اسرائیل ایران کے حملے کے جواب میں ایرانی تیل تنصیبات پر حملے کی بجائے ’متبادل اہداف‘ کے بارے میں سوچے: بائیڈن
امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ اگر وہ اسرائیل کی جگہ ہوتے تو وہ ایرانی تیل کی تنصیبات پر حملہ کرنے کی بجائے ’متبادل اہداف ‘ کے بارے میں سوچتے۔ ادھر پاسداران انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر علی فدوی کا کہنا ہے کہ ’اگر اسرائیل نے اسلامی جمہوریہ پر حملہ کیا تو ایران اسرائیلی توانائی اور گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔‘
خلاصہ
اسرائیل کی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائیاں جاری ہیں۔ بیروت کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب بمباری کے نتیجے میں دھماکے ہوئے ہیں۔
لبنان کی فوج کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوب میں اس کے دو فوجیوں کی ہلاکت ہوئی ہے
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے سرحد کے قریب حزب اللہ کے جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے۔ جبکہ حزب اللہ کے مطابق اس نے سرحد کے دونوں جانب اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنایا ہے۔
لائیو کوریج
علی خامنہ ای: ’حملوں اور قتل و غارت سے مزاحمت نہیں رکے گی‘
ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے نمازِ جمعہ کے بعد اپنے خطاب کے عربی حصے میں لبنان اور فلسطین میں اپنے حامیوں سے کہا: ’تباہی کا ازالہ کیا جائے گا اور آپ کے صبر و استقامت کے بدلے آپ کو عزت اور وقار ملے گا۔‘
حسن نصر اللہ کی تعریف کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’حزب اللہ ثابت قدم رہی اور صیہونی حکومت کو پیچھے دھکیلنے کے مختلف مراحل میں اپنے دشمنوں کو اپنی طاقت دکھائی۔‘
آیت اللہ خامنہ ای نے عربی میں اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کی ان شخصیات کا حوالہ دیا جو 1957 کے انقلاب کے بعد کے پہلے سالوں میں قاتلانہ حملے اور بم دھماکوں میں مارے گئے تھے،’ اور کہا کہ ’ان حملوں اور قتل و غارت سے مزاحمت نہیں رکے گی۔‘
علی خامنہ ای نے مزید کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کا خواب جھوٹا تصور ہے اور علاقائی حکومتیں امن قائم کر سکتی ہیں۔
ایرانی میزائل حملے مکمل طور پر جائز تھے، یہ اسرائیل کے جرائم کی کم سے کم سزا ہے: آیت اللہ خامنہ ای
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے تقریباً چار سال بعد تہران میں نمازِ جمعہ کی امامت کے بعد خطبے میں اسرائیل پر ایرانی میزائل حملے کو ’مکمل طور پر جائز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایرانی میزائل حملے اسرائیل کے جرائم کی کم سے کم سزا ہیں۔‘
آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے خطاب کے عربی حصے میں لبنان میں اپنے حامیوں سے بات کرتے ہوئے حسن نصر اللہ کی تعریف کی اور ان کا موازنہ حزب اللہ کے سابق سربراہان موسیٰ الصدر اور عباس الموسوی سے کیا۔
انھوں نے ایران کی حمایت یافتہ پراکسی گروہوں کے اقدامات کی تعریف اور انھیں ’محورِ مزاحمت‘ کہا اور کہا کہ اسرائیل کے شدید حملوں کی وجہ دراصل ان افواج میں موجود غصے ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’چونکہ دشمن حزب اللہ اور حماس کی تنظیموں کو مؤثر نقصان نہیں پہنچا سکتا، اس لیے وہ دہشت گردی، تباہی اور بمباری کو اپنی فتح کی علامت سمجھتا ہے۔ اس رویے کا نتیجہ غصے کا جمع ہونا اور رہنماؤں میں غصے میں اضافہ ہونا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بدکردار اور بزدل دشمن حزب اللہ، حماس اور اسلامی جہاد کے مربوط ڈھانچے کو مؤثر ضرب لگانے میں ناکام رہا۔‘
آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کا دشمن ایک ہی ہے جس کے خلاف افغانستان سے یمن تک اور ایران سے لبنان اور غزہ تک سب کو متحد ہونا ہو گا۔
اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان کے مزید 35 علاقوں میں لوگوں کے انخلا کا حکم
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے 30 سے
زیادہ گاؤں میں لوگوں کو فوری نقل مکانی کا حکم دیا ہے۔
ترجمان اسرائیلی فوج نے انھیں کہا ہے
کہ فوری طور پر اپنے گھروں سے نکل جائیں اور دریائے الاولی کے شمال کی جانب بڑھیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہر کوئی شخص جو حزب
اللہ کے عناصر، تنصیبات اور جنگی سامان کے قریب ہے وہ اپنی جان خطرے میں ڈال رہا
ہے۔‘
’جنوب کی جانب نقل و حرکت آپ کے لیے
خطرے کا باعث ہوسکتی ہے۔‘
لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کی جنگ کہاں اور کیسے ہو رہی ہے؟
اسرائیل اور لبنان میں شیعہ عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کی لڑائی میں ڈرامائی طور پر اضافہ اُس وقت ہوا جب اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان پر زمینی حملہ شروع کر دیا۔
اسرائیل کی زمینی کارروائی ایک فضائی حملے میں ایران کے حمایت یافتہ گروپ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی ہلاکت کے چند دن بعد پیر کی رات کو شروع ہوئی تھی۔
لبنان گذشتہ دو ہفتوں سے اسرائیلی طیاروں کی شدید بمباری کا سامنا کر رہا ہے جس میں لبنانی حکام کے مطابق 1,000 سے زیادہ افراد ہلاک اور دس لاکھ بےگھر ہو چکے ہیں۔ اُدھر حزب اللہ نے بھی شمالی اسرائیل پر سینکڑوں راکٹ داغے ہیں۔
اسرائیل کی حزب اللہ کے ساتھ تنازعات کی دہائیوں پرانی تاریخ ہے، لیکن غزہ کی جنگ کے بعد سے فریقین کے درمیان لڑائی تقریباً ایک سال سے جاری ہے۔
ایران میں حسن نصر اللہ کے لیے تعزیتی تقریب، ایرانی وزیر خارجہ کی بیروت آمد
ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ
ای تہران میں قریب پانچ سال بعد نماز جمعہ کی امامت کروائیں گے۔
تہران کی امام خمینی مسجد میں بڑے تعداد
میں لوگ جمع ہو رہے ہیں۔ اس دوران حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ کے لیے خصوصی دعا
کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ حسن نصر اللہ گذشتہ ہفتے بیروت میں اسرائیلی حملے میں
ہلاک ہوئے تھے۔
ان کی ہلاکت پر ایران نے منگل کی شب قریب 200 بیلسٹک میزائل
اسرائیل کی طرف داغے تھے۔
دوسری جانب لبنان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران کے
وزیر خارجہ عباس عراقچی بیروت پہنچ چکے ہیں۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے
کہ جب گذشتہ شب اسرائیل نے بیروت میں ایئرپورٹ کے قریب بڑے پیمانے پر فضائی کارروائی
کی تھی۔
ادھر اسرائیلی دفاعی فورسز (آئی ڈی
ایف) کا کہنا ہے کہ آج صبح لبنان سے اسرائیل کی جانب 20 راکٹ داغے گئے۔ اسرائیلی حکام
کا کہنا ہے کہ ان میں سے اکثر راکٹ حملے ناکام بنا دیے گئے ہیں۔
بیروت پر اسرائیلی حملے میں حسن نصر اللہ کے ممکنہ جانشین ہاشم صفی الدین کو نشانہ بنایا گیا: امریکی میڈیا
،تصویر کا ذریعہEPA-EFE
امریکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ بیروت پر حالیہ بمباری میں حزب اللہ کے سابق سربراہ حسن نصر اللہ کے ممکنہ جانشین ہاشم صفی الدین کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے گذشتہ شب بیروت میں ایئرپورٹ
کے قریب بڑے پیمانے پر بمباری کی ہے۔ اخبار نیو یارک ٹائمز نے اسرائیلی اہلکاروں
