آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ایرانی صدر مسعود پزشکیان سنیچر کو دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے

ایران کے صدر مسعود پزشکیان سنیچر کو دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں جہاں وہ صدر آصف زرداری، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے۔ بطور صدر مسعود پزشکیان کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے

خلاصہ

  • ہائبرڈ نظام ملک سے اپوزیشن کا خاتمہ چاہتا ہے: آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ
  • غزہ میں تقسیم کے متنازع مقامات پر امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کا دورہ
  • 5 اگست کو توڑ پھوڑ کا کوئی ارادہ نہیں،عمران خان جیل میں ثابت قدم ہیں: سلمان اکرم راجہ
  • اگست میں پنجاب میں مون سون کی بارشوں کا نیا سلسلہ، لینڈ سلائیڈنگ اور اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ
  • ایرانی صدر مسعود پژشکیان سنیچر کو دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے
  • یوکرین میں حکام کا کہنا ہے کہ کیئو کے متعدد اضلاع پر روسی ڈرونز اور میزائلوں کے حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 26 ہوگئی ہے جن میں تین بچے بھی شامل ہیں۔
  • پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں شیخانی پولیس پوسٹ پر ڈاکوؤں کے حملے میں ایلیٹ فورس کے پانچ اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ پولیس کی جوابی فائرنگ میں ایک ڈاکو مارا گیا۔

لائیو کوریج

  1. کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو کیخلاف ہراسانی کا الزام ثابت، متاثرہ خاتون کو 25 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    سندھ کے صوبائی محتسب نے کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) مونس عبداللہ علوی کو سابق کولیگ کو ہراساں کرنے اور کام کی جگہ پر ناخوشگوار ماحول پیدا کرنے کا مرتکب ٹھہرایا ہے۔

    محتسب جسٹس (ر) شہناز طارق نے مونس علوی کو حکم دیا ہے کہ وہ مدعیہ کو 25 لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کریں۔

    متاثرہ خاتون نے ’پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ آف ویمن ایٹ دی ورک پلیس ایکٹ، 2010‘ کے تحت شکایت دائر کی تھی۔

    متاثرہ خاتون نے مونس علوی اور کے الیکٹرک کے دیگر عہدیداروں کی جانب سے ہراساں کرنے، دھمکانے اور ذہنی اذیت پہنچانے کے الزام عائذ کیے تھے۔

    ہراسانی اور بدسلوکی کے الزامات

    متاثرہ خاتون کی جانب سے درج شکایت میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انھیں اکتوبر 2019 میں ایک کنسلٹنٹ کے طور پر بھرتی کیا گیا تھا لیکن بعد ازاں 26 دسمبر 2019 کو سی ایم سی او کے طور پر کام کرنے پر راضی کیا گیا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ اپنی ملازمت کے دوران انھیں مونس علوی کی جانب سے نامناسب تبصروں اور افعال کا سامنا کرنا پڑا۔

    اپنی درخواست میں خاتون نے الزام عائد کیا تھا کہ انھیں رات کے وقت تنہا کافی یا رات کے کھانے پر مدعو کیا گیا جہاں تکلیف دہ اور بیہودہ تبصرے بھی کیے۔

    متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ مونس علوی نے ایسا ماحول پیدا کیا جہاں وہ خود کو مسلسل خطرے میں محسوس کرتی تھیں۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان پر مبینہ طور پر 24/7 دستیاب رہنے کا دباؤ ڈالا گیا اور اکثر ویک اینڈز پر انھیں ون آن ون میٹنگز کے لیے ایسے وقت بلایا جاتا تھا جب کوئی اور موجود نہیں ہوتا تھا۔

    محستب اعلیٰ کے تحریری فیصلے کے مطابق متاثرہ خاتون نے دعویٰ کیا کہ مونس علوی ان کے سامنے اپنے پاؤں پھیلاتے، ایک ٹانگ صوفے پر رکھتے اور کبھی کبھی اپنے جرابیں، ٹائی اور جیکٹ اتار دیتے تھے، جو ان کی نظر میں’بہت غیر آرام دہ اور نامناسب‘ رویہ تھا۔

    محتسب کے حکم میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ مونس علوی نے جرح کے دوران اس رویے کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ نماز پڑھنے کے لیے ان کی موجودگی میں اپنی ٹائی، جرابیں اور جیکٹ اتارتے تھے۔ فیصلے میں اس رویے کو ’قابل مذمت اور ناقابل قبول‘ قرار دیا گیا، خاص طور پر خواتین ساتھیوں کی موجودگی میں۔

