لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جنگ میں اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں لڑائی کے دوران اس کے آٹھ فوجی مارے گئے ہیں۔ دوسری جانب ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے امریکہ سمیت کچھ یورپی ممالک پر خطے میں کشیدگی اور جنگ مسلط کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغرب اس خطے سے نکل جائے تاکہ یہاں موجود ممالک امن سے رہ سکیں۔

خلاصہ

  • بحیرہ احمر میں دو مال بردار بحری جہازوں پر حوثیوں کا حملہ
  • ایران کے اسرائیل پر حملے کے بعد عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ
  • اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل پر حملہ کر کے ایک بڑی غلطی کی ہے اور اب اسے اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔
  • اسرائیل نے منگل کی رات ہی جوابی حملے کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔اسرائیلی فوج کے مطابق ایران نے اسرائیل پر منگل کی شب ہونے والے حملے میں تقریباً 180 میزائل داغے ہیں۔
  • ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے منگل کی شب اسرائیل پر ایران کے میزائل حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک جنگ نہیں چاہتا لیکن کسی بھی خطرے کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا۔

لائیو کوریج

  1. ایران کے اسرائیل پر میزائل حملے، تہران میں جشن اور اسرائیل کے حملے روکنے کی تصویری جھلکیاں

    ایران کا اسرائیل پر میزائل حملہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنایران کی جانب سے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل فائر کرنے کے بعد یروشلم کے آسمان پر میزائل کی روشنی دکھائی دے رہی ہے جبکہ نیچے شہر میں مسجد اقصی کا گنبد نمایاں ہے

    منگل کی شام اسرائیل پر ایران کی جانب سے میزائل حملے کیے گئے جن کی تعداد کا تو ابھی درست علم نہیں تاہم پاسداران انقلاب کے بیان کے مطابق اسرائیل پر درجنوں میزائل داغے گئے۔

    پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ حملے جولائی میں عسکریت پسند تنظیم حماس کے رہنما اسماعیل ھنیہ اور چند روز قبل حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ کے قتل کا بدلہ قرار دیا ہے۔

    ایران کا اسرائیل پر میزائل حملہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سوشل میڈیا وسطی اسرائیل پر میزائلوں کی بارش کی تصاویر سے بھرا ہوا ہے، جن میں سے کئی کو روک لیا گیا لیکن کچھ واضح طور پر گرے بھی جس سے زبردست دھماکوں کی آواز سنی گئی۔

    اسرائیل کا میزائل روکنے کا نظام

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشناسرائیل نے اپنی جانب بڑھنے والے میزائیلوں کو اپنے ائیر ڈیفینس سسٹم کے نظام سے روکا

    ایرانی میزائلوں کے حملے کو غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے سے بھی دیکھا جا سکتا تھا

    تہران سمیت دیگر شہروں میں جشن

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایران میں اسرائیل پر میزائل داغے جانے کے بعد تہران سمیت دیگر شہروں میں جشن منایا گیا جبکہ کچھ فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیل پر اس حملے کے بعد جشن منانے کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔

  2. تل ابیب میں مسلح افراد کی فائرنگ سے چھ افراد ہلاک

    اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں فائرنگ کا واقعہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں فائرنگ کے واقعے میں اسرائیلی میڈیا کے مطابق کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پولیس کے مطابق مسلح افراد نے منگل کی شام شہر کی ایک سڑک پر موجود لوگوں پر فائرنگ کی۔

    اس واقعے میں چھ افراد کی ہلاکت کے علاوہ کم از کم سات دیگر کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

    سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تصاویر میں ایک مسلح شخص کو جافا کے علاقے میں ایک ریلوے سٹیشن پر لوگوں پر گولی چلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ دو حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے اور یہ دہشت گردی کی واردات تھی۔

  3. بریکنگ, ’اسرائیل ایران کے اس حملے پر چین سے نہیں بیٹھے گا‘, فرینک گارڈنر، بی بی سی

    اسرائیل پر ایران کا حملہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل اب ایران کے خلاف اس سے کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ جوابی کارروائی کرنا چاہے گا جتنا اس نے اپریل میں کیا تھا۔

