اسرائیل ایران کے حملے کے جواب میں ایرانی تیل تنصیبات پر حملے کی بجائے ’متبادل اہداف‘ کے بارے میں سوچے: بائیڈن

امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ اگر وہ اسرائیل کی جگہ ہوتے تو وہ ایرانی تیل کی تنصیبات پر حملہ کرنے کی بجائے ’متبادل اہداف ‘ کے بارے میں سوچتے۔ ادھر پاسداران انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر علی فدوی کا کہنا ہے کہ ’اگر اسرائیل نے اسلامی جمہوریہ پر حملہ کیا تو ایران اسرائیلی توانائی اور گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔‘

خلاصہ

  • اسرائیل کی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائیاں جاری ہیں۔ بیروت کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب بمباری کے نتیجے میں دھماکے ہوئے ہیں۔
  • لبنان کی فوج کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوب میں اس کے دو فوجیوں کی ہلاکت ہوئی ہے
  • اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے سرحد کے قریب حزب اللہ کے جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے۔ جبکہ حزب اللہ کے مطابق اس نے سرحد کے دونوں جانب اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

لائیو کوریج

  1. بیروت پہنچنے والے خاندان کھلے آسمان تلے اور ٹینٹوں میں راتیں گزارنے پر مجبور ہیں

    Abbas Salman/EPA-EFE/REX/Shutterstock

    ،تصویر کا ذریعہAbbas Salman/EPA-EFE/REX/Shutterstock

    جیسا کہ اس سے قبل ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں رہنے والوں کو علاقہ چھوڑنے کا انتباہ جاری کیا ہے۔

    لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 12 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

    بے گھر ہونے والے بیشتر افراد بیروت کا رخ کر رہے ہیں اور یہ خاندان یہاں ساحلِ سمندر پر کھلے آسمان تلے یا چادروں سے بنائے ٹینٹوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

    Abbas Salman/EPA-EFE/REX/Shutterstock

    ،تصویر کا ذریعہAbbas Salman/EPA-EFE/REX/Shutterstock

  2. اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی اجازت نہیں دیں گے: محسن نقوی

    وزیرداخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کل کا دن ہمارے لیے اہم ہے اور شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس کے حوالے سے اگلے 10-12 دن بہت اہم ہیں۔

    وزیرداخلہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے انتظامیہ نے اپنی پوری انتظامیہ تیاری کر لی ہے اور آرمی کو اسلام آباد میں دوبارہ سے تعینات کیا جا رہا ہے۔

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ انھوں نے تحریکِ انصاف سے احتجاج کی کال پر نظر ثانی کی درخواست کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ چھوٹا سا واقعہ بھی ہوگیا تو اس کا خمیازہ ہم پوری زندگی بھگتیں گے ’کل تک کا وقت ہے پی ٹی آئی اس فیصلے پر سوچے، اگر کل کوئی احتجاج کرے گا تو ان کے لیے کسی قسم کی کوئی نرمی نہیں ہوگی۔‘

    محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ’ہمارے لیے یہ بہت حساس معاملہ ہے پہلے سے بتا رہا ہوں، کل کا دن ہمارے لیے بہت اہم ہے بطور پاکستانی ہمیں صورتحال خراب نہیں کرنی چاہیے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی احتجاج کرنا چاہتا ہے تو اس اجلاس کے بعد کر لیں۔

    محسن نقوی کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور سمجھدار انسان ہیں اور احتجاج ان کا حق ہے مگر امید ہے وہ کوئی ایسا فیصلہ نہیں کریں گے جس سے ملک کا نقصان ہو۔

    وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ کل کوئی احتجاج کرے گا تو نرمی کی توقع نہ کرے اور بعد میں شکوہ نہ کریں۔

  3. اسرائیل کا وسطی بیروت پر حملہ: ’بچے چیخ و پکار کر رہے تھے، ہمیں لگا ہمارا دل بند ہو جائے گا‘, سیلی نبیل بی بی سی عربی کی نامہ نگار

    بیروت

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیل کی جانب سے وسطی بیروت میں گذشتہ رات ایک رہائشی عمارت میں قائم میڈیکل سینٹر جسے حزب اللہ سے منسوب کیا جاتا ہے پر حملے کے بعد کے مناظر بہت تکلیف دہ اور دلخراش تھے۔ ہر طرف بچوں کی چیخ و پکار تھی۔

