کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو کیخلاف ہراسانی کا الزام ثابت، متاثرہ خاتون کو 25 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سندھ کے صوبائی محتسب نے کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) مونس عبداللہ علوی کو سابق کولیگ کو ہراساں کرنے اور کام کی جگہ پر ناخوشگوار ماحول پیدا کرنے کا مرتکب ٹھہرایا ہے۔
محتسب جسٹس (ر) شہناز طارق نے مونس علوی کو حکم دیا ہے کہ وہ مدعیہ کو 25 لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کریں۔
متاثرہ خاتون نے ’پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ آف ویمن ایٹ دی ورک پلیس ایکٹ، 2010‘ کے تحت شکایت دائر کی تھی۔
متاثرہ خاتون نے مونس علوی اور کے الیکٹرک کے دیگر عہدیداروں کی جانب سے ہراساں کرنے، دھمکانے اور ذہنی اذیت پہنچانے کے الزام عائذ کیے تھے۔
ہراسانی اور بدسلوکی کے الزامات
متاثرہ خاتون کی جانب سے درج شکایت میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انھیں اکتوبر 2019 میں ایک کنسلٹنٹ کے طور پر بھرتی کیا گیا تھا لیکن بعد ازاں 26 دسمبر 2019 کو سی ایم سی او کے طور پر کام کرنے پر راضی کیا گیا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اپنی ملازمت کے دوران انھیں مونس علوی کی جانب سے نامناسب تبصروں اور افعال کا سامنا کرنا پڑا۔
اپنی درخواست میں خاتون نے الزام عائد کیا تھا کہ انھیں رات کے وقت تنہا کافی یا رات کے کھانے پر مدعو کیا گیا جہاں تکلیف دہ اور بیہودہ تبصرے بھی کیے۔
متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ مونس علوی نے ایسا ماحول پیدا کیا جہاں وہ خود کو مسلسل خطرے میں محسوس کرتی تھیں۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان پر مبینہ طور پر 24/7 دستیاب رہنے کا دباؤ ڈالا گیا اور اکثر ویک اینڈز پر انھیں ون آن ون میٹنگز کے لیے ایسے وقت بلایا جاتا تھا جب کوئی اور موجود نہیں ہوتا تھا۔
محستب اعلیٰ کے تحریری فیصلے کے مطابق متاثرہ خاتون نے دعویٰ کیا کہ مونس علوی ان کے سامنے اپنے پاؤں پھیلاتے، ایک ٹانگ صوفے پر رکھتے اور کبھی کبھی اپنے جرابیں، ٹائی اور جیکٹ اتار دیتے تھے، جو ان کی نظر میں’بہت غیر آرام دہ اور نامناسب‘ رویہ تھا۔
محتسب کے حکم میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ مونس علوی نے جرح کے دوران اس رویے کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ نماز پڑھنے کے لیے ان کی موجودگی میں اپنی ٹائی، جرابیں اور جیکٹ اتارتے تھے۔ فیصلے میں اس رویے کو ’قابل مذمت اور ناقابل قبول‘ قرار دیا گیا، خاص طور پر خواتین ساتھیوں کی موجودگی میں۔
تحریری فیصلے کے مطابق اپنے دفاع میں مونس علوی نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ خاتون کی ملازمت شکایت دائر کرنے سے ایک ماہ قبل ختم کر دی گئی تھی اور یہ الزامات ملازمت کے خاتمے کا بدلہ لینے اور ’غیر قانونی فوائد‘ حاصل کرنے کے لیے گھڑے گئے تھے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ایک پیشہ ور اور پرسکون شخصیت کے مالک ہیں اور کے الیکٹرک میں خواتین کے لیے مساوی مواقع کا کلچر ہے، نہ کہ ’پدرسری، جنسی اور جارحانہ رویوں کی گنجائش ہے۔
محتسب نے مونس علوی کے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ متاثرہ خاتون نے اپنی ملازمت کے خاتمے سے قبل ستمبر 2020 میں واٹس ایپ پیغامات کے ذریعے بورڈ کے ایک رکن کو علوی کے ’نامناسب رویے‘ کے بارے میں شکایات کی تھی۔
محتسب کے مطابق خاتون کو ان کی ’ناقص کارکردگی کے جھوٹے بہانے سے نشانہ بنایا گیا کیونکہ انھوں نے آواز اٹھانے کی جرات کی تھی۔‘
حالیہ فیصلہ بہت پریشان کن ہے: مونس علوی
دوسری جانب مونس علوی نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ایکس پر کہا ہے کہ انھوں نے ہمیشہ پیشہ ورانہ تعلقات میں دیانت اور وقار کی اقدار کو برقرار رکھا اور وہ کام کی جگہ کو سب کے لیے محفوظ بنانے پر یقین رکھتے ہیں۔
فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حالیہ فیصلہ ان کے لیے بہت پریشان کن ہے۔ اگرچہ وہ قانونی عمل اور اسے برقرار رکھنے والے اداروں کا احترام کرتے ہیں لیکن انھیں نیک نیتی کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ یہ نتائج اس صورتحال کی حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے جس کا انھوں نے تجربہ کیا۔
مونس علوی کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال اپنے قانونی مشیر کے ساتھ اس فیصلے کا جائزہ لے رہے ہیں اور اپیل کے اپنے حق کو استعمال کریں گے۔