    تحریری فیصلے کے مطابق اپنے دفاع میں مونس علوی نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ خاتون کی ملازمت شکایت دائر کرنے سے ایک ماہ قبل ختم کر دی گئی تھی اور یہ الزامات ملازمت کے خاتمے کا بدلہ لینے اور ’غیر قانونی فوائد‘ حاصل کرنے کے لیے گھڑے گئے تھے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ایک پیشہ ور اور پرسکون شخصیت کے مالک ہیں اور کے الیکٹرک میں خواتین کے لیے مساوی مواقع کا کلچر ہے، نہ کہ ’پدرسری، جنسی اور جارحانہ رویوں کی گنجائش ہے۔

    محتسب نے مونس علوی کے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ متاثرہ خاتون نے اپنی ملازمت کے خاتمے سے قبل ستمبر 2020 میں واٹس ایپ پیغامات کے ذریعے بورڈ کے ایک رکن کو علوی کے ’نامناسب رویے‘ کے بارے میں شکایات کی تھی۔

    محتسب کے مطابق خاتون کو ان کی ’ناقص کارکردگی کے جھوٹے بہانے سے نشانہ بنایا گیا کیونکہ انھوں نے آواز اٹھانے کی جرات کی تھی۔‘

    حالیہ فیصلہ بہت پریشان کن ہے: مونس علوی

    دوسری جانب مونس علوی نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ایکس پر کہا ہے کہ انھوں نے ہمیشہ پیشہ ورانہ تعلقات میں دیانت اور وقار کی اقدار کو برقرار رکھا اور وہ کام کی جگہ کو سب کے لیے محفوظ بنانے پر یقین رکھتے ہیں۔

    فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حالیہ فیصلہ ان کے لیے بہت پریشان کن ہے۔ اگرچہ وہ قانونی عمل اور اسے برقرار رکھنے والے اداروں کا احترام کرتے ہیں لیکن انھیں نیک نیتی کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ یہ نتائج اس صورتحال کی حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے جس کا انھوں نے تجربہ کیا۔

    مونس علوی کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال اپنے قانونی مشیر کے ساتھ اس فیصلے کا جائزہ لے رہے ہیں اور اپیل کے اپنے حق کو استعمال کریں گے۔

  2. پی ٹی آئی کا انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرنے اعلان: ’ایوان میں رہنا ہے یا بائیکاٹ کرنا ہے عمران خان سے مل کر فیصلہ کریں گے‘: بیرسٹر گوہر

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے خلاف سارے فیصلے سیاسی بنیادوں پر کیے گئے ہیں، ان فیصلوں کو ہائی کورٹ میں چیلینج کریں گے لیکن عدلیہ پر سوالیہ نشان کھڑا ہو رہا ہے۔

    اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’ آج فیصل آباد اے ٹی سی کے فیصلے میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈرز کو سزا ہوئی۔ یہ جو فیصلے آرہے ہیں اس سے جمہوریت تباہ ہوجائے گی۔ پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی عمران خان کے سامنے یہ فیصلے رکھے گی اور پھر ایوان میں رہنا ہے یا اس کا بائیکاٹ کرنا ہے یا کیا تحریک چلانی ہے۔ اس کا فیصلہ کریں گے۔‘

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جن لوگوں کو آپ نے سزائیں دیں یہ وہ لوگ ہیں جو سیاست میں تشدد پر یقین نہیں رکھتے۔

    انھوں نے الزام عاخد کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے مفاہمت کی بہت کوشش کی مگر ہم پر گولی چلی۔ ہم چاہتے ہیں کہ سسٹم چلے، ہمارا لیڈر باہر ہو لیکن کوئی تو ہے جو اس سسٹم کو لپیٹنا چاہتا ہے۔

    انھوں نے دعوی کیا کہ عمران خان پر دباؤ ڈالنے کے لیے ان کی اہلیہ کو سزا دی گئی۔ ہم نے ان سب کے باوجود ریاست کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا۔

  3. 26 نومبر احتجاج کیس: عارف علوی،علی امین گنڈاپور اور سلمان اکرم سمیت 50 پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد کی انسداد دِہشت گردی کی عدالت نے 26 نومبر احتجاج کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے 50 رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔

    اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے جن پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ان میں عارف علوی، علی امین گنڈاپور، اسد قیصر، حماد اظہر، عاطف خان، عبدالقیوم نیازی، شبلی فراز، فیصل جاوید اور سلمان اکرم راجا شامل ہیں۔

