آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ایرانی صدر مسعود پزشکیان سنیچر کو دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے

ایران کے صدر مسعود پزشکیان سنیچر کو دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں جہاں وہ صدر آصف زرداری، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے۔ بطور صدر مسعود پزشکیان کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے

خلاصہ

  • ہائبرڈ نظام ملک سے اپوزیشن کا خاتمہ چاہتا ہے: آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ
  • غزہ میں تقسیم کے متنازع مقامات پر امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کا دورہ
  • 5 اگست کو توڑ پھوڑ کا کوئی ارادہ نہیں،عمران خان جیل میں ثابت قدم ہیں: سلمان اکرم راجہ
  • اگست میں پنجاب میں مون سون کی بارشوں کا نیا سلسلہ، لینڈ سلائیڈنگ اور اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ
  • ایرانی صدر مسعود پژشکیان سنیچر کو دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے
  • یوکرین میں حکام کا کہنا ہے کہ کیئو کے متعدد اضلاع پر روسی ڈرونز اور میزائلوں کے حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 26 ہوگئی ہے جن میں تین بچے بھی شامل ہیں۔
  • پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں شیخانی پولیس پوسٹ پر ڈاکوؤں کے حملے میں ایلیٹ فورس کے پانچ اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ پولیس کی جوابی فائرنگ میں ایک ڈاکو مارا گیا۔

لائیو کوریج

  1. سونامی کیا ہے اور یہ کیوں آتی ہے؟

    ’سونامی‘ ایک جاپانی لفظ ہے جو دو لفظوں کا مجموعہ ہے۔ ’سو‘ کے معنی ساحل یا بندرگاہ کے ہیں اور ’نامی‘ بلند اور طويل القامت سمندری لہروں کو کہتے ہيں۔

    سونامی کے لغوی معنی بندرگاه كو اتھل پتھل كر دينے والی ديوقامت سمندری لہروں کے ہيں۔ سونامی زلزلے، لینڈ سلائیڈنگ یا آتش فشاں پھٹنے سے پیدا ہو سکتے ہیں۔

    سونامی کا لفظ سمندر کی سطح کے نیچے آنے والے زلزلوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی لہروں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس قسم کی لہریں مختلف رفتار سے سفر کرتی ہیں لیکن اُن کی رفتار شروع میں بہت زیادہ ہوتی ہے جو بعد میں آہستہ آہستہ کم ہوتی جاتی ہے۔ یہ لہریں جب ساحل سے ٹکراتی ہیں تو ان لہروں کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

    ایک سونامی اس وقت بنتا ہے جب سمندر کی سطح کے نیچے زلزلہ آتا ہے اور اس سے پیدا ہونے والی توانائی عمودی طور پر کئی میٹر تک سمندری تہہ کو ہلا کر رکھ دیتی ہے اور اس کے نتیجے میں ہزاروں کیوبک کلومیٹر پانی میں زور دار ہلچل پیدا ہوتی ہے۔

    اقوام متحدہ نے سونامی کو ایسے بیان کیا ہے ’وہ سمندری لہریں جو اکثر پانی کی دیوار کی مانند دکھتی ہیں اور جو ساحلی پٹی پر حملہ آور ہونے کے ساتھ ساتھ کئی گھنٹوں تک خطرناک ہو سکتی ہیں۔‘

    سونامی کی صورت میں پیدا ہونے والی پہلی لہر ہمیشہ سب سے بڑی یا طاقتور نہیں ہوتی۔ سنہ 2004 میں بحر ہند سونامی کی دوسری لہر سب سے بڑی اور طاقتور تھی البتہ سنہ 1964 میں آلاسکا میں آنے والے سونامی کی چوتھی لہر سب سے بڑی اور طاقتور تھی۔

  2. ہوائی: سونامی وارننگ کے بعد کروز شپ لوگوں کو چھوڑ کر نکل گیا، مسافر کا دعویٰ

    برطانیہ کے قصبے میکسفیلڈ کی رہائشی ریچل بروز ہوائی کے ساحل سے نزدیک لنگرانداز ایک کروز شپ پر ہیں۔

    انھوں نے بی بی سی بریک فاسٹ کو بتایا کہ وہ گھومنے نکلی ہوئی تھیں جب انھیں اپنے فون پر ہنگامی وارننگ موصول ہوئی۔

