فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا مطلب کیا ہے اور کیا یہ ماضی میں دیگر ممالک بھی کر چکے ہیں؟
لگ بھگ 140 ممالک باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں حالانکہ بہت سے یورپی ممالک اور امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اسے صرف اسرائیل کے ساتھ تنازع کے طویل مدتی حل کے حصے کے طور پر تسلیم کریں گے۔
سپین، آئرلینڈ اور ناروے نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے سفارتی دباؤ بڑھانے کے لیے گذشتہ سال یہ قدم اٹھایا تھا۔
فرانس نے تاحال فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کیا لیکن صدر ایمانوئل میکخواں کا کہنا ہے کہ وہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس کا باضابطہ اعلان کریں گے۔
برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر نے اب یہی کہا ہے کہ برطانیہ بھی ایسا کرے گا، بشرطیکہ اسرائیل متعدد شرائط پر پورا نہ اترے۔
فلسطین کے نمائندوں کو فی الحال اقوام متحدہ کی سرگرمیوں میں محدود حقوق حاصل ہیں اور فلسطین کو عرب لیگ سمیت مختلف بین الاقوامی تنظیموں نے بھی تسلیم کیا ہے۔
ناقدین کا خیال ہے کہ فلسطینی ریاست کی قیادت اور اس کے دائرہ کار سے متعلق سوالات حل کیے بغیر اسے تسلیم کرنا زیادہ تر ایک علامتی اقدام ہوگا۔
گذشتہ ہفتے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے برطانیہ کے سابق فارن آفس کے سربراہ لارڈ میک ڈونلڈ نے کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا بذاتِ خود ’زیادہ اہمیت نہیں رکھتا‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام ’اسرائیلیوں اور امریکیوں کو شدید غصہ دلائے گا اور لوگ پوچھیں گے کہ ایسا کرنے کی وجہ کیا ہے، اس کے بعد کیا ہو گا اور اس کے بعد کے اقدامات کرنا بہت مشکل ہو گا۔‘