    جبکہ علیمہ خانم، شیخ وقاص اکرم، کنول شوزب، شاندانہ گلزار، شیرافضل مروت کے نام کے بھی وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ تحریک انصاف کے ‏41 رہنماوں کے وارنٹ گرفتاری آج جاری ہوئے جبکہ نو پی ٹی آئی رہنماوں کے وارنٹ گرفتاری پہلے ہی جاری ہوچکے ہیں۔

    واضح رہے کہ ‏پی ٹی آئی رہنماوں کے وارنٹ کراچی کمپنی میں درج مقدمہ نمبر 1193 میں جاری کیے گئے۔

  4. بریکنگ, نو مئی مقدمات: عمر ایوب، شبلی فراز، زرتاج گُل سمیت پی ٹی آئی کے 108 رہنماؤں اور کارکنوں کو قید کی سزا، فواد چوہدری اور زین قریشی بری, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نو مئی کے مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر 108 مجرمان کو سزائیں سنائی ہیں۔

    عدالت کی طرف سے سنائے گئے فیصلے میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی لیڈر زرتاج گل اور سینیٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر شبلی فراز کو دس دس سال قید کی سزا سنائی ہے۔

    سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین حامد رضا کو بھی 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہیں جبکہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری اور رکن قومی اسمبلی زین قریشی کو بری کردیا ہے۔

    یاد رہے کہ نو مئی 2023 میں فیصل آباد میں واقع ایک حساس ادارے کے دفتر پر حملہ کیا گیا تھا جس کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج ہوا تھا۔

    یاد رہے کہ اس مقدمے میں 185 ملزمان تھے جن میں سے 108 ملزمان کو مجرم گردانتے ہوئے عدالت نے جمعرات کے روز سزائیں سنائی ہیں۔

    یہ بھی واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کو حکم دیا تھا کہ وہ 9 مئی کے مقدمات میں عدالتی کارروائی مکمل کرتے ہوئے ان پر فیصلہ سنائیں اور سپریم کورٹ کی طرف سے دی جانے والی ڈیڈ لائن اگلے ماہ ختم ہو رہی ہے۔

    چند روز قبل بھی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پی ٹی آئی کے احمد چٹھہ، احمد خان بھچر، ڈاکٹر یاسمین راشد اور میاں محمود الرشید سمیت دیگر ملزمان کو نو مئی کیس میں مجرم قرار دیتے ہوئے 10 سال کی سزا سنائی تھی۔

  5. پاکستان نے نیا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ خلا میں بھیج دیا

    پاکستان نے جدید ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کامیابی سے خلا میں بھیج دیا ہے۔

    یہ ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ پاکستان سپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے چین میں ژیچانگ سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے خلا میں بھیجا ہے۔

    پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق، لانچ کے موقع پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال، سپارکو کے ماہرین اور سائنسدان بھی لانچ سینٹر میں موجود تھے۔

    یہ سیٹلائٹ پاکستان کے خلائی وژن 2047 کے تحت لانچ کیا گیا ہے۔

    اے پی پی کے مطابق، جدید ترین امیجنگ سسٹمز سے لیس سیٹلائٹ زراعت اور شہری منصوبہ بندی سے لے کر ماحولیاتی نگرانی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ تک مختلف منصوبوں میں مدد فراہم کرے گا۔

    امیجنگ سیٹلائٹ قومی ترقیاتی پروگراموں جیسے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی اور جغرافیائی نقشہ سازی میں بھی مدد کرے گا۔

    اس کے علاوہ، یہ سیٹلائٹ سیلاب، زلزلوں، لینڈ سلائیڈنگ، گلیشیئر کے پگھلنے اور جنگلات کی کٹائی کے اثرات کی پیش گوئی اور تخفیف بھی مددگار ثابت ہو گا۔

  6. کینیڈا کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے سے تجارتی معاہدہ خطرے میں پڑ گیا ہے: ڈونلد ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کینیڈا کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے سے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان ممکنہ تجارتی معاہدہ خطرے میں پڑ گیا ہے۔

    امریکی صدر کا بیان کینیڈین وزیرِ اعظم مارک کارنی کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر کینیڈا باضابطہ طور پر فلسطین کی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔

    اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری ایک پیغام میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’واؤ! کینیڈا نے ابھی اعلان کیا ہے کہ وہ فلسطین کو ریاست کا درجہ دینے کی حمایت کرے گا۔ اس سے ہمارے لیے ان کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ اوہ کینیڈا!‘

    خیال رہے کہ یکم اگست کے بعد امریکی کی جانب سے ان تمام ممالک پر زیادہ ٹیرف عائد کر دیے جائیں گے جن کے ساتھ امریکہ کے تجارتی معاہدے طے نہیں پائے۔

