آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ٹرمپ کا ایران کی بحری ناکہ بندی کا اعلان، پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ کو تیل و گیس کی فراہمی ’خطرے میں ڈالنے‘ کا ذمہ دار قرار دے دیا

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ اس ناکہ بندی کا مقصد ایران کے جہازوں اور اس کے گاہکوں کو آنے جانے سے روکنا ہے تاہم ’دیگر تمام ممالک آبنائے ہرمز کا منصفانہ اور آزادانہ استعمال کر سکیں گے۔‘ دوسری جانب پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایران اب بھی آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے اور ’غیر ملکی طاقتوں اور ان کے اتحادیوں کو ایرانی عوام کی مرضی کے سامنے جھکنے پر مجبور کرے گا۔‘

خلاصہ

  • سینٹکام کے مطابق آبنائے ہرمز پر ایرانی حملوں کی صلاحیت کمزور کرنے کے لیے درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا
  • ایران نے میزائل اور ڈرونز کے ذریعے ’دشمن کے اڈوں‘ کے خلاف آپریشن کا اعلان کیا ہے جس میں اس نے اردن، کویت اور بحرین میں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا
  • مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران پیر کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں چار فیصد کا اضافہ ہوا ہے
  • اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے امریکہ اور ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حالیہ جھڑپوں کا سلسلہ بند کریں اور ان کے خاتمے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کریں
  • ایرانی میڈیا کے مطابق جنوب میں سیریک کے قریب اور قشم و جاسک کے علاقوں میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں

لائیو کوریج

  1. ایران کے کویت، بحرین اور اردن میں جوابی حملے

    ایران نے میزائل اور ڈرونز کے ذریعے ’دشمن کے اڈوں‘ کے خلاف آپریشن کا اعلان کیا ہے جس میں اس نے اردن، کویت اور بحرین میں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    ادھر بحرین کی وزارت داخلہ کے مطابق سائرن بجائے گئے ہیں اور لوگوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پُرسکون رہیں اور قریب ترین محفوظ مقام کی طرف چلے جائیں۔ جبکہ کویتی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فضائی دفاعی نظام ملک کی فضائی حدود کے اندر ’دشمن کے فضائی حملوں‘ کا مقابلہ کر رہا ہے۔

    اس نے کہا کہ سنے جانے والے کسی بھی دھماکے کی آواز فضائی دفاعی نظام کی جانب سے حملوں کو ناکام بنانے کی کارروائی کا نتیجہ ہے، اور عوام سے اپیل کی کہ وہ حفاظتی اور سکیورٹی ہدایات پر عمل کریں۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ان کارروائیوں کے بعد اردن کے شہزادہ حسن ایئر بیس پر ایندھن کے ٹینکوں اور اسلحہ ڈپوؤں میں آگ لگ گئی ہے۔ جبکہ ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا کہ اردن میں واقع اس تنصیب پر حملہ ایرانی ساحلی اڈوں پر امریکی حملوں کے جواب میں اس کی کارروائی کے پہلے مرحلے کا حصہ تھا۔ اس نے خبردار کیا کہ جوابی آپریشن جاری ہے۔

    پاسداران انقلاب کا کا کہنا ہے کہ اس کی ایرو سپیس فورسز نے بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئر بیس کو بھی نشانہ بنایا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ وہاں ہیلی کاپٹروں کی نگرانی کے لیے قائم تنصیب، جس کے ہینگر میں پی ایٹ طیارہ موجود تھا، اور امریکی ڈرون کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا۔

    ایرانی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا کہ پاسداران انقلاب نے کویت میں دو فضائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا۔ یہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں کہ جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان جوابی حملوں کا سلسلہ مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ یہ آپریشن ان مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا جن کی نشاندہی گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ’دشمن کی نقل و حرکت‘ کی نگرانی کے بعد کی گئی تھی۔