کے حوالے سے لکھا ہے کہ اسرائیلی فوج کے پاس یہ معلومات تھی کہ حسن نصر اللہ کے کزن
ہاشم صفی الدین اور حزب اللہ کے دیگر رہنما ضاحیہ میں ایک بنکر میں ملاقات کر رہے ہیں۔
ایگزیوس نے اسرائیلی اہلکاروں کے
حوالے سے لکھا ہے کہ صفی الدین زیرِ زمین بنکر میں موجود تھے۔ یہ واضح نہیں کہ آیا
ان کی اس فضائی کارروائی میں ہلاک ہوئی ہے۔ ایگزیوس کا کہنا ہے کہ لبنانی ذرائع ابلاغ کے مطابق بیروت میں
حسن نصر اللہ کی ہلاکت کے مقابلے حالیہ اسرائیلی حملہ کہیں بڑا تھا۔
تاحال حزب اللہ نے ان دعوؤں پر کوئی
تبصرہ نہیں کیا ہے۔
حسن نصر اللہ ایک ایسی شخصیت تھے جنھوں نے کئی دہائیوں تک لبنان اور اس پورے خطے کے سیاسی منظر نامے کو تبدیل کیے رکھا اور ان کی ہلاکت نے حزب اللہ کی قیادت میں ایک بڑا خلا پیدا کیا ہے۔
امکان ہے کہ نصر اللہ کے بعد حزب اللہ کے نئے سربراہ ان کے کزن ہاشم صفی الدین ہوں گے جو فی الحال تنظیم کے سیاسی امور کی نگرانی کرتے ہیں اور عسکری کارروائیوں کے لیے قائم جہاد کونسل کے بھی رکن ہیں۔
ہاشم صفی الدین ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی کے رشتہ دار ہیں۔
انھیں پارٹی کے سیکرٹری جنرل کا عہدہ سنبھالے ابھی دو سال ہوئے تھے کہ اسرائیل نے ایک ہیلی کاپٹر حملے میں عباس الموسوی کو قتل کر دیا جس کے بعد 1994 میں صفی الدین سے نصر اللہ کے جانشین کے طور پر حزب اللہ کی ایگزیکٹو کونسل کی صدارت سنبھالنے کے لیے کہا گیا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ایرانی شہر قم میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1994 سے انھیں پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔
انھیں حزب اللہ کی سیاسی، سماجی، ثقافتی اور تعلیمی سرگرمیوں کی نگرانی کی ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔
وہ حزب اللہ کی حکمران شوریٰ کونسل کے سات منتخب اراکین میں سے ایک ہیں اور خیال کیا جاتا تھا کہ وہ نصر اللہ کے جانشین کے طور پر آگے بڑھ رہے ہیں۔
بیروت میں دھماکے، لبنان میں اسرائیل کی زمینی مداخلت کے تیسرے روز کیا ہوا؟
،ویڈیو کیپشنبیروت میں دھماکے کے مناظر
اسرائیل کی لبنان میں حزب اللہ کے
خلاف زمینی اور فضائی کارروائیاں جاری ہیں۔ اس نے بظاہر بیروت کے انٹرنیشنل
ایئرپورٹ کے قریب بمباری کی ہے جس سے بڑے پیمانے پر دھماکے ہوئے ہیں۔
یہ واضح نہیں کہ بیروت میں ان تازہ
حملوں کا ہدف کون تھا تاہم ایئرپورٹ ضاحیہ کے قریب واقع ہے جسے حزب اللہ کا گڑھ
سمجھا جاتا ہے۔
دریں اثنا لبنان کی فوج کا کہنا ہے کہ
ملک کے جنوب میں اس کے دو فوجیوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان
میں مزید 20 گاؤں اور قصبوں کو خالی کرانے کے لیے انتباہ جاری کی ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے
سرحد کے قریب حزب اللہ کے جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے۔ جبکہ حزب اللہ کے مطابق اس نے
سرحد کے دونوں جانب اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنایا ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیل کی زمینی کارروائی کے تیسرے روز لبنانی فوجی دو حملوں کا نشانہ بنے۔ لبنان کی فوج کے مطابق پہلے واقعے میں ایک فوجی ہلاک اور دوسرا زخمی ہوا۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ فوجی ایک گاؤں کو خالی کرانے کے لیے ریسکیو آپریشن میں شامل تھے۔ ریڈ کراس کے مطابق واقعے میں اس کے چار رضاکار زخمی ہوئے ہیں۔
لبنانی فوج کے مطابق دوسرے واقعے میں ’اسرائیل نے آرمی پوسٹ کو نشانہ بنایا‘ جس سے ایک مزید فوجی ہلاک ہوا۔ لبنانی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے دستوں نے جوابی کارروائی کی۔