    اس وقت، دمشق میں ایران کے قونصل خانے پر اسرائیلی حملے کے جواب میں 300 کے قریب ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے حملے کے بعد، اسرائیل کو بہت زیادہ طاقتور ردعمل دینے سے روکنے کے لیے ایک مربوط بین الاقوامی سفارتی کوشش کی گئی تھی۔

    آخر میں، اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات کے قریب ایک ہدف پر ایک معمولی لیکن علامتی میزائل حملہ کیا۔ اس نے بہت کم نقصان پہنچایا لیکن ایران کو دکھایا کہ اس کی پہنچ کہاں تک ہے۔

    اس مرتبہ کچھ مختلف ہو سکتا ہے۔ اسرائیل خطے میں اپنی حالیہ کارروائیوں کو اپنے دشمنوں اور ان خطرات کے خاتمے دونوں کے طور پر دیکھتا ہے جن کا اسے سامنا ہے۔

    جس طرح ایران نے محسوس کیا کہ اسے جولائی میں تہران میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ اور ستمبر میں حزب اللہ کے رہنما کے قتل کا جواب دینا ہوگا، اسرائیل ایران کے اس حملے پر چین سے نہیں بیٹھے گا۔

    اس کا ہدف ایران کی جوہری تنصیبات سے لے کر پاسدارانِ انقلاب کے اڈے، گودام اور لانچ سائٹس تک ہو سکتے ہیں جہاں سے منگل کو میزائل حملے کیے گئے۔

  4. ایرانی میزائل کہاں تک مار کر سکتے ہیں؟

    ایران نے تصدیق کی ہے کہ اس نے اسرائیل پر درجنوں میزائل داغے ہیں اور ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے جوابی کارروائی کی تو مزید حملے کیے جائیں گے۔

    ہم فی الحال یہ تو نہیں جانتے کہ اس حملے میں اسرائیل پر کون سے میزائل داغے گئے لیکن اس تصویر کی مدد سے آپ جان سکتے ہیں کہ ایرانی میزائل کتنے فاصلے تک مار کر سکتے ہیں۔

    graphics
  5. میزائل حملے میں کسی کی ہلاکت یا شدید زخمی ہونے کی اطلاع نہیں: اسرائیلی ایمرجنسی سروسز

    اسرائیلی فوج کی ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ ان کے پاس فی الحال ایران کے میزائل حملوں میں کسی فرد کی ہلاکت یا شدید زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

    میگن ڈیوڈ ایڈوم (ایم ڈی اے) کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہنگامی طبی تکنیکی ماہرین اور پیرا میڈیکس کو ’کئی ایسے مقامات کی نشاندہی کے لیے تعینات کیا گیا ہے جہاں راکٹ حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    ان کے مطابق تل ابیب کے علاقے میں میزائل کے ٹکڑے لگنے سے دو افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں جبکہ محفوظ جگہوں پر منتقل ہونے کے عمل کے دوران بھی ملک بھر میں کچھ لوگ معمولی زخمی ہوئے

    انھوں نے مزید کہا کہ ضرورت کے مطابق مزید اپ ڈیٹس فراہم کی جائیں گی۔

  6. ہم اپنی مرضی کی جگہ اور وقت پر جواب دیں گے: اسرائیلی فوج

    ایران کا اسرائیل پر میزائل حملہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اسرائیلی فوج کی جانب سے شہریوں کو محفوظ پناہ گاہوں سے نکلنے کی اجازت دیے جانے کے بعد اب فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگاری نے کہا ہے کہ ’ہم دفاعی اور جارحانہ دونوں لحاظ سے ہائی الرٹ پر ہیں۔ ہم ریاستِ اسرائیل کے شہریوں کا دفاع کریں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اس حملے کے نتائج برآمد ہوں گے۔ ہمارے پاس منصوبے ہیں، اور ہم اپنی مرضی کی جگہ اور وقت پر کارروائی کریں گے‘۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایرانی حملے میں ’ہمیں کسی جانی نقصان کے بارے میں علم نہیں ہے اور یہ آپ کے ذمہ دارانہ طرز عمل کی بدولت ممکن ہوا ہے‘۔

