فرانس کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان: ’ہم مزید انتظار نہیں کر سکتے‘
فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں نے تصدیق کی ہے کہ ان کی حکومت فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’چند لمحوں کی دوری ہے اور پھر دنیا امن کو روک نہیں پائے گی ‘۔
خلاصہ
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز کی آئینی درخواستیں اعتراضات لگا کر واپس کر دیں۔
پاکستان کی پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی کے سابق رکن جمشید دستی کو ملتان کی ایک مقامی عدالت نے جعلی ڈگری کیس میں سات سال قید کی سزا سنا دی ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے کہا ہے کہ 'آج فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا ہی اس صورتحال کو سیاسی حل فراہم کرنے کا واحد راستہ ہے اور ایک ایسی صورتحال جس کو روکنا ضروری ہے۔'
کراچی میں تین خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سنیچر کی شام ساڑھے سات بجے وہ اپنے گھروں سے نکلے تھے اور رات کو اُنھیں قتل کیا گیا۔
کینیڈا، آسٹریلیا اور برطانیہ نے فلسطینی ریاست کو باقاعدہ تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا
اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر زمینی حملوں کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ غزہ شہر پر حملے میں اپنی طاقت کا بھرپور استعمال کرے گی۔
بگرام ایئربیس کی حوالگی سے متعلق ٹرمپ کے بیان پر افغان طالبان کا ردعمل: ’دوحہ معاہدے کے تحت امریکہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا پابند ہے‘
سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں سات شدت پسند ہلاک، افغان حکومت پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دے: آئی ایس پی آر
لائیو کوریج
برطانیہ کا فلسطین کو تسلیم کرنا حماس کو نوازنے کے سوا کچھ نہیں: اسرائیل کا ردعمل
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا ’جہادی حماس کو نوازنے کے سوا کچھ نہیں ہے‘ جسے برطانیہ سے وابستہ اخوان المسلمون کو حوصلہ افزائی ملی ہے‘۔
اسرائیل کی وزارت خارجہ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’حماس کے رہنما خود کھل کر اعتراف کرتے ہیں: (فلسطین کی ریاست کو) تسلیم کرنا ایک براہ راست نتیجہ اور سات اکتوبر کے قتل عام کا ’پھل‘ ہے۔
سات اکتوبر کو حماس کے ہاتھوں یرغمال بننے والے سابق برطانوی اسرائیلی ایملی داماری کی والدہ مینڈی دماری نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ان کی حکومت ’کیر سٹارمر دو ریاستی دھوکے کا شکار ہیں۔‘
حماس کو نوازنے کی بات نہیں بلکہ یہ موت اور تباہی ہم سب کو خوفزدہ کرتی ہے: برطانیہ
،تصویر کا ذریعہReuters
برطانیہ کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ غزہ میں انسانوں کا پیدا کردہ بحران نئی بلندیوں پر پہنچ گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’بھوک اور تباہی مکمل طور پر ناقابل برداشت ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ دسیوں ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جب وہ کھانا اور پانی جمع کرتے ہوئے ہلاک کر دیے گئے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ موت اور تباہی ہم سب کو خوفزدہ کر دیتی ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ کچھ بیمار اور زخمی بچوں کو نکال لیا گیا ہے اور ہم نے انسانی امداد میں اضافہ کیا ہے لیکن ’کہیں بھی خاطر خواہ امداد نہیں پہنچ رہی ہے‘۔
برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ ’ہم اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سرحد پر پابندیاں ختم کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ان ظالمانہ ہتھکنڈوں کو روکیں اور امداد میں اضافہ ہونے دیں۔‘
واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو یہ کہہ چکے ہیں کہ اس طرح کے اقدامات ’دہشت گردی کو نوازنے‘ کے مترادف ہیں۔
’فلسطین کو تسلیم کرنے کا مقصد حماس کو نوازنا نہیں ہے‘
برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کا کہنا ہے کہ انھوں نے غزہ میں حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کے برطانوی خاندانوں سے ملاقات کی ہے اور وہ ’ہر روز ان اذیتوں کو برداشت کرتے ہیں‘ اور درد کو دیکھ رہے ہیں جو اسرائیل اور برطانیہ کے لوگوں کے دلوں میں بہت گہرا ہے۔
برطانوی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ یرغمالیوں کو فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم انھیں گھر واپس لانے سے متعلق جدوجہد جاری رکھیں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’حقیقی دو ریاستی حل کے لیے ہمارا مطالبہ [حماس] کے نفرت انگیز وژن کے بالکل برعکس ہے۔ ان کے مطابق ’یہ حل حماس کے لیے انعام نہیں ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حماس کا کوئی مستقبل، حکومت میں کوئی کردار نہیں ہو سکتا اور نہ ہی سلامتی میں کوئی کردار ہو سکتا ہے۔‘
بریکنگ, کینیڈا، آسٹریلیا اور برطانیہ نے فلسطین کو خود مختار ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا
کینیڈا، آسٹریلیا اور برطانیہ نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کینیڈا اور آسٹریلیا کے بعد برطانوی وزیر اعظم سر کیئر سٹارمر نے برطانیہ کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ’آج، امن اور دو ریاستی حل کی امید کو زندہ کرنے کے لیے، میں واضح طور پر کہتا ہوں۔۔ اس عظیم ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت سے۔۔ کہ برطانیہ فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرتا ہے۔‘
کینیڈا اور آسٹریلیا دونوں نے اس ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کے اپنے ارادوں کا اعلان کیا تھا۔
کینیڈا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والا پہلا جی سیون ملک بن گیا۔
کینیڈا کے بعد آسٹریلیا اس گروپ کا دوسرا ملک بن گیا ہے جس نے باقاعدہ فلسطین کو ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔
وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ کینیڈا آج سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتا ہے۔ اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں مارک کارنی نے کہ کہا ’کینیڈا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتا ہے اور ریاست فلسطین اور اسرائیل کی ریاست دونوں کے پرامن مستقبل کے وعدے کی تعمیر میں پارٹنرشپ کی پیش کش کرتا ہے۔
بگرام ایئربیس کی حوالگی سے متعلق ٹرمپ کے بیان پر افغان طالبان کا ردعمل: ’دوحہ معاہدے کے تحت امریکہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا پابند ہے‘
افغان طالبان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بگرام ایئربیس حوالے کرنے سے متعلق نئے بیان پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ دوحہ معاہدے کے تحت امریکہ افغانستان کے خلاف طاقت کا استعمال یا اسے دھمکی نہیں دے سکتا اور یہ کہ امریکہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا پابند ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر افغانستان کے بگرام ایئر بیس کو دوبارہ امریکہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورک ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں لکھا ہے کہ ’اگر افغانستان نے بگرام ایئر بیس کو اسے تعمیر کرنے والوں یعنی امریکہ کو واپس نہیں کیا تو برا ہو گا!!!‘
ایکس پر جاری بیان میں افغان طالبان نے کہا ہے کہ ’اسلامی اصولوں کے مطابق اور اپنی متوازن اور معیشت پر مبنی خارجہ پالیسی پر مبنی امارت اسلامیہ افغانستان باہمی اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تمام ریاستوں کے ساتھ تعمیری تعلقات کی خواہاں ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’تمام دوطرفہ مذاکرات میں امریکہ کو مسلسل آگاہ کیا گیا ہے کہ امارت اسلامیہ کے لیے افغانستان کی آزادی اور علاقائی سالمیت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔‘
’یاد رہے کہ دوحہ معاہدے کے تحت امریکہ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ افغانستان کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کا استعمال یا دھمکی نہیں دے گا اور نہ ہی اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے وعدوں کے ساتھ وفادار رہیں۔‘
طالبان نے کہا کہ ’اسی مناسبت سے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ماضی کے ناکام طریقوں کو دہرانے کے بجائے حقیقت پسندی اور عقلیت پسندی کی پالیسی اپنائی جانی چاہیے۔‘
،تصویر کا ذریعہ@FitratHamd
سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں سات شدت پسند ہلاک، افغان حکومت پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دے: آئی ایس پی آر
،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر کے مطابق سنیچر کے روز سکیورٹی فورسز نے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران پاکستانی فوجیوں نے شدت پسندوں کے مقام کو موثر انداز میں گھیر لیا اور اس کے نتیجے میں تین افغان اور دو خودکش بمباروں سمیت سات شدت پسندوں کو ہلاک کیا۔
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’پاکستان افغان حکومت سے توقع کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے گی اور پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کی کارروائیوں کے لیے اپنی سرزمین کو استعمال نہیں کرنے دے گی۔‘
فوج کے مطابق اس علاقے کو شدت پسندوں سے پاک کرنے کے لیے آپریشن کیے جا رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کا اجلاس: وزیرِ اعظم شہباز شریف دیگر مسلم رہنماؤں کے ہمراہ ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے، وزارتِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے وزیرِاعظم شہبازشریف کل سے نیویارک میں شروع ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے80ویں اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔
پاکستان کے وزیرِاعظم شہبازشریف کل سے نیویارک میں شروع ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے80ویں اجلاس میں
پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔
وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف دیگر مسلم ممالک کے رہنماؤں کے ہمراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات کے دوران علاقائی اور عالمی امن اور سکیورٹی کے حوالے سے بات ہو گی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی
جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیرِ اعظم عالمی برادری پر کشمیر اور فلسطین کے تنازعات کے حل کے لیے زور ڈالیں گے۔
اس کے علاوہ وہ اپنے خطاب میں ماحولیاتی تبدیلی، دہشت گردی، اسلامو فوبیا اور
پائیدار ترقی سمیت علاقائی صورتحال اور دیگر بین الاقوامی امور پرپاکستان کا نقطہ
نظر پیش کریں گے۔
وہ اقوام متحدہ کے
تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے، اقوام متحدہ کے منشور پر عملدرآمد، جنگوں
سے بچاؤ، قیام امن اور عالمی ترقی کے لیے بطور سلامتی کونسل کے رکن کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کریں گے۔
اس دورے پر وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، دیگر وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام بھی موجود ہوں
گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک بار پھر پاکستان اور انڈیا سمیت سات ’جنگیں‘ ختم کروانے کا دعویٰ: ’مجھے نوبل انعام ملنا چاہیے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے صدر
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان اور انڈیا سمیت سات ’جنگیں‘ ختم کروانے کا
دعویٰ دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خیال میں انھیں نوبل امن انعام ملنا
چاہیے۔
سنیچر کی رات ایک
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تجارت کی مدد سے وہ پاکستان
اور انڈیا، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا سمیت سات جنگیں رکوانے میں کامیاب رہے ہیں۔
’ہم ہر جگہ امن معاہدے کروا رہے ہیں اور جنگیں رکوا رہے ہیں۔‘
’آرمینیا
اور آذربائیجان کئی سالوں سے لڑ رہے تھے... انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ کو
تجارت کی مدد سے روکا گیا۔ وہ تجارت کرنا چاہتے تھے۔‘
ان کا مزید
کہنا تھا کہ انڈیا-پاکستان، تھائی لینڈ-کمبوڈیا، آرمینیا-آذربائیجان، کوسوو-سربیا،
اسرائیل-ایران، مصر-ایتھوپیا اور روانڈا-کانگو، ہم نے ان سب جنگوں کو روکا۔ ’ان میں سے 60 فیصد جنگیں تجارت کی وجہ سے رکیں۔‘
نوبل امن انعام کا
تذکرہ کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اس کے بعد مجھے کہا گیا کہ اگر آپ روس
اور یوکرین کی جنگ رکوا دیتے ہیں تو آپ کو نوبل انعام ملنا چاہیے۔ ’میں نے کہا باقی سات جنگوں کا کیا جو میں
نے روکی ہیں، مجھے ہر ایک کے لیے نوبل انعام ملنا چاہیے۔‘
روس اور یوکرین جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں انھیں لگا
تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ان کے ذاتی تعلقات کی وجہ سے یہ جنگ رکوانی
آسان ہوگی۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ انھیں صدر پوتن سے مایوسی ہوئی ہے۔
’مجھے لگا تھا کہ یہ سب سے آسان ہو گا لیکن ہم اس کو کسی نہ کسی طرح کریں گے۔‘
صدر ٹرمپ اس سے
قبل بھی کئی بار پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ رکوانے کا دعویٰ کر چکے ہیں تاہم
انڈیا ان کے اس دعوے کو مسترد کرتا آیا ہے۔
اگر بگرام ایئر بیس امریکہ کو واپس نہیں کیا گیا تو برا ہو گا: ڈونلڈ ٹرمپ کا انتباہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ
ٹرمپ نے ایک بار پھر افغانستان کے بگرام ایئر بیس کو دوبارہ امریکہ کے حوالے کرنے
کا مطالبہ کیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورک ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں لکھا ہے کہ ’اگر افغانستان نے بگرام ایئر بیس کو اسے تعمیر
کرنے والوں یعنی امریکہ کو واپس نہیں کیا تو برا ہو گا!!!‘
دو روز قبل لندن میں برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے
ہوئے امریکی صدر نے کہا تھا کہ امریکہ افغانستان میں بگرام ایئر بیس واپس لینے کی
کوشش کر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا
تھا کہ ’ہم اپنا فوجی اڈہ واپس چاہتے ہیں اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ اس جگہ سے ایک
گھنٹے کے فاصلے پر ہے جہاں چین اپنے جوہری ہتھیار بناتا ہے۔‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ
افغانستان سے اپنے ملک کی افواج کے انخلا کے بعد سے متعدد مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ
امریکہ کو افغانستان میں بگرام فوجی اڈہ نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
،تصویر کا کیپشنگذشتہ برس افغان طالبان نے بگرام ایئر بیس پر فوجی پریڈ منعقد کی تھی۔
تقریباً دو
دہائیوں تک یہ اڈہ القاعدہ اور طالبان کے خلاف لڑائی کا مرکز رہا۔ یہ 77 مربع
کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے جبکہ اس میں موجود بیرکس اور رہائش گاہیں ایک وقت میں 10
ہزار سے زیادہ فوجیوں کو پناہ دے سکتی ہیں۔
بگرام اڈے کی
اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں میں تین
امریکی صدور اس اڈے کا دورہ کر چکے ہیں جن میں جارج ڈبلیو بش، براک اوباما اور
ڈونلڈ ٹرمپ شامل ہیں۔ جو بائیڈن نے سنہ 2011 میں بگرام ایئربیس کا دورہ کیا تھا
