آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ٹرمپ کا ایران کی بحری ناکہ بندی کا اعلان، پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ کو تیل و گیس کی فراہمی ’خطرے میں ڈالنے‘ کا ذمہ دار قرار دے دیا

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ اس ناکہ بندی کا مقصد ایران کے جہازوں اور اس کے گاہکوں کو آنے جانے سے روکنا ہے تاہم ’دیگر تمام ممالک آبنائے ہرمز کا منصفانہ اور آزادانہ استعمال کر سکیں گے۔‘ دوسری جانب پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایران اب بھی آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے اور ’غیر ملکی طاقتوں اور ان کے اتحادیوں کو ایرانی عوام کی مرضی کے سامنے جھکنے پر مجبور کرے گا۔‘

خلاصہ

  • سینٹکام کے مطابق آبنائے ہرمز پر ایرانی حملوں کی صلاحیت کمزور کرنے کے لیے درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا
  • ایران نے میزائل اور ڈرونز کے ذریعے ’دشمن کے اڈوں‘ کے خلاف آپریشن کا اعلان کیا ہے جس میں اس نے اردن، کویت اور بحرین میں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا
  • مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران پیر کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں چار فیصد کا اضافہ ہوا ہے
  • اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے امریکہ اور ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حالیہ جھڑپوں کا سلسلہ بند کریں اور ان کے خاتمے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کریں
  • ایرانی میڈیا کے مطابق جنوب میں سیریک کے قریب اور قشم و جاسک کے علاقوں میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں

لائیو کوریج

  1. بحرین کی فوج کا ایران پر شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کا الزام

    بحرین کی فوج نے ایک بار پھر ایران پر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

    بحرین کی فوج کے مطابق اس کے فضائی دفاعی نظام نے آج صبح ایران کی جانب سے کیے گئے متعدد حملوں کو فضا ہی میں ناکام بنا دیا۔ فوج کا کہنا ہے کہ ملک کے دفاع کے لیے مسلح افواج مکمل تیاری اور ہائی الرٹ پر ہیں۔

    یہ بیان امریکہ اور ایران کے درمیان رات بھر جاری رہنے والی جوابی حملوں کی تازہ لہر کے بعد سامنے آیا، جس کے دوران بحرین بھی حملوں کی زد میں آیا تھا۔

    ایران نے تاحال بحرین کی جانب سے عائد کیے گئے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردِعمل جاری نہیں کیا ہے۔

  2. مُلک کے مختلف علاقوں میں تازہ حملے، متعدد ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات: ایرانی میڈیا کا دعویٰ

    ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ ایک گھنٹے کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں تازہ حملے کیے گئے ہیں۔

    سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق صوبہ اصفہان کے سکیورٹی امور کے نائب گورنر نے بتایا کہ شہر نائین میں ایک فوجی اڈے پر حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ سات افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    ادھر جنوب مغربی ایران کے شہر آبادان میں بھی حملے کی اطلاعات ہیں۔ صوبہ خوزستان کے نائب گورنر کے مطابق اس واقعے میں دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔

    تاہم امریکہ نے ان اطلاعات کی تاحال تصدیق نہیں کی ہے۔ دوسری جانب امریکی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے گزشتہ شب کیے گئے حملوں میں ایران کی درجنوں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

  3. بنگلہ دیش میں بارشوں اور سیلاب سے 51 افراد ہلاک، 10 لاکھ سے زائد متاثر

    بنگلہ دیش میں حالیہ دنوں ہونے والی موسلا دھار بارشوں، اچانک آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کم از کم 51 افراد ہلاک جبکہ 10 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔

    شدید بارشوں کے نتیجے میں دارالحکومت ڈھاکہ سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔

    سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ضلع کوکس بازار ہے، جہاں اب تک 28 افراد ہلاک ہو چُکے ہیں۔ گذشتہ ہفتے اسی ضلع میں سیلابی ریلے کی زد میں آ کر ایک سکول کے کئی طلبہ اور ایک استاد بھی ہلاک ہوئے تھے۔

    کوکس بازار وہ جگہ ہے کہ جہاں 10 لاکھ سے زائد روہنگیا پناہ گزین مقیم ہیں۔

    بنگلہ دیش ایک نشیبی ملک ہے جہاں بے شمار دریا موجود ہیں اور ہر سال مون سون کے موسم میں شدید بارشیں اور سیلاب معمول کا حصہ ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث بارشوں کی شدت اور ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    شدید بارشوں کا سلسلہ ایک ہفتے سے زائد وقت سے جاری ہے۔ بارشوں میں اضافے کے بعد حکام نے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کے پیش نظر وارننگ جاری کی، حساس علاقوں سے خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا اور طلبہ کے امتحانات بھی ملتوی کر دیے۔