    وہ بتاتی ہیں کہ پہلے پیغام میں کہا گیا کہ وہ خطرے میں ہیں جس کے بعد انھوں نے جہاز کی طرف لوٹنا شروع کر دیا۔

    بروز کا کہنا ہے کہ دکانیں بند ہو رہی تھیں اور ٹریفک کی حالت کافی بری تھی۔

    ’یہ کافی خوفناک صورتحال تھی کیونکہ ہر طرف سائرن بجنے لگے تھے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ہر کوئی جہاز پر چڑھنے کے لیے بھاگ رہا تھا۔

    بروز کے مطابق، وہ آخری مسافر تھیں جنھیں جہاز کے بندرگاہ سے نکلنے سے پہلے جہاز پر سوار ہونے کی اجازت دی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ پیچھے رہ جانے والوں کو اونچے مقامات کی طرف جانے کا کہا گیا۔

    یاد رہے کہ سونامی کے خطرے کے پیشِ نظر امریکی کوسٹ گارڈ نے ہوائی کی بندرگاہوں سے جہازوں کو نکالنے کا حکم جاری کیا تھا۔

  3. سونامی کی لہریں کیلیفورنیا کے ساحلوں تک پہنچ گئیں، امریکی محکمہ موسمیات

    امریکہ کی قومی موسمیاتی سروس کے مطابق، روس کے مشرقی ساحل پر آنے والے زلزلے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سونامی کی لہریں اب کیلفورنیا کے ساحلوں تک پہنچ گئی ہے۔

    سروس کا کہنا ہے کہ سونامی کی لہریں ریاست کے شمال میں ایرینا کوو اور مونٹیری تک پہنچ گئی ہیں اور مزید آگے کی جانب بڑھ رہی ہیں۔

  4. برطانیہ کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا وعدہ، دو ریاستی حل کے لیے مذاکرات کا آخری دن اور غزہ کی تشویشناک انسانی صورتحال

    آج اقوام متحدہ میں فلسطین اور اسرائیل کے درمیان دہائیوں سے جاری تنازع کے دو ریاستی حل کے لیے بلائے گئے تین روزہ اجلاس کا آخری دن ہے۔

    گذشتہ روز برطانوی کابینہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد وزیرِ اطظم کیئر سٹارمر نے اعلان کیا تھا کہ اگر اسرائیل نے غزہ میں جنگ بندی سمیت دیگر شرائط پر عمل نہ کیا تو برطانیہ ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کر لے گا۔

    اس سے قبل فرانس بھی اعلان کر چکا ہے کہ وہ ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔

    فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے برطانوی وزیرِ اعظم کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے تاہم اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو اسے حماس کو نوازنے کے مترادف قرار دیتے ہیں۔

    برطانوی حکومت کے اعلان پر اب بھی ردِعمل سامنے آ رہے ہیں، دوسری جانب، غزہ میں انسانی صورتحال بہت تشویشناک ہے کیونکہ فوجی سرگرمیاں اب بھی جاری ہیں۔ اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ عالمی غذائی تحفظ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں قحط پھیلا ہوا ہے۔

    بی بی سی کے نامہ امیر نادر کے مطابق، محض 115 ٹرک غزہ میں داخل ہوئے۔ ان میں سے چھ نجی اداروں کے لیے تھے جن کی حفاظت کے مسلح افراد مامور تھے جبکہ 109 ٹرک امدادی سامان لے کر پہنچے تھے۔

    تاہم امدادی سامان لانے والے ٹرکوں میں سے کوئی بھی اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکا اور انھیں بارڈر کراس کرتے ہی لوٹ لیا گیا۔

    حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اکتوبر 2023 میں جنگ کے آغاز سے اب تک غزہ میں مرنے والوں کی کل تعداد 60,034 ہو گئی ہے اور 145,870 زخمی ہو گئے ہیں۔

  5. برطانوی وزیرِ اعظم کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا بیان امن عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش ہے, جیریمی بوون، بین الاقوامی ایڈیٹر

    برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے بیان کو برطانوی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا سکتا ہے۔

