عدالت سے باہر دیے گئے اقبالی بیان کے گرد گھومتی ہے۔
عدالت نے کہا
ہے کہ استغاثہ نے گواہوں کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ آسیہ بی بی نے ایک مجمعے کے
سامنے تسلیم کیا کہ اس نے پیغمبر اسلام کے بارے میں نازیبا الفاظ ادا کیے ہیں جبکہ
اپیل کنندہ نے دفعہ 342 کے تحت دیے گئے بیان میں اس مبینہ بیان کی تردید کی اور یہ
بھی کہا کہ اس نے توہین آمیز الفاظ ادا نہیں کیے تھے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے
کہ ٹرائل کورٹ نے آسیہ بی بی کے مجمعے کے سامنے اقبال جرم کے بارے میں گواہوں کی
شہادت پر انحصار کیا ہے جبکہ موجود عدالت اس اقبال جرم کو اہمیت نہیں دے سکتی
کیونکہ اس کے بارے میں گواہوں نے یہ تفصیل نہیں بتائی کہ یہ اقبال جرم کس وقت،
کہاں اور کس طرح کیا۔
عدالت نے قرار دیا ہے کہ عدالت سے باہر کیا گیا اقبال جرم
ایک کمزور شہادت ہے جسے ہمیشہ شک کی نظر سے دیکھا جانا چاہئے۔
عدالت نے قرار دیا
کہ ’جب ملزمہ کو اس مجمعے کے سامنے لایا گیا تو وہ تنہا تھی۔ صورتحال ہیجان
انگیز اور ماحول خطرناک تھا۔ اپیل گزار نے اپنے آپ کو خوفزدہ اور غیر محفوظ پایا
اور مبینہ اعترافی بیان دیا۔ اسے رضا کارانہ بیان تصور نہیں کیا جا سکتا اور سزا،
خاص طور پر موت کی سزا کی بنیاد قرار دیا جا سکتا ہے۔‘