لبنان کے وزیر صحت کا کہنا ہے کہ گذشتہ تین روز میں 40 پیرا میڈک اور فائر فائٹر ہلاک ہوئے ہیں۔
لبنان میں گذشتہ دو ہفتوں کے دوران 1300 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق بے گھر ہونے والوں کی تعداد 10 لاکھ سے زیادہ ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق جمعرات کو اس کے طیارے نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ’200 اہداف‘ کو نشانہ بنایا۔ دوسری طرف حزب اللہ نے کہا کہ اس کے جنگجو اسرائیلی کمانڈوز کی پیش قدمی روکنے میں کامیاب رہے۔ اس کا کہنا ہے کہ سرحد پار اسرائیلی فوج کو نشانہ بنایا گیا اور جنوبی اسرائیل میں راکٹ داغے گئے۔
،تصویر کا ذریعہEPA
دریں اثنا اسرائیل
کے وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے سربراہ کے اسرائیل داخلے پر پابندی عائد کی ہے
تاہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے انتونیو گوتیرس کی مکمل حمایت کا اعلان کیا
ہے۔
بیروت پر اسرائیل کے حملے کے بعد کے مناظر
اسرائیلی افواج کی جانب سے لبنان کے دارلحکومت بیروت پر جعرات کی شب متعدد مقامات پر فضائی حملوں میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔
بیروت پر اسرائیلی افواج کے تازہ حملوں کے بعد کے مناظر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیل کا مغربی کنارے میں پناہ گزینوں کے کیمپ پر حملہ
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے
مقبوضہ مغربی کنارے کے تلکارم شہر میں حملہ کیا ہے۔
متعدد افراد کے ہلاک ہونے کی
اطلاعات ہیں جبکہ فلسطینی اتھارٹی کی وزارت صحت نے یہ تعداد 16 بتائی ہے۔
فلسطینی ہلال احمر کی جانب سے کہا
جا رہا ہے کہ کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
آئی ڈی ایف نے اپنے بیان میں پناہ
گزین کیمپ پر حملے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
دوسری جانب جنوبی بیروت کے مضافاتی علاقے میں
دو عمارتوں کے قریب رہنے والے لوگوں کو اسرائیلی فوج نے اس جگہ سے دور رہنے اور
اسے خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔
اسرائیل کی دفاعی افواج کے عربی
ترجمان اویچی ادریائی نے دہیہ کے مضافات میں شہریوں کو انتباہ جاری کرتے ہوئے دو
نقشے شائع کیے ہیں جن میں بیرونی طور پر دکھایا گیا ہے کہ احکامات کہاں کہاں نافذ
العمل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کو فوری
طور پر وہاں سے نکل جانا چاہیے اور متنبہ کیا کہ وہ ’حزب اللہ کی تنصیبات‘ سے دور
رہیں، جن کے خلاف آئی ڈی ایف مستقبل قریب میں ’کارروائی‘ کا ارادہ رکھتی ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ممبر مُمالک کا مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار
،تصویر کا ذریعہAnadolu
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے
دس منتخب ارکان نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں
اضافے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ میں گیانا کی مستقل
مندوب کیرولین روڈریگز برکیٹ نے ایک مشترکہ بیان پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ ’ہم تشدد
کے موجودہ دور کی مذمت کرتے ہیں اور تمام دشمنیوں اور اختلافات کو فوری طور پر ختم
کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم تمام
فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین سمیت بین الاقوامی قانون
کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا احترام کریں۔‘