    وزیرِ اعظم سٹارمر کا کہنا ہے کہ اگر ’اسرائیلی حکومت نے غزہ کی بدترین صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اہم اقدامات نہ کیے، غزہ میں جنگ بندی نہ کی، مقبوضہ غربِ اردن کو اپنے ساتھ غیرقانونی طور پر ضم کیا اور دو ریاستی حل کے لیے ایک طویل المدتی امن مرحلے پر بات نہ کی‘ تو برطانیہ فلسطینی ریاست کے وجود کو تسلیم کر لے گا۔

    اسرائیل کی جانب سے ان کے بیان کو مسترد کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ کیئر سٹامر کی تقریر لکھنے والے اب ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کیا کہیں گے اس بارے میں سوچنا شروع کر دیں۔

    ایک سینیئر برطانوی عہدیدار کے مطابق، سٹارمر حکومت کا فلسطین کو تسلیم کرنے کا فیصلہ اٹل دکھائی دیتا ہے۔

    اسٹارمر کو ایسی کوئی امید نہیں کہ برطانیہ کے فیصلے کے نتیجے میں مستقبل قریب میں ایک آزاد فلسطینی ریاست وجود میں آ جائے۔ بہت سارے اسرائیلیوں کی خواہش تو یہ ہے کہ یہ کبھی وجود میں آنی ہی نہیں چاہیے۔ تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد اسرائیل اور فلسطین میں موجود اعتدال پسندوں کو مزید با اختیار کرنا ہے۔

    برطانویوں کو امید ہے کہ اس کے ذریعے وہ ان اعتدال پسندوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ امن اب ممکن ہے۔

  6. ہوائی کی انتظامیہ کا لوگوں کو تاحکمِ ثانی ساحل سے دور رہنے کی ہدایت

    ہم نے کچھ دیر قبل اطلاع دی تھی کہ اوواہو میں چار فٹ اونچی لہریں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

    ہوائی کی ہنگامی سروسز نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ حکام کی جانب سے اگلی اطلاع تک وہ انخلا زون سے دور رہیں۔

    حکام کا کہنا ہے سونامی کی لہریں اب بھی ریاست کو متاثر کر رہی ہیں اور سونامی وارننگ اب بھی نافذ ہے۔ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں اس وقت تک دوبارہ داخل نہ ہوں جب تک کہ حکام اس کی باقاعدہ اجازت نہ دے دیں۔

    ہوائی کی پوری ساحلی پٹی کو انخلا زون میں شامل کیا گیا ہے۔

  7. سونامی کی لہریں ہوائی سے ٹکرانا شروع ہو گئیں

    پیسیفک سونامی وارننگ سینٹر کا کہنا ہے کہ سونامی کی لہریں ہوائی سے ٹکرانا شروع ہو گئی ہیں۔

    سینٹر کے مطابق، اب تک سب سے اونچی 4 فٹ کی لہر اوواہو میں ریکارڈ کی گئی ہے۔

    سینٹر کی جانب سے جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے فوری کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ سونامی وارننگ سینٹر میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ خطرہ اگلے کئی گھنٹوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔

    ہوائی کے گورنر جوش گرین کا کہنا ہے کہ اب تک کوئی ایسی لہر نہیں آئی ہے جو خطرے کا باعث ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ پانی کی سطح میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

    جوش گرین کا کہنا ہے کہ انھیں توقع ہے کہ صورتحال کو معمول پر آنے میں کم از کم دو سے تین گھنٹے مزید لگیں گے۔

  8. امریکی کوسٹ گارڈ کا بحری جہازوں کو ہوائی کی بندرگاہوں سے دور رہنے کا حکم

    امریکی کوسٹ گارڈ نے ہوائی کی بندرگاہوں سے تجارتی جہازوں کو نکالنے کا حکم جاری کیا ہے جبکہ تمام بندرگاہیں آنے والی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہیں۔

    کوسٹ گارڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہوائی کے قریب موجود بحری جہاز اس وقت تک ساحل کے قریب نہ آئیں جب تک کہ سونامی کی لہریں گزر نہ جائیں۔

    فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹس کے مطابق، ہوائی جانے والی کئی پروازوں کا رخ بھی فلائیٹ درمیانی کے دوران ہی موڑ دیا گیا ہے۔ ان میں سے کئی جہازوں کو واپس ان ہی ہوائی اڈوں کی جانب بھیج دیا گیا ہے جہاں سے وہ اڑے تھے۔

