لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جنگ میں اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں لڑائی کے دوران اس کے آٹھ فوجی مارے گئے ہیں۔ دوسری جانب ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے امریکہ سمیت کچھ یورپی ممالک پر خطے میں کشیدگی اور جنگ مسلط کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغرب اس خطے سے نکل جائے تاکہ یہاں موجود ممالک امن سے رہ سکیں۔
خلاصہ
بحیرہ احمر میں دو مال بردار بحری جہازوں پر حوثیوں کا حملہ
ایران کے اسرائیل پر حملے کے بعد عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل پر حملہ کر کے ایک بڑی غلطی کی ہے اور اب اسے اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔
اسرائیل نے منگل کی رات ہی جوابی حملے کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔اسرائیلی فوج کے مطابق ایران نے اسرائیل پر منگل کی شب ہونے والے حملے میں تقریباً 180 میزائل داغے ہیں۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے منگل کی شب اسرائیل پر ایران کے میزائل حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک جنگ نہیں چاہتا لیکن کسی بھی خطرے کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا۔
لائیو کوریج
اسرائیلی فوج کئی ماہ سے لبنان کے اندر کارروائیاں کر رہی ہے: آئی ڈی ایف
اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہیگری نے کہا ہے کہ وہ کئی ماہ سے لبنان کے اندر کارروائیاں کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے گزشتہ مہینوں میں درجنوں بار لبنان کے اندر کارروائی کر کے سرنگوں کو تباہ کیا۔
لبنان میں اسرائیلی حملے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈینیئل ہیگری نے کہا کہ ’ہم حزب اللہ کے ساتھ فی الحال آمنے سامنے نہیں لڑ رہے لیکن ہم اسے سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ ایک ریڈ ہے، ایک وسیع ریڈ۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم جتنی تیزی سے کر سکتے ہیں، ہم اس خطرے کو ختم کر دیں گے۔ ہم حزب اللہ کو سرحد سے پیچھے دھکیل دیں گے۔‘
لبنان سے اسرائیل میں تقریباً 15 میزائل داغے گئے: اسرائیلی فوج
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ لبنان میں زمینی کارروائی کے دوران حزب اللہ کے لانچنگ پیڈز اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہا ہے تاہم جنوبی لبنان کی جانب سے راکٹ داغے جانے کا سلسلہ رکا نہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک گھنٹے میں لبنان سے تقریباً 15 میزائل داغے گئے، جو شمالی اسرائیل میں گلیل کے خطے میں ’کھلے علاقوں‘ میں گرے۔
اسرائیلی فوج کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ حزب اللہ کے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے لڑاکا طیارے اور جنگی ہیلی کاپٹروں کا استعمال کر رہے ہیں۔
آئین کی شق 63 اے کی تشریح کا معاملہ: ہم بطور جج کیسے فیصلہ کریں کہ کوئی ضمیر کی آواز پر ووٹ دے رہا ہے یا نہیں، چیف جسٹس کا سوال
،تصویر کا ذریعہReuters
چیف جسٹس سپریم
کورٹ قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے منگل کے روز آئین کی شق 63 اے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر دائر نظر
ثانی درخواست کی سماعت کی۔
دورانِ سماعت چیف
جسٹس نے سوال کیا کہ بطور جج ہم کیسے فیصلہ کریں کہ ایک بندہ ضمیر کی آواز پر ووٹ
دے رہا ہے یا نہیں؟
چیف
جسٹس کے علاوہ جسٹس امین الدین، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان اور