  7. ’آج رات کا ایرانی حملہ بظاہر اختتام کو پہنچ چکا ہے‘, پال ایڈمز، نامہ نگار برائے سفارتی امور

    ایران کا اسرائیل پر حملہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اگر ایران اسرائیل پر مزید میزائل داغنے کا ارادہ نہیں رکھتا تو ایسا لگتا ہے کہ آج رات کا حملہ ختم ہو گیا ہے۔

    اسرائیلی حکام نے عوام سے کہا ہے کہ وہ اب بموں سے بچاؤ کے لیے بنائی گئی پناہ گاہوں کو چھوڑ سکتے ہیں جبکہ اسرائیلی ایئرپورٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ملک کی فضائی حدود دوبارہ کھول دی گئی ہیں۔

    سوشل میڈیا وسطی اسرائیل پر میزائلوں کی بارش کی تصاویر سے بھرا ہوا ہے، جن میں سے کئی کو روک لیا گیا لیکن کچھ واضح طور پر گرے بھی جس سے زبردست دھماکے ہوئے۔

    ان حملوں کے بعد کئی مقامات پر امدادی کارکن روانہ کیے گئے ہیں لیکن ابھی تک کسی شخص کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

    ایرانی میزائلوں کے حملے کو غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے سے بھی دیکھا جا سکتا تھا اور کچھ فلسطینیوں نے اسرائیل پر اس حملے کے بعد جشن منایا۔

  8. شہری محفوظ مقامات سے اب باہر نکل سکتے ہیں: اسرائیلی فوج

    اسرائیلی فوج نے اپنے شہریوں کو محفوظ مقامات سے نکلنے کی ہدایات کردی ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ملک کے تمام مقامات سے لوگ محفوظ مقامات کو چھوڑنا چاہیں تو وہ نکل سکتے ہیں۔

    اس سے قبل اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں تا حکم ثانی لوگوں کو محفوظ مقامات پر پناہ لینے کی ہدایات جاری کی تھیں اور یہ بھی کہا تھا کہ بہتر ہے کہ وہ گھروں سے نہ نکلیں۔

  9. بریکنگ, آئرن ڈوم اور دیگر اسرائیلی دفاعی نظام کیا ہیں اور وہ کیسے کام کرتے ہیں؟

    آئرن ڈوم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل نے گذشتہ برس اکتوبر میں حماس کی زمینی کارروائی اور اس کے بعد غزہ میں اسرائیلی دراندازی کے بعد سے وہاں حماس، لبنان سے حزب اللہ اور یمن سے حوثی باغیوں کے میزائل اور راکٹ حملوں کا سامنا کیا ہے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے تمام میزائل دفاعی نظام استعمال کیے ہیں۔

  10. اسرائیل کی جانب درجنوں میزائل داغے گئے ہیں: پاسداران انقلاب, کیرولین ہاؤلے، بی بی سی نیوز

    میزائل حملے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کے سرکاری ٹی وی نے پاسدان انقلاب کا ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے اسرائیل کی جانب درجنوں میزائل داغے جانے کی تصدیق کی ہے۔

    پاسداران انقلاب نے اس بیان میں اسرائیل کو دھمکی بھی دی ہے کہ اگر اسرائیل نے جوابی کارروائی کی تو وہ مزید حملے کرے گا۔

    پاسداران انقلاب نے بیان میں ان میزائل حملوں کو جولائی میں عسکریت پسند تنظیم حماس کے رہنما اسماعیل ھنیہ اور چند روز قبل حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ کے قتل کا بدلہ قرار دیا ہے۔

    پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس کی فضائیہ نے اسرائیل کے ’اہم ٹھکانوں‘ کو نشانہ بنایا ہے اور اس کی تفصیلات کا اعلان وہ بعد میں کریں گے۔

  11. بریکنگ, ایران کی اسرائیل پر میزائل داغنے کی تصدیق

    ایران نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی فوج نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل میزائل داغے ہیں۔

    ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کی جانب سے یہ تصدیق کی گئی ہے۔

