آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جنگ میں اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں لڑائی کے دوران اس کے آٹھ فوجی مارے گئے ہیں۔ دوسری جانب ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے امریکہ سمیت کچھ یورپی ممالک پر خطے میں کشیدگی اور جنگ مسلط کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغرب اس خطے سے نکل جائے تاکہ یہاں موجود ممالک امن سے رہ سکیں۔

خلاصہ

  • بحیرہ احمر میں دو مال بردار بحری جہازوں پر حوثیوں کا حملہ
  • ایران کے اسرائیل پر حملے کے بعد عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ
  • اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل پر حملہ کر کے ایک بڑی غلطی کی ہے اور اب اسے اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔
  • اسرائیل نے منگل کی رات ہی جوابی حملے کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔اسرائیلی فوج کے مطابق ایران نے اسرائیل پر منگل کی شب ہونے والے حملے میں تقریباً 180 میزائل داغے ہیں۔
  • ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے منگل کی شب اسرائیل پر ایران کے میزائل حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک جنگ نہیں چاہتا لیکن کسی بھی خطرے کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا۔

لائیو کوریج

  1. مشرقِ وسطیٰ میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کیا کُچھ اہم ہوا؟

    منگل کو اسرائیل کی جانب سے لبنان پر زمینی کارروائی کا آغاز ہوا: اسرائیلی افواج کی جانب سے لبنان کے سرحدی علاقوں میں محدود اور ٹارگٹڈ کارروائیوں میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ تاہم حزب اللہ کی جانب سے بدھ کے روز ایک بیان سامنے آیا کہ جس میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے اسرائیلی فورسز کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔

    پھر منگل کے روز ایران نے اسرائیل پر میزائل حملے کی تیاری کی: ایرانی میزائل حملے کی اطلاعات موصول ہونے کے بعد آئی ڈی ایف نے اسرائیلیوں کے لیے انتباہ جاری کی کہ اگر سائرن کی آواز سنائی دے تو وہ محفوظ مقامات پر چلے جائیں۔

    تل ابیب: جب اسرائیل ایرانی حملے کی تیاری کر رہا تھا تو تل ابیب کی ایک سڑک پر مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

    اس کے بعد ایران نے اسرائیل پر بڑے پیمانے پر میزائل حملہ کیا: اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ملک پر داغے گئے 180 میزائلوں میں سے زیادہ تر کو اپنی سرزمین پر گرنے سے قبل ناکارہ بنا دیا۔ تاہم اس کی وجہ سے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک فلسطینی ہلاک ہوا اور وسطی اسرائیل میں ایک سکول اور تل ابیب میں ریستوراں کو نقصان پہنچا۔

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے اس حملے کے بعد کہا کہ ’ایران کو اس حملے کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا:‘ اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ ان کا ملک جوابی کارروائی کے لئے پرعزم ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ تہران نے ’اسرائیل پر حملہ کر کے ایک بڑی غلطی کی ہے۔‘ تاہم امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

    بیروت پر حملے رات بھر جاری رہے: اسرائیلی فوج نے دارالحکومت کے جنوبی مضافاتی علاقوں دہیح کو نشانہ بنانے کے ساتھ ہی رات بھر انخلا کے متعدد احکامات جاری کیے، جو حزب اللہ کا مضبوط گڑھ ہے۔

  2. حزب اللہ کا اسرائیلی افواج پر میزائل حملے کا دعویٰ

    لبنان میں عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ بدھ کی صبح انھوں نے اسرائیل فوج کے ٹھکانوں پر راکٹ حملہ کیا ہے۔

    حزب اللہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق سات بج کر 15 منٹ سے سات بج کر 20 منٹ کے درمیان ہونے والے تین حملوں میں شتولا اور مسکاف ام کے علاقوں میں اسرائیلی فوجیوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔

    حزب اللہ کا مزید کہنا ہے کہ ان حملوں میں کئی اسرائیلی افواج کے ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    اس سے کچھ ہی دیر قبل حزب اللہ کی جانب سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ انھوں نے لبنان کے قصبے اداسیہ سے اسرائیلی فوج کو پیچھے ہٹ جانے پر مجبور کیا ہے۔

    تاہم اسرائیل کی جانب سے اب تک حزب اللہ کے ان دعووں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

  3. مشرقِ وسطیٰ میں ہر گزرتے دن کے ساتھ تناؤ میں اضافہ

    آج مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے دن کا آغاز ہوا تو یہ خطہ مزید تناؤ کا شکار ہے۔ یہاں کی تازہ ترین تصاویر پیشِ خدمت ہیں۔

  4. بحیرہ احمر میں دو مال بردار بحری جہازوں پر حوثیوں کا حملہ

    یمن کے حوثی جنگجوؤں نے منگل کے روز بحیرہ احمر میں دو بحری جہازوں پر حملے کیے ہیں۔

    پاناما اور لائبیریا کے دو بحری جہازوں کو حوثیوں کی جانب سے میزائلوں کی مدد سے نشانہ بنایا گیا۔ تاہم اس حملے میں دونوں جہازوں کا عملہ محفوظ رہا ہے۔

    حوثی جنگجو فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے نومبر سے یمن کے قریب بحری جہازوں پر حملے کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے اسرائیل پر بھی حملے کیے ہیں۔

    منگل کے روز بھی اسرائیلی دفاعی افراج کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا تھا کہ اس نے بحیرہ روم کے اوپر پرواز کرنے والے ایک ڈرون کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ حوثیوں نے اعلان کیا تھا کہ انھوں نے اسرائیل کے شہروں ایلات اور تل ابیب پر ڈرون حملے کیے ہیں۔

    اتوار کے روز اسرائیل کی جانب سے یمن کے ساحلی علاقوں میں حوثیوں کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

  5. ایران کے اسرائیل پر حملے کے بعد خام تیل کی قیمت میں اضافہ

    ایران کی جانب سے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغے جانے کے بعد عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ جس سے مشرق وسطیٰ میں وسیع تر تنازعے کا خدشہ پیدا ہو گیا جس سے تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔

    خطے میں اس حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمیت میں ایک فیصد ہوا ہے جس بعد اب اس کی قیمت 74 اعشاریہ 40 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔

    امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق ایران دنیا کا ساتواں سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے اور پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کا تیسرا سب سے بڑا رکن ہے۔

    تاجروں کو اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی سے آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی اور تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔

    تیل کی عالمی تجارت کے لیے عمان اور ایران کے درمیان واقع بحری راستہ انتہائی اہم ہے۔ 20 فیصد تیل کی عالمی رسد اسی سے گزرتی ہے۔

    اوپیک کے دیگر رکن ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور عراق بھی اپنا زیادہ تر تیل آبنائے ہرمز کے راستے برآمد کرتے ہیں۔

  6. اقوامِ متحدہ میں اسرائیلی اور ایرانی مندوبین کے سخت بیانات

    اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب نے اسرائیل پر میزائل حملے کو دفاعی اقدام قرار دیا ہے۔

    امیر سعید ایروانی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو لکھے گئے خطوط میں کہا کہ حماس اور حزب اللہ کے سینئر رہنماؤں کے قتل کے بعد اسرائیل پر ایران کے میزائل حملے جائز ہیں۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی نئے حملے کا انتہائی سخت اور ’فیصلہ کن‘ جواب دیا جائے گا۔

    اپنے ایرانی ہم منصب کے تبصروں کا جواب دیتے ہوئے اسرائیل کے اقوام متحدہ میں مندوب ڈینی ڈینن نے ایرانی حملے پر جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے کے بارے میں ان کے ملک کا ردعمل انتہائی سخت اور تکلیفدہ ہوگا، اس حملے کی وجہ سے لاکھوں اسرائیلی پناہ گاہوں میں جانے پر مجبور ہوئے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم جنگ بڑھانے کی کوئی خواہش نہیں رکھتے، لیکن جب ہمارے شہریوں پر اس طرح حملہ کیا جائے تو ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔‘

