’اصل فورم وفاقی آئینی عدالت ہے‘: 27 ویں ترمیم سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چار ججز کی درخواست پر اعتراض

سپریم کورٹ کے رجسڑار آفس کا کہنا ہے کہ اس آئینی ترمیم کو چیلنج کرنے کا اصل فورم وفاقی آئینی عدالت ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی سمیت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چار ججز کی جانب سے ترمیم چیلنج کی گئی تھی.

خلاصہ

  • اقتصادی رابطہ کمیٹی نے دفاعی منصوبوں کے لیے 50 ارب روپے کے اضافی فنڈز کی منظوری دے دی
  • امریکہ نے سعودی عرب کو اہم غیر نیٹو اتحادی کا درجہ دے دیا
  • سعودی ولی عہد کا امریکہ میں 10 کھرب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان، خاشقجی کے قتل پر ٹرمپ نے اُن کا دفاع کیا
  • قبللبنان میں فلسطینی پناہ گزین کیمپ کے نزدیک اسرائیلی حملے میں 13 افراد ہلاک

لائیو کوریج

  1. اقتصادی رابطہ کمیٹی نے دفاعی منصوبوں کے لیے 50 ارب روپے کے اضافی فنڈز کی منظوری دے دی

    پاکستان فوج کا ٹینک

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency via Getty Images

    پاکستان کی وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے ڈیفینس ڈویژن کی جانب سے جمع کرائی گئی ایک سمری منظور کرتے ہوئے مختلف دفاعی منصوبوں کے لیے 50 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ (ٹی ایس جی) کی منظوری دے دی۔

    منگل کے روز وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت فنانس ڈویژن میں ہونے والے ای سی سی اجلاس کے دوران سکیورٹی، دفاعی منصوبوں، اور تنظیمی اصلاحات کے متعدد منصوبوں کے لیے گرانٹس کی منظوری دی۔

    ای سی سی نے وفاقی سول آرمڈ فورسز کے زیر استعمال دفاعی آلات کی دیکھ بھال اور مرمت کے لیے وزارت داخلہ اور انسداد منشیات کی درخواست پر 10 کروڑ روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دی۔

    یاد رہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت نے بجٹ 26-2025 میں دفاع کے لیے 2550 ارب روپے رکھے تھے۔ یہ ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ اس کے علاوہ ہے۔

    وزارت داخلہ کی جانب سے جمع کرائی گئی ایک اور درخواست پر ای سی سی نے وفاقی سول آرمڈ فورسز کی جانب سے بارڈر کنٹرول آپریشنز، اندرونی سکیورٹی اور امن و امان کی بحالی کے لیے 84 کروڑ 15 لاکھ روپے کی اضافی منظوری دی۔

    اس کے علاوہ کمیٹی نے ڈیفنس ڈویژن کی جانب سے جمع کرائی گئی ایک سمری کی منظوری دیتے ہوئے مختلف دفاعی منصوبوں کے لیے 50 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ بھی منظور کر لی۔

  2. امریکہ نے سعودی عرب کو باضابطہ طور پر اہم اتحادی کا درجہ دے دیا

    صدر ٹرمپ اور محمد بن سلمان

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    امریکہ نے سعودی عرب کے ساتھ فوجی تعاون کو بڑھاتے ہوئے اسے باقاعدہ طور پر اہم غیر نیٹو اتحادی کا درجہ دے دیا۔

    یہ اعلان منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں امریکی صدر کا کہنا ہے کہ انھیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم دونوں ملکوں کے درمیان فوجی تعاون کو ایک نئی اونچائیوں پر لے جا رہے ہیں اور سعودی عرب کو باضابطہ طور پر ’اہم غیر نیٹو اتحادی‘ کا درجہ دے رہے ہیں۔

    سعودی ولی عہد سے ملاقات کے بعد جب ایک صحافی نے دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی معاہدے کے متعلق سوال کیا تو صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ’کافی حد تک‘ ایک معاہدے پر پہنچ چکے ہیں۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کو بھی ویسے ہی ایف-35 لڑاکا فراہم کیے جائیں گے جیسے اسرائیل کے پاس ہیں، اس سے کم صلاحیت کے نہیں۔

    اس ملاقات سے قبل صدر ٹرمپ سعودی عرب کو ایف 35 لڑاکا طیارے فروخت کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    صدر ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم انھیں ایف 35 طیارے فروخت کریں گے، وہ ایک بہت اچھے اتحادی ہیں۔‘

  3. غیر قانونی طور مقیم افغان باشندوں کی اطلاع دینے پر نقد انعام نہیں دیا جا رہا: پنجاب پولیس کی وضاحت

    پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ ان خبروں میں قطعی کوئی صداقت نہیں کہ صوبے میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے بارے میں اطلاع دینے والوں کو 10 ہزار روپے نقد دیے جا رہے ہیں۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبے پنجاب کی پولیس کا کہنا ہے کہ صوبے میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے متعلق اطلاع دینے والوں کو نقد انعام دینے کی کوئی سکیم نہیں ہے۔