جسٹس مظہر عالم بینچ میں شامل ہیں۔
منگل کے روز جب سماعت کا آغاز ہوا تو بیرسٹر علی ظفر نے
استدعا کی کہ وہ ایک اعتراض اٹھانا چاہتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے ان سے کہا
کہ آپ اپنی نشست پر واپس چلے جائیں، ہم اپ کو بعد میں سنیں گے۔
جسٹس قاضی فائز عیسی نے بیرسٹر علی ظفر کو
مخاطب کر کے کہا کہ اپ کو پہلے دلائل دینے کا حق نہیں، پہلے جس نے نظر ثانی درخواست
دی، اس کو دلائل دینے کا حق ہے۔
درخواست گزار صدر
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن شہزاد شوکت نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں
صدارتی ریفرنس بھی تھا اور آرٹیکل 184 (3) کے تحت عدالت کے دائرہ اختیار کی
درخواستیں بھی تھیں۔
چیف جسٹس نے کہا
کہ صدارتی ریفرنس پر رائے اور 184 (3) دو الگ الگ دائرہ اختیار ہیں، دونوں کو یکجا
کر کے فیصلہ کیسے دیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدراتی ریفرنس پر صرف
رائے دی جا سکتی ہے فیصلہ نہیں۔
انھوں نے سوال
کیا کہ کیا دونوں دائرہ اختیار مختلف نہیں اور کیا اُس وقت عدالت نے دونوں
معاملات کو یکجا کرنے کی وجوہات پر کوئی آڈر جاری کیا؟
ان کا مزید کہنا
تھا کہ صدارتی ریفرنس پر صرف صدر کے قانونی سوالات کا جواب دیا جاتا ہے اور اگر
ریفرنس پر دی گئی رائے پر عمل نہ ہو تو صدر کے خلاف توہین کی کارروائی تو نہیں ہو
سکتی۔
چیف جسٹس کے سوال
پر کہ اس وقت صدر کون تھے؟ صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بتایا کہ اُس وقت
عارف علوی صدر تھے۔
چیف جسٹس نے صدر کی جانب سے اٹھائے گئے قانونی سوالات کے
بارے میں پوچھے جانے پر شہزاد شوکت نے بتایا کہ صدر پاکستان نے ریفرنس میں چار
سوالات اٹھائے تھے۔
شہزاد شوکت کا
کہا تھا کہ صدر علوی نے آئین کی شق 63 اے کے تحت خیانت کے عنصر پر رائے مانگی تھے
جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 63 اے کو اکیلا کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا
کہ عدالت نے قرار دیا کہ پارٹی پالیسی سے انحراف سیاسی جماعتوں کے لیے کینسر ہے۔
چیف جسٹس نے سوال
کیا کہ آیا عدالت کی یہ رائے صدر کے سوال کا جواب تھی۔ اس پر شہزاد شوکت نے موقف
اپنایا کہ یہ صدر کے سوال کا جواب نہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسی نے سوال کیا کہ کیا ریفرنس میں اخلاقیات
سے متعلق سوال جئینوئن تھا؟
سپریم کورٹ بار کے
صدر کا کہنا تھا کہ عدالت نے قرار دیا تھا منحرف رکن کا ووٹ گنا نہیں جا سکتا۔ انھوں
نے بتایا ریفرنس میں ایک سوال کسی رکن کے ضمیر کی آواز سے متعلق تھا۔
شہزاد شوکت کا
کہنا تھا کہ وہ عدالت کے اکثریتی فیصلے پر اعتراض اٹھا رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے سوال
کیا کہ فیصلے میں یہ کہاں لکھا ہے کہ ووٹ نہ گنے جانے پر بندہ نااہل ہو گا؟
ان کا کہنا تھا
کہ فیصلہ میں نااہلی کا معاملہ تو پارٹی سربراہ پر چھوڑا گیا کہ وہ چاہے تو انحراف
کرنے والے رکن کو نااہل نا کرے۔
جسٹس قاضی فائز
عیسی کے سوال پر کہ کیا فیصلے میں کہا گیا کہ ووٹ دینے اور نہ گنے جانے پر فوری
نا اہلی ہو گی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ فیصلے میں ایسا نہیں کہا گیا۔ ان کا کہنا تھا
کہ عدم اعتماد میں اگر ووٹ گنا ہی نہ جائے تو وزیراعظم ہٹایا ہی نہیں جا سکتا۔
چیف جسٹس کا مزید
کہنا تھا کہ اس کا مطلب ہے آرٹیکل 95 تو غیر فعال ہو گیا۔ انھوں نے سوال
کیا کہ اگر کسی جماعت کے ارکان اپنے پارٹی سربراہ کو پسند نہ کریں اور ہٹانا چاہیں
تو کیا کیا جائےگا؟
جسٹس جمال مندوخیل
کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ان ہی دنوں ایک جماعت کے لوگ اپنے وزیراعلیٰ کے خلاف
