چیف جسٹس سپریم
کورٹ قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے منگل کے روز آئین کی شق 63 اے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر دائر نظر
ثانی درخواست کی سماعت کی۔
دورانِ سماعت چیف
جسٹس نے سوال کیا کہ بطور جج ہم کیسے فیصلہ کریں کہ ایک بندہ ضمیر کی آواز پر ووٹ
دے رہا ہے یا نہیں؟
چیف
جسٹس کے علاوہ جسٹس امین الدین، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان اور
جسٹس مظہر عالم بینچ میں شامل ہیں۔
منگل کے روز جب سماعت کا آغاز ہوا تو بیرسٹر علی ظفر نے
استدعا کی کہ وہ ایک اعتراض اٹھانا چاہتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے ان سے کہا
کہ آپ اپنی نشست پر واپس چلے جائیں، ہم اپ کو بعد میں سنیں گے۔
جسٹس قاضی فائز عیسی نے بیرسٹر علی ظفر کو
مخاطب کر کے کہا کہ اپ کو پہلے دلائل دینے کا حق نہیں، پہلے جس نے نظر ثانی درخواست
دی، اس کو دلائل دینے کا حق ہے۔
درخواست گزار صدر
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن شہزاد شوکت نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں
صدارتی ریفرنس بھی تھا اور آرٹیکل 184 (3) کے تحت عدالت کے دائرہ اختیار کی
درخواستیں بھی تھیں۔
چیف جسٹس نے کہا
کہ صدارتی ریفرنس پر رائے اور 184 (3) دو الگ الگ دائرہ اختیار ہیں، دونوں کو یکجا
کر کے فیصلہ کیسے دیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدراتی ریفرنس پر صرف
رائے دی جا سکتی ہے فیصلہ نہیں۔
انھوں نے سوال
کیا کہ کیا دونوں دائرہ اختیار مختلف نہیں اور کیا اُس وقت عدالت نے دونوں
معاملات کو یکجا کرنے کی وجوہات پر کوئی آڈر جاری کیا؟
ان کا مزید کہنا
تھا کہ صدارتی ریفرنس پر صرف صدر کے قانونی سوالات کا جواب دیا جاتا ہے اور اگر
ریفرنس پر دی گئی رائے پر عمل نہ ہو تو صدر کے خلاف توہین کی کارروائی تو نہیں ہو
سکتی۔
چیف جسٹس کے سوال
پر کہ اس وقت صدر کون تھے؟ صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بتایا کہ اُس وقت
عارف علوی صدر تھے۔
چیف جسٹس نے صدر کی جانب سے اٹھائے گئے قانونی سوالات کے
بارے میں پوچھے جانے پر شہزاد شوکت نے بتایا کہ صدر پاکستان نے ریفرنس میں چار
سوالات اٹھائے تھے۔
شہزاد شوکت کا
کہا تھا کہ صدر علوی نے آئین کی شق 63 اے کے تحت خیانت کے عنصر پر رائے مانگی تھے
جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 63 اے کو اکیلا کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا
کہ عدالت نے قرار دیا کہ پارٹی پالیسی سے انحراف سیاسی جماعتوں کے لیے کینسر ہے۔
چیف جسٹس نے سوال
کیا کہ آیا عدالت کی یہ رائے صدر کے سوال کا جواب تھی۔ اس پر شہزاد شوکت نے موقف
اپنایا کہ یہ صدر کے سوال کا جواب نہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسی نے سوال کیا کہ کیا ریفرنس میں اخلاقیات
سے متعلق سوال جئینوئن تھا؟
سپریم کورٹ بار کے
صدر کا کہنا تھا کہ عدالت نے قرار دیا تھا منحرف رکن کا ووٹ گنا نہیں جا سکتا۔ انھوں
نے بتایا ریفرنس میں ایک سوال کسی رکن کے ضمیر کی آواز سے متعلق تھا۔
شہزاد شوکت کا