    پنجاب پولیس کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں میں قطعی کوئی صداقت نہیں کہ صوبے میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے بارے میں اطلاع دینے والوں کو 10 ہزار روپے نقد دیے جا رہے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پنجاب پولیس کی جانب سے ایسا کوئی اعلان ہرگز جاری نہیں کیا گیا ہے۔ پولیس نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ کسی بھی ’بے بنیاد، من گھڑت افواہ‘ پر ہرگز دھیان نہ دیں اور ’نہ ہی ایسی جھوٹی پوسٹ کو وائرل کریں۔‘

    پولیس نے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    واضح رہے کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا تھا کہ 30 ستمبر کے بعد افغان پناہ گزینوں کے ساتھ ساتھ ایسے افغان باشندے بھی پاکستان میں غیر قانونی تصور ہوں گے جو مختلف غیر ملکی سفارت خانوں سے ویزے حاصل کرنے کے لیے پاکستان میں مقیم ہیں۔

    اس سے قبل رواں سال مارچ میں پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز افغان شہریوں کی رضاکارانہ طور پر اپنے ملک واپسی کی 31 مارچ کی ڈیڈلائن ختم ہونے کے بعد ان کی جبری واپسی کا عمل شروع کردیا تھا۔

  4. افغان سرحد کی بندش کے باعث چمن میں مال برادر گاڑیوں کے ڈرائیور پریشان: ’ہمیں گاڑیوں کا تیل فروخت کرنا پڑا‘, محمد کاظم، بی بی سی اردو/ کوئٹہ

    بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں پھنسے کنٹینروں اور دیگر مال بردار گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ان مال بردار گاڑیوں کے ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ پیسے ختم ہونے کے باعث وہ کھانے پینے کی اشیا خریدنے کے قابل نہیں۔

    بڑی تعداد میں پھنسی گاڑیوں میں پاکستانی سامان ہے جو کہ پاکستان کے مختلف شہروں سے افغانستان کے لیے بُک ہوا تھا۔

    ڈرائیوروں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ انھیں اس مشکل صورتحال سے نکالنے کے لیے کوئی راستہ نکالیں۔

    بلوچستان میں سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ چونکہ سرحد کا معاملہ وفاقی حکومت کا ہے اس لیے ڈرائیوروں کے مسئلے کا حل وفاقی حکومت ہی نکال سکتی ہے۔

    افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں مال بردار گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان اور افغانستان کے درمیان تناؤ کے باعث 12 اکتوبر سے پھنسی ہوئی ہے۔ کشیدگی اور سرحد کی بندش کے باوجود افغانستان کے سرحدی شہر سپین بولدک میں جو خالی پاکستانی گاڑیاں پھنس گئی تھیں ان کو آنے کے لیے بارڈر کو خصوصی طور پر کھول دیا گیا تھا۔ جبکہ پاکستان سے واپس جانے والے افغان مہاجرین کے لیے بھی سرحد کھلی ہوئی ہے۔

    تاہم ان مال بردار گاڑیوں کے بارے میں تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ ڈرائیور ملت خان نے بتایا کہ انھیں یہاں پھنسے ہوئے 35 دن سے زیادہ ہوگئے ہیں۔ ان کی گاڑیوں میں سے کسی میں گھی ہے، کسی میں چینی اور کسی میں پرچون کا سامان۔ لیکن سرحد کی بندش کی وجہ سے وہ یہ مال افغانستان نہیں لے جاسکتے۔

    انھوں نے بتایا کہ ان کے پاس پیسے ختم ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی گاڑیوں میں جو سامان ہے وہ انھوں نے چند کلومیٹر دور سرحد کی دوسری جانب سپین بولدک میں خالی کرنا ہے۔ انھوں نے دونوں حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ ان کے لیے کوئی راستہ نکالیں تاکہ یہاں پھنسنے کی وجہ سے وہ جس اذیت سے دوچار ہیں اس سے ان کو نجات ملے۔

    ایک اور ڈرائیور نعیم شاہ نے بتایا کہ گاڑیوں میں 50 سے 60 ٹن سامان ہے اور کئی روز سے اس وزن کے باعث ٹائروں کا بڑا نقصان ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس پیسے وغیرہ ختم ہوگئے ہیں اور ’جب ہم پیسوں کے لیے بروکرز کو فون کرتے ہیں تو ان کا یہی جواب ہوتا ہے کہ وہ خود پیسوں کی تلاش میں ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ گاڑیوں کے مالکان کو چاہییے کہ وہ ڈرائیوروں کا خیال رکھیں۔

    ایک اور ڈرائیور عصمت اللہ نے بتایا کہ ان کی گاڑی میں چینی لوڈ ہے جس کو سپین بولدک لے جانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گاڑی میں جو ڈیزل پڑا تھا، وہ انھوں نے اپنے گزارے کے لیے فروخت کیا۔

    انھوں نے بتایا کہ کراچی سے لے کر یہاں اب تک ہر گاڑی پر ڈیڑھ لاکھ روپے سے دو لاکھ روپے تک خرچہ ہوا ہے۔

