ایران کی آبنائے ہرمز پر عمان کے ساتھ ’مثبت‘ مذاکرات کی تصدیق، تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر عمان کے ساتھ ’مثبت‘ مذاکرات ہوئے ہیں۔ اس سے قبل امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو اور سیکریٹری خزانہ سکاٹ بیسنٹ دونوں نے اعلان کیا تھا کہ مذاکرات میں اتنی پیش رفت ہوئی ہے کہ آبنائے ہرمز پر جہاز رانی کا سلسلہ ممکنہ طور پر اسی ہفتے دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔

خلاصہ

  • علاقائی سالمیت کا دفاع کریں گے تاہم تنازع کو وسعت دینے کا ارادہ نہیں: ایرانی صدر پزشکیان
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، تباہ کن کارروائی سے پہلے آخری موقع دینا چاہتا ہوں: ٹرمپ
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً ایک فیصد اضافہ
  • پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں چار اگست کے لیے کمی کا اعلان: پیٹرول چار روپے آٹھ پیسے، ڈیزل دو روپے 45 پیسے سستا
  • نواز شریف نے محسن نقوی کا بیان نظر انداز کرنے کا کہا ہے: رانا ثنا اللہ

لائیو کوریج

  1. ٹرمپ کا ایرانی قیادت پر ’منافقت‘ برتنے کا الزام:’پہلے ملاقات کی درخواست کرتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ مذاکرات نہیں ہو رہے‘

    امریکہ ایران پرچم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل نیٹ ورک ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایران کی قیادت پر ’منافقت‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

    امریکی صدر نے اپنے بیان میں لکھا کہ ’ایرانی قیادت ناقابلِ یقین حد تک دوہرا معیار رکھتی ہے۔ وہ ملاقات کی درخواست کرتے ہیں، بات چیت شروع ہوتی ہے اور فوری مستقبل میں مزید ملاقاتیں بھی طے ہیں، لیکن پھر وہ کھلے عام کہتے ہیں کہ وہ کوئی بات چیت نہیں کر رہے اور صرف ’عمان‘ کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔‘

    ٹرمپ نے مزید الزام عائد کیا کہ ’پھر وہ (ایران) اپنی معمول کی باتیں کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کو وہ طاقت کے ساتھ چلائیں گے جبکہ یہ پہلے ہی مکمل طور پر امریکی بحریہ اور ہماری ’ناکہ بندی‘ کے کنٹرول میں ہے۔‘

    امریکی صدر نے مزید لکھا کہ ’ایران تک کچھ نہیں پہنچتا جب تک ہم ایسا نہ چاہیں، اور کچھ بھی نہیں پہنچے گا جب تک کوئی معاہدہ نہ ہو جائے۔ ایران یہ تسلیم کرے یا نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم ایک ایسے مسئلے کے حل پر بات کر رہے ہیں جو دہائیوں سے انھوں نے خود پیدا کیا ہے۔‘

    انھوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر لکھا کہ ’بات بہت سادہ ہےکہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔‘

  2. اسحاق ڈار کی عراقچی کو پاکستان آنے کی دعوت

    پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پیر کے روز ایران کے وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی ہے۔

    پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ’دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا جن میں مقبوضہ مشرقی یروشلم کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال بھی شامل تھی۔‘

    ’نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ نے وزیرِ خارجہ عراقچی کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔‘

  3. امریکہ کی جنگ پورے خطے کے خلاف ہے: ایران

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ محض ایک ملک تک محدود نہیں۔

    انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’یہ جنگ پورے خطے کے خلاف اور خطے کے تمام ممالک کی سلامتی کے خلاف ہے۔‘

    بقائی نے مزید کہا کہ ’ان پانچ مہینوں میں ہم نے خود دیکھا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی اور خلیج فارس کے جنوبی کنارے پر واقع ممالک کی سرزمین اور تنصیبات کے استعمال نے خطے کے تمام ممالک کے لیے عدم تحفظ اور عدم استحکام میں اضافہ کیا ہے۔‘

    ’لہٰذا یہ فطری بات ہے کہ خطے کے ممالک اس صورتِ حال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے کوششیں کرنا چاہتے ہیں۔‘