عدم اعتماد کی تحریک لائےتھے۔
صدر سپریم کورٹ
بار کا کہنا تھا کہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ انحراف کرپٹ پریکٹس جیسا ہے۔
چیف جسٹس نے سوال
کیا کہ کیا عدالت کا فیصلہ پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں بدلنے جیسا نہیں؟
شہزاد شوکت نے
بینچ کو بتایا کہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایسی کوئی مثال موجود نہیں جس میں
انحراف ضمیر کی آواز پر کیا گیا ہو۔
چیف جسٹس کا کہنا
تھا کہ کسی کے ضمیر کا معاملہ طے کرنا مشکل، حقائق پر فیصلے کرنا آسان ہوتا ہے۔
چیف جسٹس کے سوال
پر کہ کیا آرٹیکل 63 اے سے متعلق فیصلہ آئین کی شق 95 اور 136 کے برخلاف نہیں۔ صدر
بار ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ فیصلہ آرٹیکل 95 اور 136 کے برخلاف ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
نے سوال اٹھایا کہ اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ جو روز پارٹی تبدیل کرتے ہیں
وہ ضمیر کی آواز پر فیصلہ کرتے ہیں یا بے ایمان ہیں؟
سپریم کورٹ بار
کے صدر نے استدعا کی کہ فیصلہ واپس لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ آئین
دوبارہ لکھنے جیسا ہے۔
وفاقی حکومت اور پاکستان
پیپلز پارٹی نے نظرثانی اپیل کی حمایت کر دی جبکہ عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر
نے کہا کہ وہ نظر ثانی کی مخالفت کریں گے۔
چیف جسٹس کا کہنا
تھا کہ نظرثانی کا دائرہ کار بہت محدود ہوتا ہے، فیصلے کا نتیجہ نہیں صرف
وجوہات دیکھ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا
کہ نظرِ ثانی منظور ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ فیصلہ غلط ہے، وجوہات غلط ہوتی ہیں۔
انھوں نے فریقین کو
کہا کہ وہ یہ بتائیں کہ آیا صدارتی ریفرنس اور 184/3 کی درخواستوں کو یکجا کیا جا
سکتا ہے۔
بیرسٹر علی ظفر کا
کہنا تھا موجودہ صدرِ پاکستان نے نظر ثانی دائر نہیں کر رکھی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سابق صدر پاکستان
عارف علوی آ کر معاونت کرنا چاہیں تو ویلکم۔
عدالت نے درخواست پر سماعت
کل تک ملتوی کردی۔
اسرائیل فوج لبنان میں داخل نہیں ہوئی، حزب اللہ کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہReuters
حزب اللہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ اس کی فوج لبنان میں داخل ہو گئی ہے۔
حزب اللہ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ اس کے جنگجوؤں اور اسرائیلی افواج کے درمیان کوئی براہ راست کوئی جھڑپ نہیں ہوئی لیکن وہ ’براہ راست محاز آرائی کے لیے تیار ہیں۔‘
اس سے قبل ایک سینیئر سکیورٹی اہلکار نے بھی بی بی سی کو بتایا تھا کہ حزب اللہ اور اسرائیلی فوج میں ابھی تک کوئی جھڑپ نہیں ہوئی
اسرائیل کا لبنان کے 25 دیہات میں لوگوں کو اپنے گھر خالی کرنے کا حکم
اسرائیل نے لبنان کے 25 دیہات میں لوگوں کو اپنے گھر چھوڑ دینے کا حکم دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچے ایدرائی نے ان 25 دیہات کی فہرست شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’اسرائیلی فوج لوگوں کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتی، اپنی حفاظت کے لیے آپ فوری اپنے گھر چھوڑ دیں۔‘
پیغام میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ہر اس گھر کو نشانہ بنایا جائے گا جس کو حزب اللہ کے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔‘
موساد کے ہیڈکوارٹر پر راکٹ داغے ہیں: حزب اللہ
