مشرقِ وسطیٰ میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کیا کُچھ اہم ہوا؟
منگل کو اسرائیل کی جانب سے لبنان پر زمینی کارروائی کا آغاز ہوا: اسرائیلی افواج کی جانب سے لبنان کے سرحدی علاقوں میں محدود اور ٹارگٹڈ کارروائیوں میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ تاہم حزب اللہ کی جانب سے بدھ کے روز ایک بیان سامنے آیا کہ جس میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے اسرائیلی فورسز کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔
پھر منگل کے روز ایران نے اسرائیل پر میزائل حملے کی تیاری کی: ایرانی میزائل حملے کی اطلاعات موصول ہونے کے بعد آئی ڈی ایف نے اسرائیلیوں کے لیے انتباہ جاری کی کہ اگر سائرن کی آواز سنائی دے تو وہ محفوظ مقامات پر چلے جائیں۔
تل ابیب: جب اسرائیل ایرانی حملے کی تیاری کر رہا تھا تو تل ابیب کی ایک سڑک پر مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
اس کے بعد ایران نے اسرائیل پر بڑے پیمانے پر میزائل حملہ کیا: اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ملک پر داغے گئے 180 میزائلوں میں سے زیادہ تر کو اپنی سرزمین پر گرنے سے قبل ناکارہ بنا دیا۔ تاہم اس کی وجہ سے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک فلسطینی ہلاک ہوا اور وسطی اسرائیل میں ایک سکول اور تل ابیب میں ریستوراں کو نقصان پہنچا۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے اس حملے کے بعد کہا کہ ’ایران کو اس حملے کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا:‘ اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ ان کا ملک جوابی کارروائی کے لئے پرعزم ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ تہران نے ’اسرائیل پر حملہ کر کے ایک بڑی غلطی کی ہے۔‘ تاہم امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
بیروت پر حملے رات بھر جاری رہے: اسرائیلی فوج نے دارالحکومت کے جنوبی مضافاتی علاقوں دہیح کو نشانہ بنانے کے ساتھ ہی رات بھر انخلا کے متعدد احکامات جاری کیے، جو حزب اللہ کا مضبوط گڑھ ہے۔