    ان ڈرائیوروں کی مشکلات کے حوالے سے بلوچستان حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے علاوہ کمشنر کوئٹہ ڈویژن اور دیگر حکام سے رابطہ کیا گیا لیکن انھوں نے کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ تاہم ایک انتظامی آفیسر نے نام طاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سرحد کو کھولنے کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے۔

    خیبر پشتونخوا میں طورخم کی طرح چمن بلوچستان سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بڑی گزرگاہ ہے۔

    ایک ماہ سے زائد کے عرصے سے سرحد کی بندش سے نہ صرف دونوں ممالک کے تاجروں کو نقصان کا سامنا ہے بلکہ بڑی تعداد میں وہ لوگ بھی متاثر ہوئے جن کے روزگار کا انحصار سرحد پر تھا۔

  5. ٹرمپ اور سعودی ولی عہد کے درمیان ملاقات میں کیا ہوا؟

    ٹرمپ اور سعودی ولی عہد

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • ٹرمپ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان 2018 کے دوران صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے لاعلم تھے۔ یہ امریکی انٹیلیجنس رپورٹ کی نفی ہے جس میں معلوم ہوا تھا کہ سعودی ولی عہد نے قتل کی منظوری دی تھی۔ محمد بن سلمان نے کہا کہ استنبول کے سعودی قونصل خانے میں حاشقجی کا قتل ’بڑی غلطی‘ تھی۔
    • محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ امریکہ میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو 10 کھرب تک بڑھایا جائے گا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کا ملک اتنی استطاعت رکھتا ہے تو انھوں نے کہا کہ ’ہم امریکہ یا ٹرمپ کی خوشامد کے لیے جعلی مواقع پیدا نہیں کر رہے۔‘
    • سعودی ولی عہد نے کہا کہ ان کا ملک ابراہیم معاہدوں کا حصہ بننا چاہتا ہے۔ 2020 میں امریکی ثالثی کی بدولت بعض عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ دو ریاستی حل کی جانب واضح راستہ دیکھنا چاہتے ہیں۔
    • جب ایک رپورٹر نے ایپسٹین فائلز کے بارے میں سوال کیا تو ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میرا جیفری ایپسٹین سے کوئی تعلق نہیں۔ میں نے انھیں کئی برس قبل اپنے کلب سے نکال دیا تھا۔‘ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ کانگریس ایپسٹین فائلز ریلیز کرے۔
  6. سعودی ولی عہد کا امریکہ میں 10 کھرب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان، خاشقجی کے قتل پر ٹرمپ نے اُن کا دفاع کیا

    سعودی ولی عہد کا امریکہ میں 10 کھرب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان، ٹرمپ کا خاشقجی کے قتل پر سعودی ولی عہد کا دفاع

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو 10 کھرب ڈالر تک بڑھائیں گے۔

    ٹرمپ نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ اس کی تصدیق کرتے ہیں تو محمد بن سلمان نے کہا ’ضرور۔‘

    ٹرمپ نے اسے ’بہت اچھا‘ کہا اور اس پر سعودی ولی عہد کو داد بھی دی۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ اعزاز کی بات ہے کہ محمد بن سلمان ان کے دوست ہیں اور ’امریکہ اس سرمایہ کاری پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہے۔‘

    ٹرمپ نے کہا ’دس کھرب ڈالر، ٹھیک ہے۔۔۔ شکر ہے آپ نے یہ بتایا کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ میں یہ سب کو بتاؤں۔‘

    محمد بن سلمان نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’آپ اسے بڑھاتے رہتے ہیں مسٹر پریزیڈنٹ، جب بھی مواقع مزید بڑھتے جاتے ہیں۔‘

    امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ کیا یہ ٹھیک ہے کہ ان کا خاندان سعودی عرب سے کاروبار کرنے میں مصروف ہے جبکہ وہ صدر ہیں۔ ٹرمپ نے جواب میں کہا کہ ان کا خاندانی کاروبار سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کاروبار پوری دنیا میں ہوتا ہے اور درحقیقت سعودی عرب میں بہت کم کاروبار کیا جا رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تمام توجہ امریکہ کی طرف ہے۔

    ٹرمپ نے ایک سوال کے جواب میں یہ بھی کہا کہ سعودی ولی عہد کو قتل کے بارے میں ’کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ صحافی جمال خاشقجی ’بہت متنازع تھے۔‘

    محمد بن سلمان نے صحافی کے قتل پر دکھ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کے دوران اقدامات کیے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’نظام میں بہتری لائی گئی تاکہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔‘

    دفاعی معاہدے اور ابراہیم اکارڈ پر سوال

    ایک صحافی نے ٹرمپ اور ولی عہد سے پوچھا کہ کیا وہ امریکہ-سعودی دفاعی معاہدے پر سمجھوتہ کر چکے ہیں اور کیا انھوں نے ’ابراہیم معاہدہے‘ کے بارے میں بات کی ہے۔

    2020 کے ابراہم معاہدے، جو کہ امریکہ کی ثالثی میں کیے گئے تھے، میں متحدہ عرب امارات سمیت کچھ عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات قائم کیے ہیں۔