    یہ میڈیکل سینٹر ایک پرہجوم رہائشی عمارت میں قائم تھا اور اسرائیلی حملے میں اسے شدید نقصان پہنچا ہے۔ سڑک پر اب کمبل، ملبہ، میڈیکل دستانے اور ماسک ہی نظر آتے ہیں۔

    اسرائیلی حملے میں بری طرح تباہ ہونے والی عمارت کی ایک رہائشی خاتون نے بتایا ’ہم سب دوڑتے ہوئے باہر آئے، بچے چیخ و پکار کر رہے تھے، ہمیں ایسا لگا کہ ہمارا دل بند ہو جائے گا۔‘

    لبنانی محمکہ سول ڈیفینس نے ہمیں بتایا ہے کہ اس حملے میں اس کے متعدد ارکان ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کے انفراسٹریکچر کو نشانہ بنا رہا ہے جبکہ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ وہ رہائشی علاقوں میں اپنے ہتھیار ذخیرہ نہیں کرتا۔

    جب آپ اسرائیل کا موقف لبنان میں لوگوں کو بتاتے ہیں تو انھیں اس پر غصہ آتا ہے۔‘

  4. وسطی بیروت پر اسرائیلی حملے میں ہلاکتوں کی تعداد نو ہو گئی

    لبنان کی وزارت صحت نے گذشتہ شب اسرائیل کی جانب سے وسطی بیروت پر کیے جانے والے حملے میں ہلاکتوں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک نو افراد ہلاک جبکہ 14 زخمی ہوئے ہیں۔

    بیروت کے محمکہ سول ڈیفنس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ریسکیو افسران اور طبی عملے کے ارکان شامل ہیں۔

    بیروت میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق گذشتہ شب اسرائیل نے ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا تھا جس میں ایک میڈیکل سینٹر قائم تھا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ حزب اللہ کا تھا۔

  5. اسرائیل کا غزہ میں حماس کے تین اعلیٰ رہنماؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    اس وقت لبنان، اسرائیل اور غزہ میں صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور ہر پل خطے سے ایک نئی اطلاع سامنے آ رہی ہے۔

    اسی ضمن میں اسرائیلی فوج نے ابھی اپنے تازہ جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تین ماہ قبل غزہ میں حماس کے تین اعلیٰ رہنماؤں کو ہلاک کیا تھا۔

    اسرائیل کا کہنا ہے ان میں حماس حکومت کے سربراہ راوی مشتشھا، اور حماس کی سیکورٹی کی ذمہ دار اہم ارکان سمیع السراج اور سمیع اودھ شامل ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ شمالی غزہ میں ایک زیر زمین کمپاؤنڈ میں چھپے ہوئے تھے اور انھیں فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ ’حماس نے ان افراد کی ہلاکت کا اعلان اس لیے نہیں کیا تھا تاکہ ان کے جنگجوؤں کا جذبہ کہیں کم نہ پڑ جائے۔‘

  6. اسرائیل کو لبنان میں داخل ہونے میں مزاحمت کا سامنا ہے: حزب اللہ

    اسرائیل نے رواں ہفتے جنوبی لبنان میں زمینی کارروائیاں شروع کر دی ہیں اور اس وقت لبنان اور اسرائیل کے سرحدی علاقوں میں لڑائی جاری ہے۔

    حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کو لبنان میں داخل ہونے کی کوشش پر حزب اللہ کے جنگجوؤں کی طرف سے مزاحمت کا سامنا ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    اسرائیل لبنان سرحد پر لبنان میں فاطمہ بارڈر اور اسرائیل کی طرف میتلا بارڈر سنہ 2000 میں اسرائیلی فوج کے لبنان سے نکلنے کے بعد سے بند ہے۔

  7. ’400 سیکنڈ میں تل ابیب‘: ایران کے میزائل پروگرام کی کہانی

    ایران میزائل پروگرام

    13 اپریل 2024 کا دن تھا جب رات کے اندھیرے اور مسجد اقصیٰ کے سنہرے گنبد کے پس منظر میں ایرانی بیلسٹک میزائلوں کی روشنی سے پہلی بار ایک ایسی تصویر سامنے آئی جو شاید بہت عرصے تک دنیا کے ذہن پر نقش رہے گی۔