    حکام کے مطابق ہزاروں افراد اس وقت سرکاری پناہ گاہوں میں مقیم ہیں، جبکہ اتوار تک بارشوں سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی۔

    بی بی سی بنگلہ کے مطابق ڈھاکہ میں متعدد سڑکیں زیرِ آب آ چکی ہیں، جس کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی ہے جبکہ بعض علاقوں میں پانی گھٹنوں تک پہنچ گیا ہے۔

    دوسری جانب فلڈ فورکاسٹنگ اینڈ وارننگ سینٹر کے عہدیدار سردار اُدے رائے ہان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں صورتحال جلد بہتر ہونے کا امکان ہے، تاہم مون سون کے باعث شمال مشرقی اور شمالی علاقوں میں مزید سیلاب کا خدشہ برقرار ہے۔‘

  4. ایران نے صدر ٹرمپ کے جوہری معاہدے کے دعوے کو ’مکمل طور پر غلط‘ قرار دے دیا

    اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ’گذشتہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایران امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے پر راضی ہو گیا ہے۔‘

    ’انھوں نے کل ایک معاہدے پر اتفاق کر لیا، جو ہمارے لیے ایک بہترین معاہدہ ہے۔ نہ جوہری پروگرام، نہ یہ، نہ وہ، کچھ بھی نہیں۔ انھوں نے ہر چیز سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔‘

    تاہم پیر کے روز ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ٹرمپ کے ان بیانات کو ’مکمل طور پر غلط‘ قرار دے دیا۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ سنیچر کے روز عمان میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی ملاقات میں آبنائے ہرمز کے علاوہ کسی اور موضوع پر بات چیت نہیں ہوئی۔

    تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ان کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالث اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

  5. برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی ایران کے مبینہ حملوں کی مذمت، جہاز رانی کی فوری بحالی کا مطالبہ

    برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے مشترکہ بیان میں آبنائے ہرمز، بحرین، عمان اور اردن میں بحری جہازوں پر ایران کے مبینہ ’حملوں‘ کی مذمت کی ہے۔

    تینوں ممالک، جنھیں اجتماعی طور پر ای تھری کہا جاتا ہے، نے گزشتہ رات جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں جو رات بھر کے حملوں سے قبل جاری کیا گیا، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی ’فوری اور مکمل‘ بحالی کا مطالبہ کیا۔

    دوسری جانب امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں فضائی حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا جس میں پاسدارانِ انقلاب کی متعدد تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

    ادھر ایران کا کہنا ہے کہ اس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کویت، اردن اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

  6. ہم نے خطے کے کسی ملک پر حملہ نہیں کیا اور نہ کریں گے: اسماعیل بقائی

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ’ایران نے خطے کے کسی بھی ملک پر حملہ نہیں کیا اور نہ ہی ایسا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایران کی دفاعی کارروائیاں صرف اُن امریکی اڈوں، تنصیبات اور ٹھکانوں کے خلاف ہوتی ہیں جنھیں امریکہ ایران پر حملوں کے لیے استعمال کرتا ہے۔‘

    اسماعیل بقائی نے زور دیا کہ ایران نے بارہا خطے کے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کو اپنی سرزمین، تنصیبات اور فضائی حدود ایران کے خلاف منصوبہ بندی، تیاری یا کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔‘

    اب سے چند گھنٹے قبل ایرانی وزارتِ خارجہ نے خلیج فارس کے ممالک کو خبردار کیا تھا کہ اگر انھوں نے ایران کے خلاف کسی ’فوجی جارحیت‘ میں تعاون کیا تو وہ ایرانی مسلح افواج کے لیے جائز ہدف بن سکتے ہیں۔

  7. وزیرِ اعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر قطر پہنچ گئے

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اپنے بھائی نواز شریف کے ہمراہ قطر کے ایک روزہ دورے پر دار الحکومت دوحہ پہنچ گئے ہیں۔

    وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق دوحہ ایئرپورٹ پر قطر کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ مملکت برائے دفاع شیخ سعود بن عبدالرحمن بن حسن بن علی آل ثانی نے پاکستانی وفد کا استقبال کیا۔