  4. ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث پاکستان ہی ہے: بقائی

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ’ایران اور امریکہ سے متعلق معاملات میں پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ جہاں ضرورت ہو قطر مدد کرتا ہے۔‘

    نیوز کانفرنس کے دوران بقائی نے زور دیا کہ مذاکرات میں کوئی نیا ثالث شامل نہیں اور کہا کہ چین کو ’خطے میں تنازع اور عدم تحفظ میں اضافے‘ پر تشویش ہے۔

    ’ہمارے چینی دوست صورتِ حال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے اپنی صلاحیتیں استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’اس حوالے سے چین، کئی دیگر ممالک کی طرح، مدد کر رہا ہے۔‘

    دریں اثنا انھوں نے کہا کہ ایران فی الحال امریکہ سے کوئی مذاکرات نہیں کر رہا۔ ’ہم ان دنوں نہ کسی وفد کی میزبانی کرنے جا رہے ہیں اور نہ ہی کسی ملک کے مہمان بننے جا رہے ہیں۔‘

  5. پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز میں امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنامریکی ایم کیو نائن ڈرون (فائل فوٹو)

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے آبنائے ہرمز کے اوپر پرواز کرنے والے امریکی ایم کیو نائن ڈرون کو مار گرایا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری ہونے والے بیان سے متعلق بی بی سی فارسی نے یہ خبر دی ہے کہ ’ڈرون کو ایرانی فضائیہ کے نئے اور جدید دفاعی نظام کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

    تاہم پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ ڈرون کو کب اور کس وقت مار گرایا گیا۔

    دوسری جانب خطے میں امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹکام نے تاحال پاسدارانِ انقلاب کے اس دعوے کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید۔

  6. ایران اور عراق کے وزرائے خارجہ کا خطے کی صورتحال پر ٹیلیفونک رابطہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور عراق کے وزیرِ خارجہ فؤاد حسین کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہوا، جس میں خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے، علاقائی سطح پر رابطہ کاری مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے اہم امور پر بھی گفتگو کی۔

    اس موقع پر دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ خطے سے متعلق مشترکہ ترجیحات اور اہم معاملات پر ایران اور عراق کے درمیان مسلسل مشاورت اور قریبی تعاون جاری رکھا جائے۔

  7. اس وقت امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے: ایران

    اسماعیل بقائی

    ،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے منسوخ کرنے کے اعلان کے بعد گذشتہ شب کہا تھا کہ ایران کے ساتھ نئے مذاکرات پیر کے روز شروع ہوں گے۔

    اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران اس وقت آبنائے ہرمز کے بارے میں عمان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جو گذشتہ آٹھ روز سے جاری ہیں۔

    انھوں نے کہا: ’ہماری کوشش ہے کہ عمان کے ساتھ مشاورت اور تعاون سے جلد از جلد ایسا راستہ طے کیا جائے جس کے ذریعے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔‘

    انھوں نے کہا کہ عمان کے ساتھ کسی مفاہمت کا مطلب آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھل جانا نہیں ہے۔

    اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ متفقہ راستہ ’نہ موجودہ شمالی راستہ ہو گا اور نہ موجودہ جنوبی راستہ، بلکہ ایک نیا راستہ ہو گا جس پر دونوں فریق متفق ہوں گے۔‘

  8. آبنائے ہرمز کبھی بھی جنگ سے پہلے والی حالت میں واپس نہیں آئے گی: ایران

    اسماعیل بقائی

    ،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ’کسی بھی صورت 28 فروری سے پہلے والی حالت میں واپس نہیں آئے گی۔‘

    28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی جس کے ردعمل میں ایران نے یہ اہم آبی گزر عملاً بند کر دی تھی اور اعلان کیا تھا کہ وہ اس آبنائے سے گزرنے والی آمد و رفت کو کنٹرول کرنے اور جہازوں پر فیس عائد کرنے کا حق رکھتا ہے۔

    امریکہ اور اس کے خلیجی اتحادی، نیز یورپ اور ایشیا کی حکومتیں اس کی مخالفت کرتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ آبنائے سے گزرنے کا حق دوبارہ ویسا ہی آزاد اور کھلا ہونا چاہیے جیسا کہ تنازع شروع ہونے سے پہلے تھا۔

    جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے بعد ایرانی حکومت نے آبی گزرگاہ کے شمالی حصے میں ایرانی ساحل کے قریب ایک راستہ مقرر کیا اور کہا کہ تمام بحری آمد و رفت کے لیے اسی کو استعمال کیا جائے گا۔

    بی بی سی کے امریکہ میں شراکت ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق ایرانی سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کے دوسری جانب واقع عمان کے ساتھ اس آبی گزرگاہ سے جہاز رانی کے معاملے پر بات چیت کر رہا ہے، تاہم فی الحال اس اہم بحری راستے کو دوبارہ کھولنے کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں ہو رہی۔

  9. کشمیر انتخابات کی کوریج پر وزارت اطلاعات کی تنقید کے بعد پاکستان میں الجزیرہ کی انگریزی ویب سائٹ تک رسائی متاثر

    الجزیرہ

    ،تصویر کا ذریعہPhotothek via Getty Images

    پاکستانی وزارت اطلاعات کی جانب سے کشمیر میں انتخابات پر الجزیرہ کی کوریج کو ’زرد صحافت‘ قرار دیے جانے کے بعد پاکستان بھر میں اس قطری نشریاتی ادارے کی انگریزی ویب سائٹ تک رسائی ممکن نہیں رہی ہے۔

    صحافی بے نظیر شاہ نے ایکس پر تصویر پوسٹ کی جس پر لکھا تھا: ’اس ویب سائٹ تک رسائی ممکن نہیں۔‘ بے نظیر شاہ کے مطابق یہ پیغام اس وقت سامنے آیا جب انھوں نے الجزیرہ انگلش کی ویب سائٹ کھولنے کی کوشش کی۔

    ایک اور پاکستانی صحافی عامر ضیا نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوچھا: ’کیا الجزیرہ کی ویب سائٹ پاکستان میں بند کر دی گئی ہے؟ میں اس تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہا۔‘

    الجزیرہ نے رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہر مظفرآباد کے رہائشیوں نے ہڑتال کے باعث انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے۔ رپورٹ میں راولاکوٹ میں متعدد افراد کے ہلاک کیے جانے کا دعویٰ بھی کیا گیا تھا اور کئی ایسے افراد کی رائے بھی شامل کی گئی تھی جن کے مطابق انھوں نے ووٹنگ کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔

    اس پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے الجزیرہ کی رپورٹنگ کو ’زرد صحافت‘ قرار دیا۔

    گذشتہ روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں وزارت نے کہا: ’ہم نے آج مظفرآباد میں الجزیرہ کی جانب سے چند مخصوص پولنگ سٹیشنوں سے کی گئی یک طرفہ رپورٹنگ کا نوٹس لیا ہے۔‘

    وزارتِ اطلاعات و نشریات نے الزام لگایا کہ ’مخصوص افراد کے پہلے سے طے شدہ بیانات‘ کے ذریعے الجزیرہ نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے انتخابات اور ووٹنگ کے عمل کو غلط انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

    ایکس پر جاری بیان میں مزید کہا گیا: ’اس قسم کی زرد صحافت صرف ان بیرونی عناصر کے ایجنڈے کی توثیق کرتی ہے جن کے مخصوص مفادات ہیں اور جو اس انتخابی عمل کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    الجزیرہ کی جانب سے تاحال اس پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

  10. اسرائیل کے لیے جاسوسی کا الزام، ایران میں دو افراد کو پھانسی دے دی گئی

    پھانسی کا پھندا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی عدلیہ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے لیے جاسوسی کے جرم پر امید بہزاد اور پوریا صفوت کو آج علی الصبح پھانسی دے دی گئی۔

    ایران کی عدلیہ سے وابستہ خبر رساں ادارے میزان کے مطابق یہ دونوں افراد ’موساد کے افسروں اور اس خفیہ ادارے سے وابستہ مواصلاتی چینلز کو فوجی اور سکیورٹی مراکز کے محلِ وقوع، تصاویر اور معلومات فراہم کرتے تھے۔‘