تاہم اُس وقت وہ امریکہ کے نائب صدر تھے۔
سوویت یونین نے یہ
فوجی اڈہ 1950 کی دہائی میں صوبہ پروان میں قائم کیا تھا۔ بگرام 1980 کی دہائی میں
افغانستان پر قبضے کے دوران سوویت افواج کا انتہائی اہم اڈہ سمجھا جاتا تھا۔
برطانوی وزیرِ اعظم کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان آج متوقع
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
توقع کی جارہی ہے کہ برطانیہ کے وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر اتوار کی سہ پہر کو
برطانیہ کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے۔
وزیر اعظم سٹارمر نے جولائی میں کہا تھا کہ اگر اسرائیل غزہ میں جنگ بندی اور دو ریاستی
حل فراہم کرنے والے طویل المدتی پائیدار امن معاہدے کے لیے راضی نہیں ہوتا تو برطانیہ
ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔
یہ برطانوی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس سے قبل
برطانوی حکومتوں کا موقف رہا ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اقدام امن عمل کے تحت
اس وقت ہونا چاہیے جب اس کا زیادہ سے زیادہ اثر ہو۔
برطانیہ کے اس فیصلے کو اسرائیلی حکومت، یرغمالیوں کے خاندانوں اور بعض قدامت پسندوں
کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کہہ چکے ہیں کہ اس طرح کے اقدامات ’دہشت
گردی کو نوازنے‘ کے مترادف ہے۔
تاہم، برطانوی وزرا کا کہنا ہے کہ طویل مدتی امن معاہدے کی امید زندہ رکھنے کے
لیے کوششیں کرتے رہنا ان کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
برطانیہ کے علاوہ پرتگال، فرانس، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک نے بھی اعلان
کر رکھا ہے کہ وہ بھی اس سال فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گے، جبکہ سپین، آئرلینڈ
اور ناروے گذشتہ سال یہ قدم اٹھا چکے ہیں۔
مصر نے سینائی میں فوج تعینات کرنے کی تصدیق کر دی، اسرائیلی خدشات میں اضافہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
مصر کی وزارتِ اطلاعات کا کہنا ہے غزہ میں دو
سال سے جاری جارحیت کے نتیجے میں ملک کی سلامتی کو درپیش کسی بھی ممکنہ خطرے سے
نمٹنے کے لیے جزیرہ نما سینائی میں مصری فوج تعینات کی گئی ہے۔
سنیچر کے روز وزارتِ
اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مصر کی مشرقی سرحد سے صرف چند میٹر کے
فاصلے پر غزہ کی پٹی میں تقریباً دو سال سے جارحیت جاری ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے غزہ
میں جاری جنگ کے پیشِ نظر مصری مسلح افواج کو تیار رہنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی
ایسی صورت حال کا مقابلہ کیا جا سکے جس سے مصر کی قومی سلامتی یا اس کی خودمختاری
کو خطرہ لاحق ہو۔
اس سے قبل بین
الاقوامی میڈیا میں جزیرہ نما سینائی میں مصری مسلح افواج کی تعیناتی کے حوالے سے رپورٹس
شائع ہوئی تھیں۔
سنیچر کے روز امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوز نے خبر دی تھی کہ اسرائیلی
وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ
قاہرہ پر سینائی میں اپنی فوجی موجودگی کو کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالے۔
ویب سائٹ نے اسرائیلی حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ ’غزہ میں جاری جنگ کے باعث سینائی میں
مصری فوجی کی موجودگی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھانے کا سبب بن گئی ہے۔‘
دو اسرائیلی حکام نے ایگزیوز کو بتایا کہ مصری فوج سینائی میں ملٹری
انفراسٹرکچر بنا رہی ہے جن میں سے کچھ کو جارحانہ کارروائیوں کے لیے استعمال کیا
جا سکتا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ تعمیرات ان علاقوں میں کی جا رہی ہیں جہاں مصر
اور اسرائیل کے درمیان 1979 کے امن معاہدے کے تحت صرف ہلکے ہتھیاروں کی اجازت ہے۔
wیب سائٹ کے مطابق اسرائیلی حکام کا کا دعویٰ ہے کہ ’قاہرہ نے سینائی میں کچھ فضائی اڈوں کے رن وےز کی وسیع کی ہے جس کے بعد وہ لڑاکا طیاروں کے استعمال کے لائق ہو گئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ مصر نے زیر زمین تنصیبات بنائی ہیں جن کے بارے میں اسرائیلی انٹیلی جنس کا خیال ہے کہ انھیں میزائلوں کو ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اسرائی حکام کے پاس ’اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ مصر ان تنصیبات میں میزائلوں کو ذخیرہ کر رہا ہے۔‘
روس کا یوکرین پر بڑا فضائی حملہ، کم از کم تین افراد ہلاک، 30 سے زائد زخمی: یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی
،تصویر کا ذریعہUkraine's state emergency service DSNS
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی نے یوکرین پر رات گئے ہونے والے بڑے فضائی حملے میں کم از کم تین افراد کی ہلاکت اور30 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
صدر زیلینسکی کے مطابق ملک بھر کے مختلف علاقوں میں کیے جانے والے ان روسی حملوں میں ’دانستہ حکمت عملی‘ کے تحت نہ صرف بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی بلکہ شہریوں میں خوف کا احساس پیدا کرنے کے لیے ایک رہائشی عمارت پر براہ راست میزائل مارا گیا ہے۔