    دوسری جانب یروشلم میں دو دھماکوں کی آوازیں بھی سنی ہیں جو ممکنہ طور پر میزائل حملے کو روکنے کے دوران کی آوازیں ہو سکتی ہیں۔

  12. اسرائیلی شہری سائرن سنتے ہی محفوظ مقام پر پناہ لیں: آئی ڈی ایف

    اسرائیلی فوج نے اپنے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ جیسے ہی سائرن کی آواز سنیں فوری طور پر محفوظ مقام کا رخ کریں۔

    یاد رہے کہ اب سے کچھ دیر قبل اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل کی جانب میزائل داغے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے شہریوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایات کی ہیں اور کہا ہے کہ شہری محتاط رہیں اور اگر سائرن کی آواز سنائی دے تو محفوظ مقام میں پناہ لیں اور اس وقت تک نہ نکلیں جب تک اگلی ہدایات نہ دی جائیں۔

  13. بریکنگ, ایران سے اسرائیل کی جانب میزائل داغے گئے ہیں: اسرائیلی فوج

    اسرائیلی فوج نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اب سے کچھ دیر قبل ایران سے اسرائیل کی جانب میزائل داغے گئے ہیں۔

    اس دوران اسرائیل بھر میں انتباہی سائرن بھی بج رہے ہیں۔

  14. تل ابیب میں فائرنگ سے متعدد افراد زخمی

    اب سے کچھ دیر پہلے بی بی سی کو اطلاع موصول ہوئی ہے کہ تل ابیب میں فائرنگ کا ایک واقعہ ہوا ہے۔

    تل ابیب میں پولیس کے ترجمان کے مطابق فائرنگ کے اس واقعے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

  15. وسطی اسرائیل میں انتباہی الرٹس جاری

    وسطی اسرائیل میں ایران کی جانب سے ممکنہ راکٹ حملے کے پیش نظر انتباہی الرٹس جاری کرتے ہوئے سائرن بجنا شروع ہو گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ متعدد خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق امریکہ کو ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایران اسرائیل پر ’فوری طور پر‘ میزائل حملے کی تیاری کر رہا ہے۔

  16. اسرائیل پر ایرانی حملہ اپریل میں کیے گئے حملے جتنا بڑا ہو سکتا ہے، امریکی حکام

    بی بی سی کے پارٹنر نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کو امریکی حکام نے بتایا ہے کہ اسرائیل پر ایران کی طرف سے حملہ 13 اپریل کو کیے گئے حملے جتنا بڑا ہو سکتا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ایران حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل کے بعد سے ہی یہ حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

    یاد رہے کہ اپریل میں ایران نے اسرائیل کی جانب کثیر تعداد میں میزائل داغے تھے لیکن تقریباً 99 فیصد میزائلوں کو اسرائیل اور اس کے اتحادیوں نے روک دیا تھا۔

  17. بریکنگ, ایران اسرائیل پر میزائل حملے کی تیاری کر رہا ہے: امریکی رپورٹ

    متعدد خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق امریکہ کو ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایران اسرائیل پر ’فوری طور پر‘ میزائل حملے کی تیاری کر رہا ہے۔

    اے ایف پی نے یہ خبر دیتے ہوئے ایک امریکی اہلکار کا حوالہ دیا جبکہ روئٹرز نے اس بارے میں وائٹ ہاؤس کے ایک سینیئر اہلکار کا حوالہ دیا ہے۔

    امریکی اہلکار نے مبینہ طور پر اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ایران کو اسرائیل پر حملے کے ’سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔‘

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے ایکس پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ وہ بیروت کو نشانہ بنانے والے ہیں تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات شیئر نہیں کی گئیں۔

  18. لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی کارروائی دنوں تک محدود ہو گی: امریکی رپورٹ

    امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نے امریکہ کے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل کا حزب اللہ کے خلاف زمینی آپریشن ہفتوں نہیں بلکہ دنوں تک محدود ہو گا۔

    یاد رہے کہ راتوں رات لبنان میں زمینی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیل نے اسے ’محدود اور ٹارگٹڈ ریڈ‘ کہا ہے۔