    وزیر اعظم کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف اپنے دورے کے دوران قصرِ لوسیل جائیں گے جہاں وہ امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کریں گے۔

    شبہاز شریف اس ملاقات میں قطر کے سابق امیر، شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کی وفات پر تعزیت کا اظہار کریں گے۔

    وزیرِ اعظم کے ہمراہ نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ بھی موجود ہیں۔

  8. امریکی دباؤ کے باعث مسقط میں معاہدہ نہ ہو سکا: اسماعیل بقائی

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکی دباؤ کے باعث ایران عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کے انتظامات پر اتفاقِ رائے تک نہیں پہنچ سکا۔

    پیر کے روز پریس کانفرنس میں اسماعیل بقائی نے سنیچر کے روز ایران اور عمان کے وزرائے خارجہ کی ملاقات پر بات کی۔ انھوں نے کہا: ’سنیچر کے روز مسقط میں ہونے والے مذاکرات صرف آبنائے ہرمز پر مرکوز تھے، خاص طور پر مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر پانچ پر۔ ہمیں افسوس ہے کہ عمان پر امریکہ کے اعلانیہ اور خفیہ دباؤ کے باعث وہ پیش رفت نہ ہو سکی جو مسقط میں ہونی چاہیے تھی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکیوں نے مفاہمتی یادداشت کی 14 شقوں کو مسخ کر دیا‘ اور ’اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دستاویز بحران کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایران نے کبھی بھی اپنے وعدوں کی خلاف ورزی میں پہل نہیں کی۔ مسلسل عہد شکنی کرنے والا فریق امریکہ ہے۔‘

    اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’وہ (امریکہ) وعدہ خلافی کے لیے اس قدر جلدی میں تھے کہ انھوں نے مفاہمتی یادداشت کی شق پانچ میں درج ایک ماہ کی مدت بھی مکمل نہیں ہونے دی۔‘

    اسماعیل بقائی نے یہ بھی کہا کہ ایران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے جوہری تنصیبات تک رسائی کی درخواست سے اتفاق نہیں کرے گا۔

  9. جوہری تنصیبات پر کسی بھی قسم کا حملہ ’جرم اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی‘ ہو گا: روس

    ویانا میں بین الاقوامی تنظیموں کے لیے روس کے مستقل نمائندے میخائل اولیانوف نے خبردار کیا ہے کہ جوہری تنصیبات پر کسی بھی قسم کا حملہ ’جرم اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی‘ ہو گا۔

    ایکس پر جاری ایک پیغام میں میخائل اولیانوف کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی جوہری تنصیب پر حملہ ایک جرم اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ بوشہر جوہری بجلی گھر پر حملوں کے خلیجی ریاستوں کے لیے تباہ کن نتائج ہو سکتے ہیں۔ انھیں فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔‘

    وہ سوشل میڈیا چلنے والی ان اطلاعات پر ردِعمل دے رہے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ حالیہ حملوں میں بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    تاہم ایرانی خبر رساں ادارے پریس ٹی وی کے مطابق ایران کی ایٹمی توانائی کی ایجنسی نے ان خبروں کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ بوشہر تنصیب کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے۔

  10. ایران کا بندر عباس میں امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    پیر کے روز ایران نے اپنی فضائی حدود میں امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی افواج نے ایک امریکی ڈرون کا پتا لگا کر اسے مار گرایا ہے۔

    یاد رہے کہ امریکی سینٹکام نے کہا تھا کہ اس نے 12 اور 13 جولائی کی درمیانی شب ایران کے خلاف نئی کارروائیاں کی ہیں جن کا مقصد اس ایرانی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز پر بحری جہازوں پر حملے کرتا ہے۔

    اس کے جواب میں ایران نے میزائل اور ڈرونز کے ذریعے ’دشمن کے اڈوں‘ کے خلاف ایک آپریشن شروع کیا ہے جس میں جس میں اس کے بقول اردن، کویت اور بحرین میں اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

  11. امریکہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے: سابق سینٹکام سربراہ

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے سابق کمانڈر جنرل ریٹائرڈ فرینک میکینزی کا کہنا ہے کہ ’اگر صدر (کمانڈر اِن چیف) یہ حکم دیں تو امریکی افواج آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔‘

    سی بی ایس کو دیے ایک انٹرویو میں جنرل میکینزی نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے جزیرہ خارگ پر قبضے کا ایک منصوبہ بھی بیان کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اس آبی گزرگاہ میں امریکی جہازوں کی تعیناتی درکار ہوگی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکی بحریہ ایسا کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ لیکن اس کے پاس ایسا کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔‘

    سابق سینٹکام کمانڈر نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ سفارتی حل کے خواہاں ہیں لیکن تہران کی قیادت عموماً ’فوجی دباؤ کا جواب دیتی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر آپ ایران سے رعایتیں حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو براہِ راست حکومت پر دباؤ ڈالنا ہوگا اور یہ دباؤ اس نوعیت کا ہونا چاہیے کہ ان کے نقطۂ نظر سے یہ ایک اہم اور وجودی مسئلہ بن جائے۔‘

  12. وزیر اعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر قطر روانہ

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اپنے بھائی نواز شریف کے ہمراہ ایک روزہ دورۂ قطر پر روانہ ہوئے ہیں۔

    وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق شہباز شریف اس دورے پر قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آلثانی سے ملاقات کریں گے اور سابق قطری امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کی وفات پر اظہار تعزیت کریں گے۔

    اس دورے پر نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سابق وزیر اعظم نواز شریف ان کے ہمراہ ہیں۔

    خیال رہے کہ پاکستان نے سابق قطری امیر کی وفات پر ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

    گذشتہ روز قطر کے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی کی وفات وئی تھی۔ وہ 1995 سے 2013 تک قطر کے امیر رہے۔ اُن کی عمر 74 برس تھی۔ شیخ حمد بن خلیفہ الثانی جدید کے اہم معماروں میں سے ایک تھے اور ان کے دورِ حکومت میں ملک نے تیز رفتار اقتصادی ترقی دیکھی۔

    ان کے دورِ حکومت میں، ان کے حکم پر 1996 میں ’الجزیرہ انٹرنیشنل نیٹ ورک‘ کا آغاز کیا گیا تھا۔

  13. انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں مظاہروں پر پابندی کے بعد درجنوں گرفتار، کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس معطل, ریاض مسرور/ بی بی سی اُردو، سرینگر

    گذشتہ ہفتے سابق ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ کی آخری رسومات کے موقع پر انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں سرینگر اور دیگر اضلاع میں امریکہ مخالف مظاہرے کیے گئے جن کے بعد مقامی حکومت نے سکیورٹی پابندیاں نافذ کیں اور احتجاجی مظاہروں کی اجازت نہیں دی گئی۔

    کئی علاقوں میں لوگوں نے پابندیوں کے باوجود مظاہرے کرنے کی کوشش کی جس پر پولیس نے طاقت کا استعمال کرکے انھیں منتشر کیا۔ منگل کی رات کو بھی پولیس نے اعلان کیا کہ سکیورٹی پابندیاں جاری رہیں گی۔ حکام نے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں درس و تدریس کا عمل سات مارچ تک معطل رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس دوران موبائل انٹرنیٹ پر لگی پابندی کو بدھ کی صبح جزوی طور پر ہٹایا گیا اور پولیس نے بتایا کہ حالات معمول پر آنے تک ٹوجی سروسز دستیاب رہیں گی۔

    مظاہروں کو روکنے کے لیے منگل کی شب کئی علاقوں میں پولیس نے چھاپوں کے دوران درجنوں نوجوانوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ رکن اسمبلی تنویر صادق نے ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ’ان میں بڑی تعداد نابالغ لڑکوں کی ہے اور ان کے والدین ذہنی تناؤ کا شکار ہوگئے ہیں۔‘

    دریں اثنا پولیس نے رکن پارلیمان آغا رُوح اللہ اور سابق میئر جُنید عظیم متو کے خلاف ’تشدد پر اکسانے‘ اور ’امن عامہ میں رخنہ ڈالنے‘ کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ دونوں نے مظاہروں اور منگل کی جھڑپوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی تھیں۔

    رُوح اللہ اور متو نے الگ الگ بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کی ذاتی محافظت پر تعینات سکیورٹی عملے کو ہٹا دیا گیا ہے۔ جُنید کا کہنا تھا کہ یہ ان کی جانب سے علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد مودی حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھانے کا نتیجہ ہے۔