    انسانی حقوق کے کارکنوں، اداروں اور وکلا نے ایران میں سزائے موت پر عمل درآمد کے حوالے سے متعدد بار تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معمول کے عدالتی عمل کی تکمیل کے بغیر زیرِ حراست افراد کو تیزی سے سزائے موت دینا، فیصلوں کے لیے جبری اعترافات پر انحصار کرنا اور وکیل تک رسائی نہ دینا ایسے مقدمات میں ملزمان کے حقوق مجروح ہونے کا باعث بنتا ہے۔

  11. جاپانی کرنسی ین کی قدر میں کمی روکنے کے لیے امریکہ کی مداخلت

    جاپانی ین

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    جاپان اور امریکہ نے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ ہفتے جب جاپانی کرنسی ین مزید کمزور ہو کر 40 برس کی نئی کم ترین سطح پر پہنچ گئی تھی تو دونوں ممالک نے اس کی قدر میں کمی روکنے کے لیے مشترکہ مداخلت کی۔

    جاپان کی وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق امریکی محکمۂ خزانہ کے ساتھ مل کر جاپانی ین خریدا گیا۔

    یہ سنہ 2011 کے بعد دونوں ممالک کی جانب سے اس نوعیت کی پہلی مشترکہ مداخلت ہے۔ اُس وقت مشرقی جاپان میں آنے والے تباہ کن زلزلے اور سونامی کے بعد دونوں ملکوں نے باہمی رابطے سے ین کی قدر کم کرنے کے لیے اقدام کیا تھا۔

    جاپان کی وزارتِ خزانہ اور امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ، دونوں نے کہا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی ایسے اقدامات سے گریز نہیں کریں گے۔

    یہ اقدام دونوں ممالک کی ان کوششوں کو ظاہر کرتا ہے جن کا مقصد ین اور جاپانی حکومتی بانڈز کی فروخت کے عالمی معیشت پر اثرات کو روکنا ہے۔

    تاریخی طور پر ین کی کمزوری کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جاپان میں مرکزی بینک کی شرحِ سود امریکہ جیسی بڑی معیشتوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اس کی وجہ سے جاپانی کرنسی بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے کم پُر کشش ہو جاتی ہے۔

    بینک آف جاپان نے جون میں شرحِ سود میں آخری بار اضافہ کیا تھا اور اپنی بنیادی شرح کو ایک فیصد تک پہنچا دیا تھا، جو ستمبر 1995 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ اس کے مقابلے میں امریکی فیڈرل ریزرو کی بنیادی شرحِ سود 3.50 فیصد سے 3.75 فیصد کے درمیان ہے۔

    پیر کے روز جاپان کی وزارتِ خزانہ نے کہا کہ امریکی محکمۂ خزانہ کے ساتھ جمعہ کی مداخلت نے ’حالیہ مہینوں میں جاپانی ین کی قدر میں ضرورت سے زیادہ اتار چڑھاؤ اور غیر منظم نقل و حرکت کا مقابلہ کیا۔‘

    سکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’ہم ین کی نمایاں حد تک کم قدر کو درست کرنے کے لیے جاپان کے فیصلہ کن مالیاتی اور مارکیٹ اقدامات کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’ان کی کرنسی ین کمزور ہو رہی تھی اور انھیں تھوڑی مدد درکار تھی۔ اور ہم ہمیشہ جاپان کے ساتھ ہوتے ہیں۔‘

    ٹرمپ کے تبصروں کے بعد ڈالر کی قدر 0.2 فیصد کم ہو کر 157.07 ین پر آئی۔ یہ گذشتہ ماہ کی 40 سالہ بلند ترین سطح 164 ین سے خاصی نیچے تھی، تاہم جاپانی وزارتِ خزانہ کے بیان کے بعد ڈالر دوبارہ بڑھ کر 157.70 ین ہو گیا۔

    بینک آف جاپان کے اعداد و شمار سے اشارہ ملتا ہے کہ ٹوکیو نے ممکنہ طور پر جمعرات کو تقریباً 59 ارب امریکی ڈالر فروخت کر کے ین خریدا تھا، جس کے بعد جمعہ کو واشنگٹن کے ساتھ مشترکہ مداخلت کی تصدیق کی گئی۔