یوکرین کی فضائیہ کا دعویٰ ہے کہ ماسکو نے 619 ڈرون اور میزائل داغے ہیں۔
دوسری جانب روس کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس کے بڑے پیمانے پر کیے گئے حملے میں ہتھیاروں کا استعمال بھرپور اور درست استعمال کیا گیا جس دوران فوجی صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
روس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ساراتوف کے علاقے پر یوکرین کی جانب سے کیے گئے ڈرون حملے میں چار افراد مارے گئے ہیں۔
کیئو کا کہنا ہے کہ اس نے وہاں ایک بڑی آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا ہے۔ یوکرین کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہمسایہ سمارا کے علاقے میں ایک اور روسی آئل ریفائنری کو نقصان پہنچا ہے۔
بی بی سی دونوں ملکوں کے ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔
یاد رہے کہ سرحد پار سے ڈرون حملے جنگ کی ایک نمایاں خصوصیت بن چکے ہیں۔ رواں سال جولائی میں یوکرین کی جانب ڈرون حملے نے روس کو اپنے تقریبا تمام ہوائی اڈوں کا آپریشن روکنے پر مجبورکر دیا تھا۔
یوکرین منظم طریقے سے روسی تیل اور دیگر اہم صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے جس نے اس کی روس کے ساتھ جاری جنگ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنصدر زیلنسکی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر صدر ٹرمپ سے ملاقات کریں گے
دوسری جانب ایک ایسے وقت میں جب یوکرین اوراس کے مغربی اتحادیوں (بشمول امریکہ) کی جانب سے بارہا جنگ بندی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، ماسکو نے حالیہ ہفتوں میں یوکرین پر کیے جانے والے فضائی حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
اس ماہ کے شروع میں یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں مرکزی سرکاری عمارت کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بارے میں یوکرین کا کہنا تھا کہ یہ روسی کروز میزائل تھا۔
صدر زیلنسکی نے سنیچر کے روز کہا ہے کہ وہ اگلے ہفتے نیویارک میں ہونے والی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔
یاد رہے روسی صدر پوتن نے 2022 میں یوکرین پر حملوں کا آغاز کیا تھا جب سے دونوں ممالک کے درمیان جنگ جاری ہے۔
ہیتھرو سمیت یورپ کے مختلف ایئرپورٹس پر سائبر حملے، متعدد پروازیں تاخیر اور بدنظمی کا شکار
،تصویر کا ذریعہReuters
یورپ کے متعدد بڑے ہوائی اڈوں پر سنیچر کے روز ایک بڑے سائبر حملے کے نتیجے میں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اس دوران متعدد پروازیں تاخیر کا شکار ہو گئیں۔
برطانیہ کا ہیتھرو ایئرپورٹ بھی ان متعدد یورپی ہوائی اڈوں میں شامل ہے جو سائبر حملے کی زد میں ہیں جس سے الیکٹرانک چیک ان اور سامان کا نظام ک بری طرح متاثرہوا ہے۔
ایئرپورٹ کی جانب سے متعدد ایئر لائنز کو کولنز ایرو سپیس کی طرف سے فراہم کردہ سافٹ ویئر کو متاثر کرنے والے ’تکنیکی مسئلے‘ کی وجہ سے ممکنہ تاخیر سے خبردار کیا۔
برسلز ہوائی اڈے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعے کی رات سائبر حملے کا مطلب یہ ہے کہ مسافروں کو مشینی طریقہ کار کے بجائے ہاتھ سے معلومت کا اندراج کر کے چیک ان کیا جا رہا تھا، جبکہ برلن کے برینڈن برگ ایئرپورٹ پر بھی اس مسئلے کی وجہ سے مسافروں کو طویل انتظار کی زحمت اٹھانا پڑی۔
کولنز ایرو سپیس کے انتظام کی ذمہ دار کمپنی آر ٹی ایکس کے مطابق وہ بعض ہوائی اڈوں کے سسٹم میں سائبر حملوں سے متعلق آگاہ ہیں اور وہ اس مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہReuters
کمپنی نے مزید کہا کہ سائبر حملے کے اثرات الیکٹرانک کسٹمر چیک ان اور بیگج ڈراپ تک محدود ہیں۔
ان کے مطابق حملے نے ان کا وہ سافٹ ویئر متاثر کیا ہے جو مختلف ایئرلائنز کو ایک ہوائی اڈے پر ایک ہی وقت میں چیک ان ڈیسک اور بورڈنگ گیٹس استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
’بوڑھے والدین کے ساتھ ہیتھرو میں پھنسی ہوں، ہم بھوکے اور تھکے ہوئے ہیں۔‘
فلائٹ ٹریکر فلائیٹ اویئر کے مطابق اس حملے سے سینکڑوں پروازیں ہوائی اڈوں پر تاخیر کا شکار ہوئیں۔
ڈبلن ایئرپورٹ کے مطابق ان کو سائبر حملے سے معمولی نوعیت کے اثرات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
بی بی سی کو ہیتھرو کے ٹرمینل فور سے لوسی سپینسر نامی ایک مسافر نے بتایا کہ وہ ملائیشیا ایئر لائنز کی پرواز میں چیک ان کرنے کے لیے دو گھنٹے سے زائد عرصے سے قطار میں کھڑی رہیں جہاں عملہ ہاتھ سے سامان کو ٹیگ کر رہا تھا اور فون پر مسافروں کی معلومات جانچ رہا تھا۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ سینکڑوں لوگوں کو قطار میں کھڑے دیکھ سکتی ہیں۔
ایک اور مسافر منزہ اسلم نے کہا کہ وہ ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک انتظار بیٹھی رہیں۔ ان کے مطابق ’پتہ نہیں ہم کب اڑیں گے جبکہ دوحہ میں ہماری کنیکشن فلائیٹ پہلے ہی چھوٹ چکی ہے۔ میں صبح پانچ بجے سے اپنے بوڑھے والدین کے ساتھ ہیتھرو میں ہوں، ہم بھوکے اور تھکے ہوئے ہیں۔‘
دوسری جانب ہیتھرو ہوائی اڈے نے بیان میں کہا ہے کہ اس صورتحال میں ان کا اضافی عملہ چیک ان کے مقامات پر موجود ہے تاکہ رکاوٹوں کو کم سے کم کرنے میں مدد ملے۔