    دوسری جانب، ہوائی کے گورنر جوش گرین کا کہنا ہے کہ جاپان اور ہوائی کے درمیان واقع مڈ وے اٹول جزیرے سے 6 فٹ (1.8 میٹر) اونچی لہر \گزری ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی ایک بہت اونچی لہر کی توقع کر رہے ہیں۔

  9. روس میں زلزلے کے بعد سونامی کا خطرہ: ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

    ٹوکیو سے لے کر ہوائی تک اور کیلیفورنیا سے نیوزی لینڈ تک لاکھوں افراد سونامی کے خدشے کے باعث ہائی الرٹ پر ہیں۔

    • مشرقی روس میں مقامی وقت کے مطابق 11:25 پر 8.8 شدت کا زلزلہ آیا جس کے نتیجے میں کئی افراد معمولی زخمی ہوئے۔
    • روس کے علاقے سخالین میں شمالی جزائر کریل میں ہنگامی صورتحال کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
    • جاپان کے شمالی ساحل پر 40 سینٹی میٹر اونچی لہریں دیکھنے میں آئی ہے جبکہ سونامی کی لہریں کی جلد ہی ہوائی کے ساحلوں سے ٹکرانے کی توقع ہے۔
    • جاپان نے 19 لاکھ افراد کو انخلا کا حکم دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سونامی کی لہریں ایک دن سے زیادہ جاری رہ سکتی ہیں۔
    • کیلیفورنیا میں حکام نے لوگوں کو ساحل سے دور رہنے کا کہا ہے۔
    • چین، فلپائن، انڈونیشیا، نیوزی لینڈ، پیرو اور میکسیکو میں سونامی الرٹ جاری کیے جا چکے ہیں۔
  10. جاپان میں سونامی وارننگ کے بعد لوگ چھتوں پر پناہ گزین

  11. جاپان میں 19 لاکھ سے زائد افراد کو نقل مکانی کی ہدایت, شائمہ خلیل، نامہ نگار، ٹوکیو

    جاپان میں 19 لاکھ سے زائد افراد کو نقل مکانی کے لیے کہا گیا ہے۔ ان میں سے تقریباً ساڑھے 10 ہزار افراد ہوکائیڈو میں ہیں۔ مقامی میڈیا پر چلنے والی فوٹیج میں ہوکائیڈو میں لوگوں کو عمارتوں کی چھتوں پر جمع ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    حکام مشرقی ساحل کے نزدیک رہنے والوں کو اونچے مقامات طرف جانے کی تاکید کر رہے ہیں۔

    جاپان میں بحر الکاہل کے ساحل پر درجنوں سونامی لہروں کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ شمال میں ہوکائیڈو سے جنوب میں واکایاما تک ساحل کے ساتھ پھیلے سینکڑوں کلومیٹر کے علاقے میں رہنے والوں کے لیے انخلا کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سونامی کی لہریں 3 میٹر تک بلند ہوسکتی ہیں۔

  12. جب سونامی روس کے ساحلی قصبے تک پہنچا

    حکام کے مطابق، زلزلے کے نتیجے میں کامچٹکا میں تین سے چار میٹر اونچی سونامی کی لہریں پیدا ہوئی ہیں۔

  13. سونامی وارننگ کے بعد ہوائی سے انخلا شروع: ’ہر کوئی یہاں سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے‘, جیک لافم، نامہ نگار، امریکہ

    ڈی ایل سکیلز وائلہ، ماؤئی میں چھٹیاں منانے آئے تھے۔ چھٹیوں پر آئے درجنوں دیگر افراد کی طرح وہ بھی ٹریفک میں پھنسے ہوئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے وارننگ جاری کیے جانے کے بعد تمام لوگ کسی اونچی جگہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    حکام نے ہوائی میں ’تباہ کن‘ سونامی لہروں کی وارننگ جاری کی ہے۔

    انھوں نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا کہ حالات نسبتاً پرسکون ہیں۔ ’ہر کوئی باہر نکلنے کی کوشش کر رہا ہے، مجھے نہیں معلوم کہ لوگ جا کہاں رہے ہیں۔‘

    ’انھوں نے کچھ منٹ پہلے سائرن بجائے تھے جس کے بعد لوگوں کو یہاں سے نکلنا شروع کر دیا۔‘