اب سے کچھ دیر پہلے ہم نے آپ کو بتایا تھا کہ حزب اللہ نے شمالی اسرائیل میں میزائل داغے ہیں۔ تل ابیب میں ہونے والے اس حملے کے بعد سائرن کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
حزب اللہ نے کہا ہے کہ اس نے تل ابیب میں ’ہادی 4‘ راکٹ موساد کے ہیڈکوارٹرز اور یونٹ 8200 پر داغے ہیں تاہم ابھی تک اس حملے کے نتیجے میں ہونے والے کسی نقصان کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔
یاد رہے کہ لبنان میں گزشتہ ماہ پیجرز اور واکی ٹاکی حملوں کے پیچھے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کا ہاتھ بتایا جاتا ہے تاہم اسرائیل نے ابھی تک اس دعوے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
دوسری جانب یونٹ 8200 کا شمار اسرائیلی انٹیلیجنس نظام کے اہم ترین ستونوں میں کیا جاتا ہے اور اسی کے ذریعے اسرائیلی فوج الیکٹرانک جاسوسی کرتی ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق یہ اُن کا سب سے بڑا اور اہم ملٹری انٹیلیجنس یونٹ ہے۔
لبنان میں اسرائیلی افواج سرحد کے قریب ہیں تاہم ابھی تک کوئی جھڑپ نہیں ہوئی: سینیئر سکیورٹی اہلکار
ایک سینیئر سکیورٹی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اسرائیلی افواج لبنان میں صرف تھوڑے فاصلے تک اندر گئیں ہیں اور ابھی تک کوئی جھڑپ نہیں ہوئی۔
سکیورٹی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں اس بارے میں اعدادوشمار تو نمبر نہیں دے سکتا لیکن میں آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ یہ اعدادوشمار کسی بڑے زمینی حملے کے نہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اسرائیل کا یہ حملہ غزہ کی طرح نہیں بلکہ محدود پیمانے پر ہے۔
’لبنان میں سرحد سے تھوڑے فاصلے پر فوجیں بھیجنا بھی اسرائیلی فوج کے لیے بڑا خطرہ ہے‘, لوسی ولیمسن، بی بی سی نامہ نگار
صرف 24 گھنٹے پہلے تک میرے سامنے درجنوں ٹینک تیار کھڑے تھے تاہم اب زیادہ تر یہاں سے جا چکے ہیں اور کئی دوسری بکتر بند گاڑیاں بھی باہر جانے کے لیے تیار نظر آتی ہیں۔
اسرائیل نے اسے محدود اور ٹارگٹڈ حملہ قرار دیا ہے لیکن ایسے علاقے میں جہاں حزب اللہ برسوں سے اسرائیلی فوجیوں سے ملنے کی تیاری کر رہی ہے، سرحد سے تھوڑے فاصلے پر فوجیں بھیجنا بھی اسرائیلی فوج کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
’لبنان کو تاریخ کے سب سے خطرناک مرحلے کا سامنا ہے‘
لبنان کے وزیراعظم نجیب مکتائی نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو تاریخ کے سب سے ’خطرناک مرحلے کا سامنا ہے۔‘
لبنانی وزیراعظم کی جانب سے یہ بیان جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملے کے کچھ گھنٹے بعد اقوام متحدہ کے ایک اجلاس کے دوران سامنے آیا۔
جنوبی لبنان میں شدید جھڑپیں جاری، تل ابیب پر حزب اللہ کا میزائل حملہ
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حزب
اللہ کے خلاف لبنان میں زمینی کارروائی شروع ہونے کے چند گھنٹے بعد جنوبی لبنان
میں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔
اسرائیلی فوج نے حزب اللہ پر
شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
اسرائیل نے فضائی اور بھاری توپ خانے
کے حملوں کی مدد سے اپنی کارروائی کو ’محدود اور ٹارگٹڈ‘ قرار دیا ہے۔
تاہم دوسری جانب اسرائیل سے موصول
ہونے والی خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ تل ابیب حملے کے بعد سائرن کی آوازیں سنی
جا رہی ہیں اور کم از کم تین راکٹ روکے گئے ہیں۔
حزب اللہ نے اعلان کیا کہ اس حملے
کے جواب میں اس نے شمالی اسرائیل میں میٹولا میں اسرائیلی فورسز پر میزائل داغے