ایئرپورٹ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ہم مسافروں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ ہوائی اڈے پر جانے سے پہلے اپنی ایئر لائن کے ساتھ اپنی پروازکو چیک کریں، اور اپنی طویل فاصلے کی پرواز سے کم از کم تین گھنٹے پہلے یا ڈومیسٹک پروازوں کے لیے دو گھنٹے پہلے پہنچ جائیں۔‘
اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے مزید 17 فلسطینی ہلاک، اسرائیل کا غزہ شہر پر حملوں میں طاقت کے بھرپور استعمال کا اعلان
،تصویر کا ذریعہEPA
اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر زمینی حملوں کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ غزہ شہر پر حملے میں اپنی طاقت کا بھرپور استعمال کرے گی۔
فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق سنیچر کی صبح غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 17 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے 14 کا تعلق غزہ سٹی سے تھا۔
ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوج نے المعتصم سکول پر فضائی حملہ کیا جہاں بے گھر افراد پناہ لیے ہوئے تھے۔بی بی سی عربی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے تل الحوا کے علاقے اور غزہ شہر کے جنوب مغرب میں اسلامی یونیورسٹی کے اطراف، غزہ شہر کے مشرق میں الطفاح اور النصر محلے کے شمال مغربی علاقوں اور النصیرات پناہ گزین کیمپ میں بجلی کمپنی کے آس پاس کے علاقوں پر بھی حملوں کی اطلاعات ہیں۔
اسرائیلی فوج کے ڈرونز نے شہر کے شمال مغرب میں واقع صابرہ کے علاقے پر حملے کیے جس دوران شمال مغربی علاقوں میں شدید گولہ باری اور کار بموں کے دھماکے بھی کیے گئے ہیں۔
بی بی سی عربی نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی افواج نے غزہ شہر میں رہائشی عمارتوں پر بمباری کی ہے۔
فلسطینی شہری دفاع نے بتایا کہ اگست کے آخر سے اب تک 450,000 غزہ کی پٹی کے جنوبی حصے میں بے گھر ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ غزہ شہر سے نکلنے والے باشندوں کو ’انسانی ہمدردی‘ کی بنیاد پر خوراک، خیمے اور ادویات فراہم کی جائیں گی۔
جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیلی فوج نے ان علاقوں پر متعدد فضائی حملے کیے ہیں جنھیں وہ انسانی بنیادوں پر محفوظ قرار دیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا اسرائیل کو ہتھیار فروخت کرنے کا عندیہ
خبررساں ادارے روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اسرائیل کو ساڑھے چھ ارب ڈالر کے امدادی سازوسامان اور ہتھیار فروخت کرنے کے لیے کانگریس سے منظوری حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
روئٹرز کے مطابق اس میں جبگی ہیلی کاپٹر اور بکتر بند جہاز بھی شامل ہیں۔
پرتگال کا فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان, ریچل ہیگن، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنپرتگال میں شہری غزہ میں جنگ بندی نہ ہونے کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں
یورپ کے ملک پرتگال نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اتوار کے روز وہ باضابطہ طور پر فلسطین کو ریاست تسلیم کر لے گا۔
پرتگال کے مطابق اتوار کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ان کا ایک اعلیٰ سطح وفد، فلسطینی ریاست کو باضاطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کرے گا۔
یاد رہے کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے آثار نہ ہونے کے باعث فرانس، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا بھی اسی طرح کے اعلانات کی تیاری کر رہے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل نے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ یہ حماس کے سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کی صورت میں کی جانے والی دہشت گردی کا بدلہ ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل کے اہم اتحادی امریکہ نے نیتن یاہو کی دلیل کی توثیق کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے برطانیہ کے سرکاری دورے کے دوران برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر کے ساتھ گفتگو میں کہا ہے کہ وہ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے سے متفق نہیں ہیں۔
اقوام متحدہ کے 193 ارکان میں سے تقریباً تین چوتھائی پہلے ہی ایک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں جسے 2012 میں غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ دیا گیا تھا۔
عالمی رہنما منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اکھٹا ہوں گے تاہم اس اہم عرصے کے دوران بھی اسرائیلی فوج غزہ شہر میں پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ ہزاروں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے 2023 میں جنوبی اسرائیل پر حماس کی زیرقیادت حملے کے جواب میں غزہ میں حملوں کا آغاز کیا تھا۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق تب سے اب تک غزہ میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 65,141 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