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل 15
ارکان پر مشتمل ہے جن میں سے پانچ مستقل طور پر کونسل میں رہیں گے اور 10 غیر
مستقل ارکان جو جنرل اسمبلی کی جانب سے دو سال کی مدت کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ
مستقل ارکان میں چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں۔
تاہم الجیریا، ایکواڈور، گیانا، جاپان،
مالٹا، موزمبیق، جمہوریہ کوریا، سیرالیون، سلووینیا اور سوئٹزرلینڈ کا شمار اقوام
متحدہ کی سلامتی کونسل کے دس غیر مستقل رُکن مُمالک ہیں۔
اسرائیل کی مدد کرنے والے مُلک کو ’جائز ہدف‘ سمجھا جائے گا: ایران
اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے
نے دیگر مُمالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران اور اسرائیل کے درمیان محاذ
آرائی میں نہ پڑیں اور اس ’لڑائی‘ سے دور رہیں۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر
کوئی ملک حملہ آور کی مدد کرتا ہے، تو وہ ملک جرم میں برابر کا شریک ہوگا اور اُسے
بھی جائز ہدف سمجھا جائے گا۔‘
ایرانی وفد نے یہ بھی کہا ہے کہ
ایران کا سرکاری پیغام امریکہ تک پہنچانے کا واحد راستہ تہران میں سوئس سفارت خانہ
ہے۔
امریکہ اپنے اتحادی اسرائیل کا دفاع کرے گا: میتھیو ملر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان
میتھیو ملر کا کہنا ہے کہ امریکا اسرائیل کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا
اسرائیل منگل کو ہونے والے میزائل حملے کے جواب میں ایران کے تیل کی تنصیبات پر
حملہ کرے گا تو انھوں نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
مسٹر ملر نے کہا کہ اسرائیل تنازع
کو حل کرنا چاہتا ہے لیکن ساتھ ہی حزب اللہ کی صلاحیتوں کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔
اسرائیلی فوج کا بیروت میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا
ہے کہ انھوں نے جمعرات کے روز بیروت میں ہتھیار بنانے والے متعدد مقامات اور حزب
اللہ کے متعدد مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
آئی ڈی ایف نے بیان میں مزید کہا کہ اسرائیلی فضائیہ نے ’بیروت میں حزب
اللہ کے خفیہ ادارے کے دفتر کو نشانہ بنایا،‘ جس میں حزب اللہ کے لیے خفیہ آپریشن
کرنے والے اہلکار اور اُن کا کمانڈ سینٹر بھی شامل ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے سے قبل شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے
کے لیے انتباہ بھی جاری کیا گیا اس سارے عمل کی فضائی نگرانی بھی کی گئی۔
پی ٹی آئی کا احتجاج: وفاقی دارلحکومت میں نجی تعلیمی ادارے اور شہر کے 24 مقامات سے داخلی اور خارجی راستے بند
پاکستان
تحریکِ انصاف کی جانب سے وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کے ڈی
چوک میں جمعہ کے روز مُمکنہ احتجاج کے باعث آل پاکستان پرائیویٹ سکولزاینڈ کالجز ایسوسی ایشن نے جڑواں
شہروں کے تمام نجی تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان کردیا ہے۔
آل پاکستان پرائیویٹ سکولزاینڈ
کالجز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر ملک ابرار حسین کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا
ہے کہ کل بروز جمعہ راولپنڈی اسلام آباد کے تمام نجی تعلیمی ادارے کی بندش کا
فیصلہ اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج، راستوں کی بندش اور بچوں کی حفاظت کے پیش نظر
کیا گیا ہے۔
تاہم وفاقی
دارلحکومت کی انتظامیہ کی جانب سے سکولوں کی بندش کے حوالے سے تاحال کوئی
نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا گیا ہے۔
پولیس کی تیاری