ہیں۔
اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ
اپنے 60,000 لوگوں کو ان کے گھروں میں واپس لانا چاہتی ہے۔
آرٹیکل 63 اے کی تشریح: سماعت کرنے والے بینچ میں جسٹس منیب اختر کی جگہ جسٹس نعیم اختر افغان شامل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
آئین کے آرٹیکل 63 اے سے متعلق
سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے خلاف حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں کی جانب سے دائر
کی گئیں نظرثانی کی اپیلوں کی سماعت آج ہوگی۔
ان اپیلوں کی سماعت کے لیے پانچ
رکنی بینچ تشکیل دیا گیا تاہم جسٹس منیب اختر کی جانب سے اس بینچ میں شمولیت سے
انکار کے بعد پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کمیٹی نے جسٹس نعیم اختر افغان کو ان کی
جگہ اس لارجر بینچ میں شامل کیا ہے۔
یہ لارجر بینچ اب ان اپیلوں کی
سماعت کرے گا۔ ان اپیلوں کی سماعت سے پہلے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا اجلاس ہوا
تھا جس میں اس تین رکنی کمیٹی کے رکن جسٹس منصور علی شاہ شریک نہیں ہوئے تھے
تاہم چیف جسٹس اور جسٹس امین الدین نے
جسٹس منیب اختر کی جگہ جسٹس نعیم اختر افغان کو اس بینچ میں شامل کیا۔
’اسرائیل اپنی سرحد کے قریب موجود حزب اللہ کے ٹھکانوں کو ختم کرنا چاہتا ہے‘, جو فولوٹو، بی بی سی نیوز، یروشلم
جیسا کہ توقع کی جا رہی تھی، ایسا
لگتا ہے کہ اسرائیل کا یہ حالیہ زمینی آپریشن سرحد کے قریب علاقوں میں ہو رہا ہے،
جس میں حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جسے اسرائیلی فوج مُلک
کے لیے خطرہ قرار دیتی ہیں۔
بی بی سی کے یروشلم میں موجود
نامہ نگار جو فولوٹو نے اپنے تجزیے میں مزید کہا کہ ’یہ ایک ایسا خطرہ ہے جو طویل
عرصے سے موجود ہے، لیکن 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد اسرائیلی حکومت اور فوج اس خطرے
سے مُلک کو بچانے اور اسے مزید برداشت کرنے کو تیار نہیں۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
حزب اللہ شمالی اسرائیل کے گلیل علاقے پر قبضہ کرنے کے عزائم رکھتی ہے۔ اس سے قبل اسرائیل نے حزب اللہ کی جانب سے بنائے گئے زیرِ زمین نیٹ ورکس کا انکشاف کیا تھا جو اتنے وسیع تھے کہ جن کی مدد سے چند منٹوں میں سیکڑوں جنگجوؤں کا اسرائیل میں داخل ہونا مُمکن تھا۔
لہٰذا جب اسرائیلی فوج نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران حزب اللہ کی قیادت اور اس کے زیادہ تر ہتھیاروں سے بھرے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور انھیں تباہ کر دیا، تو یہ بات واضح تھی کہ اسرائیل اس تنازع کے اختتام سے قبل عسکریت پسندوں اور اُن کے اُن تمام اہم ٹھاکانوں ختم کرنے کی تیاری کر چُکا تھا کہ جو اُس کی سرحد کے قریب تھے۔
یہ وہ آپریشن ہے جو آج رات شروع ہوا ہے۔ لیکن اسرائیل تاریخی طور پر یہ بات بھی جانتا ہے کہ لبنان میں فوج بھیجنا اتنا مُشکل نہیں جتنا اُسے وہاں سے نکالنا ہے۔
بیروت کی کُچھ تازہ تصاویر
اسرائیل کی جانب سے لبنان میں زمینی کارروائی کی وجہ سے سرحدی علاقوں میں حالات کشیدہ ہیں۔
لبنانی وزارتِ صحت کی جانب سے پیر کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پیر کے روز اسرائیلی افواج کے حملوں میں 95 افراد ہلاک ہوئے۔
آج (منگل) صبح کے بیروت سے چند مناظر
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنمنگل کی صبح بیروت کے مضافات پر چھائے سیاہ بادل
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنجنوبی لبنان میں مقیم شامی پناہ گزینوں نے شمال کی جانب نقل مکانی کی