    امریکہ نے اپنی مداخلت کے حجم کی تصدیق نہیں کی، تاہم جمعہ کو کابینہ کے ایک اجلاس کے دوران سکاٹ بیسنٹ کے سامنے موجود ایک نوٹ پیڈ کی (خبر رساں ادارے) روئیٹرز کی تصویر میں یہ عبارت دیکھی گئی: ’کرنے والے کام، پانچ تا 10 ارب ڈالر مالیت کے جاپانی ین خریدنے ہیں۔‘

    امریکی وزیر خزانہ کی ٹو ڈو لسٹ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  12. تہران، ریاض اور اسلام آباد کے درمیان ٹیلی فونک رابطوں کا سلسلہ جاری

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا اپنے سعودی ہم منصب کے ساتھ ساتھ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلی فونک رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    ارنا نے رپورٹ کیا کہ عباس عراقچی نے اتوار کی شب دوسری بار سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔

    اتوار کے روز عباس عراقچی نے پاکستان کے وزیر خارجہ کے ساتھ بھی ٹیلی فونک مشاورت کی تھی، اور پھر ان کی پاکستان کے آرمی چیف اور اسلام آباد کے مذاکراتی عمل میں با اثر شخصیت فیلڈ مارشل عاصم منیر سے گفتگو کی خبر بھی سامنے آئی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کو مدنظر رکھتے ہوئے بظاہر آئندہ چند گھنٹوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کا ایک نیا دور شروع ہو سکتا ہے۔ امریکی صدر کے مطابق یہ مذاکرات آبنائے ہرمز اور ایران کے جوہری پروگرام پر مرکوز ہوں گے۔

  13. ایران پر حملے منسوخ ہونے اور مذاکرات کی بحالی کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

    تیل کی قیمت

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر نئے حملے منسوخ کرنے اور مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

    امریکی خام تیل کی قیمت پانچ فیصد کمی کے بعد 80.79 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بھی پانچ فیصد کم ہو کر 83.87 ڈالر فی بیرل رہ گئی۔

  14. ایران کے ساتھ نئے مذاکرات آج سے شروع ہوں گے: امریکی صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہAnna Moneymaker/Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ نئے مذاکرات آج شروع ہوں گے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایران پر حملوں کی منسوخی کے بارے میں گذشتہ شب کیے گئے ان کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس وقت آبنائے ہرمز کے بارے میں ایک معاہدہ موجود ہے اور ایران کے جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونے کے بارے میں بھی ایک معاہدہ حاصل کر لیا جائے گا۔

    اتوار کے روز اپنے صدارتی طیارے ایئرفورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: ’ظاہر ہے کہ وہ حملے کا نشانہ نہیں بننا چاہتے۔ وہ حملے کے حجم سے آگاہ تھے، کیونکہ وہ اس کی تیاریاں دیکھ رہے تھے۔ اب ہم ان سے بات کر رہے ہیں؛ یہ مذاکرات کل دوپہر (یعنی پیر کے روز) سے شروع ہوں گے۔‘

  15. ایتھنز کے قریب جنگلات میں لگی آگ بجھانے کے دوران دو ہیلی کاپٹروں کے تصادم میں دو افراد ہلاک

    حادثے کے بعد سڑک کے کنارے تباہ شدہ ہیلی کاپٹر

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنحادثے کے بعد سڑک کے کنارے تباہ شدہ ہیلی کاپٹر

    یونان کے دار الحکومت ایتھنز کے قریب جنگلات میں لگی آگ بجھانے کے دوران دو ہیلی کاپٹر آپس میں ٹکرا گئے، جس کے نتیجے میں عملے کے دو ارکان ہلاک ہو گئے۔

    یونان کے وزیرِ اعظم کیریاکوس میتسوتاکیس نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک یونانی کوآرڈینیٹر اور ایک ڈینش پائلٹ شامل ہیں۔

    یونان

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    حکام کے مطابق ہیلی کاپٹروں میں سوار دو افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔ ان میں ایک برطانوی پائلٹ اور ایک یونانی فائر سروس رابطہ افسر شامل ہیں۔

    وزیرِ اعظم میتسوتاکیس نے اس افسوسناک واقعے پر اپنے ’گہرے رنج و غم‘ کا اظہار کیا ہے۔