    ولی عہد کا کہنا ہے کہ ’ہم معاہدے کا حصہ بننا چاہتے ہیں‘ لیکن انھوں نے مزید کہا کہ وہ یہ بھی یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ دو ریاستی حل کے لیے کوئی واضح راستہ موجود ہو۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس بارے میں ٹرمپ کے ساتھ ان کی ’اچھی گفتگو‘ ہوئی ہے۔

    امریکی صدر کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس کے بارے میں ’بہت اچھی بات چیت‘ کی۔ انھوں نے ’ایک ریاست، دو ریاستوں۔۔۔ بہت سی چیزوں پر بات ہوئی۔‘

    اس کے بعد ٹرمپ نے سعودی ولی عہد سے پوچھا کہ کیا اس کے بارے میں ان کے ’اچھے تاثرات ہیں؟‘ تو انھیں جواب ملا ’ہاں ضرور۔‘

    دفاعی معاہدے پر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ’کافی حد تک‘ ایک معاہدے پر پہنچ چکے ہیں۔

  7. سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی وائٹ ہاؤس آمد، ٹرمپ سے ملاقات

    سعودی ولی عہد، ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہwhite house

    امریکی صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس آمد پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا استقبال کیا ہے۔ اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہاتھ ملائے۔

  8. سعودی ولی عہد کے دورے کے موقع پر رونالڈو بھی کے وائٹ ہاؤس میں موجود ہوں گے: امریکی اہلکار, برنڈ ڈیبسمین جونیئر، بی بی سی نیوز

    رونالڈو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایک امریکی سرکاری اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورے کے موقع پر سعودی فُٹ بال کلب النصر کے کپتان کرسٹیانو رونالڈو بھی وائٹ ہاؤس میں موجود ہوں گے۔

    سرکاری اہلکار نے یہ نہیں بتایا کہ رونالڈو محمد بن سلمان کے وفد کا حصہ ہیں یا نہیں۔

    پُرتگال سے تعلق رکھنے والے رونالڈو کا شمار دنیا کے مشہور ترین فٹ بالرز میں ہوتا ہے، جو کہ اب سعودی فُٹ بال لیگ کا چہرہ بن چکے ہیں۔

    رونالڈو کو سنہ 2009 میں لاس ویگاس میں ایک خاتون کا ریپ کرنے کے الزامات پر قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ رونالڈو نے ان الزامات کی تردید کی تھی اور انھیں کبھی بھی اس مقدمے میں چارج نہیں کیا گیا تھا۔

    ان کے خلاف یہ مقدمہ سنہ 2022 میں مدعی کے وکیل کی طرف سے ’ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی‘ کرنے پر خارج کر دیا گیا تھا۔

  9. سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا دورۂ امریکہ متنازع کیوں؟, ٹام بیٹمین، بی بی سی نیوز

    صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد یہ محمد بن سلمان کا پہلا دورۂ امریکہ ہے۔ 2018 کے دوران امریکہ میں مقیم کالم نگار خاشقجی، جو سعودی اندرونی سیاست کے بڑے ناقد تھے، سعودی ایجنٹوں کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے جس کے بعد عالمی سطح پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔

    امریکی انٹیلی جنس نے بعد میں یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ محمد بن سلمان نے اس آپریشن کی منظوری دی تھی۔ اگرچہ ولی عہد نے کسی پیشگی معلومات سے انکار کیا تاہم انھوں نے بطور سعودی رہنما اس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

    اس قتل کے بعد ٹرمپ کے پہلے دور میں 17 سعودی اہلکاروں پر پابندی عائد کی گئی تھی اور سعودی عرب کو عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ سعودی عرب کو ایک مثال بنائیں گے۔ بائیڈن نے یمن جنگ میں کردار کا حوالہ دیتے ہوئے بعض امریکی ہتھیاروں کی فروخت روک دی تھی۔

    مگر بعد ازاں یوکرین جنگ اور توانائی کے بحران کے دوران بائیڈن نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔

  10. کلاؤڈ فلیئر میں خرابی کے باعث پاکستان سمیت دنیا بھر میں صارفین کو مشکلات کا سامنا

    کلاؤڈ فلیئر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کا کہنا ہے کہ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور کلاؤڈ فلیئر کو متاثر کرنے والی بڑی عالمی خرابی کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

    ایک بیان میں پی ٹی آئی نے بتایا کہ وہ ’عالمی سروس فراہم کنندگان اور مقامی آپریٹروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور سروسز کے مکمل طور پر بحالی تک صورتِ حال کی نگرانی جاری رہے گی۔‘

    خیال رہے کہ انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کی بڑی عالمی کمپنی کلاؤڈ فیئر کی سروسز میں خرابی کے باعث ایکس اور چیٹ جی پی ٹی سمیت کئی معروف ویب سائٹ متاثر ہوئی ہیں اور صارفین کے لیے اِن تک رسائی مشکل بن گئی ہے۔

    انٹرنیٹ میں خرابی کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ ڈاؤن ڈیٹیکٹر کا کہنا ہے کہ ہزاروں صارفین ایکس اور دیگر سروسز تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے۔