  14. ’امریکہ میں سونامی کے تباہ کن ہونے کی توقع نہیں‘, ریگن مورس، لاس اینجلس

    سیسمالوجسٹ (ماہرِ زلزلہ) ڈاکٹر لوسی جونز کا کہنا ہے کہ سونامی سے امریکی ریاست ہوائی میں بندرگاہوں اور ساحل سمندر پر واقع املاک کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ امریکی ریاست کیلیفورنیا میں بھی نقصانات کخطرہ ہے۔ تاہم ، ان کا کہنا ہے کہ اس سونامی سے امریکہ میں کہیں بھی جانی نقصان کی توقع نہیں ہے۔

    ہوائی میں سونامی کی لہروں کی اونچائی تین سے 10 فٹ جبکہ سانتا باربرا میں لہروں کی اونچائی ایک سے دو فٹ ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ جونز کا کہنا ہے کہ اس کے مقابلے میں 2011 میں جاپان میں آنے والی سونامی کی کچھ لہروں کی اونچائی 42 فٹ تھی۔

    ان کا کہنا ہے دراصل یہ لہریں نہیں بلکہ سمندر کی سطح پر عارضی اضافہ ہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ شمالی کیلیفورنیا کے کریسنٹ سٹی کی بندرگاہ میں 6 فٹ اونچی لہریں اٹھنے کا امکان ہے۔

  15. چین، پیرو اور ایکواڈور میں بھی سونامی وارننگ جاری

    خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق، پیرو اور ایکواڈور کے نزدیک جزائر گلاپاگوس کے بھی سونامی وارننگ جاری کی گئی ہے۔

    جزائر گلاپاگوس سے احتیاطی طور پر انخلا بھی کیا جا رہا ہے۔

    جنوبی امریکہ کا مغربی ساحل زلزلہ مرکز کامچٹکا سے 13 ہزار کلومیٹر دور واقع ہے۔

    دوسری جانب، چینی حکام کا کہنا ہے سونامی لہروں کا مشرقی چین کے کچھ حصوں سے نھی ٹکرانے کا خدشہ ہے۔

  16. روس میں آنے والا زلزلہ ریکارڈ شدہ تاریخ کا چھٹا سب سے شدید زلزلہ ہے

    بی بی سی کے پروگرام نیوز ڈے سے بات کرتے ہوئے ہوائی یونیورسٹی میں جیو فزکس اور ٹیکٹونکس ڈویژن کی اسسٹنٹ پروفیسر ہیلن جینیسوزکی کا کہنا ہے کہ روس کے مشرقی ساحل کے نزدیک آنے والے زلزلے کا شمار ریکارڈ شدہ تاریخ کے دس شدید ترین زلزلوں میں ہوتا ہے۔

    یو ایس جیولوجیکل سروے کے مطابق، 8.8 کی شدت کا یہ زلزلہ تاریخ کا چھٹا شدید ترین زلزلہ ہے۔ اس کے علاوہ، 2010 میں چلی کے بایوبیو میں آنے والا زلزلہ اور 1906 کا ایکواڈور کا زلزلہ بھی 8.8 کی شدت کے ساتھ چھٹے نمبر پر ہیں۔

    چلی کے زلزلے کے بارے میں یو ایس جی ایس کا کہنا ہے کہ کوئیری ہیو شہر کے قریب سمندر میں آنے والے اس زلزلے کے نتیجے میں 523 افراد ہلاک اور 370,000 سے زیادہ گھر تباہ ہوئے تھے۔

    ایکواڈور کے زلزلے کے بارے میں یو ایس جی ایس کا کہنا ہے کہ اس زلزلے نے طاقتور سونامی کی لہروں کو جنم دیا تھا جو شمال میں سان فرانسسکو تک پہنچی تھیں۔ اس زلزلے کے نتیجے میں 1500 ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ پانچواں شدید ترین زلزلہ 1952 میں روس کے کامچٹکا کرائی علاقے میں ہی آیا تھا۔ یہ ’دنیا کا پہلا ریکارڈ کیا گیا 9 شدت کا زلزلہ تھا۔‘

    اس زلزلے نے ’ایک بڑے سونامی کو متحرک کیا جو ہوائی سے ٹکرایا اور اس کے نتیجے میں 10 لاکھ ڈالرز سے زائد کا نقصان ہوا۔‘