کہنا تھا کہ وہ عدالت کے اکثریتی فیصلے پر اعتراض اٹھا رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے سوال
کیا کہ فیصلے میں یہ کہاں لکھا ہے کہ ووٹ نہ گنے جانے پر بندہ نااہل ہو گا؟
ان کا کہنا تھا
کہ فیصلہ میں نااہلی کا معاملہ تو پارٹی سربراہ پر چھوڑا گیا کہ وہ چاہے تو انحراف
کرنے والے رکن کو نااہل نا کرے۔
جسٹس قاضی فائز
عیسی کے سوال پر کہ کیا فیصلے میں کہا گیا کہ ووٹ دینے اور نہ گنے جانے پر فوری
نا اہلی ہو گی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ فیصلے میں ایسا نہیں کہا گیا۔ ان کا کہنا تھا
کہ عدم اعتماد میں اگر ووٹ گنا ہی نہ جائے تو وزیراعظم ہٹایا ہی نہیں جا سکتا۔
چیف جسٹس کا مزید
کہنا تھا کہ اس کا مطلب ہے آرٹیکل 95 تو غیر فعال ہو گیا۔ انھوں نے سوال
کیا کہ اگر کسی جماعت کے ارکان اپنے پارٹی سربراہ کو پسند نہ کریں اور ہٹانا چاہیں
تو کیا کیا جائےگا؟
جسٹس جمال مندوخیل
کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ان ہی دنوں ایک جماعت کے لوگ اپنے وزیراعلیٰ کے خلاف
عدم اعتماد کی تحریک لائےتھے۔
صدر سپریم کورٹ
بار کا کہنا تھا کہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ انحراف کرپٹ پریکٹس جیسا ہے۔
چیف جسٹس نے سوال
کیا کہ کیا عدالت کا فیصلہ پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں بدلنے جیسا نہیں؟
شہزاد شوکت نے
بینچ کو بتایا کہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایسی کوئی مثال موجود نہیں جس میں
انحراف ضمیر کی آواز پر کیا گیا ہو۔
چیف جسٹس کا کہنا
تھا کہ کسی کے ضمیر کا معاملہ طے کرنا مشکل، حقائق پر فیصلے کرنا آسان ہوتا ہے۔
چیف جسٹس کے سوال
پر کہ کیا آرٹیکل 63 اے سے متعلق فیصلہ آئین کی شق 95 اور 136 کے برخلاف نہیں۔ صدر
بار ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ فیصلہ آرٹیکل 95 اور 136 کے برخلاف ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
نے سوال اٹھایا کہ اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ جو روز پارٹی تبدیل کرتے ہیں
وہ ضمیر کی آواز پر فیصلہ کرتے ہیں یا بے ایمان ہیں؟
سپریم کورٹ بار
کے صدر نے استدعا کی کہ فیصلہ واپس لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ آئین
دوبارہ لکھنے جیسا ہے۔
وفاقی حکومت اور پاکستان
پیپلز پارٹی نے نظرثانی اپیل کی حمایت کر دی جبکہ عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر
نے کہا کہ وہ نظر ثانی کی مخالفت کریں گے۔
چیف جسٹس کا کہنا
تھا کہ نظرثانی کا دائرہ کار بہت محدود ہوتا ہے، فیصلے کا نتیجہ نہیں صرف
وجوہات دیکھ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا
کہ نظرِ ثانی منظور ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ فیصلہ غلط ہے، وجوہات غلط ہوتی ہیں۔
انھوں نے فریقین کو
کہا کہ وہ یہ بتائیں کہ آیا صدارتی ریفرنس اور 184/3 کی درخواستوں کو یکجا کیا جا
سکتا ہے۔
بیرسٹر علی ظفر کا
کہنا تھا موجودہ صدرِ پاکستان نے نظر ثانی دائر نہیں کر رکھی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سابق صدر پاکستان
عارف علوی آ کر معاونت کرنا چاہیں تو ویلکم۔
عدالت نے درخواست پر سماعت
کل تک ملتوی کردی۔