دوسری جانب اسلام
آباد پولیس نے احتجاج کرنے والے سیاسی کارکنوں کی گرفتاری کے لئے 7 ٹیمیں تشکیل دے
دی ہیں جن میں سے ہر ٹیم میں 15 سے 17 پولیس اہلکار و افسران کو شامل کیا گیا ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے جاری کی جانے والی تفصیلات کے مطابق یہ سات ٹیمیں اسلام آباد
کے مختلف مقامات پر گرفتاریاں کریں گیں۔
انتظامیہ کے
مطابق واضح رہے کہ ہر ٹیم کا انچارج سب اسپکٹر رینک کا افسر ہو گا۔ گرفتاری کے لئے
تشکیل ٹیموں کی سربراہی ایس پی رینک کا افسر کرے گا۔ گرفتاری کے لئے تشکیل دی گئی
ٹیمیں آج رات سے کریک ڈاون شروع کریں گیں۔ تھانوں کی مدد سے مقامی افراد کو گرفتار
کیا جائے گی۔ کل احتجاج کے لئے آنے والوں کو بھی یہ ہی ٹیمیں گرفتار کریں گیں۔
راستوں کی بندش
وفاقی حکومت
نے اسلام آباد میں احتجاج کے پیش نظر شہر کو چوبیس مقامات سے مکمل طور پر بند کرنے
کا فیصلہ کیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق
نیو مار گلہ روڈ، سنگجانی ٹول پلازہ، واٹر ٹینکی مارگلہ روڈ بند ہوگی۔
اس کے علاوہ
نیو مارگلہ لوپ، ایف ٹین، چھبیس نمبر چونگی، زیرو پوائنٹ، خیابان چوک، فیصل چوک،
بری امام ٹی کراس، ایکپریس چوک، سرینا چوک، روات ٹی کراس، کھنہ پل، لہتراڑ روڈ، مری
روڈ نزد ٹریفک آفس، نائتھ ایونیو، گولڑہ موڑ، موٹروے اولڈ ٹول پلازہ، ترنول چوک، چوہڑ
چوک، پشاور موٹروے فلائی اور بھی بند کر دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کارکن مصطفین کاظمی کو گرفتار کر لیا گیا
اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی کے کارکن مصطفین کاظمی کو گرفتار کرکے تھانہ سیکرٹریٹ منتقل کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق مصطفٰین کاظمی کو سیکٹر ایف سیون فور سے گرفتار کیا گیا ہے۔
یاد رہے گذشتہ روز سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے کارکن مصطفین کاظمی جنھوں نے وکیلوں والا یونیفارم پہنا ہوا تھا، روسٹرم پر آئے اور انھوں نے بھی بینچ کی تشکیل پر اعتراض اٹھایا اور چند سخت جملے ادا کیے۔
جس کے بعد چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کارکن مصطفین کاظمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کمرہ عدالت میں موجود پولیس اہلکاروں کو حکم دیا کہ ’اس جنٹلمین کو کمرہ عدالت سے باہر لے جائیں۔‘
بریکنگ, بائیڈن کے ایران پر ممکنہ اسرائیلی حملے کے بیان کے بعد خام تیل کی قیمت میں پانچ فیصد اضافہ
،تصویر کا ذریعہReuters
جب بات تیل کی ہو تو مشرق وسطیٰ میں جاری بحران ممکنہ طور پر بڑے معاشی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
امیرکی صدر بائیڈن کے ایران پر ممکنہ اسرائیلی حملے کے بیان کے بعد خام تیل کی قیمت میں پانچ فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔
بائیڈن کا کہنا ہے کہ امریکہ اسرائیل کے ایران کی تیل کی صنعت پر حملے کے امکان پر ’بات چیت‘ کر رہا ہے۔
ایران دنیا کا ساتواں سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے جو اپنی پیداوار کا نصف بیرون ملک برآمد کرتا ہے۔
ایرانی تیل کے بڑے خریداروں میں چین بھی شامل ہے۔
اسرائیل ایران کشیدگی کے بعد سے برینٹ کروڈ کے لیے خام تیل کی قیمتیں 10 فیصد سے 77 ڈالر فی بیرل (59 پاؤنڈ) تک بڑھ گئی ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب تیل کی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔
ایک تشویش یہ بھی ہے کہ آیا کسی بھی طرح یہ کشیدگی آبنائے ہرمز کو بلاک نہ کر دے۔
بریکنگ, امریکہ اسرائیل کے ایرانی تیل تنصیبات پر حملے کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے: بائیڈن
