ایران کے کویت، بحرین اور اردن میں جوابی حملے
ایران نے میزائل اور ڈرونز کے ذریعے ’دشمن کے اڈوں‘ کے خلاف آپریشن کا اعلان کیا ہے جس میں اس نے اردن، کویت اور بحرین میں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ادھر بحرین کی وزارت داخلہ کے مطابق سائرن بجائے گئے ہیں اور لوگوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پُرسکون رہیں اور قریب ترین محفوظ مقام کی طرف چلے جائیں۔ جبکہ کویتی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فضائی دفاعی نظام ملک کی فضائی حدود کے اندر ’دشمن کے فضائی حملوں‘ کا مقابلہ کر رہا ہے۔
اس نے کہا کہ سنے جانے والے کسی بھی دھماکے کی آواز فضائی دفاعی نظام کی جانب سے حملوں کو ناکام بنانے کی کارروائی کا نتیجہ ہے، اور عوام سے اپیل کی کہ وہ حفاظتی اور سکیورٹی ہدایات پر عمل کریں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ان کارروائیوں کے بعد اردن کے شہزادہ حسن ایئر بیس پر ایندھن کے ٹینکوں اور اسلحہ ڈپوؤں میں آگ لگ گئی ہے۔ جبکہ ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا کہ اردن میں واقع اس تنصیب پر حملہ ایرانی ساحلی اڈوں پر امریکی حملوں کے جواب میں اس کی کارروائی کے پہلے مرحلے کا حصہ تھا۔ اس نے خبردار کیا کہ جوابی آپریشن جاری ہے۔
پاسداران انقلاب کا کا کہنا ہے کہ اس کی ایرو سپیس فورسز نے بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئر بیس کو بھی نشانہ بنایا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ وہاں ہیلی کاپٹروں کی نگرانی کے لیے قائم تنصیب، جس کے ہینگر میں پی ایٹ طیارہ موجود تھا، اور امریکی ڈرون کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا کہ پاسداران انقلاب نے کویت میں دو فضائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا۔ یہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں کہ جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان جوابی حملوں کا سلسلہ مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ یہ آپریشن ان مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا جن کی نشاندہی گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ’دشمن کی نقل و حرکت‘ کی نگرانی کے بعد کی گئی تھی۔
ایک بیان میں پاسداران انقلاب نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں اس کی بحری کارروائی میں دو جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس نے ان پر ٹریکنگ نظام بند کرنے، جہازرانی کے قواعد کی خلاف ورزی کرنے اور بحری سلامتی کے لیے خطرہ بننے کا الزام عائد کیا۔