  7. ایران نے اسرائیل پر حملہ کر کے بہت بڑی غلطی کی، خمیازہ بھگتنا پڑے گا: نیتن یاہو

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل پر حملہ کر کے ایک بڑی غلطی کی ہے اور اب اسے اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔

    ایران کی جانب سے اسرائیل پر کروز میزائل حملے کے بعد اپنے خطاب میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ایران نے اسرائیل کو سمجھنے میں غلطی کی ہے، وہ نہیں جانتے کہ اسرائیل اپنا دفاع اور جوابی کارروائی کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’جو غلطی ایران نے کی اُس کے نتائج کے بارے میں بہت جلد اُسے اندازہ ہو جائے گا۔ ہم اپنے اصولوں پر قائم ہیں اور بس اتنا واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ جو بھی ہم پر حملہ کرے گا ہم اس پر جوابی حملہ کریں گے۔‘

  8. ایران کے اسرائیل پر میزائل حملوں کے بعد تہران میں جشن

    ایران کی جانب سے منگل کی رات اسرائیل پر کیے گئے میزائل حملوں کے بعد رات گئے تہران کی سڑکوں پر جشن منایا گیا۔

    ان مجمعوں میں موجود اکثر افراد نے ایران اور حزب اللہ کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے اور ان پر حزب اللہ کے سابق سربراہ حسن نصراللہ کی تصویر موجود تھی جو گذشتہ جمعے کو لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

    تصاویر میں کچھ افراد کو آتش بازی بھی کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

  9. امریکہ نے ایرانی میزائل مار گرانے میں اسرائیل کی مدد کی: پینٹاگون

    امریکی محکمہ دفاع نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ایران کی جانب سے منگل کو داغے کیے گئے میزائل مار گرانے میں اس نے اسرائیل کی مدد کی ہے۔

    اس سے قبل، امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ ان کی ہدایات پر امریکہ نے ’براہِ راست‘ اسرائیل کے دفاع میں مدد کی۔ ان کے مطابق انھوں نے (امریکی وقت کے مطابق) منگل کی صبح سچویشن روم میں گزاری - جو وائٹ ہاؤس میں وہ جگہ ہے جہاں قومی سلامتی کے اہم امور کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے 180 کے قریب میزائل داغے گئے جن میں سے اکثر کو پسپا کر دیا گیا۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس حملے کا دفاع کرتے ہوئے اسے ایک ’فیصلہ کن ردِ عمل‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ایسا ’ایران کے مفادات اور اس کے شہریوں کے دفاع‘ میں کیا گیا ہے۔

  10. ایران کا اسرائیل پر میزائلوں سے حملہ: ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

    ایران نے منگل کی شام اسرائیل پر درجنوں میزائل حملے کیے ہیں اور ان حملوں کو جولائی میں عسکریت پسند تنظیم حماس کے رہنما اسماعیل ھنیہ اور چند روز قبل حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ کے قتل کا بدلہ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ ایران کے حملوں کے نقصانات کا جائزہ لے رہا ہے اور اپنی مرضی کے وقت اور مقام پر جواب دے گا۔