    کلاؤڈ فیئر کا کہنا ہے کہ وہ مسئلے سے آگاہ ہے اور اس پر تحقیقات کی جا رہی ہے۔ اس کا مزید کہنا ہے کہ سروسز بحال کی جا رہی ہیں مگر صارفین اس دوران محدود رسائی کا سامنا کر سکتے ہیں۔

    کلاؤڈ فیئر دنیا بھر میں انٹرنیٹ سکیورٹی فراہم کرنے والی بڑی کمپنی ہے۔ اس کی جانب سے یہ چانج بھی کی جاتی ہے کہ آیا ایک ویب سائٹ تک کوئی انسان رسائی حاصل کر رہا ہے یا بوٹس۔

    کلاؤڈ فیئر کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں 20 فیصد ویب سائٹس کسی نہ کسی طرح اس کی سروسز استعمال کرتی ہیں۔

    یہ واضح نہیں ہوسکا کہ کتنی ویب سائٹ اور کتنے صارفین اس خرابی سے متاثر ہو رہے ہیں۔

  11. صدر ٹرمپ کا سعودی عرب کو ایف 35 لڑاکا طیارے فروخت کرنے کا اعلان, میلوری موئنچ، بی بی سی نیوز

    سعودی عرب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کو ایف 35 لڑاکا طیارے فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    منگل کو صدر ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم انھیں ایف 35 طیارے فروخت کریں گے، وہ ایک بہت اچھے اتحادی ہیں۔‘

    توقع ہے کہ ملاقات میں صدر ٹرمپ اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان دفاع اور سویلین نیوکلیئر معاہدوں پر بات کریں گے۔ یہ سات سال قبل صحافی جمال خاشقجی کی سعودی ایجنٹس کے ہاتھوں موت کے بعد محمد بن سلمان کا پہلا دورہ امریکہ ہے۔

    سعودلی ولی عہد نے آخری مرتبہ امریکہ کا دورہ صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ صدرارت میں سنہ 2018 میں کیا تھا۔

  12. پاکستان میں سونے کی قیمت 7000 روپے فی تولہ کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں منگل کے روز سونے کی قیمت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ ملکی صرافہ مارکیٹ میں 24 قیراط سونے کی قیمت میں 7000 روپے فی تولہ کمی کے بعد 423662 روپے کی سطح تک گر گئی۔

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی قیمت میں ہونے والی کمی کی وجہ بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں کمی ہے۔

    ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت میں 6002 روپے کی کمی ہوئی، جس کے بعد نئی قیمت 363221 روپے ہوگئی ہے۔

    بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 70 ڈالر کمی کے ساتھ 4013 ڈالر فی اونس ریکارڈ کی گئی۔

    پاکستان میں سونے کی قیمت عالمی مارکیٹ میں اس کی قیمت کے 20 ڈالر پریمیم کے ساتھ طے کی جاتی ہے۔

    سونے کی قیمت میں کمی کے ساتھ مقامی مارکیٹ میں چاندی کی قیمت میں بھی فی تولہ 123 روپے کی کمی ہوئی جس کے بعد نئی قیمت 5245 روپے ہوگئی۔

    اسی طرح 10 گرام چاندی کی قیمت 106 روپے کمی کے بعد 4496 روپے ہوگئی۔

  13. ایران نے انڈین شہریوں پر بغیر ویزا ملک میں داخلے اور ٹرانزٹ پر پابندی عائد کر دی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی حکومت نے عام انڈین پاسپورٹ رکھنے والے افراد کے لیے دستیاب ویزا فری سہولت کو22 نومبر 2025 سے معطل کر دیا ہے۔

    انڈیا میں ایرانی سفارت خانے کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’عام انڈین پاسپورٹ رکھنے والے انڈین شہریوں کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران میں یک طرفہ سیاحتی ویزا منسوخی کے ضوابط کا نفاذ 22 نومبر 2025 سے معطل کر دیا گیا ہے۔ اس تاریخ سے عام پاسپورٹ رکھنے والے انڈین شہریوں کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کی سرزمین میں داخل ہونے یا وہاں سے گزرنے یعنی ٹرانزٹ کے لیے ویزا حاصل کرنا ضروری اور لازمی ہوگا۔‘

    اسی کے ساتھ ہی انڈین وزارتِ خارجہ نے بھی اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ’حکومت کی توجہ ایسے متعدد واقعات کی طرف مبذول کرائی گئی ہے کہ جن میں انڈین شہریوں کو روزگار کے جھوٹے وعدوں یا کسی اور ملک کے سفر کی یقین دہانیوں کے ذریعے ایران کی جانب سفر کروایا جاتا ہے اور ایسے افراد کا جرائم پیشہ عناصر ناجائز استعمال کرتے ہیں۔ ایران پہنچنے پر ان میں سے بہت سے افراد کو تاوان کے لیے اغوا کر لیا گیا۔‘

    انڈین وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں تمام انڈین شہریوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ ’ایران کا سفر کرنے سے پہلے پوری طرح سے اس بات کی تصدیق کر لیں کہ وہ کسی ایجنٹ کے ہاتھوں غلط استعمال تو نہیں ہو رہے اور ایسے ایجنٹوں سے دور رہیں جو ایرانی سرزمین کا استعمال کرتے ہوئے انھیں کسی اور مُلک تک پہنچانے کے واعدے کر رہیں ہیں۔‘