  8. بریکنگ, ’لبنان سے اسرائیلی کی طرف کم از کم 25 راکٹ داغے گئے‘

    اسرائیلی دفاعی فوج (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ اس نے آج صبح لبنان سے آنے والے دو ڈرون حملوں کی نشاندہی کی اور انھیں ناکام بنایا۔

    شمالی اسرائیل میں سائرن بجائے گئے ہیں۔ آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ لبنان کی سرحد سے ’25 پروجیکٹائل (عموماً راکٹس)‘ اسرائیل میں داخل ہوئے جن میں سے بعض حملوں کو ناکام بنایا گیا ہے۔

    تاحال آئی ڈی ایف نے کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں دی ہے۔

  9. ’بیروت سے تحفظ کا نام و نشان مٹ چکا‘, نفیسہ کوہنورد/ بیروت میں مشرق وسطیٰ کی نامہ نگار، بی بی سی فارسی

    بیروت

    بیروت میں گذشتہ شب کتنے لوگ سو پائے، یہ کہنا مشکل ہے۔ میرے علاقے میں کئی لوگ جاگ رہے تھے۔ یہ صبح تین بج کر 34 منٹ کا وقت ہوگا جب بیروت کے جنوبی علاقے ضاحيہ میں آخری فضائی حملہ سنائی دیا۔

    اقوام متحدہ میں لبنان کی سپیشل کوآرڈینیٹر جینین ہینس نے بھی ایکس پر بیروت میں ایک اور رات جاگتے ہوئے گزارنے کی بات کہی۔

    آج صبح میں اپنی کھڑکی میں سے ضاحیہ سے دھواں اٹھتے دیکھ سکتی ہوں۔

    لیکن مرکزی بیروت اور میرے علاقے میں کئی لوگ اس بات پر حیران ہوئے کہ پہلی بار شہر کے بیچ و بیچ واقع ایک عمارت کو میزائل حملے سے اڑایا گیا۔

    اسرائیل کا ہدف حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے ایک سابق رکن پارلیمان تھے جو اس کے مطابق وہاں رہتے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ حزب اللہ سے منسلک ایک طبی مرکز ہے۔

    یہ عمارت میرے گھر سے پانچ منٹ ڈرائیو کی دوری پر ہے اور مسیحی اکثریتی آبادی والے ایسے علاقے میں واقع ہے جسے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔

    مگر اس کے باوجود ہم نے اپنے سروں کے اوپر سے میزائل کو گزرتے ہوئے سنا۔ بیروت کے تمام علاقوں میں تحفظ کا نام و نشان مٹ رہا ہے۔

  10. ہم سفارتی حل چاہتے ہیں مگر اسرائیل نے کشیدگی بڑھانے کا انتخاب کیا ہے: لبنان

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    برطانیہ میں لبنان کے سفیر کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ایک خطرناک اور کشیدہ علاقے میں تناؤ بڑھانے کا انتخاب کیا ہے۔ رامی مرتضی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’لبنان سفارتی حل چاہتا ہے لیکن اسرائیل میں جارحیت پسند دوسرے راستے کا انتخاب کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے حزب اللہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ پُرتشدد واقعے میں ملوث نہیں بلکہ صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے۔

    لبنانی سفیر نے کہا کہ ’تشدد مزید تشدد کو جنم دیتا ہے۔ جب آپ کسی کو اشتعال دلاتے ہیں تو امکان ہوتا ہے کہ وہ بھی آپ کو اشتعال دلائے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہمیں غزہ اور لبنان میں تباہی روکنی ہوگی اور ایک سفارتی حل تلاش کرنا ہوگا۔‘

    لبنان کے حکام کا کہنا ہے کہ مرکزی بیروت میں اسرائیلی فضائی حملے میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اسرائیل کی جنوبی لبنان میں زمینی کارروائی جاری ہے جس دوران یہ اپنے پڑوسی ملک پر مسلسل فضائی حملے بھی کر رہا ہے۔

    ہم سفارتی حل چاہتے ہیں مگر اسرائیل نے کشیدگی بڑھانے کا انتخاب کیا ہے: لبنان

    بی بی سی کے نامہ نگار ہیوگو بچیگا کے مطابق بدھ کی شب مرکزی بیروت میں اسرائیلی بمباری کے باعث ایک زوردار آواز سنائی دی تھی۔ یہ عمارت لبنان کے پارلیمنٹ کے قریب ہی واقع تھی اور لبنانی دارالحکومت کے مرکز میں یہ اسرائیل کا پہلا حملہ ہے۔