    ایک بیان میں پاسداران انقلاب نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں اس کی بحری کارروائی میں دو جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس نے ان پر ٹریکنگ نظام بند کرنے، جہازرانی کے قواعد کی خلاف ورزی کرنے اور بحری سلامتی کے لیے خطرہ بننے کا الزام عائد کیا۔

  2. ایران کے خلاف امریکی کارروائیاں مکمل، پہلی بار سمندری ڈرونز استعمال کیے گئے: سینٹکام

    سینٹکام کا کہنا ہے کہ 12 اور 13 جولائی کی درمیانی شب ایران کے خلاف نئی کارروائیاں مکمل ہو چکی ہیں جن میں اس کے بقول آبنائے ہرمز پر بین الاقوامی جہاز رانی پر ایرانی حملوں کی صلاحیت کمزور کرنے کے لیے درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

    سینٹکام کے مطابق امریکی افواج نے لڑاکا طیاروں، بحری جہازوں، فضائی ڈرونز اور پہلی مرتبہ بار ’سمندری ڈرونز‘ کا استعمال کیا۔ اس کا کہنا ہے کہ فضائی اور سمندری ڈرونز یکطرفہ حملوں کے لیے استعمال کیے گئے۔ اس کے مطابق ان حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار تنصیبات، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں اور چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید کہا کہ ’آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے۔ ایران اس پر کنٹرول نہیں رکھتا۔‘

    ’امریکی افواج اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تعینات اور تیار ہیں تاکہ تجارتی جہاز آزادانہ طور پر آمد و رفت کر سکیں، باوجود اس کے کہ ایران اپنی بلاجواز جارحیت، ہراسانی، دھمکیوں اور یک طرفہ اعلانات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔‘

  3. جنوبی ایران میں دھماکوں کی اطلاعات

    ایران میں فوجی قیادت کے قریب سمجھی جانے والی خبر رساں ایجنسیوں نے سرک، بندر عباس اور جاسک کے قریب واقع دیہات کے اطراف میں دھماکوں کی آوازوں کی اطلاعات دی ہیں۔ خیال رہے کہ سینٹکام نے اعلان کیا ہے کہ اس کی افواج نے اتوار کو ایران کے خلاف حملوں کی نئی لہر شروع کی ہے۔

    خوزستان میں مقامی حکام نے پیر کی صبح جنوبی ایران کے اس صوبے کے کئی شہروں پر امریکی فضائی حملوں کی اطلاع دی۔

    سرکاری ایرانی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق خوزستان گورنریٹ کے حکام نے ان حملوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’آج رات 1:35 بجے اہواز کے اطراف میں دو مقامات کو امریکی دشمن کے میزائلوں نے نشانہ بنایا۔ اسی طرح 1:40 بجے بہبہان اور دزفول شہروں میں مقامات پر حملے کیے گئے، اور 1:45 بجے امیدیہ اور ماہشہر میں چار مقامات دشمن کے حملوں کا نشانہ بنے۔‘

    دریں اثنا نیوز ایجنسی فارس نے خوزستان گورنریٹ کے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پیر کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً رات 2 بجے آبادان اور شادگان شہروں کے بعض حصے بھی فضائی حملوں کا نشانہ بنے۔

    تاہم خوزستان کے نائب گورنر نے بندر خمیر پر حملے اور دھماکے کی آواز سنے جانے کی تردید کی ہے۔

  4. اقوام متحدہ کے بیان پر ایران کا ردعمل: ’ایران کو اپنے دفاع کے لیے موردِ الزام ٹھہرانا غیر ذمہ دارانہ ہے‘

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے اتوار کو ایران اور امریکہ سے ایک دوسرے پر فوجی حملے بند کرنے کی اپیل کے بعد ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’ایران نے کہیں بھی حملہ نہیں کیا۔ خلیج فارس کے جنوبی ساحل پر واقع امریکی فوجی اڈوں اور اثاثوں کے خلاف ایران کی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے حقِ دفاع کا استعمال ہیں۔‘

