پاکستان تحریک انصاف نے 24 نومبر یعنی آج ملک بھر میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔ یہ کال اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان نے دی ہے۔ حکومت اور پی ٹی آئی نے اس احتجاج سے متعلق ایک دوسرے سے ہونے والے رابطوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج سے قبل اسلام آباد کی پولیس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک کے دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ ہے اور ’قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔‘
سنیچر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اسلام آباد پولیس کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر شہر میں امن عامہ کے قیام کو یقینی بنایا جائے گا۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ کسی بھی غیرقانونی عمل کا حصہ نہ بنیں۔‘
اپنی پوسٹ میں پولیس نے شہریوں کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ ان کی جان و مال اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔
حکومت کا ’سکیورٹی خدشات والے علاقوں‘ میں موبائل انٹرنیٹ اور وائی فائی سروس بند کرنے کا عندیہ
پاکستانی حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کے موقع پر ’سکیورٹی کے خدشات والے علاقوں‘ میں موبائل انٹرنیٹ اور وائی فائی سروسز بند کی جا سکتی ہیں۔
سنیچر کو وزارتِ داخلہ کے ترجمان کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ صرف سیکورٹی کے خدشات والے علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ اور وائی فائی سروس کو بند کرنے یا نہ کرنے کا تعین کیا جائے گا۔
وزارتِ داخلہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کے باقی حصوں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس معمول کے مطابق چلتی رہے گی۔
تاہم ترجمان کی جانب سے یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ ’سکیورٹی کے خدشات‘ والے علاقے کون سے ہیں اور وہاں موبائل انٹرنیٹ یا وائی فائی سروس کتنے دورانیے کے لیے بند کی جائے گی۔
مطالبات پورے ہونے تک ڈی چوک سے نہیں ہلیں گے: وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور
وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کا کہنا ہے عمران خان کے حکم کے مطابق مطالبات پورے ہونے تک ڈی چوک سے نہیں ہلیں گے۔
24 نومبر کے حوالے سے پی ٹی آئی کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے شئیر کی گئی ایک ویڈیو میں ان کا کہنا ہے کہ ہم سب نے 24 نومبر کو ڈی چوک پر پہنچنا ہے اور اس وقت تک وہاں سے نہیں ہلنا جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے۔
گنڈاپور کا کہنا ہے کہ ہمارے مطالبات میں عمران خان، لیڈرشپ اور کارکنان کی رہائی شامل ہے ’اس کے علاوہ ہمارے مطالبات میں ہمارے مینڈیٹ کی واپسی اور آئین کا تحفظ شامل ہے۔‘
انھوں نے کارکنان سے کہا ہے کہ ’جتنی بھی رکاوٹیں ہوں، آپ نے ہر صورت ڈی چوک پہنچنا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’اس وقت ہم سب پر فرض ہے کہ عمران خان کو جو بے گناہ قید کیا گیا ہے اور ہماری پارٹی کے خلاف جو ظلم و فسطائیت جاری ہے، اس سب کے خلاف ہم سب نے نکلنا ہے۔‘
انھوں نے حکومت کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آپ ہم پر شیلنگ کرتے ہیں، ربڑ کی گولیاں چلاتے ہیں، تشدد کرتے ہیں، ہمارے راستوں میں کنٹینر کھڑے کرتے ہیں، خندقیں کھودتے ہیں، ہمارے اوپر فائرنگ کرتے ہیں اور اگر کوئی بھی نقصان ہو گا تو اس کی ذمہ دار یہ حکومت ہو گی۔‘