    اگر دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدہ طے نہیں پایا تو جمعے سے کینیڈا سے امریکہ برآمد کی جانے والی بیشتر اشیا پر 35 فیصد ٹیرف لاگو ہو جائیں گی۔

    کینیڈا تیسرا جی سیون (G7) ملک ہے جس نے حال ہی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    اس سے قبل برطانیہ اور فرانس نے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

  7. ایران سے تیل خریدنے پر امریکہ نے چھ انڈین کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی

    امریکہ نے ایران پر مشرقِ وسطیٰ میں تنازعات کو ہوا دینے اور عدم استحکام کی سرگرمیوں کو فنڈ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ایران کی ذرائع آمدن پر قدغن لگانے کے لیے کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

    اس ضمن میں، امریکی محکمہ خارجہ نے ایرانی پیٹرولیم، پیٹرولیم مصنوعات، یا پیٹرو کیمیکل کی تجارت میں ملوث 20 اداروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں جبکہ 10 جہازوں کو بلاک شدہ جائیداد قرار دے دیا ہے۔

    جن کمپنیوں پر ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری کے الزام میں پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان میں چھ انڈین کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا الزام ہے کہ ان انڈین کمپنیوں نے کل 22 کروڑ سے زائد مالیت کی ایرانی پیٹرولیم درآمد کی ہیں۔ ان کمپنیوں کے نام یہ ہیں:

    • کنچن پولیمر
    • الکیمیکل سولیوشن
    • رمنک لال ایس گوسلیا اینڈ کمپنی
    • جوپیٹر ڈائی کیم پروئوٹ لمیٹڈ
    • گلوبل انڈسٹریل کیمیکلز لمیٹڈ
    • پرسسٹینٹ پیٹروکیم پروئوٹ لمیٹڈ

    امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری فہرست کے مطابق، کنچن پولیمر انڈیا میں قائم ایک کمپنی ہے جس نے تنائس ٹریڈنگ نامی اماراتی کمپنی سے 13 لاکھ امریکی ڈالرز سے زیادہ مالیت کی ایرانی پیٹرو کیمیکل مصنوعات بشمول پولیتھیلین درآمد اور خریدی ہیں۔

    انڈیا میں قائم ایک اور پیٹرو کیمیکل تجارتی کمپنی الکیمیکل سولیوشنز پر الزام ہے کہ اس نے جنوری اور دسمبر 2024 کے درمیان متعدد کمپنیوں سے آٹھ کروڑ 40 لاکھ امریکی ڈالرز سے زیادہ مالیت کی ایرانی پیٹرو کیمیکل مصنوعات درآمد اور خریدی ہیں۔

    رمنک لال ایس گوسلیا اینڈ کمپنی نامی انڈین کمپنی پر الزام ہے کہ اس نے جنوری 2024 اور جنوری 2025 کے درمیان متعدد کمپنیوں سے دو کروڑ 20 لاکھ امریکی ڈالرز سے زائد مالیت کی ایرانی پیٹرو کیمیکل مصنوعات بشمول میتھانول اور ٹولیون خریدیں۔

    جوپیٹر ڈائی کیم پروئوٹ لمیٹڈ انڈیا میں قائم ایک پیٹرو کیمیکل تجارتی کمپنی ہے جس پر جنوری 2024 اور جنوری 2025 کے درمیان متعدد کمپنیوں سے چار کروڑ 90 لاکھ ڈالرز مالیت کی ایرانی پیٹرو کیمیکل مصنوعات درآمد کرنے اور خریدنے کا الزام ہے۔

    گلوبل انڈسٹریل کیمیکلز لمیٹڈ انڈیا میں قائم ایک کمپنی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، اس کمپنی نے جولائی 2024 اور جنوری 2025 کے درمیان متعدد کمپنیوں سے ایرانی پیٹرو کیمیکل مصنوعات بشمول میتھانول خریدی ہیں۔ ان مصنوعات کی مالیت پانچ کروڑ 10 لاکھ امریکی ڈالرز بنتی ہے۔

    انڈین کمپنی پرسسٹینٹ پیٹروکیم پروئوٹ لمیٹڈ پر الزام ہے کہ انھوں نے اکتوبر 2024 اور دسمبر 2024 کے درمیان متعدد کمپنیوں سے تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ امریکی ڈالرز مالیت کی ایرانی پیٹرو کیمیکلز درآمد کی ہیں۔

  8. فرانس اور برطانیہ کے بعد کینیڈا کا بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان

    کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی کا کہنا ہے کہ کینیڈا ستمبر میں فلسطین کو بطور تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    کینیڈا تیسرا جی سیون (G7) ملک ہے جس نے حال ہی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    مارک کارنی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا انحصار جمہوری اصلاحات پر ہے جس میں فلسطینی اتھارٹی کے آئندہ سال ہونے والے انتخابات میں حماس کو حصہ لینے کی اجازت نہ دینا بھی شامل ہے۔

    خیال رہے کہ منگل برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر نے اعلان کیا تھا کہ اگر اسرائیل نے غزہ میں جنگ بندی سمیت دیگر شرائط پر عمل نہ کیا تو برطانیہ ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کر لے گا۔

    یار رہے کہ گذشتہ ہفتے فرانسیسی صدر ایمانویل میخواں نے اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک رواں سال ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔

    اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے کینیڈا کے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلان مسترد کرتے ہوئے اسے ’حماس کے لیے انعام‘ قرار دیا ہے۔

    اقوامِ متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے 147 باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتے ہیں۔

    مارک کارنی کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر تسلیم کیا جائے گا۔

    انھوں نے مقبوضہ غربِ اردن میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع، غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال اور 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملوں کو کینیڈا کی خارجہ پالیسی میں ڈرامائی تبدیلی کی وجوہات قرار دیا۔

    کارنی کا کہنا ہے کہ ’غزہ میں انسانی مصائب کی سطح ناقابل برداشت ہے اور یہ تیزی سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔‘

  9. تجارتی معاہدے سے پاکستان اور امریکہ دونوں کو فائدہ ہو گا: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب

    پاکستان کے وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان طے پانے والا تجارتی معاہدہ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔

    وزیرِ خزانہ کا امریکی سیکرٹری تجارت ہاورڈ لوٹنک اور امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر سے ملاقات کے بعد جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ ٹیرف کے متعلق مذاکرات کا مقصد نان ٹیرف بیریئرز اور تجارت میں عدم توازن جیسے امور کو طے کرنا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ تجارت اور سرمایہ کاری کو ساتھ ساتھ چلنا چاہیے۔ وزیرِ خزانہ کے مطابق، اس معاہدے میں وسیع تر اقتصادی، دوطرفہ اور اسٹریٹجک شراکت داری ابھر کر سامنے آئی ہے۔

    سینیٹر اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اس میں معاہدے کے طے پانے میں نجی شعبے کا بھی بہت اہم کردار رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ہم یہ سوچ رہے تھے کہ تجارت عدم توازن کو کیسے کم کیا جائے، تو نجی شعبے نے آگے بڑھ کر مدد کی پیشکش کی۔

    وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ جیسے صدر ٹرمپ نے کہا ہے، آگے چل کر یہ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن کا اسلام آباد کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت دونوں ممالک مل کر پاکستان کے تیل کے وسیع ذخائر کو قابل بازیافت ذخائر میں تبدیل کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

  10. پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ طے پا گیا: ’معاہدے کے تحت پاکستانی مصنوعات پر لگنے والے ٹیرف میں کمی آئے گی،‘ وزارت خزانہ

    پاکستان کی وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے پاکستان اور امریکہ کے مابین تجارتی معاہدہ کامیابی سے طے پا گیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق، اس معاہدے کا مقصد دو طرفہ تجارت کا فروغ ، منڈیوں تک رسائی کو بڑھانا، سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔

    وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی امریکی سیکرٹری کامرس ہاورڈ لوٹنک اور امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر سے ملاقات کے دوران ہوئی۔

    اس معاہدے کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ کے ذریعے کیا۔

    وزارتِ خزانہ کے مطابق، اس معاہدے کے نتیجے میں باہمی ٹیرف خاص طور پر امریکہ میں پاکستانی مصنوعات پر لگنے والے ٹیرف میں کمی آئے گی۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان اہماقتصادی شعبوں خاص طور پر توانائی، معدنیات، آئی ٹی، کرپٹو کرنسی اور دیگر میں اقتصادی تعاون کے ایک نئے دور کے آغاز کا باعث بنے گا۔

    وزارتِ خزانہ کا مزید کہنا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں پاکستان کے انفراسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں میں امریکی سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے۔

  11. ڈونلڈ ٹرمپ کا ’پاکستان میں تیل کے وسیع ذخائر‘ نکالنے سے متعلق معاہدے کا اعلان: ’کیا پتا ایک دن پاکستان، انڈیا کو تیل فروخت کرے‘

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان پاکستان کے تیل کے وسیع ذخائر نکالنے کے لیے ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔

    اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری ایک پیغام میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کا اسلام آباد کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت دونوں ممالک مل کر پاکستان کے تیل کے وسیع ذخائر کو قابل بازیافت ذخائر میں تبدیل کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ فی الحال ’ہم آئل کمپنی کا انتخاب کرنے کے عمل میں ہیں جو اس پارٹنرشپ کو لیڈ کرے گی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’کون جانتا ہے، شاید وہ کسی دن انڈیا کو تیل بیچ رہے ہوں گے!ً‘

    پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے امریکی صدر کا بیان اپنے ایکس اکاؤنٹ ہر شیئر کرتے ہوئے لیکھا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ امریکہ امریکی صدر نے متعدد ممالک پر جمعے کے روز سے اضافی ٹیرف لگانے کی دھمکی دی ہے۔

    اسی تناظر میں پاکستانی اعلیٰ حکام نے امریکہ کے متعدد دورے کیے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم نے جولائی 21 سے جولائی 28 نے امریکہ کا دورہ کیا جبکہ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب بھی اس وقت امریکہ کے دورے پر ہیں۔

  12. صوبے میں قیام امن کے لیے دو اگست سے جرگے شروع کریں گے: علی امین گنڈا پور

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں کا بھی خاتمہ کرنا ہے، امن کے قیام کے لیے دو اگست سے جرگے شروع کرنے جا رہے ہیں تاکہ مشیران، سیاسی قائدین اور تمام سٹیک ہولڈرز ساتھ بیٹھ کے مشاورت کی جا سکے۔

    یہ بات انھوں نے صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری اپنے ویڈیو بیان میں کہی۔

    انھوں نے بیان میں اعلان کیا کہ ’پہلے ڈویژنل سطح کے جرگے ہوں گے جن میں متعلقہ علاقوں کے تمام مشیران، سیاسی قائدین اور سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کریں گے اور اس مشاورت کا مقصد لوگوں کے تحفظات کو جاننا ہے۔ اس کے بعد ہمارا ایک گرینڈ جرگا ہو گا جس میں پالیسی پلان اور آگے کا لائحہ عمل دیا جائے گا۔‘

    وزیر اعلی علی امین گنڈاپور نے ویڈیو بیان میں کہا کہ ’ہمارے ضم اضلاع میں بدقسمتی سے امن قائم نہیں ہو پایا جو ان علاقوں کی ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ ہے اور ان علاقوں میں بدامنی کی وجہ دہشت گردی ہے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایک سازش کے تحت حکومت، عوام اور فورسز کے درمیان عدم اعتماد پیدا کیا جا رہا ہے۔

    ’دہشت گرد آبادیوں کے اندر آ کر پناہ لیتے اور جب وہ آبادی سے ہماری فورسز پہ حملہ کرتے ہیں تو جوابی حملے کے اندر ہمارے عام شہری شہید ہوتے ہیں۔ یہ کام وہ ایک پالیسی کے تحت عوام، حکومت اور فورسز کے درمیان خلا اور دراڑ پیدا کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ کوئی ایسا آپریشن ہو جس سے لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑے کیونکہ نقل مکانی اور آپریشن سے جو نقصانات ہوتے ہیں ان کا ازالہ کرنا حکومت کے لیے بڑا مشکل ہوتا ہے تاہم اس کے لیے ہم ایک لائحہ عمل بنا رہے ہیں۔‘

    ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں صوبے خصوصاً ضم اضلاع میں امن کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیر اعلی کے مشیر برائے اطلاعات، کمانڈر پشاور، چیف سیکریٹری اور آئی جی پی کے علاؤہ اعلی سول و عسکری حکام کی شرکت کی جبکہ خصوصی دعوت پر ضلع باجوڑ، خیبر اور شمالی وزیرستان کے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی بھی شریک ہوئے۔

  13. امریکی صدر کا انڈیا پر 25 فیصد ٹیرف کا اعلان، انڈیا کو جرمانہ بھی ادا کرنا ہو گا: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈیا پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کر دیا ہے۔

    ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں اپنے ایک بیان میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ یکم اگست سے امریکہ انڈیا سے آنے والی اشیا پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرے گا۔

    یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی ممالک پر محصولات عائد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے تاہم مذاکرات کے باعث اس پر عملدرآمد روک دیا تھا۔

    صدر ٹرمپ نے مزید لکھا کہ ’انڈیا روس سے اپناذیادہ تر فوجی سازوسامان خریدتا ہے اور یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ہر کوئی چاہتا ہے کہ روس یوکرین میں قتل و غارت کو ختم کرے۔ دوسری جانب انڈیا چین کے ساتھ ساتھ روس سے توانائی لینے کا سب سے بڑا خریدار ہے۔‘