    فائر سروس کے مطابق دونوں ہیلی کاپٹر اٹیکا کے علاقے پساتا کے وسیع علاقے میں لگی جنگلاتی آگ بجھانے میں مصروف تھے جب یہ حادثہ پیش آیا۔ ہر ہیلی کاپٹر میں دو افراد سوار تھے۔

    اس موسمِ گرما میں یونان کے کئی علاقوں کے جنگلات میں آگ بھڑک اٹھی ہے۔ یونانی ماہرِ موسمیات تھیوڈور جیاناروس نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اب تک 100,000 ہیکٹر سے زائد رقبہ آگ کی لپیٹ میں آ کر جل چکا ہے۔

    جن دو ہیلی کاپٹروں کو حادثہ پیش آیا، وہ پساتا (Psatha) کے علاقے میں آگ بجھانے میں مصروف تھے

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

  16. ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے متعلق نئے بحری راستے پر معاہدے کے قریب، عراقچی

    ایران، عمان

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں۔

    تہران میں کابینہ کے اجلاس کے آغاز پر گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان ہونے والی بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور اس حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مذاکرات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ تہران اور مسقط کے درمیان بات چیت کا مقصد خلیج فارس اور بحیرہ عمان کو ملانے والی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں ایک مخصوص بحری راہداری پر اتفاق کرنا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ عمانی سمندری حدود میں واقع جنوبی راستے کے حوالے سے ایران کو سلامتی اور قومی مفادات سے متعلق تحفظات ہیں، اسی لیے تہران موجودہ جنوبی روٹ کو قابل قبول نہیں سمجھتا۔

    اسماعیل بقائی کے مطابق زیر غور تجویز کے تحت نہ موجودہ شمالی راستہ اختیار کیا جائے گا اور نہ ہی جنوبی راستہ برقرار رہے گا، بلکہ دونوں ممالک کی باہمی مشاورت سے ایک نیا بحری راستہ طے کیا جائے گا۔

    ایرانی ترجمان نے واضح کیا کہ ایران اور عمان کے درمیان ہونے والی اس مفاہمت کا براہ راست تعلق آبنائے ہرمز کی بندش یا بحالی سے نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال ایران کے بقول امریکہ کی جانب سے معاہدوں کی خلاف ورزی اور پابندیوں سے جڑی ہوئی ہے، جبکہ عمان کے ساتھ مذاکرات ایک الگ معاملہ ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ایران اور عمان کے درمیان کسی نئے بحری راستے پر اتفاق آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کی بحالی کے لیے ایک ضروری پیش رفت ہو سکتی ہے، تاہم صرف یہ معاہدہ آبی گزرگاہ کو مکمل طور پر فعال بنانے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔

    ادھر اسرائیلی ٹی وی چینل 12 نے دو سفارتی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے ایران کی آمادگی سے آگاہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ایران اور عمان کے درمیان مجوزہ انتظام کے تحت بحری جہاز آبنائے ہرمز میں ایران کے زیر نگرانی حصے سے داخل ہوں گے اور عمانی جانب سے گزر کر کھلے سمندر میں جائیں گے۔

    چینل 12 کی رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس پیش رفت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف مجوزہ فوجی کارروائی روکنے کے فیصلے میں کردار ادا کیا۔

    اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا تھا کہ ایران اور خطے کے بعض دیگر ممالک کی درخواست پر وہ فوجی اقدام روکنے پر آمادہ ہوئے، بشرطیکہ فریقین جلد کسی سمجھوتے پر پہنچ جائیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک ابتدائی فریم ورک پر اتفاق ہو چکا ہے جس میں آبنائے ہرمز کو فوری طور پر مکمل طور پر کھولنا بھی شامل ہے۔

    آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی توانائی تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اسی لیے اس آبی راستے سے متعلق کسی بھی پیش رفت پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

  17. خاران میں مسلح حملہ آوروں کا پولیس اور سی ٹی ڈی تھانوں پر حملہ، عمارتوں کو نقصان، پانچ افراد زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

    بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہRabbani Arif

    بلوچستان کے ضلع خاران میں نامعلوم مسلح افراد نے سٹی پولیس سٹیشن اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے تھانے پر حملہ کرکے عمارتوں کو نقصان پہنچایا اور ان کے بعض حصوں کو نذرِ آتش کر دیا۔

    محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کے عزائم ناکام بنا دیے۔

    خاران

    ،تصویر کا ذریعہRabbani Arif

    ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مسلح افراد کی بڑی تعداد سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب خاران شہر میں داخل ہوئی اور دونوں تھانوں کو نشانہ بنایا۔

    حملے کے دوران سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان مختلف مقامات پر جھڑپیں بھی ہوئیں، جن کے نتیجے میں ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والی خواتین اور بچوں سمیت پانچ افراد زخمی ہو گئے۔

    خاران

    ،تصویر کا ذریعہRabbani Arif

    حملہ کب اور کیسے ہوا؟

    ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ رات 12 بجے کے بعد نامعلوم مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد خاران شہر میں داخل ہوئی۔ حملہ آوروں نے پہلے سٹی پولیس سٹیشن کو نشانہ بنایا اور بعد ازاں اس کے قریب واقع سی ٹی ڈی تھانے پر حملہ کیا۔

    اہلکار کے مطابق حملہ آور سٹی پولیس اسٹیشن میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے، جہاں انھوں نے توڑ پھوڑ کے ساتھ ساتھ فرنیچر اور سرکاری ریکارڈ کو آگ لگا دی۔ اسی طرح سی ٹی ڈی تھانے میں بھی فرنیچر اور ریکارڈ کو نقصان پہنچایا گیا اور عمارت کے بعض حصوں میں آگ لگا دی گئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز، سی ٹی ڈی اور پولیس اہلکاروں کی اضافی نفری کے پہنچنے سے قبل حملہ آور موقع سے فرار ہو چکے تھے۔

    تاہم شہر کے بعض علاقوں میں سکیورٹی اہلکاروں اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایک گھر میں موجود خواتین اور بچوں سمیت پانچ افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    بابر یوسفزئی کے مطابق سکیورٹی فورسز اور پولیس کی جوابی کارروائی کے باعث حملہ آور اپنے منصوبے میں کامیاب نہ ہو سکے اور فرار ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    خاران، بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہRabbani Arif

    خاران کہاں واقع ہے؟

    خاران، بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً 300 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ یہ نہ صرف ضلع خاران بلکہ رخشان ڈویژن کا بھی ہیڈکوارٹر ہے۔

    خاران کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو گذشتہ کئی برسوں سے بدامنی اور شورش سے متاثر رہے ہیں۔ رواں سال جنوری میں بھی خاران شہر میں ایک بڑا حملہ ہوا تھا، جس میں پولیس سٹیشن اور متعدد بینکوں کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔

    شہر اور اس کے گردونواح میں طویل عرصے سے وقفے وقفے سے سکیورٹی سے متعلق سنگین واقعات پیش آتے رہے ہیں، جس کے باعث یہ علاقہ صوبے کے حساس ترین اضلاع میں شمار کیا جاتا ہے۔

  18. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کی انتظامیہ کے مطابق کبل پولیس سٹیشن کے باہر ہونے والے دھماکے میں 14 افراد ہلاک اور 15 سے زائد زخمی ہو گئے۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک نے ہم سے درخواست کی ہے کہ ہم حملہ روک دیں، کیونکہ ایک معاہدے کے بنیادی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے۔‘ ٹرمپ کے مطابق اس درخواست کی بنیاد پر ایران کے خلاف حملے کا منصوبہ مؤخر کر دیا ہے۔
    • ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سنیچر کے روز ترکی کے وزیر خارجہ اور پاکستان کے آرمی چیف سے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک رابطوں میں امریکہ کو کسی بھی ’مہم جوئی‘ سے باز رہنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران کسی بھی جارحیت کا ’فیصلہ کن جواب‘ دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔‘
    • پیرو کے مقامی میڈیا اور حکام کے مطابق پیرو میں سیاحوں کو لے جانے والا ایک چھوٹا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا۔ اس حادثے کے نتیجے میں جہاز میں سوار تمام 13 افراد ہلاک ہو گئے۔
    • روس کے سرکاری میڈیا کے مطابق ماسکو میں ایک ریستوران میں ہونے والے بم دھماکے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور 15 زخمی ہو گئے۔
  19. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