فرانس کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان: ’ہم مزید انتظار نہیں کر سکتے‘

فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں نے تصدیق کی ہے کہ ان کی حکومت فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’چند لمحوں کی دوری ہے اور پھر دنیا امن کو روک نہیں پائے گی ‘۔

خلاصہ

  • سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز کی آئینی درخواستیں اعتراضات لگا کر واپس کر دیں۔
  • پاکستان کی پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی کے سابق رکن جمشید دستی کو ملتان کی ایک مقامی عدالت نے جعلی ڈگری کیس میں سات سال قید کی سزا سنا دی ہے۔
  • فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے کہا ہے کہ 'آج فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا ہی اس صورتحال کو سیاسی حل فراہم کرنے کا واحد راستہ ہے اور ایک ایسی صورتحال جس کو روکنا ضروری ہے۔'
  • کراچی میں تین خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سنیچر کی شام ساڑھے سات بجے وہ اپنے گھروں سے نکلے تھے اور رات کو اُنھیں قتل کیا گیا۔
  • کینیڈا، آسٹریلیا اور برطانیہ نے فلسطینی ریاست کو باقاعدہ تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا
  • اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر زمینی حملوں کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ غزہ شہر پر حملے میں اپنی طاقت کا بھرپور استعمال کرے گی۔
  • بگرام ایئربیس کی حوالگی سے متعلق ٹرمپ کے بیان پر افغان طالبان کا ردعمل: ’دوحہ معاہدے کے تحت امریکہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا پابند ہے‘
  • سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں سات شدت پسند ہلاک، افغان حکومت پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دے: آئی ایس پی آر

لائیو کوریج

  1. صدر ٹرمپ کا اکتوبر میں جنوبی کوریا میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات اور اگلے برس چین کے دورے کا اعلان

    ٹرمپ اور شی جن پنگ

    ،تصویر کا ذریعہreu

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اور چینی صدر شی جن پنگ نے جمعے کو فون پر گفتگو کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹِک ٹاک کے امریکی آپریشنز کے مستقبل کے حوالے سے ایک معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔

    امریکی صدر کا کہنا ہے کہ وہ اگلے مہینے جنوبی کوریا میں ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (ایپیک) کے اجلاس کے دوران چینی صدر سے ملاقات کریں گے اور اگلے برس چین کا دورہ بھی کریں گے۔

    ٹُرتھ سوشل پر ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ صدر شی اور ان کے درمیان ٹیلی فون پر گفتگو ’تعمیری‘ رہی اور وہ ٹک ٹاک سے متعلق معاہدے کی منظوری دینے پر چینی صدر کو ’سراہتے‘ ہیں۔

    خیال رہے ٹک ٹاک چینی کمپنی بائٹ ڈانس کی ملکیت ہے اور اسے امریکہ نے کہا تھا یا تو وہ ملک میں اپنے آپریشنز فروخت کر دے یا پھر پابندی کا سامنا کرے۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ: ’میں نے صدر شی سے اتفاق کیا کہ ہم جنوبی کوریا میں ایپیک اجلاس میں ملیں گے، میں اگلے برس کے ابتدائی حصے میں چین جاؤں گا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ چینی صدر بھی ’مناسب وقت پر‘ امریکہ کا دورہ کریں گے۔

  2. گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم آگے بڑھنے سے پہلے گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

    • یورپی ممالک کے فوجی اتحاد نیٹو نے دعوی کیا ہے کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے یورپی ملک ایسٹونیا کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے تین روسی طیاروں کو روکا جس کے بعد یہ طیارے واپس روسی حدود میں جانے پر مجبور ہو گئے۔
    • محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان نے عام عوام بالخصوص والدین سے کہا ہے کہ گھر کا کوئی فرد لاپتہ ہوجائے یا کسی کالعدم تنظیم میں شمولیت اختیار کرے تو اس کی اطلاع ایک ہفتے کے اندر اندر دی جائے ورنہ اسے اعانت جرم تصور کیا جائے گا۔
    • خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں مٹہ چوک پر جمعے کو سوات قومی جرگہ کی اپیل پر ایک امن مظاہرہ کیا گیا جس میں مقررین نے کہا ہے کہ وہ ہر حال میں امن چاہتے ہیں اور ایسی ہر کوشش کی مخالفت کریں گے جس سے علاقے کے حالات خراب ہوں۔
    • اسلام اباد ہائی کورٹ نے جسٹس طارق جہانگیری کو کام سے روکنے، بینچز کی تشکیل اور کیسز کی منتقلی کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں آئینی پٹیشن دائر کر دی ہے۔ جسٹس طارق جہانگیری سمیت اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز نے انفرادی طور پر پٹیشنز دائر کی ہیں۔
    • امریکہ نے چھٹی بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس قرارداد کے مسودے کو ویٹو کر دیا ہے جس میں غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
    • افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں تقریباً آٹھ ماہ سے زیر حراست برطانوی جوڑے کو رہا کر دیا گیا ہے۔ اسی سالہ پیٹر رینالڈز اور ان کی 76 سالہ اہلیہ باربی جو تقریباً دو دہائیوں سے افغانستان میں مقیم ہیں، گھر جا رہے تھے جب انھیں یکم فروری کو روکا گیا۔ جوڑے کو قطری ثالثی کے ذریعے رہا کیا گیا۔
    • انڈین چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل انیل چوہان نے آپریشن سندور کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انڈیا عام شہریوں کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا تھا اس لیے پاکستان پر حملہ صبح کے بجائے رات 1:30 بجے کیا گیا۔
  3. بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    اس صفحے پر ہم آپ کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر سے تازہ ترین خبریں اور اہم تجزیے شامل کرتے ہیں۔

    اگر آپ 19 ستمبر کی خبریں پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کریں۔