    یہاں آپ کو ہم اب تک کی صورتحال کا خلاصہ بتاتے ہیں۔

    • ایران کے اسرائیل پر حملوں کی اطلاعات پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق منگل کی رات نو بجے کے بعد میڈیا پر آنا شروع ہوئیں۔
    • اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا کہ ایران سے اسرائیل کی جانب میزائل داغے گئے ہیں اور شہری محفوظ جگہ پر پناہ لیں۔ اس دوران حطرے کے سائرن بجائے گئے۔
    • ایران کے پاسدان انقلاب نے ایک بیان میں انھوں نے اسرائیل کی جانب درجنوں میزائل داغے جانے کی تصدیق کی اور دھمکی دی کہ اگر اسرائیل نے جوابی کارروائی کی تو وہ مزید حملے کرے گا۔
    • پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ کارروائی اپریل میں کیے گئے حملے کا تسلسل تھی اور اس میں اسرائیل میں تین فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا
    • اسرائیلی فوج نے ابتدائی طور پر ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کی تعداد 180 کے لگ بھگ بتائی تاہم امریکی حکام نے بعدازاں کہا کہ ایران نے اس حملے میں 200 کے قریب بیلسٹک میزائل استعمال کیے۔
    • اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ’اس حملے کے نتائج برآمد ہوں گے۔ ہمارے پاس منصوبے ہیں، اور ہم اپنی مرضی کی جگہ اور وقت پر کارروائی کریں گے‘۔
    • اسرائیلی فوج کی ایمرجنسی سروسز نے بتایا کہ ان کے پاس فی الحال ایران کے میزائل حملوں میں کسی فرد کی ہلاکت یا شدید زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
    • ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے منگل کی شب اسرائیل پر ایران کے میزائل حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک جنگ نہیں چاہتا لیکن کسی بھی خطرے کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا۔ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران اور خطے کے لیے امن اور سلامتی کے مقصد کے ساتھ اور ایران کے جائز حقوق کی بنیاد پر، اسرائیل کو فیصلہ کن جواب دیا گیا۔
    • امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے اسرائیل پر ایرانی میزائل حملوں کو ’قطعاً ناقابلِ قبول‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پوری دنیا کو اس کی مذمت کرنی چاہیے۔
    • امریکی صدر نے ایران کی جانب سے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں سے حملے کے بعد اپنے پہلے ردعمل میں اسے ایک غیرموثر اور ناکام کارروائی قرار دیا ہے۔
    • ایران میں اسرائیل پر میزائل داغے جانے کے بعد تہران سمیت دیگر شہروں میں جشن منایا گیا جبکہ کچھ فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیل پر اس حملے کے بعد جشن منانے کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔
    • اسی دوران اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں فائرنگ کے ایک واقعے میں اسرائیلی میڈیا کے مطابق کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔پولیس کے مطابق مسلح افراد نے منگل کی شام شہر کی ایک سڑک پر موجود لوگوں پر فائرنگ کی۔
    • امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق حملے میں استعمال کیے گئے بیلسٹک میزائلوں کے لحاظ سے، ایران کا اسرائیل پر منگل کی رات کا حملہ اپریل میں کیے گئے حملے سے دوگنا بڑا تھا۔
  11. پاسدارانِ انقلاب کا تین اسرائیلی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں اسرائیل پر میزائل حملوں کے بعد جاری کیے گئے بیانات میں اس کارروائی کو اپریل میں کیے گئے حملوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ منگل کی شب آپریشن ’ٹرو پرامس 2‘ میں اسرائیل کے اندر کچھ ’سٹریٹیجک مراکز‘ کو ایرانی ساختہ میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔

    ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس حملے می متعدد فضائی اور ریڈار اڈے نشانہ بنے جو اسماعیل ہنیہ، حسن نصر اللہ اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈرز کے قتل کی منصوبہ بندی اور سازش میں استعمال ہوئے تھے۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اس حملے میں تل ابیب کے قریب تین اسرائیلی فوجی اڈے نشانہ تھے۔

    پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل کے جدید ترین فضائی دفاعی نظام کے باوجود، 90 فیصد میزائلوں نے کامیابی سے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔

    پاسدارانِ انقلاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کے اپنے دفاع کے جائز حق کے دائرے میں اور بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر کی گئی اور دشمن کی طرف سے کسی بھی ’حماقت‘ کا فیصلہ کن اور تباہ کن جواب دیا جائے گا۔

  12. بریکنگ, منگل کی رات کا ایرانی حملہ اپریل کے حملے سے دوگنا بڑا تھا: امریکی محکمۂ دفاع

    امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق حملے میں استعمال کیے گئے بیلسٹک میزائلوں کے لحاظ سے، ایران کا اسرائیل پر منگل کی رات کا حملہ اپریل میں کیے گئے حملے سے دوگنا بڑا تھا۔

