سونامی کیا ہے اور یہ کیوں آتی ہے؟

’سونامی‘ ایک جاپانی لفظ ہے جو دو لفظوں کا مجموعہ ہے۔ ’سو‘ کے معنی ساحل یا بندرگاہ کے ہیں اور ’نامی‘ بلند اور طويل القامت سمندری لہروں کو کہتے ہيں۔
سونامی کے لغوی معنی بندرگاه كو اتھل پتھل كر دينے والی ديوقامت سمندری لہروں کے ہيں۔ سونامی زلزلے، لینڈ سلائیڈنگ یا آتش فشاں پھٹنے سے پیدا ہو سکتے ہیں۔
سونامی کا لفظ سمندر کی سطح کے نیچے آنے والے زلزلوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی لہروں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس قسم کی لہریں مختلف رفتار سے سفر کرتی ہیں لیکن اُن کی رفتار شروع میں بہت زیادہ ہوتی ہے جو بعد میں آہستہ آہستہ کم ہوتی جاتی ہے۔ یہ لہریں جب ساحل سے ٹکراتی ہیں تو ان لہروں کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ایک سونامی اس وقت بنتا ہے جب سمندر کی سطح کے نیچے زلزلہ آتا ہے اور اس سے پیدا ہونے والی توانائی عمودی طور پر کئی میٹر تک سمندری تہہ کو ہلا کر رکھ دیتی ہے اور اس کے نتیجے میں ہزاروں کیوبک کلومیٹر پانی میں زور دار ہلچل پیدا ہوتی ہے۔
اقوام متحدہ نے سونامی کو ایسے بیان کیا ہے ’وہ سمندری لہریں جو اکثر پانی کی دیوار کی مانند دکھتی ہیں اور جو ساحلی پٹی پر حملہ آور ہونے کے ساتھ ساتھ کئی گھنٹوں تک خطرناک ہو سکتی ہیں۔‘
سونامی کی صورت میں پیدا ہونے والی پہلی لہر ہمیشہ سب سے بڑی یا طاقتور نہیں ہوتی۔ سنہ 2004 میں بحر ہند سونامی کی دوسری لہر سب سے بڑی اور طاقتور تھی البتہ سنہ 1964 میں آلاسکا میں آنے والے سونامی کی چوتھی لہر سب سے بڑی اور طاقتور تھی۔