    آخر میں ٹرمپ نے لکھا،’یہ سب چیزیں اچھی نہیں ہیں۔ انڈیا کو جرمانے کے ساتھ ساتھ 25 فیصد ٹیرف ادا کرنا پڑے گا جو یکم اگست سے شروع ہوگا۔‘

    اس دوران انڈیا اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے کے حوالے سے بات چیت جاری تھی تاہم ابھی تک اس کے نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔

    اپنے پیغام میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ انڈیا اور امریکہ دوست ہیں لیکن گزشتہ کئی سالوں سے دونوں ممالک کے درمیان بہت کم تجارت ہو رہی ہے کیونکہ انھوں نے اپنے ٹیرف جو لگائے ہیں وہ دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔

  14. کراچی میں میاں بیوی بچے سمیت مبینہ طور پر ’غیرت‘ کے نام پر قتل, ریاض سہیل، بی بی سی اردوڈاٹ کام، کراچی

    کراچی کے علاقے گھگھر پھاٹک کے قریب میاں بیوی کو بچے سمیت مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کردیا گیا ہے۔

    اس جوڑے کا تعلق بلوچستان سے بتایا جا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق اس جوڑے نے آٹھ برس قبل پسند کی شادی کی تھی۔

    سٹیل ٹاون پولیس کے مطابق یہ واقعہ گھگھر پھاٹک کے قریب ایک گھر میں پیش آیا جہاں چھوٹے بچے سمیت تین افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

    پولیس نے بتایا کہ مقتولین کی شناخت عبدالمجید ودھیو، ان کی اہلیہ سکینہ ودھیو اوران کے بچے کی عبدالنبی کے ناموں سے ہوئی ہے۔

    سٹیل ٹاون تھانے کے ایس ایچ او محمد اسلم کے مطابق اس جوڑے نے آٹھ سال قبل بلوچستان میں پسند کی شادی کی تھی، مقامی وڈیرے نے معاملے کا جرگہ بھی کیا تھا۔ جرگے میں لڑکے کو قصوروار قرار دیتے ہوئے فیصلہ سنایا گیا تھا کہ لڑکی کی دو بہنیں لڑکی کے خاندان کو بطور جرمانہ دی جائیں گی۔

    ایس ایچ او کے مطابق عبدالمجید ودھیو اور ان کی بیوی سکینہ ودھیو اپنے سات برس کے بچے کے ہمراہ چند ماہ قبل کراچی آئے تھے اور گھگھر میں کرائے کے مکان میں رہائش اختیار کی تھی جبکہ مقتول اپنا گھر چلانے کے کے لیے فیکٹری میں کام بھی کر رہا تھا۔

    پولیس کے مطابق اس جوڑے کو گلا کاٹ کر قتل کیا گیا ہے۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

  15. اٹک: برساتی نالے میں بہہ جانے والے پانچ میں سے تین افراد کی لاشیں مل گئیں، ایک سالہ بچے اور ایک خاتون کی تلاش جاری

    پنجاب کے سرحدی ضلع اٹک کے برساتی نالے میں گاڑی گرنے سے پانی میں بہہ جانے والے پانچ افراد میں سے تین کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ ایک خاتون اور ایک بچے کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق اٹک ڈراوننگ ایمرجنسی میں 26 سالہ شہریار کی لاش کو بھی نکال لیا گیا ہے جبکہ اس سے قبل 65 سالے خاتون صابرہ سلطان اور 24 سالہ نمرہ عمر کی لاش نکالی جا چکی ہیں۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق ایک سالہ بچے مصطفیٰ عمر اور ایک 40 سالہ خاتون کی تلاش کا کام تاحال جاری ہے۔

    یاد رہے کہ اٹک کے برساتی نالے میں گاڑی گرنے کا واقعہ منگل کو پیش آیا جب ریسکیو 1122 کو دو بج کر 46 منٹ پر حسن ابدال میں جھاریکا کے مقام پر ایک گاڑی کے برساتی نالے میں ڈوبنے کی اطلاع ملی۔

    ادارے کے ترجمان فاروق احمد کے مطابق گاڑی میں 10 افراد سوار تھے جن میں پانچ خواتین، چار مرد اور ایک بچہ شامل تھے۔

    ترجمان کا کہنا تھاے کہ امدادی کارروائی کے نتیجے میں چار مردوں اور ایک خاتون کو پانی سے نکال کر تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال حسن ابدال منتقل کر دیا گیا ہے۔