راہل گاندھی کا انڈین وزیر اعظم پر ایک بار پھر ووٹ چوری کا الزام: ’ہمارے پاس بلیک اینڈ وائٹ ثبوت موجود ہیں‘
،تصویر کا ذریعہANI
انڈین پارلیمنٹ (لوک سبھا) میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے سنیچر کے روز ایک بار پھر وزیر اعظم نریندر مودی پر’ووٹ چوری‘ کے حوالے سے بیان دیا ہے اور کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کرناٹک سی آئی ڈی کو معلومات فراہم کرنے میں بھی رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر موجود کلپ میں میڈیا سے گفتگو میں راہل گاندھی کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’ہم نے پریس کانفرنس کے دوران جو کچھ دکھایا وہ سیاہ اور سفید ہے۔ کرناٹک میں سی آئی ڈی کی تحقیقات جاری ہیں۔‘
یاد رہے کہ راہل گاندھی پچھلے کچھ عرصے سے انڈیا کے الیکشن میں ’ووٹ چوری‘ کے الزامات لگا رہے ہیں۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے وضاحت بھی جاری کر دی ہے۔
راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ’ سی آئی ڈی نے خاص طور پر ان فون نمبروں کے بارے میں معلومات مانگی ہیں جو ’ووٹ چوری‘ کے لیے استعمال کیے گئے تھے تاہم یانیش کمار (چیف الیکشن کمشنر) وہ معلومات نہیں دے رہے ہیں جو سی آئی ڈی مانگ رہی ہے۔‘
راہل گاندھی نہ مزید کہا کہ ’سی ای سی کے خلاف (ووٹ کی چوری کا) اس سے بڑا کوئی ثبوت نہیں ہو سکتا۔ پولیس معلومات مانگ رہی ہے اور انڈیا کے الیکشن کمشنر تعاون نہیں کر رہے۔‘
انھوں نے ایک بار پھر دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے جو مہادیو پورہ اور نالندہ میں کیا اس کے بعد انڈیا میں کسی کے ذہن میں یہ شک نہیں رہے گا کہ نریندر مودی جی نے ’ووٹ چوری‘ کیا ہے۔‘
کانگریس لیڈر کے مطابق ’میں یہ پہلے بھی کہہ چکا ہوں ہم ایک تہلکہ خیز انکشاف کرنے جا رہے ہیں جو صورتحال کو مکمل طور پر بدل دے گا کیونکہ ہمارے پاس اپنی بات کے ٹھوس ثبوت ہیں۔‘
اسرائیل پر اعتماد نہیں، مذاکرات کا مقصد 1974 کا معاہدہ بحال کرنا ہے: احمد الشرع
،تصویر کا ذریعہGetty Images
شام کی عبوری حکومت کے سربراہ احمد الشرع نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ امریکی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کا مقصد تعلقات معمول پر لانے کے بجائے سرحدی حدود کے معاہدے کی بحالی ہے۔
عبوری حکومت کے سربراہ نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں کسی بھی سطح پر تل ابیب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے بات چیت نہیں ہوئی ہے۔
ترکی کے اخبار میں شائع ہونے والی خبر کے بعد شام کے ٹی وی نے عبوری صدر کا بیان نشر کیا۔
قطر پر حالیہ حملے کے بعد اسرائیل کے ساتھ مذاکرات پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اگر سوال یہ ہے کہ کیا مجھے اسرائیل پر بھروسہ ہے؟ میں اسرائیل پر بھروسہ نہیں کرتا ہوں۔‘
انھوں نے واضح کیا کہ شام لڑنا ضرور جانتا ہے لیکن وہ جنگ نہیں کرنا چاہتے ہیں۔
عبوری صدر نے سویدا کے واقعات کا حوالا دیتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیل کے ساتھ جب مذاکرات مکمل ہونے ہی والے تھے کہ سویدا میں پرتشدد واقعات شروع ہو گئے۔‘
انھوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات میں کوشش کی جا رہی ہے کہ جلد شام اور اسرائیل کے مابین 1974 میں طے ہونے معاہدے کو بحال کر لیا جائے تاکہ شام کے جنوبی علاقوں سے اسرائیل کا قبضہ ختم ہو سکے۔
یاد رہے کہ 1973 کی عرب جنگ کے بعد شام کے کئی علاقوں پر اسرائیل نے قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد 1974 میں دونوں ممالک کے مابین سرحدی حدود پر معاہدہ ہوا تھا۔
شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے کئی علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔
اسرائیل کو چھ ارب ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کی فروخت، ٹرمپ انتظامیہ کا کانگریس سے رابطہ
،تصویر کا ذریعہEPA
امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کو چھ ارب ڈالر مالیت کے دفاعی سازو سامان دینے کے لیے امریکی کانگریس سے رجوع کر رہے ہیں۔
اسرائیل کے لیے تجویز کردہ اس پیکچ میں 30 جدید اپاچی ہیلی کاپٹر سمیت 3000 سے زائد انفنٹری حملہ آور گاڑیاں بھی شامل ہیں۔
اسرائیل کو مزید ہتھیار دینے کی خبریں ایک ایسے وقت پر سامنے آئیں ہیں جب حال ہی میں اسرائیل نے غزہ شہر پر حملے میں ’نے مثال طاقت ‘کا استعمال کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں تقریباً 25 لاکھ افراد غزہ شہر سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔
گذشتہ شب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں، امریکہ نے ایک بار پھر غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی کے مطالبے کی قرارداد کو ویٹو کر دیا ہے۔
سلامتی کونسل کے دیگر 14 اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جبکہ صرف امریکہ نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔قرارداد میں غزہ تک زیادہ سے زیادہ انسانی رسائی کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔
اس سے قبل اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی جانب سے اسرائیل پر غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کے الزامات اس رپورٹ کی بنیاد پر لگائے گئے تھے۔ جس کے مطابق 2023 میں حماس کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیل بین الاقوامی قانون کے تحت کسی معاملے کو نسل کشی قرار دیے جانے کے لیے درکار پانچ اقدامات میں سے چار کا مرتکب ہوا ہے۔
امریکہ وینزویلا تنازع: امریکی افواج نے مبینہ طور پر منشیات سے لدی تیسری کشتی تباہ کر دی
،تصویر کا ذریعہDONALD TRUMP/TRUTH SOCIAL
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی افواج نے منشیات لے جانے والی ایک کشتی پر ’مہلک‘ حملہ کیا ہے اور اس حملے میں کشتی میں سوار تین ’مرد منشیات کے دہشت گرد‘ مارے گئے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ منشیات کی سمگلنگ سے متعلق امریکی انٹیلی جنس کی تصدیق کے بعد انھوں نے امریکی جنوبی کمانڈ کو اس کشتی پر حملہ کرنے کا حکم دیا تھا۔
حالیہ کچھ ہفتوں کے دوران مبینہ طور پر منشیات لے جانے والی کشتیوں پر امریکی افواج کا یہ تیسرا حملہ ہے۔
اس سے قبل مبینہ طور پر وینزویلا کی ان کشتیوں پر امریکی فوج کے حملوں میں 14 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کا ملک امریکی ’جارحیت‘ کے خلاف اپنا دفاع کرے گا۔
ٹرمپ نے جمعہ کو سوشل میڈیا سائٹ ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ حملہ بین الاقوامی سمندر میں جنوبی امریکہ اور کیریبین کے علاقوں کے قریب ہوا جس کی سکیورٹی کی ذمہ دمہ داری یو ایس سدرن کمانڈ کی ذمہ داری ہے۔
’جنگ انا کی تسکین کے بجائے مقاصد کے حصول کے لیے لڑنی چاہیے‘: انڈین فضائیہ کے سربراہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی فضائیہ کے سربراہ اے پی سنگھ کا کہنا ہے کہ دنیا کو انڈیا کو دیکھ کر یہ سیکھنا چاہیے کہ جنگ انا کی تسکین کے لیے نہیں بلکہ مقاصد کے حصول کے لیے لڑیں جاتی ہیں۔
انھوں نے ایک تقریب کے دوران پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بلاشبہ انڈیا نے جنگ جلد ختم کر دی لیکن انڈیا کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ تھا اور مخصوص ٹھکانوں پر حملے کر کے اسے حاصل کر لیا گیا۔
انڈین فضائیہ کے سربراہ نے کہا کہ اگر ہمارے مقاصد پورے ہو گئے ہیں تو پھر ہم تنازع کیوں ختم نہ کرتے۔
انھوں نے کہا کہ کسی جنگ کی بہت زیادہ معاشی قیمیت ہوتی ہے اور طویل جنگیں اگلی تیاریوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔
رواں سال مئی میں انڈیا کی جانب سے پاکستان کے اندر مختلف علاقوں میں حملوں کے بعد دونوں ممالک کے مابین جنگ کا آغاز ہوا تھا۔ جس میں پاکستان نے انڈیا کے پانچ جہاز گرانے کا دعویٰ کیا۔ امریکہ کی مداخلت دونوں ممالک کے مابین جنگ بندی ہوئی تھی
ٹرمپ کا ہنرمند غیر ملکی ملازمین کی ویزا فیس ایک لاکھ ڈالر کرنے کا اعلان
،تصویر کا ذریعہGetty
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملازمت کے لیے امریکہ آنے والے غیر ملکی ہنر مند افراد کے لیے ویزا فیس پندرہ سو ڈالر سے بڑھا کر ایک لاکھ ڈالر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے جمعے کو ایک صدارتی حکم نامے جاری کیا جس کے تحت ہائی سکیلڈ (ہنر مند) افراد کو امریکہ بلوانے کے لیے پروگرام H-1B کی ویزا فیس میں اضافہ کر دیا ہے۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ اس حکم نامے سے امریکہ میں ٹیک کمپنیاں متاثر ہوں گی جن کی افرادی قوت کا انحصار چین اور انڈیا سے آنے والے ہنر مند افراد پر ہے۔
H-1B ویزا، دنیا بھر سے سکیلڈ افراد کو امریکہ میں ملازمت کے مواقع فراہم کرتا ہے۔
اس منصوبے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ امریکہ کی افرادی قوت کا استحصال ہے لیکن ایلون مسک جیسے منصوبے کے حامیوں کے مطابق اس پروگرام کے تحت دنیا بھر سے بہترین ٹیلنٹ کو امریکہ لانا ممکن ہوتا ہے۔
2004 کے بعد سے امریکہ نے سالانہ H-1B ویزا جاری کرنے کی زیادہ سے زیادہ حد 85 ہزار مقر کر دی ہے۔ اس وقت اس ویزا کی فیس 1500 ڈالر ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ میں سیکریٹری کامرس ہورڈ لیوٹنک کا کہنا ہے کہ اس فیصلے پر تمام بڑی امریکی کمنیوں کو آگاہ کر دیا گیا۔
حکومتی اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ مالی سال کے دوارن اس پروگرام سے سب سے زیادہ مستفید ایمازون ہوا تھا اور اس کے بعد ٹیک کمپنیاں ٹاٹا، مائیکروسافٹ، میٹا، ایپل اور گوگل تھے۔
H-1B پروگرام پر اضافی پابندیاں انڈیا جیسے ملک کے تشویش کا باعث ہے۔ اب تک بڑی تعداد میں انڈین اس پروگرام کے ذریعے امریکہ آئے ہیں۔
امریکہ نے 1990 میں H-1B ویزا پروگرام شروع کیا تھا۔ اب تک اس پروگرام کے تحت سب سے زیادہ انڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد ہنر مند افراد امریکہ منتقل ہوئے ہیں اور اس فہرست میں دوسری نمبر پر چین ہے۔
امریکہ میں صدر ٹرمپ کی انتظامیہ اپنی نئی امیگریشن پالیسی کے تحت اس پروگرام کو بھی جانچ رہی ہے اور ٹرمپ اکثر یہ کہتے ہیں کہ غیر ملکی امریکیوں کی نوکریوں پر قبضہ کر رہے ہیں۔