  14. اشتعال انگیز گفتگو اور قتل کے فتوے جاری کرنے کے الزام میں ٹی ایل پی کے 31 اراکین گرفتار: صوبائی وزیرِ اطلاعات عظمٰی بخاری

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صوبائی وزیرِ اطلاعات عظمٰی بخاری کا کہنا ہے کہ ’ کالعدم جماعت تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز گفتگو کرنے، دھمکیاں دینے اور قتل کے فتوے دینے کے الزام میں 31 افراد پر مقدمات درج کیے گئے۔‘

    لاہور میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ اطلاعات عظمٰی بخاری کا کہنا تھا کہ ’کالعدم جماعت تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے 92 ڈیجیٹل بینک اکاؤنٹس کو بند کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 90 فنانسرز یعنی کالعدم جماعت کی مالی معاونت کرنے والے افراد کے خلاف بھی مقدمات درج کر لیے گئے ہیں جن میں سے بہت سے افراد کو حراست میں بھی لے لیا گیا ہے۔‘

    پریس کانفرنس میں اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز گفتگو کرنے، دھمکیاں دینے اور قتل کے فتوے دینے والے افراد پر 31 مقدمات درج کیے گئے۔‘

    صوبائی وزیرِ اطلاعات عظمٰی بخاری کا کہنا تھا کہ ’لاہور میں ٹی ایل پی کے احتجاج میں شریک 830 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے 225 کو باقائدہ طور پر جیو فینسنگ کی مدد سے گرفتار کیا گیا ہے یعنی اس بات کی یقین دہانی کی گئی ہے کہ حراست میں لیے جانے والے یہ افراد پرتشدد احتجاج کے مقام پر موجود تھے۔‘

    پنجاب صوبائی وزیرِ اطلاعات اعظمٰی بخاری نے بتایا ہے کہ اب تک 73ہزار مساجد کو جیو ٹیگ کیا گیا ہے اور 50 ہزار سے زیادہ عائمہ کرام نے اپنے آپ کو رجسٹر کروا لیا ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’اب تک جن عائمہ کرام نے اپنے آپ کو رجسٹر کروایا ہے انھوں نے رضاکارانہ طور پر ایسا کیا ہے کسی بھی انتظامیہ کی جانب سے انھیں کسی بھی قسم کے زور زبر دستی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ اب تک صوبہ پنجاب کی تقریباً 84 فیصد مساجد کے علما نے اپنے آپ کو رجسٹر کروا لیا ہے۔

  15. جسٹس جمال مندو خیل بطور سینئر جج سپریم کورٹ اور سپریم جوڈیشل کونسل نامزد

    27ویں آئینی ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان، سپریم جوڈیشل کونسل اور پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کی تشکیل نو کردی گئی ہے سپریم کورٹ کی طرف سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق جسٹس جمال مندو خیل کو متفقہ طور پر بطور سینئر جج سپریم کورٹ اور سپریم جوڈیشل کونسل کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

    اس اعلامیے میں مذید کہا گیا ہے کہ جسٹس عامر فاروق کو بطور سینئر جج آئینی عدالت اور جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے رکن کے لیے بھی نامزد کیا گیا ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت جسٹس جمال مندوخیل کو ججز کمیٹی کا رکن بھی نامزد کردیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق جسٹس جمال مندوخیل کو چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت نے متفقہ طور پر نامزد کیا جب کہ جسٹس عامر فاروق کو بھی چیف جسٹس پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس نے متفقہ طور پر نامزد کیا ہے۔

  16. لال قلعہ دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا ہے: این آئی اے کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ کئی روز سے جاری ہے۔ منگل کی صبح بھی پولیس نے دو درجن سے زیادہ مقامات پر چھاپے مارے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گھروں پر چھاپوں اور تلاشی کی کارروائی عدالت سے باضابطہ وارنٹ کی بنیاد پر کی جارہی ہے۔

    اس دوران پیر کے روز نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی (این آئی اے) نے عامر رشید علی نامی پانپور کے ایک کشمیری نوجوان کو دلی سے گرفتار کرلیا۔ ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ عامر نے مبینہ خودکش بمبار ڈاکٹر عمر نبی کے لئے اپنے نام سے گاڑی خریدی تھی اور عمر نے اسی گاڑی میں بارود بھر کے اسے 10 نومبر کی شام لال قلعہ علاقے میں اُڑا دیا تھا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ عامر نے ڈاکٹر عمر نبی کی تکنیکی مدد بھی کی تھی۔ انھیں منگل کے روز نئی دلی کے پٹیالیہ ہاوس کورٹ کمپلیکس میں عدالت کے سامنے پیش کیا گیا جس کے بعد عدالت نے عامر کو 10 روزہ ’انٹروگیشن ریمانڈ‘ پر این آئی اے کی تحویل میں رہنے کا حکم سنایا۔