امریکی صدر بائیڈن کا کہنا ہے کہ امریکہ اسرائیل کی جانب سے ایران کی تیل کی تنصیبات پر حملے کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے۔
ہم نے اس سے قبل آپ کو صدر بائیڈن کی وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے کی گئی بات چیت کے متعلق بتایا تھا۔
انھوں نے صحافیوں کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ ’آج کچھ نہیں ہونے والا اور ہم اسرائیل کو اجازت نہیں، مشورہ دیتے ہیں۔‘
اس کے بعد بائیڈن نے ایرانی تیل کی تنصیبات پر ممکنہ اسرائیلی حملوں کے بارے میں صحافیوں کے ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم اس پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔‘
بریکنگ, بائیڈن نے ایران پر اسرائیلی حملے کے امکان کو مسترد کر دیا ’ہم اسرائیل کو ’اجازت‘ نہیں مشورہ دیتے ہیں‘
امریکی صدر جو بائیڈن نے ایران پر اسرائیلی حملے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے سوال پر کہ کیا امریکہ اسرائیل کو ایران کی جانب سے منگل کے حملوں کا جواب دینے کی اجازت دے گا، بائیڈن نے کہا: ’ہم اسرائیل کو ’اجازت‘ نہیں مشورہ دیتے ہیں اور آج کچھ نہیں ہونے والا ہے۔‘
یاد رہے ایران کی جانب سے میزائل حملوں کے بعد اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے خبردار کیا کہ ایران کو ’بڑی غلطی‘ کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
شام میں روسیوں کے زیرِ استعمال فضائی اڈے کے نزدیک دھماکہ
،تصویر کا ذریعہbbc
لبنان کے ہمسائیہ ملک شام میں رات گئے سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوئی ہیں جن میں دمشق سے تقریباً 200 کلومیٹر شمال میں حمیمیم ایئربیس کے قریب ایک بڑا دھماکے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ائیر بیس روسی افواج کے زیراستعمال تھی جہاں دسمبر 2017 میں ان کے دو فوجی گولہ باری سے مارے گئے تھے۔ اس کے کچھ دن بعد روس نے بیس پر ڈرون حملے کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔
بی بی سی اب تک ان میں سے ایک تصویر کر تصدیق کر سکا ہے جسے ہم نے سیٹلائٹ امیجری میں کراس ریفرنس کیا اور سڑک اور کونے پر عمارت سے موازنہ کیا۔
ہم نے یہ بھی یقینی بنایا کہ یہ تصویر نئی ہے یا نہیں ۔
تاہم بی بی سی یہ بتانے سے قاصر ہے کہ یہ دھماکہ ایئربیس کے کتنا قریب تھا۔
ایران کا جی سیون ممالک پر ’تعصب‘ برتنے کا الزام
ایران کی وزارتِ خارجہ نے جی سیون ممالک پر ایران کے اسرائیل پر میزائل حملوں کی مذمت کو ’متعصب اور غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بغائی نے جی سیون ممالک اور امریکہ پر اسرائیل کو مسلح کرنے اور اس کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہوئے انھیں مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ اور عدم استحکام کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
یاد رہے بدھ کو جی سیون ہنماؤں جن میں کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں،نے ایک مشترکہ بیان میں تہران کے اسرائیل پر حملے کی مذمت کی تھی۔
اسرائیلی حملوں میں اب تک 127 بچوں سمیت 1974 لبنانی شہری ہلاک ہو چکے ہیں: لبنانی وزیر صحت
،تصویر کا ذریعہgettyimages
لبنان کے وزیرِصحت کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس 8 اکتوبر سے لے کر اب تک اسرائیلی حملوں میں 127 بچوں سمیت 1974 لبنانی شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 9384 ہے۔
اس سے قبل لبنانی حکام نے 1873 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی۔