    حملے کے بعد کی تصاویر میں ایک تباہ حال عمارت کو دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کی پہلی منزل جزوی طور پر تباہ ہوچکی ہے۔ جبکہ جنوبی لبنان میں یہ عندیہ ملا ہے کہ اسرائیل زمینی مداخلت کو وسیع کر سکتا ہے۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی قیادت کو بتایا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ ناقابل قبول ہے۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق بدھ کو جنوبی لبنان سے اسرائیل کی جانب 240 سے زیادہ راکٹ داغے گئے تھے۔ فوج کا کہنا ہے کہ جمعرات کی صبح شمالی اسرائیل کے کم از کم چار علاقوں میں وارننگ سائرن بجائے گئے تھے۔

  11. لبنان-اسرائیل کشیدگی: اب تک کی اہم اطلاعات

    کفرکلا

    ،تصویر کا ذریعہSTR/EPA-EFE/REX/Shutterstock

    عرب لیگ کونسل میں مستقل نمائندوں کی سطح پر جمعرات کو ایک ہنگامی اجلاس بلایا گیا ہے جس میں اسرائیل کی زمینی کارروائی کی روشنی میں لبنان کی حمایت پر مشاورت کی جائے گی۔ یہ اجلاس عراق کی درخواست پر طلب کیا گیا ہے جہاں لبنان میں خوراک اور طبی امداد پہنچانے کے بارے میں بات چیت ہوگی۔

    اسرائیل نے لبنان میں پناہ گزین کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ابھی اپنے علاقوں میں واپس نہیں جاسکتے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ مخصوص علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔

    یمنی حوثیوں کی تنظیم انصار اللہ نے تل ابیب میں ڈرون حملے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    آسٹریلیا کی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ لبنان میں آسٹریلوی شہریوں کی واپسی کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ جمعرات اور سنیچر کی پروازوں میں 580 سیٹوں کا بندوبست کیا گیا ہے۔ انھوں نے بیروت میں مقیم ہزاروں آسٹریلوی شہریوں سے فوراً وہاں سے نکلنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  12. اسلام آباد اور لاہور میں عوامی اجتماعات پر پابندی عائد

    جمعے کو سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ڈی چوک پر احتجاجی مظاہرے سے قبل وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔ اس دوران شہر میں عوامی اجتماعات پر پابندی ہوگی۔

    ایک بیان میں اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ ریڈ زون، ہائی سکیورٹی زون اور قریبی علاقوں میں نقل و حرکت کو محدود رکھا جائے گا اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

    ادھر پنجاب حکومت نے صوبائی دارالحکومت لاہور میں دفعہ 144 نافذ کی ہے جس کے تحت آئندہ چھ روز تک شہر میں سیاسی اجتماعات، دھرنے، جلسے، مظاہرے، احتجاج اور ایسی تمام سرگرمیوں پر پابندی رہے گی۔

    ایک بیان میں ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ضلعی انتظامیہ کی سفارش پر کیا گیا تاکہ ’امن و امان کے قیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ‘ کو یقینی بنایا جاسکے۔

    ان کے مطابق ’سکیورٹی خطرات کے پیش نظر کوئی بھی عوامی اجتماع دہشت گردوں کے لیے سافٹ ٹارگٹ ہو سکتا ہے۔‘

    خیال رہے کہ تحریک انصاف نے 5 اکتوبر کو لاہور میں مجوزہ آئینی ترامیم کے خلاف مینارِ پاکستان کے گراؤنڈ میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

  13. ایران کے اسرائیل پر میزائل حملے: کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

    ،ویڈیو کیپشنایران کے اسرائیل پر میزائل حملے: کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

    ایران کی جانب سے اسرائیل پر حملے ایک ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جبکہ لبنان پر فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ اسرائیل زمینی حملے کا آغاز بھی کر چکا ہے۔ ایسے میں کیا خطے میں ایک نئی اور بڑی جنگ چھڑ سکتی ہے اور کیا ایران اور اسرائیل براہِ راست ایک دوسرے کے سامنے آ سکتے ہیں؟