  17. انڈیا پر شاید 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ شاید انڈیا کی مصنوعات پر 25 ٹیرف عائد کیا جائے۔

    منگل کے روز ایئر فورس ون پر صحافیوں سے بات چیت کے دوران صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ انڈیا پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے جا رہے ہیں۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ایسا ہونے والا ہے۔

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’انڈیا میرا دوست ہے۔ انھوں نے میری درخواست پر پاکستان کے ساتھ جنگ بھی ختم کی تھی۔۔۔ انڈیا کے ساتھ معاہدہ طے نہیں پایا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا انڈیا ایک اچھا دوست رہا ہے لیکن کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں انڈیا نے کہیں زیادہ ٹیرف لگائے ہیں۔

    یاد رہے کہ امریکی صدر نے متعدد ممالک پر جمعے کے روز سے اضافی ٹیرف لگانے کی دھمکی دی ہے۔

    اتوار کے روز امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی بھی معاہدہ طے پا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے سکاٹ لینڈ میں مذاکرات کے بعد اعلان کیا کہ یورپی یونین سے امریکہ برآمد کی جانے والی تمام اشیا پر 15 فیصد ٹیرف عائد ہو گا۔

    اس سے قبل امریکہ دیگر کئی ممالک بشمول جاپان، برطانیہ، انڈونیشیا اور کمبوڈیا کے ساتھ کامیابی سے تجارتی معاہدے طے کر چکا ہے۔ تاہم، اب بھی کئی مشکل مذاکرات رہتے ہیں جن میں چین، میکسیکو اور کینیڈا کے ساتھ ممکنہ تجارتی معاہدے شامل ہیں۔

  18. روس کے ساحل کے نزدیک 8.8 شدت کے زلزلے کے بعد امریکہ، جاپان سمیت متعدد ممالک میں سونامی وارننگ جاری

    بدھ کے روز روس کے ساحل کے نزدیک آنے والے 8.8 شدت کے زلزلے کے بعد متعدد ممالک میں سونامی کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔

    زلزلہ پیما مرکز یو ایس جی ایس کے مطابق، بدھ کی صبح روس کے مشرقی ساحلی علاقے کامچٹکا کے نزدیک سمندر میں آنے والے زلزلے کی شدت 8.8 تھی۔

    زلزلے کا مرکز کامچٹکا سے 126 کلو میٹر دور اور گہرائی 18 کلو میٹر تھی۔

    مقامی حکام کے مطابق، زلزلے کے نتیجے میں کامچٹکا میں تین سے چار میٹر اونچی سونامی کی لہریں پیدا ہوئی۔

    کامچٹکا کے گورنر ولادیمیر سولوڈوف نے ٹیلی گرام میسجنگ ایپ پر جاری ایک ویڈیو میں کہا ہے کہ آج کا زلزلہ کئی دہائیوں میں آنے والا سب سے طاقتور زلزلہ تھا۔

    روسی اکیڈمی برائے سائنسز کی جیو فزیکل سروس نے خبردار کیا ہے کہ کم از کم ایک مہینے تک 7.5 تک کی شدت کے آفٹر شاکس جاری رہنے کی توقع ہے۔

    متعدد ممالک میں سونامی کی وارننگ جاری

    روس میں آنے والے زلزلے کے بعد متعدد ممالک بشمول امریکہ، جاپان اور ایکواڈور میں سونامی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔

    جاپان میں حکومت نے متاثرہ ساحلی علاقوں سے لوگوں کے انخلا کا حکم دیا ہے جبکہ امریکی ریاست ہوائی میں بھی حکام نے لوگوں کو جزیرہ اوواہو کے مکینوں کو فوری طور پر انخلا کا مشورہ دیا ہے۔

    امریکی سونامی وارننگ سینٹر کے مطابق، تقریباً 10 فٹ اونچی سونامی کی لہریں ایکواڈور سے ٹکرا سکتی ہیں۔

    اب تک 30 سینٹی میٹر سے 40 سینٹی میٹر کے درمیان اونچی سونامی کی لہریں اب تک شمالی جاپان کے کچھ حصوں سے ٹکرا چکی ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ مزید اونچی لہریں ساحل سے ٹکرا سکتی ہیں۔