    ایک پریس بریفنگ میں میجر جنرل پیٹرک رائڈر کا کہنا تھا کہ امریکی بحریہ کے دو جنگی بحری جہازوں نے ایرانی میزائلوں کو نشانہ بنانے کے لیے تقریباً ایک درجن میزائل داغے۔

    تاہم انھوں نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا ان میزائلوں نے حملے میں استعمال ہونے والے میزائلوں میں سے کسی کو نشانہ بنایا یا نہیں۔ اس بارے میں ان کا کہنا تھا کہ معلومات کا تعین ہونا باقی ہے۔

  13. ایران کا حملہ ایک غیرموثر اور ناکام کارروائی تھی: امریکی صدر بائیڈن

    امریکی صدر نے ایران کی جانب سے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں سے حملے کے بعد اپنے پہلے ردعمل میں اسے ایک غیرموثر اور ناکام کارروائی قرار دیا ہے۔

    جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اس حملے پر اسرائیل کے ردعمل کے بارے میں فعال بحث جاری ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ تہران کے لیے اس کے نتائج کیا ہوں گے یہ دیکھنا باقی ہیں اور وہ جلد ہی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے بات کریں گے۔

    بائیڈن نے اپنے قومی سلامتی کے مشیر کے پہلے بیان کو دہراتے ہوئے کہا، ’یہ حملہ ناکام رہا اور غیر موثر بنا دیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اسرائیل کی مکمل حمایت کر رہا ہے اور کوئی بھی اس معاملے میں غلط فہمی کا شکار نہ ہو اور ان کا ملک اسرائیل کے دفاع میں مدد دینے کے لیے تیار ہے اور اس کی حمایت جاری رکھے گا۔

    صدر بائیڈن نے کہا کہ دنیا کو ہمارے ساتھ مل کر ایران کے اس اقدام کی مذمت کرنی چاہیے اور ایران کو اس حملے کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

  14. کیا ایران کے حملے میں بیلسٹک میزائل استعمال ہوئے؟

    بی بی سی ویریفائی نے عسکری ماہرین سے بات کی ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ اسرائیل پر ایران کے حملے میں کس قسم کے میزائل استعمال کیے گئے تھے۔

    انٹیلی جنس کنسلٹنسی فرم آرمامنٹ ریسرچ سروسز (اے آر ای ایس) کے ریسرچ کوآرڈینیٹر پیٹرک سینفٹ کا کہنا ہے کہ میزائل کے ٹکڑوں سے پتا چلتا ہے کہ حملے میں بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے تھے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک عام کروز میزائلوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پہنچتے ہیں، اور ’ایران کی طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیتوں کی اکثریت ان پر مشتمل ہے‘۔

    سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز میں میزائل ڈیفنس پروجیکٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر تھامس کاراکو بھی پراعتماد ہیں کہ حملے میں بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے تھے۔

    ان کے ساتھی اور ادارے کے سینیئر مشیر مارک کینسیئن کا کہنا ہے کہ اپریل کے ایرانی حملے اور منگل کی شب کے حملے میں فرق یہ ہے کہ اس مرتبہ زیادہ میزائلوں نے اسرائیل کو نشانہ بنایا ہے۔

    وہ مزید کہتے ہیں کہ بیلسٹک میزائلوں کو زیادہ رفتار کی وجہ سے میزائل ڈیفنس سسٹم کے ذریعے روکنا مشکل ہوتا ہے۔

  15. ایران نے قریباً 200 بیلسٹک میزائل داغے، حملہ ناقابلِ قبول ہے: امریکی وزیرِ خارجہ

    امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے اسرائیل پر ایرانی میزائل حملوں کو ’قطعاً ناقابلِ قبول‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پوری دنیا کو اس کی مذمت کرنا چاہیے۔

    امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ اس حملے میں ’تقریباً 200 بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ اسرائیلی حکام نے ابتدائی طور پر اندازہ لگایا تھا کہ ایران کے ان کے ملک پر 180 میزائل داغے تھے۔