  14. مشرق وسطیٰ میں جاری تناؤ کو کم کیا جائے، چین کا سلامتی کونسل سے مطالبہ

    چین، اقوام متحدہ، سلامتی کونسل

    ،تصویر کا ذریعہChina’s Ministry of Foreign Affairs

    چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوری اقدام کیے جائیں۔

    اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب نے بدھ کو سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان لڑائی روکنے کا واضح اور بلا مشروط مطالبہ کیا جائے۔

    انھوں نے کہا کہ ’عالمی امن اور سکیورٹی کی بنیادی ذمہ داری سلامتی کونسل پر عائد ہوتی ہے۔‘

    انھوں نے زور دیا کہ تمام فریقین ’سیاسی اور سفارتی حل‘ کی کوششیں کریں۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بدھ کو کہا تھا کہ چین عالمی برادری، خاص طور پر اثر و رسوخ رکھنے والے بڑے ممالک، سے تعمیری کردار ادا کرنے اور مشرق وسطیٰ میں مزید انتشار سے بچنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

    رجمان نے کہا کہ چین کو مشرق وسطیٰ کے بحران پر گہری تشویش ہے اور چین لبنان کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی مخالفت کرتا ہے اور ایسے اقدامات کی مخالفت کرتا ہے جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو۔

  15. غزہ: سکول پر اسرائیلی حملہ جس میں حماس کے ایک رہنما کو نشانہ بنایا گیا مگر 22 شہری ہلاک ہوئے

    غزہ میں سکول پر اسرائیلی حملے میں حماس کے ایک رہنما کو نشانہ بنایا گیا مگر 22 شہری ہلاک ہوئے

    بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ اسرائیل نے 12 روز قبل حماس کے ایک رہنما کو نشانہ بنانے کے لیے غزہ کے ایک سابقہ سکول پر فضائی حملہ کیا تھا تاہم اس میں متعدد بچوں کی ہلاکت ہوئی تھی۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق غزہ شہر کی اس عمارت میں حماس کا ’کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر‘ قائم تھا جس پر 21 ستمبر کو حملہ کیا گیا تھا۔

    حماس کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں 13 بچوں اور چھ خواتین سمیت 22 لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے مطابق جنگ کی وجہ سے سکول بند رکھا گیا تھا اور یہاں بے گھر افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔

    امل نامی لڑکی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ سکول کی عمارت میں موجود تھیں جب حملہ ہوا اور انھوں نے کئی لوگوں کو مرتے دیکھا۔ وہ پوچھی ہیں کہ ’ہم بچوں کا کیا قصور ہے؟ ہم اٹھتے جاگتے ڈرے رہتے ہیں۔ کم از کم سکولوں کی حفاظت کریں۔ ہمارے پاس سکول ہیں نہ گھر۔ ہم کہاں جائیں؟‘

    ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حملے میں حماس کے ایک مقامی رہنما کو ہلاک کیا گیا۔ یعنی ایک شخص کو نشانہ بنانے کے لیے کئی معصوم شہریوں کی ہلاکت ہوئی۔

    اس حملے میں ہدا نے اپنے دو بچے گنوا دیے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’جب میزائل آیا تو میں صحن سے آ رہی تپی۔ میرے شوہر بچوں کو پکارتے ہوئے چیخ رہے تھے۔۔۔ وہ ملبے تلے دب چکے تھے۔‘

    اس حملے کے بعد 12 روز کے دوران سکول کی عمارتوں، جہاں بے گھر افراد پناہ لیے ہوئے تھے، پر کم از کم آٹھ مزید فضائی حملے کیے گئے۔ یونیسیف کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران غزہ میں 50 فیصد سکولوں کو براہ راست نشانہ بنایا گیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ سابقہ ​اسکولوں میں حماس کے دہشت گرد یا ’کمانڈ اینڈ کنٹرول‘ مراکز موجود تھے۔ 21 ستمبر کی کارروائی میں اس نے سابقہ سکول کا نام غلط بتایا تھا۔ اسرائیلی فوج نے اس غلطی پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  16. لبنان میں اسرائیل کی زمینی کارروائی کا دوسرا روز

    لبنان، اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یہ پہلا موقع تھا جب اسرائیلی فوجی دستے اور حزب اللہ کے جنگجو آمنے سامنے آئے۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق لبنان کے جنوبی علاقوں میں جنگی طیاروں نے فوجیوں کی معاونت کی۔ اس کے مطابق جھڑپوں کے دوران ’دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا اور دہشتگردوں کے انفراسٹرکچر کو تباہ کیا گیا۔‘