    جاپان کے ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق، فوکوشیما ڈائیچی اور فوکوشیما ڈائنی نیوکلیئر پلانٹ کے کارکنوں کو نکال کر اونچے مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    2011 میں جاپان میں 9.0 شدت کے تباہ کن زلزلے اور سونامی کے بعد فوکوشیما ڈائیچی پلانٹ تباہ ہو گیا تھا اور اس سے تابکاری بھی پھیلی تھی۔

    جاپان کی کابینہ کے چیف سیکرٹری یوشیماسا حیاشی کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

  19. مستونگ میں حاملہ خاتون اور ان کے شوہر کا قتل: ’خاتون کے بھائیوں نے دونوں کو دعوت پر بلایا تھا‘، پولیس کا دعویٰ, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں چھ سال قبل پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    مقامی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والی خاتون حاملہ تھیں۔

    لیویز فورس ولی خان کے ایس ایچ او پیر جان نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں کو لک پاس کے قریب نوشکی کراس کے علاقے میں فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔

    فون پر رابطہ کرنے پر انھوں نے بتایا کہ مارے جانے والے مرد کی شناخت شعیب کے نام سے ہوئی ہے جبکہ خاتون کی شناخت بے نظیر کے نام سے ہوئی ہے۔

    شعیب کا تعلق بلوچستان کے ایران سے متصل سرحدی ضلع پنجگور سے تھا جبکہ ان کی بیوی بے نظیر کا تعلق کوئٹہ شہر کے نواحی علاقے ہزار گنجی سے تھا۔

    لیویز فورس کے ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ ’چھ سال قبل دونوں نے کورٹ میرج کی تھی جس کے بعد دونوں نے پنجگور میں رہائش اختیار کر لی تھی۔

    ایس ایچ او پیر جان نے دعویٰ کیا کہ اس واقعے کی ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ خاتون کے بھائیوں نے دونوں کو دعوت پر بلایا تھا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’بھائیوں نے دونوں کو کہا بتایا تھا کہ وہ لک پاس کے علاقے نوشکی کراس آ جائیں جہاں سے وہ انھیں گاڑی میں لے جائیں گے۔

    ’وہاں خاتون کے بھائیوں نے مبینہ طور پر ان کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔‘

    دونوں کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ ’دونوں کے دو بچے بھی ہیں جنہیں وہ اپنے ساتھ نہیں لائے تھے بلکہ انھیں وہ پنجگور میں شعیب کے بھائی کے گھر پر چھوڑ آئے تھے۔

    گذشتہ آٹھ دنوں کے دوران بلوچستان میں رپورٹ ہونے والا یہ اپنی نوعیت کا تیسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل کوئٹہ شہر میں قمبرانی روڈ کے علاقے میں ایک شخص عبدالطیف نے اپنی بیٹی اور بھانجے کو غیرت کے نام پر ہلاک کر دیا تھا جبکہ اس سے قبل ضلع کوئٹہ کے علاقے ڈیگاری میں ایک خاتون اور مرد کو غیرت کے نام پر قتل کرنے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔

  20. حسن ابدال میں برساتی نالے میں گاڑی گرنے کے بعد چار خواتین اور بچہ لاپتہ, عمر دراز ننگیانہ

    پنجاب کے سرحدی ضلع اٹک میں برساتی نالے میں گاڑی گرنے کے نتیجے میں ایک بچے سمیت پانچ افراد پانی میں بہہ گئے ہیں۔

    ریسکیو 1122 کے بیان کے مطابق یہ واقعہ منگل کو پیش آیا جب ادارے کو دو بج کر 46 منٹ پر حسن ابدال میں جھاریکا کے مقام پر ایک گاڑی کے برساتی نالے میں ڈوبنے کی اطلاع ملی۔

    ادارے کے ترجمان فاروق احمد کے مطابق گاڑی میں دس افراد سوار تھے جن میں پانچ خواتین، چار مرد اور ایک بچہ شامل تھے۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائی کے نتیجے میں چار مردوں اور ایک خاتون کو پانی سے نکال کر تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال حسن ابدال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ڈوبنے والے باقی پانچ افراد کی تلاش جاری ہے اور واٹر سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں آپریشن میں مصروف ہیں۔