  19. اسرائیل کی جنوبی لبنان میں زمینی کارروائی: ’معاملات کہاں جا رہے ہیں، یہ کوئی نہیں جانتا‘, جیریمی بوون

    کوئی بھی نہیں بتا سکتا کہ یہ تنازعہ اس وقت کدھر جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں بہت کچھ ایران کے ردعمل پر بھی منحصر ہے تاہم ایسا بھی ممکن ہے کہ ایران نے فیصلہ کیا ہو کہ فی الحال فوجی جواب دینا داشنمندی نہیں۔

    اسرائیل خود کو کافی کامیاب محسوس کر رہا ہے اور جوابی حملہ کر سکتا ہے جبکہ امریکہ خطے میں مزید فوجیوں کے ساتھ ایک اضافی طیارہ بردار جہاز بھی بھیج رہا ہے، جسے ایران کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    اس لیے ایران شاید مناسب موقع کا انتظار کر سکتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ کچھ لوگوں کی توقع کے برعکس خطے میں چیزیں بہت آہستہ سامنے آ سکتی ہیں۔

  20. ایک تیز اور مؤثر کارروائی یا جنوبی لبنان پر نہ ختم ہونے والی قبضے کی جنگ, فرینک گارڈنر، بی بی سی نامہ نگار برائے سکیورٹی امور

    لبنان میں اسرائیل کی زمینی کارروائیوں کے ابتدائی مرحلے میں یہ پیش گوئی کرنا کافی مشکل ہے کہ آیا اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان میں زمینی فوجوں کو اُتارنا کیا ایک تیز اور مؤثر کارروائی ہو گی جیسا کہ اسرائیل چاہتا ہے یا (جیسا کہ بہت سے لوگ پیش گوئی کر رہے ہیں) اسرائیل لبنان میں اُسی انداز میں پھنس جائے گا جیسا کہ سنہ 1982 سے سنہ 2000 کے درمیان ہوا تھا۔

    حزب اللہ کی جانب سے اپنے ہتھیاروں کو ذخیرہ کرنے کے لیے جنوبی لبنان کے علاقوں میں بنایا گیا سینکڑوں کلومیٹر پر محیط طویل سرنگوں، غاروں اور بھول بھلیوں کا نیٹ ورک ختم کرنا کوئی جلدبازی میں کیے جانے والا آسان عمل نہیں ہو گا۔

    اگرچہ حالیہ اسرائیلی حملوں میں حزب اللہ بُری طرح متاثر ہوئی اور اس کے درجنوں سینیئر کمانڈرز مارے گئے ہیں مگر اس کے باوجود اب بھی اس تنظیم کے پاس ہزاروں جنگجو موجود ہیں۔

    یہ جنگجو تربیت یافتہ ہیں اور شام میں لڑائی کے تجربے نے اُن کی لڑنے کی صلاحیتوں کو مزید نکھارا جبکہ وہ لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں کا بدلہ لینے کی شدید خواہش بھی دل میں لیے ہوئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کے لیے حزب اللہ کے یہ جنگجو غزہ میں حماس کے جنگجوؤں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط دشمن ہیں۔

    ان جنگجوؤں کو دستیاب ہتھیاروں کے ذخیرے میں طاقتور روسی ٹینک شکن گائیڈڈ میزائل بھی ہیں جو اسرائیلی بکتر بند گاڑیوں کو باآسانی ہدف بنا سکتے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسا کہ انھوں نے سنہ 2006 میں اسرائیل، حزب اللہ کی 34 روزہ جنگ کے دوران کیا تھا۔

    34 روز جاری رہنے والی یہ جنگ بے نتیجہ ختم ہوئی تھی۔

    تاہم اس مرتبہ اسرائیلی فوج اس چیلنج سے زیادہ باخبر دکھائی دیتی ہے جس کا اسے لبنان میں سامنا ہے لیکن یہ خطرہ باقی ہے کہ وہ اپنے آپ کو جنوبی لبنان پر قبضے کی جنگ کی جانب دھکیل دیں اور اِس جنگ کا وہ رُخ ہو گا جس کا کوئی واضح انجام نظر نہیں آتا۔