  16. جاپان کے کچھ علاقوں میں سونامی کے خطرے میں کمی

    جاپان کی موسمیاتی ایجنسی نے کانٹو سے واکایاما تک کے علاقے کے لیے سونامی کی وارننگ کی سطح کو ایک درجہ کم کر دیا ہے لیکن ہوکائیڈو اور توہوکو کے کچھ حصوں کے لیے وارننگ کی بلند سطح پر برقرار ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ سونامی اب بھی دیکھی جا رہی ہیں اور نقصان کا خطرہ باقی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ساحلی علاقوں کے لوگوں کو محفوظ مقامات جیسے کہ بلند جگہوں یا مخفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہونا چاہیے۔

    ماضی میں اس شدت کے زلزلوں سے آنے والی سونامیوں کے مشاہدے کے ریکارڈ کی بنیاد پر، حکام کا اندازہ ہے کہ سونامی کی وارننگ کم از کم ایک دن تک برقرار رہے گی۔

  17. ’جس آفت کا خدشہ تھا وہ نہیں آئی‘, روزینہ سینی، بی بی سی نیوز

    میں نے ابھی مکاہا، ہوائی میں فیرل موناکو سے بات کی ہے جو کیلیفورنیا سے چھٹیاں گزانے وہاں آئی تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ جب سونامی کا انتباہ جاری ہوا تو وہ مشرقی ساحل پر تھیں۔

    ان کا کہنا تھا ’لوگ گاڑیاں چلا رہے تھے اور بچے سڑکوں پر کھیل رہے تھے، اس لیے ہم نے زیادہ توجہ نہیں دی۔ تقریباً 45 منٹ بعد جب ہم سڑک پر نکلے تو وارننگز آنے لگیں اور مزید خبریں ملیں۔‘

    ’وہ سونامی والے علاقوں سے لوگوں کو اندرونی علاقے میں جانے کے لیے کہہ رہے تھے۔ تب ہی سب سڑکوں پر آ گئے۔

    فیرل کے مطابق سونامی کی وارننگ کے بعد پیٹرول سٹیشنز پر ایندھن کے حصول کے لیے قطاریں لگ گئیں۔ ’ سب سڑکوں پر تھے اور بہت رش تھا لیکن یہ سب بہت منظم تھا۔‘

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’یہ انتہائی اعصاب شکن انتظار تھا- سب خاموش تھے۔ ہم جس آفت کا خدشہ تھا وہ نہیں آئی تاہم وہ (حکام) بہت اچھی طرح سے تیار تھے۔‘

  18. فرنچ پولینیزیا میں سات فٹ سے بلند لہروں کی تنبیہ

    فرنچ پولینیزیا کے جزائر مارکیساس کے لیے بھی سونامی کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے، مقامی حکام نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے گھنٹوں میں 1.1 (3.6 فٹ) اور 2.2 میٹر (7.2 فٹ) اونچی لہروں کے ساحل تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ یہ لہریں اووا ہوکا، اووا ہیوا اور نوکو ہیوا کے جزیروں سے ٹکرا سکتی ہیں۔ حکام نے ان علاقوں کے لوگوں سے اونچی جگہوں اور پناہ گاہوں میں جانے کی اپیل کی ہے۔

    حکام کے مطابق فرنچ پولینیزیا کے باقی جزائر سے انخلا کی ضرورت نہیں تاہم عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ ساحلی پٹی، ساحلوں اور دریا کے دہانے والے علاقے سے دور رہیں۔

  19. ہوائی میں سونامی کا خطرہ ٹل گیا، لوگوں کو گھروں کو واپس جانے کی اجازت

    پیسیفک سونامی وارننگ سینٹر کا کہنا ہے کہ ہوائی کے لیے جاری سونامی وارننگ کو ایڈوائزری کی سطح پر لے آیا گیا ہے۔

    اس کا مطلب یہ ہے کہ اب کسی بڑے سونامی کی ہوائی سے ٹکرانے کی توقع نہیں تاہم اب بھی تیز لہروں اور معمولی درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔

    ہوائی کی ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی کے ڈائریکٹر سٹیفن لوگن کا کہنا ہے کہ انخلا کیے گئے افراد اپنے گھروں کو واپس جا سکتے ہیں۔

  20. برٹش کولمبیا، پاپوا نیو گنی، سولومن آئی لینڈز کے لیے سونامی الرٹ جاری

    پاپوا نیو گنی، سولومن آئی لینڈز اور وانواتو سمیت جنوبی بحرالکاہل کے کچھ حصوں کے لیے سونامی کے خطرے کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

    یہ الرٹ امریکہ کی نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (این او اے اے) کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ، کینیڈا کے سب سے مغربی صوبے برٹش کولمبیا کے بیشتر ساحلی علاقوں کے لیے سونامی ایڈوائزری جاری کر دی گئی ہے۔

    رہائشیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ سمندر سے دور رہیں اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