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے دوران اس کے آٹھ فوجی ہلاک ہوئے۔ ان میں سے اکثر ایگوز اور گولانی بریگیڈ کے کمانڈوز تھے۔

    حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے اسرائیلی کمانڈوز پر اینٹی ٹینک میزائلوں سے حملہ کیا۔ اس کے مطابق بدھ کی جھڑپوں میں درجنوں اسرائیلی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے۔

    اس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کو كفركلا کے گرد و نواح میں دھماکوں اور فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا جبکہ مارون الراس میں تین اسرائیلی مرکاوا ٹینک تباہ کیے گئے۔

    حزب االلہ نے جنوبی لبنان میں کئی برسوں تک انفراسٹرکچر تعمیر کیا ہے جس میں زیرِ زمین سرنگیں شامل ہیں۔ اس کے پاس ہزاروں جنگجو ہیں جو اس علاقے کو بخوبی جانتے ہیں۔

    نتن یاہو کا خیال ہے کہ لبنان میں زمینی کارروائی کے دوران حزب اللہ کی صلاحیت کو کمزور کیا جائے گا جس کے بعد 60 ہزار اسرائیلی شہری سرحد کے قریب اپنے گھروں کو لوٹ سکیں گے۔

    امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائل حملے کے بعد اسرائیل کے ردعمل پر اس سے مشاورت جاری ہے۔

  17. اسرائیل کا مرکزی بیروت میں فضائی حملہ، پانچ افراد ہلاک

    ،ویڈیو کیپشناسرائیل کا بیروت میں فضائی حملہ

    اسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے مرکزی علاقے میں پارلیمنٹ سے محض کچھ میٹر فاصلے پر ایک عمارت پر فضائی حملہ کیا ہے جس میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

    خیال رہے کہ بدھ کو ایران نے اسرائیل کی جانب 180 میزائل داغے تھے جبکہ شمالی لبنان میں اسرائیلی کی زمینی کارروائی کے دوران اس کے آٹھ فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

    لبنان کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے فضائی حملے میں مرکزی بیروت کی ایک عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس میں پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس عمارت میں حزب اللہ سے منسلک ایک طبی مرکز قائم تھا۔

    بیروت

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیل کا بیروت کے مرکز میں یہ پہلا حملہ ہے۔ اس کا ہدف لبنان کے پارلیمنٹ سے صرف کچھ میٹر کے فاصلے پر ہے۔ اسرائیل نے بدھ کی شب پانچ دیگر فضائی حملے بھی کیے جن میں ضاحيہ میں اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

    حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں سے جھڑپوں کے دوران اسرائیل کے ٹینک تباہ کیے ہیں۔ اس نے اپنے جنگجوؤں کی مدد سے اسرائیلی فوج کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

    بیروت

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی فوج کے مطابق زمینی کارروائی کے لیے اضافی دستے اور اسلحہ پہنچ چکا ہے جس کی مدد سے لبنان میں سرحد کے قریب قائم ’دہشتگردوں کا انفراسٹرکچر‘ تباہ کیا جائے گا۔

    لبنان کی وزارت صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی بمباری میں 46 افراد ہلاک اور 85 زخمی ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں مشیگن سے تعلق رکھنے والے ایک امریکی مستقل رہائشی بھی شامل ہیں۔

  18. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا ہے مگر اسرائیل ہمیں جواب دینے پر مجبور کر رہا ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے گذشتہ روز کے میزائل حملوں کا جواب دیا تو پھر ایران کا ردعمل بہت شدید ہوگا۔
    • اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا کہ وہ لبنان میں ہلاک ہونے والے آٹھ اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ نتن یاہو نے یہ بھی کہا ہے کہ ’ہم ایران کے خلاف ایک مشکل جنگ میں ہیں۔‘
    • اسرائیلی فوج کے مطابق ایرانی فضائی حملوں میں نشانہ بنائے گئے فضائی اڈوں پر طیاروں، ڈرونز اور اہم تنصیبات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
    • اسرائیل پر میزائل حملوں کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ وہ ایران میں نیوکلیئر سائٹس کو ہدف بنانے کی حمایت نہیں کرتے۔
    • اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’وقت تیزی سے ہاتھوں سے نکلتا جا رہا ہے۔‘
  19. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔

    پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