    انٹونی بلنکن نے مزید کہا کہ اسرائیل نے "اس حملے کو مؤثر طریقے سے شکست دی۔

    ادھر وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے مشیر جیک سلیوان نے تصدیق کی ہے کہ امریکی افواج نے ایرانی حملے کا جواب دینے میں اسرائیلی فوج کے شانہ بشانہ کام کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکی جنگی بحری جہازوں نے اسرائیلی فضائی دفاعی یونٹوں کے ساتھ مل کر ایرانی میزائلوں کو نشانہ بنایا۔

    انھوں نے ایران کے حملے کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن حملوں کی ایک اور لہر کے حوالے سے نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے۔

  16. ایران کے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں سے حملے کے مناظر

  17. اسرائیل کا منگل کی رات ہی جوابی حملے کرنے کا اعلان

    اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگری نے کہا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ آج رات ہی ’مشرق وسطیٰ میں طاقتور حملہ‘ کرے گی۔

    منگل کی شب ایرانی میزائل حملے کے بعد ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’ایران نے آج رات ایک سنگین اقدام کیا اور مشرق وسطیٰ کو کشیدگی کی طرف دھکیل رہا ہے‘ اور یہ کہ ’آج رات کے واقعے کے نتائج ہوں گے۔‘

  18. بریکنگ, میزائل حملے ایران کی صلاحیتوں کی صرف ایک جھلک تھی: ایرانی صدر

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے منگل کی شب اسرائیل پر ایران کے میزائل حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک جنگ نہیں چاہتا لیکن کسی بھی خطرے کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا۔

    ایکس پر ایک پیغام میں میزائل حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران اور خطے کے لیے امن اور سلامتی کے مقصد کے ساتھ اور ایران کے جائز حقوق کی بنیاد پر، اسرائیل کو فیصلہ کن جواب دیا گیا۔

    اس پیغام میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ انھیں یہ جان لینا چاہیے کہ ’ایران جنگ کا خواہاں نہیں ہے لیکن کسی بھی خطرے کے خلاف مضبوطی سے ڈٹا رہے گا‘۔

    انھوں نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ یہ حملہ ایران کی صلاحیتوں کی صرف ایک ’جھلک‘ تھی اور وہ ایران کے ساتھ ’تصادم میں ملوث‘ نہ ہو۔

  19. بریکنگ, اسرائیل نے دوبارہ ’غلطی‘ کی تو حملوں کی دوسری لہر مزید تباہ کن ہو گی: ایرانی حکام

    ایران کی جانب سے اسرائیل پر منگل کی شب میزائل حملوں کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ یہ پاسدارانِ انقلاب کے حملوں کی پہلی لہر تھی۔

    ایران کے سرکاری ٹی وی پر ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی ’فوجی مراکز اور تنصیبات ہمارے اہداف تھے، لیکن ممکنہ غلط فہمیوں کی وجہ سے ان حملوں میں عام شہری بھی مارے جا سکتے ہیں‘۔

    ابراہیم عزیزی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر اسرائیل دوبارہ ’غلطی‘ کرتا ہے تو دوسری لہر آنے والی ہے جو ’مزید تباہ کن‘ ہو گی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ایران کے جائزوں کے مطابق، اسرائیل آج رات ایران کے حملے کا ’جواب نہیں دے سکتا‘۔

  20. بریکنگ, ایران نے 180 میزائل داغے، نقصانات کا اندازہ لگا رہے ہیں: اسرائیلی فوج

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر منگل کی شب ہونے والے حملے میں تقریباً 180 میزائل داغے گئے۔

    ایک اسرائیلی سیکیورٹی اہلکار کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر میزائلوں کو اسرائیلی دفاعی نظام نے امریکی فضائیہ کی سینٹرل کمانڈ کے تعاون سے روک لیا۔

    تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کئی مقامات پر ایرانی میزائل گرنے کی نشاندہی کی گئی ہے اور فی الحال ان حملوں سے ہونے والے نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