    واضح رہے کہ لال قلعہ کار بم دھماکے میں 10 افراد ہلاک اور درجنوں دیگر زخمی ہوگئے تھے، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ اس دھماکے کو ابتدائی طور پر ’خودکش حملہ‘ قرار نہیں دیا گیا تھا، لیکن چند روز بعد جب این آئی اے نے واقعہ کی تحقیقات شروع کی تھی تو ایجنسی نے اس واقعے کو باقاعدہ ’دہشت گرد واقعہ‘ قرار دے کر کہا تھا کہ ’خودکُش بمبار ڈاکٹر عمر نبی نے ہی بارود سے بھری ہیونڈائی کار کو اُڑایا تھا۔‘

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ڈاکٹر عمر انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پلوامہ کے رہنے والے ہیں۔ ان کے والدین سے ڈی این اے نمونے حاصل کرکے این آئی اے نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈاکٹر عمر ہی ’خودکُش بمبار‘ تھے۔ ڈاکٹر عمر کے دو کشمیری ساتھی ڈاکٹر عدیل راتھر اور ڈاکٹر مزمل گنائی کے علاوہ انڈین شہری ڈاکٹر شاہین شاہد انصاری اُن متعدد افراد میں شامل ہیں جنھیں لال قلعہ کار بم دھماکے کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کیا جاچکا ہے۔ ڈاکٹر شاہین فریدآباد کی الفلاح میڈیکل یونیورسٹی میں ڈاکٹر عمر کے ساتھ پڑھاتی تھیں۔

    قابل ذکر بات یہ ہے کہ سبھی ڈاکٹر ہریانہ کے فریدآباد قصبے میں واقع الفلاح میڈیکل یونیورسٹی میں لچکرار تھے۔ لال قلعہ کار بم دھماکے سے کئی روز قبل کشمیر پولیس نے ہریانہ پولیس کے تعاون سے یونیورسٹی میں چھاپہ مارا تھا جس کے دوران سینکڑوں کلوگرام دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا تھا۔

    یہ مواد سرینگر کے نوگام پولیس تھانے میں تھا جہاں وہ سنیچر کی شب اہلکاروں کے معائنہ کے دوران پھٹ گیا تھا۔ اس دھماکے میں ایک درزی اور دو کرائم ٹیم فوٹوگرافرز سمیت نو افراد ہلاک ہو گئے تھے اور درجنوں دیگر زخمی ہوئے تھے جبکہ پولیس سٹیشن کی عمارت بھی اس دھماکے میں پوری طرح تباہ ہوگئی تھی۔

    اس دوران جموں کشمیر پولیس نے پورے خطے میں دو روزہ ریڈالرٹ جاری کردیا ہے اور ریلوے سٹیشنوں، ہوائی اڈوں اور بس اڈوں پر سکیورٹی اہلکاروں کی نفری میں اضافہ کر دیا ہے۔ شاہراہوں پر بھی گاڑیوں کی تلاشی لی جارہی ہے۔

  17. امریکہ سعودی عرب کو جدید ایف-35 لڑاکا طیارے فروخت کرے گا: ڈونلڈ ٹرمپ

    ایف-35

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا ہے کہ انھوں نے سعودی عرب کو انتہائی جدید ایف-35 لڑاکا طیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔

    آج [18 نومبر کو] سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ہو گی۔ اس ملاقات کے دوران کئی ارب ڈالر کے اسلحے کی فروخت بشمول F-35 لڑاکا طیارے کا معاملہ بھی زیرِ بحث آئے گا۔

    اگر صدر ٹرمپ معاہدے کو حتمی شکل دے کر سعودی عرب کو ایف-35 سٹیلتھ لڑاکا طیاروں کی فراہمی کی منظوری دے دیتے ہیں تو اس سے امریکہ کی اسرائیلی فوج کی خطے میں ہمیشہ ’ہتھیاروں کی بالادستی‘ کی پالیسی ختم ہو جائے گی۔ اس معاہدے کے نتیجے میں ریاض کو خلیج فارس میں اپنے علاقائی حریفوں بشمول ایران پر فضائی برتری حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔

    سعودی عرب ایک طویل عرصے سے ایف-35 حاصل کرنے کا خواہشمند ہے اور یہ محمد بن سلمان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان منگل کو ہونے والی ملاقات میں شامل اہم موضوعات میں سے ایک ہو گا۔

    دوسری جان ب وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ سعودی ولی عہد کے ساتھ ملاقات کے دوران وہ سعودی عرب کو ایبراہم اکارڈز یا 'ابراہیمی معاہدے' میں شامل ہونے کے لیے راضی کرنے کی کوشش کریں گے۔

  18. ڈی آئی خان اور شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، آئی ایس پی آر کا 15 شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ

    فوج شمالی وزیرستان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ 15 اور 16 نومبر کی درمیانی شب دو مختلف مقامات پر کارروائیوں کے دوران 15 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز کی جانب سے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں آپریشن کیا گیا۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران شدت پسندوں کے سرغنہ عالم محسود سمیت دس عسکریت پسند مارے گئے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اسی طرح انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں بھی ایک آپریشن کیا گیا جس کے نتیجے میں مزید پانچ شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں نیشنل ایکشن پلان پر وفاقی سپریم کمیٹی کی طرف سے منظور شدہ ’عزمِ استحکم‘ وژن کے تحت انسداد دہشت گردی مہم کے طور پر کیے جا رہے ہیں۔

