سپین کے جنوبی علاقے اندلوسیا میں لگنے والی ہولناک جنگلاتی آگ کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد ہلاک جبکہ 19 دیگر لاپتا ہو گئے ہیں۔
اندلوسیا کے علاقائی صدر خوانما مورینو نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرین کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
مقامی حکام کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں چار افراد برطانوی شہری ہو سکتے ہیں۔
یہ آگ صوبہ المیریا کے علاقے لوس گایاردوس کے قریب بھڑکی، جہاں حکام کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر ایک بجلی کی تار گرنے کے باعث آگ لگی، جو بعد ازاں قریبی جنگلاتی علاقے تک پھیل گئی۔
حکام کے مطابق 11 افراد کی لاشیں بیدار نامی چھوٹے گاؤں اور اس کے اطراف سے ملی ہیں، جو لوس گایاردوس کے قریب واقع ہے۔
اندلوسیا کے وزیر صحت و ہنگامی امور انتونیو سانز نے کہا کہ آگ غیر معمولی طور پر تیزی سے پھیلی اور صورتحال انتہائی پیچیدہ رہی۔ ان کے بقول زیادہ تر یا تمام ہلاک ہونے والے افراد غیر ملکی شہری ہو سکتے ہیں۔
سانز کے مطابق چار افراد ایک گاڑی میں پھنسے ہوئے پائے گئے، جبکہ دیگر متاثرین مختلف مقامات پر ملے جہاں وہ بظاہر آگ سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ گاڑی میں موجود چار افراد کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ ’برطانوی نژاد‘ تھے کیونکہ گاڑی کا سٹیئرنگ دائیں جانب تھا۔
درجنوں اہلکار امدادی کارروائیوں میں مصروف
آگ پر قابو پانے کے لیے تقریباً 150 فائر فائٹرز کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
حکام کے مطابق ایک شخص کو دھوئیں سے متاثر ہونے کے باعث ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ ایک اور شخص جھلسنے کے باعث زخمی ہوا۔ چار افراد کو معمولی جلنے اور دھوئیں کے اثرات کی وجہ سے موقع پر ہی طبی امداد فراہم کی گئی۔
آگ کے باعث متعدد سڑکیں بند کر دی گئی ہیں جبکہ ہنگامی اداروں کے مطابق تقریباً ایک ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
سپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ ملک رواں سال موسم گرما کے دوران جنگلاتی آگ سے نمٹنے کے لیے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا ہنگامی ردعمل نافذ کرے گا۔
سپین کی فوجی ہنگامی یونٹ نے بھی تصدیق کی ہے کہ وہ لوس گایاردوس میں امدادی اور آگ بجھانے کی کارروائیوں میں شامل ہو گی۔
شدید گرمی اور بڑھتے ہوئے جنگلاتی آتشزدگی کے واقعات
اس موسم گرما میں جنوبی یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور کئی علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
فرانس، پرتگال اور اسپین میں سینکڑوں فائر فائٹرز مختلف مقامات پر بڑی آگوں سے نبرد آزما ہیں جبکہ ہزاروں افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔
سپین نے جون میں 1950 کے بعد اپنی بلند ترین اوسط یومیہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا، جبکہ بعض علاقوں میں درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔
یورپی جنگلاتی آگ کی نگرانی کے ادارے کے مطابق گذشتہ سال سپین میں تقریباً تین لاکھ 93 ہزار ہیکٹر رقبہ آگ سے متاثر ہوا، جو 2006 سے 2024 کے دوران قومی اوسط سے چھ گنا زیادہ تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی دنیا بھر میں درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بن رہی ہے، جبکہ یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی گرمی، طویل ہیٹ ویوز اور خشک موسم کے نتیجے میں یورپ میں جنگلاتی آگ کے واقعات زیادہ شدید اور بار بار پیش آنے کا امکان ہے۔ گذشتہ برس یورپی یونین میں جنگلاتی آگ کا سیزن ریکارڈ پر بدترین ثابت ہوا، جس میں 10 لاکھ ہیکٹر سے زائد رقبہ جل کر خاکستر ہو گیا۔