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشناسرائیلی افواج نے منگل کی صبح بیروت کے جنوبی علاقوں کو نشانہ بنایا
اسرائیل کے لبنان پر تازہ حملوں میں 95 افراد ہلاک، 172 افراد زخمی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ
پیر کے روز لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 95 افراد ہلاک اور 172
افراد زخمی ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ لبنان میں
گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اب دس لاکھ
افراد بے گھر ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے
لبنان پر ’محدود اور ٹارگٹڈ‘ زمینی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے جس میں حزب
اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے دعویٰ کیا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ
حملے اسرائیلی سرحد کے قریب حزب اللہ کے ٹھکانوں پر کیے گئے ہیں۔ لبنان پر زمینی
کارروائی میں اسرائیلی فضائیہ اور بھاری توپ خانے کے استعمال کیے جانے کی اطلاعات
ہیں۔
برطانیہ اور امریکہ کا مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کا مطالبہ
برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی اور
اُن کے امریکی ہم منصب انتھونی بلنکن نے پیر کی رات ٹیلی فون پر بات چیت میں
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازع کی تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا
اور دونوں نے فریقین کے درمیان عارضی جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔
دونوں وزرائے خارجہ نے مشرق وسطیٰ
میں کشیدگی کو کم کرنے اور جنگ کو خطے کے دیگر حصوں میں پھیلنے سے روکنے کے لیے
سفارتی کوششیں جاری رکھنے کی بھی بات چیت کی۔
انتھونی بلنکن اور ڈیوڈ لیمی نے
غزہ میں جنگ بندی کے قیام اور ساحلی پٹی پر جنگ کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں پر
بھی تبادلہ خیال کیا، اس تنازع کر اب ایک سال ہونے کو ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس ٹیلی فوننک گفتگو سے ایک گھنٹہ قبل امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ ان کا ملک اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 21 روزہ جنگ بندی کی تجویز کی اب بھی حمایت کرتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ وہی منصوبہ ہے جو گزشتہ ہفتے امریکہ اور فرانس نے تیار کیا تھا اور کئی مغربی اور عرب ممالک کے تعاون سے اسرائیل کو تجویز کیا گیا تھا لیکن جنوبی لبنان پر اسرائیل کے زمینی حملوں کے آغاز سے ایسا لگتا ہے کہ بنیامن نیتن یاہو کی حکومت نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔
اگر ایران نے اسرائیل پر براہ راست حملہ کیا تو ’نتائج سنگین‘ ہو سکتے ہیں: امریکہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے
جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے پیر کے روز اپنے
اسرائیلی ہم منصب یواو گیلنٹ سے بات چیت کی، جہاں انھوں نے اسرائیل کی شمالی آبادیوں
کو حزب اللہ کے حملوں سے بچانے کے لیے ’سرحد پر اُن کے ٹھکانوں کو ختم کرنے کی
ضرورت پر اتفاق کیا۔‘
تاہم اس کے باوجود دونوں رہنماؤں
کے درمیان ہونے والی اس گفتگو میں فوجی کارروائیوں کی بجائے مسائل کے حل کے لیے سفارتی
راستے کو اپنانے کی اہمیت پر بھی بات ہوئی۔
فریقین نے متنبہ کیا کہ اگر ایران
نے اسرائیل پر براہ راست فوجی حملہ کرنے کی کوشش کی تو اسے ’سنگین نتائج‘ کا سامنا
کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب اسرائیلی فضائیہ کی
جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے پیر اور منگل کی