    بقائی نے کہا کہ ’آپ کو ان ممالک سے پوچھنا چاہیے جو اپنی سرزمین اور اڈے امریکہ کو فراہم کرتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرانے کے بجائے ایران کو اپنے دفاع کے لیے موردِ الزام ٹھہرانا غیر ذمہ دارانہ ہے۔‘

    ان بیانات کے اختتام پر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان کو طنزیہ انداز میں خلیج فارس کے نام سے متعلق سرکاری دستاویزات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’درست نام ’خلیج فارس‘ ہے۔ براہِ کرم اقوام متحدہ کی متعلقہ ہدایات پر عمل کریں۔۔۔ جن کے مطابق مکمل نام ’خلیج فارس‘ کا استعمال لازمی ہے۔‘

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے اپنے بیان میں ’خلیجی خطے‘ کہا تھا۔

    خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے اتوار کو امریکہ اور ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حالیہ جھڑپوں کا سلسلہ بند کریں اور ان کے خاتمے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔

    گوتریس نے خاص طور پر ایران کے خلاف امریکہ کے حملوں اور آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ایران کے حملوں اور خلیج فارس کے خطے میں امریکہ کے اتحادیوں کے ٹھکانوں پر حملوں کا ذکر کیا۔

  5. امریکہ کے ایران پر نئے حملے، تہران کا انتقامی کارروائیوں کا اعلان: ’فوجی جارحیت میں مدد کرنے والے ممالک جائز اہداف ہوں گے‘

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اتوار کی شام ایران کے خلاف حملوں کا اعلان کیا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز پر جہاز رانی کی بحالی اور تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کی صلاحیت کمزور کرنا ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اس کی افواج یہ کارروائیاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کی جا رہی ہیں جو کہ مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف ہیں۔

    دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق جنوب میں سیریک کے قریب اور قشم و جاسک کے علاقوں میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ جبکہ ایران کی خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق ملک کے جنوب میں واقع صوبہ بوشہر کے بعض حصوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    ایران نے اپنی سرزمین پر امریکی حملوں کی تازہ لہر کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں نے گذشتہ مہینوں کی تمام سفارتی کوششوں کو ’ناکام بنا دیا‘ ہے۔

    ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل اور ایرانی پارلیمان کے فیصلوں کے مطابق ان حملوں کا جواب دینے کی پابند ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران کے خلاف کسی بھی اقدام کو جواب کے بغیر نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔‘

    سرکاری ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق وزارت خارجہ کے پیر کی صبح جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ یہ ’وحشیانہ حملے نہ صرف اقوام متحدہ کے اصولوں، خصوصاً آرٹیکل 2 کی شق 4، کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکہ نے بعض خلیجی ممالک کی سرزمین اور تنصیبات کو ’ایران کے خلاف فوجی جارحیت‘ کے لیے استعمال کیا ہے۔

    ایرانی وزارت خارجہ نے ان ملکوں کو امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی معاونت کے خلاف خبردار کرتے ہوئے زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پابندی کریں، ورنہ وہ ’ایرانی فوج کی دفاعی کارروائیوں کے لیے جائز اہداف ہوں گے۔‘

    پیر کے روز نئے تجارتی ہفتے کے آغاز پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا جس کی وجہ ہفتے کے اختتام پر ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی کشیدگی میں دوبارہ اضافہ اور تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان تھا۔

  6. بی بی سی کی نئی لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید

    مشرق وسطی، پاکستان اور دنیا بھر سے اہم خبروں، تبصروں اور تجزیوں کے لیے بی بی سی کی نئی کوریج شروع کی گئی ہے۔

    اس سے قبل رپورٹ ہونے والی خبروں کے لیے آپ 10 سے 12 جولائی تک چلنے والی لائیو کوریج کا رُخ کر سکتے ہیں۔