وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کی ’فائنل کال‘ کے لیے پشاور سے احتجاجی قافلے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں راونہ ہو چکے ہیں، اس کے علاوہ دیگر صوبوں اور شہروں سے بھی پی ٹی آئی کارکنان اسلام آباد کے لیے نکلے ہیں۔
اسلام آباد کے علاوہ پنجاب اور بلوچستان میں دفعہ 144 نافذ ہے اور اسلام آباد اور راولپنڈی سے احتجاج کرنے والے 350 کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے۔
اسلام آباد پولیس نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ملک کے دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ ہے اور ’قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔‘
سنیچر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اسلام آباد پولیس کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر شہر میں امن عامہ کے قیام کو یقینی بنایا جائے گا۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ کسی بھی غیرقانونی عمل کا حصہ نہ بنیں۔‘
اب سے کچھ دیر قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پولیس ڈی چوک کی نگرانی کر رہی ہے، اگر کوئی احتجاجی آئے گا تو اسے فوراً گرفتار کیا جائے گا۔
پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیش نظر سنیچر سے ہی اسلام آباد کے داخلی راستوں کو سیل کر دیا گیا تھا۔ موٹرویز کے علاوہ ٹرانسپورٹ اڈے بھی بند کیے گئے ہیں۔
انٹرنیٹ، سوشل میڈیا ایپس اور واٹس ایپ تک رسائی میں خلل
اسلام آباد کے باسیوں کو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس اور واٹس ایپ سے ڈاؤن لوڈ اپ لوڈ میں دشواری کا سامنا ہے۔
پاکستانی حکومت نے عندیہ دیا تھا کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کے موقع پر ’سکیورٹی کے خدشات والے علاقوں‘ میں موبائل انٹرنیٹ اور وائی فائی سروسز بند کی جا سکتی ہیں۔
سنیچر کو وزارتِ داخلہ کے ترجمان کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ صرف سیکورٹی کے خدشات والے علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ اور وائی فائی سروس کو بند کرنے یا نہ کرنے کا تعین کیا جائے گا۔
وزارتِ داخلہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کے باقی حصوں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس معمول کے مطابق چلتی رہے گی۔
تاہم ترجمان کی جانب سے یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ ’سکیورٹی کے خدشات‘ والے علاقے کون سے ہیں اور وہاں موبائل انٹرنیٹ یا وائی فائی سروس کتنے دورانیے کے لیے بند کی جائے گی۔
اس سے قبل وزیر داخلہ محسن نقوی نے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر سے رابطہ کرکے انھیں بتایا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے تحت ان کی جماعت کو وفاقی دارالحکومت میں احتجاج کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔
وزیر داخلہ نے پی ٹی آئی کے سربراہ کو اس حوالے سے آگاہ کیا کہ 24 نومبر سے 27 نومبر تک بیلاروس کے صدر کی قیادت میں 80 رکنی وفد اسلام آباد میں موجود ہوگا۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ’ہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے پابند ہیں۔ کسی جلوس، دھرنے یا ریلی کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’بیلاروس کا اعلی سطح کا وفد 24 نومبر کو اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔ بیلاروس کے صدر 25 نومبر کو پاکستان پہنچیں گے۔‘
بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پارٹی سے مشاورت کے بعد حکومت کو حتمی رائے سے آگاہ کیا جائے گا۔ تاہم محسن نقوی نے اب سے کچھ دیر قبل بتایا ہے کہ بیرسٹر گوہر نے تاحال انھیں کوئی جواب نہیں دیا ہے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے وزیر داخلہ کو تحریک انصاف سے رابطہ کا حکم دیا تھا۔
یاد رہے رواں مہینے 13 نومبر کو پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے اسلام آباد تک لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس مرتبہ ان کے کارکنان دارالحکومت چار مطالبات کے ساتھ آ رہے ہیں۔
عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کیے جانے والے پیغام میں کہا گیا تھا کہ: ’میری تمام پاکستانیوں سے اپیل ہے کہ 24 نومبر کو اسلام آباد پہنچیں اور مطالبات کی منظوری تک گھروں کو واپس نہ جائیں۔‘
-
عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی
-
26ویں آئینی ترمیم کا خاتمہ
-
جمہوریت اور آئین کی بحالی
-
مینڈیٹ کی واپسی
اگست 2023 میں عمران خان کی قید اور 2024 میں ملک میں عام انتخابات کے بعد پی ٹی آئی نے متعدد احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ اس دوران ان کے کئی رہنما، درجنوں کارکنان کو گرفتار کیا گیا اور ہر احتجاج کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں اور جماعت کے کارکنان کے درمیان تصادم دیکھنے میں آیا۔
ہر احتجاج کے موقع پر راولپنڈی اور خصوصاً اسلام آباد میں کاروبارِ زندگی کبھی جزوی اور اور کبھی مکمل طور پر بند ہو گیا۔
تازہ ترین احتجاج پی ٹی آئی کی جانب سے اکتوبر کے آغاز میں کیا گیا تھا جس کا ڈراپ سین اس وقت ہوا تھا جب اسلام آباد پہنچنے پر احتجاج کی سربراہی کرنے والے علی امین گنڈاپور احتجاج چھوڑ کر خیبرپختونخوا ہاؤس چلے گئے تھے جس کے بعد ان کے لاپتہ ہونے کی خبریں گردش کرنے لگی تھیں۔ تاہم ایک روز بعد انھیں خیبرپختونخوا اسمبلی میں خطاب کرتے دیکھا گیا تھا۔
ایسے میں لوگوں کے ذہنوں میں سوال ہے کہ آج 24 نومبر کا احتجاج ماضی سے کتنا مختلف ہو گا؟