درمیانی شب ’اسرائیل کے وسطی ساحل سے چند کلومیٹر دور بحیرہ روم کے اوپر‘ ایک ڈرون
کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیل کی دفاعی افواج کے لبنان پر گزشتہ سب ہونے والے حملوں کے مناظر
،ویڈیو کیپشناسرائیل اور لبنان کی سرحد پر آئی ڈی ایف کی زمینی کارروائی کے آغاز پر دھماکے ہوتے دیکھے گئے
اسرائیلی فوج نے لبنان پر ’محدود اور
ٹارگٹڈ‘ زمینی حملوں کا آغاز کر دیا ہے جن میں اسرائیلی سرحد کے قریب حزب اللہ کے
ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
اسرائیلی افواج نے اس زمینی
کارروائی میں بھاری توپ خانے کا استعمال کیا۔
پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما علی وزیر رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پشتون تحفظ موومنٹ رہنما و سابق ایم
این اے علی وزیر کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے رہا ہوتے ہی گرفتار کر لیا گیا۔
علی وزیر کو دو ماہ بعد اڈیالہ جیل
راولپنڈی سے رہا ہوتے ہی پنجاب پولیس و سول کپڑوں میں ملبوس افراد نے گرفتار کر کے
نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
علی وزیر کی تین ایف آئی آرز میں
ضمانت منظور ہونے کے ساتھ ساتھ تھری ایم پی او میں رہائی کے باوجود گرفتار کیا گیا
ہے۔
علی وزیر کو 3 اگست 2024 کو اسلام
آباد ہائی وے پر ٹریفک حادثے کے بعد پمز ہسپتال کی ایمرجنسی سے حراست میں لیا گیا
تھا۔
مقامی پولیس کے مطابق علی وزیر کو
پنجاب کے شہر راولپنڈی کے ضلع جہلم منتقل کردیا گیا ہے۔
اسرائیل کا لبنان میں ’محدود‘ زمینی کارروائی کا آغاز، علاقہ مکینوں کو عربی میں انتباہ جاری
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے
جنوبی لبنان میں ’محدود‘ زمینی کارروائی شروع کر دی ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ
زمینی حملے ’محدود اور ٹارگٹڈ‘ ہیں اور حزب اللہ کے ٹھکانوں کے خلاف کیے
گئے ہیں۔
ایکس پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی
فوج کا کہنا ہے کہ یہ حملے اسرائیلی سرحد کے قریب حزب اللہ کے ٹھکانوں پر کیے گئے
ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی
فضائیہ اور توپ خانے نے بھی ان حملوں میں حصہ لیا ہے اور ’عسکریت پسندوں‘ کو نشانہ
بنایا ہے۔
جنوبی لبنان کے رہائشیوں کی جانب
سے کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے زمینی کارروائی کے ساتھ ہی علاقے میں بڑے
پیمانے پر دھماکوں اور سائرن کی آوازیں سنی گئیں۔
،تصویر کا ذریعہEPA
پیر کی رات اسرائیل نے سب سے پہلے بیروت کے جنوبی علاقوں بالخصوص دحیہ کے علاقہ مکینوں کو عربی میں انتباہ جاری کیا کہ وہ ان محلوں کو خالی کر دیں اور حزب اللہ کی عمارتوں سے کم از کم 500 میٹر دور رہیں۔
ایک فلسطینی عہدیدار کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے لبنان کے سب سے بڑے پناہ گزین کیمپ عین الحلویہ کو نشانہ بنایا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی اور خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کیمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس حملے کا نشانہ فلسطینی گروپ فتح کے مسلح ونگ کے ایک رہنما تھے۔
خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تقریبا ایک سال قبل لبنان اور اسرائیل کے درمیان سرحد پر شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد جنوبی شہر سیدون کے قریب واقع کیمپ پر یہ پہلا حملہ ہے۔
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔
پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