    ایکس پر آغا رُوح اللہ نے اپنے ردعمل میں لکھا کہ ’جموں کشمیر پولیس اور سِول انتظامیہ میں کچھ بے وقوف لوگ سمجھتے ہیں کہ سکیورٹی ہٹانے اور میرے فیس بُک اکاونٹ کو معطل کرنے سے وہ مجھے اُن کے مظالم کی مذمت کرنے سے روک سکتے ہیں۔ ‘

    گذشتہ دو روز کے دوران مظاہروں کے بارے میں خبریں شائع کرنے پر حکام نے معروف انگریزی اخبارات ’گریٹر کشمیر‘، ’کشمیر لائف‘ اور ’رائزنگ کشمیر‘ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بھی معطل کروایا ہے۔

    ’کشمیر لائف‘ نے ایک بیان میں فیس بک سمیت کئی پلیٹ فارمز کی ملکیت رکھنے والی کمپنی ’میٹا‘ کے مختصر بیان کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’ان ہینڈلز کو انڈیا کے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت معطل کیا گیا ہے۔‘

    ان پابندیوں کو مختلف سیاسی حلقوں نے اظہار رائے کی آئینی آزادی پر قدغن قرار دیا ہے۔

  14. عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بڑھنے کے بعد پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ہفتے کے پہلے کاروباری روز میں مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور 100 انڈیکس میں 2700 پوائنٹس کی کمی آئی ہے۔

    اس مندی کے بعد 100 انڈیکس 179448 پوائنٹس کی سطح تک گِر گیا ہے۔

    مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز منفی زون میں ہوا اور کاروبار حصص کی فروخت کے رجحان کی وجہ سے دباؤ نظر آیا۔

    سٹاک ایکسچینج کے تجزیہ کاروں نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کی نئی لہر کو اس مندی کی وجہ قرار دیا ہے۔ تجزیہ کار جبران سرفراز کے مطابق امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر نئے حملوں کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے جس کا پاکستانی سٹاک مارکیٹ پر منفی اثر ہوا۔

  15. آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران اور امریکہ دوبارہ آمنے سامنے

    ایرانی پاسداران انقلاب نے اتوار کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا تھا کہ بحری تجارت کی اہم گزر گاہ آبنائے ہرمز تمام آمد و رفت کے لیے بند ہے۔ تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ یہ سمندری راستہ کھلا ہے اور اس پر ایران کو کوئی کنٹرول حاصل نہیں ہے۔

    اگرچہ اتوار کو ایک بیان میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کا راستہ تمام جہازوں کے لیے کھلا ہے تاہم شپ ٹریکنگ پلیٹ فارم کپلر کے ڈیٹا کے مطابق گذشتہ روز صرف چھ جہاز بحری وہاں سے گزر سکے ہیں۔

    ایران نے کہا کہ اس نے آبنائے ہرمز اس وقت بند کی جب ایک جہاز غیر منظور شدہ راستے پر سفر کر رہا تھا اور اسے نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے خبردار کیا کہ اس واقعے کے جواب میں کی جانے والی کسی بھی کارروائی پر ’سخت ردعمل‘ دیا جائے گا۔

  16. بینکاک کے ایک بار میں آگ لگنے سے کم از کم 27 افراد ہلاک

    بینکاک میں اتوار کی شب ایک بار میں آتشزدگی سے کم از کم 27 افراد ہلاک جبکہ آٹھ شدید زخمی ہیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق آگ مشہور علاقے چاتوچاک میں واقع اس بار کے سٹیج کے قریب لگی اور پھر تیزی سے پھیل گئی۔ اس دوران بجلی منقطع ہو گئی اور کمرہ دھوئیں سے بھر گیا۔

    آن لائن پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خوفزدہ گاہک چیختے ہوئے شعلوں میں گھِرے مرکزی دروازے سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بعض افراد کے کپڑوں میں بھی آگ لگی ہوئی تھی۔

    فائر فائٹرز، جو آدھی رات کے فوراً بعد موقع پر پہنچے، نے آگ پر جلد قابو پا لیا۔ انھیں زیادہ تر لاشیں ایک باتھ روم سے ملیں جہاں بظاہر وہ پناہ لینے گئے تھے۔

    بینکاک کے محکمہ انسداد آفات کی ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آگ ممکنہ طور پر ایک ایئر کنڈیشنر میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگی تاہم ابھی تک اس کی کوئی سرکاری وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے پر مکمل اور جامع تحقیقات کی جائیں گی۔

  17. اردن کا اپنی فضائی حدود میں ایرانی میزائلوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ

    اردن کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اردن کی فوج نے فضائی حدود میں داخل ہونے والے چار ایرانی میزائلوں کو تباہ کیا ہے۔

    اس کا مزید کہنا ہے کہ ایرانی حملے کے نتیجے میں کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا۔

    اس سے قبل ایران نے اردن میں ایک فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

  18. اتوار سے اب تک چھ ملکوں میں ایرانی حملوں کی اطلاعات

    پیر کے روز ایران نے بحرین، اردن اور کویت میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم اتوار سے اب تک مشرقِ وسطیٰ کے چھ ممالک نشانہ بنائے جانے کی اطلاع دے چکے ہیں جن میں قطر، عمان اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں۔

    روئٹرز کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے تازہ بیان میں کہا ہے کہ اس نے امریکہ کے اتحادی ملک اردن میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اور ڈرون ہینگر تباہ کر دیے ہیں اور کویت میں ایک امریکی ریڈار سائٹ کے ساتھ ساتھ راکٹ لانچر نظام کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

    اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس نے عمان میں امریکی طیارہ بردار جہازوں کی معاونت کرنے والے پلیٹ فارمز پر حملہ کیا ہے اور قطر میں لڑاکا طیاروں کی دیکھ بھال کے کمانڈ سینٹر کو تباہ کیا ہے۔

    قطر کے مطابق وہ اب ثالثی کا کردار ادا نہیں کرے گا۔ اس نے کہا کہ گرتے ہوئے دھاتی ٹکڑوں سے ایک بچہ سمیت تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔ قطر نے کہا کہ اس حملے کی ’مکمل قانونی ذمہ داری‘ ایران پر عائد ہوتی ہے۔

    اتوار کو متحدہ عرب امارات نے کہا تھا کہ اس نے اپنی سرحدوں سے باہر میزائل خطرے کی نشاندہی کی۔ جبکہ بحرین نے کہا کہ اس نے ایران کے کئی فضائی حملوں کو ناکام بنایا ہے۔

    اردن نے میزائل حملوں کی اطلاع دی جبکہ عمان نے کہا کہ اسے ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    بعد ازاں کویت کی فوج نے حملوں سے ہونے والے نقصان کی اطلاع دی اور کہا کہ تیل کی تنصیبات پر حملے میں ایک کارکن زخمی ہو گیا ہے۔

    عمان نے کہا کہ اس نے دو علاقوں میں ڈرون حملوں پر احتجاجاً ایرانی سفیر کو طلب کیا ہے۔ جبکہ عمان میں امریکی سفارت خانے نے دقم اور مسندم میں موجود اپنے شہریوں کو محفوظ پناہ لینے کی ہدایت جاری کی۔

  19. عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں چار فیصد کا اضافہ

    امریکہ کی ایران کے خلاف کارروائی اور تہران کے جوابی حملوں کے بعد پیر کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں چار فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کے کی قیمت چار فیصد اضافے کے ساتھ 79.11 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل بھی چار فیصد اضافے کے بعد 74.36 ڈالر فی بیرل فروخت ہو رہا ہے۔

  20. امریکی حملوں کے بعد ایران کی جوابی کارروائیاں: ہمیں اب تک کیا معلوم ہے؟

    امریکی سینٹکام کے مطابق 12 اور 13 جولائی کی درمیانی شب ایران کے خلاف نئی کارروائیاں کی گئیں جن کا مقصد اس ایرانی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز پر بحری جہازوں پر حملے کرتا ہے۔

    سینٹکام کے مطابق اس دوران مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے لڑاکا طیاروں، بحری جہازوں، فضائی ڈرونز اور پہلی مرتبہ بار ’سمندری ڈرونز‘ کا استعمال کیا۔ اس کے مطابق ان حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار تنصیبات، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں اور چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا۔

    دوسری طرف ایران کا کہنا ہے کہ میزائل اور ڈرونز کے ذریعے ’دشمن کے اڈوں‘ کے خلاف ایک آپریشن کا اعلان کیا ہے جس میں اس کے بقول اردن، کویت اور بحرین میں اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

    ایران نے ان کارروائیوں میں اردن کے شہزادہ حسن ایئر بیس، بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئر بیس اور کویت میں دو فضائی اڈوں کا ذکر کیا ہے۔

    ایران نے آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا تھا جس پر امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ’آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے۔ ایران اس پر کنٹرول نہیں رکھتا۔‘