  19. شیخ حسینہ کی سزائے موت کے خلاف عوامی لیگ کا ملک گیر احتجاج کا اعلان: ’یقین ہے کہ آزادی کی تمام حامی قوتیں اس فیصلے کے خلاف تحریک چلائیں گی‘

    عوامی لیگ شیخ حسینہ واجد

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ نے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کی جانب سے مظاہرین کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن سے متعلق مقدمے میں حسینہ واجد کو سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

    عوامی لیگ کی جانب سے جاری ایک بیان میں عدالتی فیصلے کو ’بد نیتی پر مبنی اور انتقام سے متاثر‘ قرار دیا گیا ہے۔

    حسینہ واجد کی جماعت نے بنگلہ دیش کے چیف ایگزیکٹیو محمد یونس کی حکومت کے تحت قائم ٹریبونل پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ ’منتخب حکومت کے بجائے، غیر قانونی، غیر آئینی، غیر منتخب فاشسٹ یونس اور ان کے ساتھیوں نے ملک میں غیر قانونی طور پر اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے۔ پھر انھوں نے بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک غیر قانونی ٹربیونل قائم کیا ہے۔‘

    انھوں نے دعوی کیا کہ یہ ٹربیونل مکمل طور پر غیر قانونی، بدنیتی پر مبنی اور انتقامی کارروائیوں کے لیے بنایا گیا ہے۔ عوامی لیگ نے الزام لگایا کہ ’یونس نے شیخ حسینہ کے خلاف یہ پرتشدد قدم اپنے غیر قانونی طور پر حاصل کیے گئے اقتدار کو بچانے کے لیے اٹھایا ہے۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہمیں یقین ہے کہ بنگلہ دیش کے عوام، عوامی لیگ اور آزادی کی تمام حامی قوتیں اس فیصلے کے خلاف تحریک چلائیں گی۔‘

    عوامی لیگ نے آج [18 نومبر کو] ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال جبکہ 19 سے 21 نومبر تک ملک گیر احتجاج کی کال بھی دی ہے۔

    اس سے قبل شیخ حسینہ نے ڈھاکہ عدالت کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’متعصبانہ اور سیاسی بنیادوں‘ پر سنایا جانے والا فیصلہ قرار دیا ہے۔

  20. یوکرین اور فرانس کے درمیان 100 رافیل طیاروں اور فضائی دفاعی نظام کا ’تاریخی‘ معاہدہ طے پا گیا

    زیلنسکی، میکخواں

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    یوکرین اور فرانس کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت فرانس یوکرین کو 100 تک رافیل ایف 4 لڑاکا طیارے اور جدید فضائی دفاعی نظام فراہم کرے گا تاکہ کئیو کی مہلک روسی حملوں سے خود کو بچانے کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکے۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پیرس کے نزدیک ایک ایئر بیس پر اپنے فرانسیسی ہم منصب ایمانویل میکخواں کے ساتھ اس حوالے سے ایک لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط کیے ہیں۔ انھوں نے اس اقدام کو ’تاریخی‘ قرار دیا ہے۔

    رافیل ایف 4 طیاروں کی فراہمی 2035 تک مکمل کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ انٹرسیپٹر ڈرونز کی مشترکہ پیداوار رواں سال ہی شروع کر دی جائے گی۔

    اس معاہدے کی مالی تفصیلات پر ابھی کام ہونا باقی ہے، لیکن رپورٹس کے مطابق فرانس اس کے لیے یورپی یونین کی مالی اعانت حاصل کرنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ منجمد روسی اثاثوں کو استعمال کرنے کا ارادہ بھی رکھتا ہے۔ خیال رہے کہ روسی اثاثوں کے استعمال پر یورپی یونین منقسم دکھائی دیتی ہے۔

    پیر کے روز زیلنسکی نے میکخواں کے ساتھ مشترکہ بریفنگ کے دوران کہا کہ ’یہ ایک سٹریٹجک معاہدہ ہے جو اگلے سال سے شروع ہو گا اور 10 سال تک جاری رہے گا۔‘

    ان کے مطابق یوکرین کو ’انتہائی طاقتور فرانسیسی ریڈارز‘، آٹھ فضائی دفاعی نظام اور دیگر جدید ہتھیار بھی حاصل ہوں گے۔

    زیلنسکی نے زور دے کر کہا کہ اس طرح کے جدید نظاموں کے استعمال کا مطلب ہے ’کسی کی زندگی کی حفاظت کرنا... یہ بہت اہم ہے۔‘

    میکخواں کا کہنا تھا، ’ہم رافیلز، 100 رافیلز کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں - یہ بہت بڑا ہے۔ یوکرینی فوج کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے اسی کی ضرورت ہے۔‘

    فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ وہ یوکرین کو مستقبل میں پیش آنے والی کسی بھی صورتحال کے تیار رہنے میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔

    رافیل ایف 4

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنرافیل ایف 4 لڑاکا طیارہ۔