آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

رینجرز اور پولیس آپریشن کے دوران بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور نکلنے میں کامیاب ہو گئے: رانا ثنا اللہ

وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے اسلام آباد کے بلیو ایریا میں رینجرز اور پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی مظاہرین کے خلاف آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن کے دوران بشری بی بی اور علی امین گنڈاپور وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

خلاصہ

  • تحریک انصاف کے کارکنان تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچ گئے ہیں اور پی ٹی آئی نے مطالبات کی منظوری تک یہاں دھرنے کا اعلان کیا ہے۔
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی اصل قیادت حکومت سے بات کرنا چاہتی ہے مگر ’خفیہ قیادت‘ ایسا نہیں چاہتی۔
  • وفاقی حکومت نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر آرٹیکل 245 کے تحت اسلام آباد میں فوج تعینات کر رکھی ہے۔
  • اسلام آباد میں فوج طلب کیے جانے سے کچھ دیر قبل ہی پیر کو رات گئے سرینگر ہائی وے پر سکیورٹی پر تعینات چار رینجرز اہلکاروں کو ایک تیز رفتار گاڑی نے کچل دیا۔
  • اسلام آباد کے باسیوں کو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس تک رسائی اور واٹس ایپ سے ڈاؤن لوڈ اور اپ لوڈ کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔
  • وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاوہ صوبہ پنجاب اور بلوچستان میں دفعہ 144 نافذ ہے۔

لائیو کوریج

پیشکش: منزہ انوار

  1. عمران خان کی ’فائنل کال‘: پی ٹی آئی کے قافلے اسلام آباد کی جانب رواں دواں

    عمران خان کی رہائی کا مطالبہ لیے پاکستان تحریک انصاف کے قافلے خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں سے اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہیں۔

    پشاور سے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں آنے والا قافلہ برہان انٹرچینج کراس کر چکا ہے اور کٹی پہاڑی کی جانب بڑھ رہا ہے، جہاں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

    پی ٹی آئی پشاور ریجن کے صدر ارباب عاصم نے بی بی سی کی ثنا آصف کو بتایا کہ ’ہم اس وقت کٹی پہاڑی سے صرف پانچ یا چھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ان کے قافلے میں علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی موجود ہیں جبکہ کارکنان کے حوصلے انتہائی بلند ہیں۔

    ارباب عاصم نے مزید کہا کہ ’کوئی بھی کارکن واپس جانے کو تیار نہیں اور ہم آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے۔‘

    دوسری جانب خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع سے روانہ ہونے والے قافلے پیر کی صبح سے ہکلہ انٹر چینج کے قریب موجود ہیں جبکہ ایبٹ آباد اور مانسہرہ سے آنے والے قافلے ہزارہ انٹرچینج پر موجود ہیں اور مرکزی قافلے کا انتظار کر رہے ہیں۔

    ان قافلوں کو روکنے کے لیے بھی پولیس کی جانب سے شیلنگ کی گئی ہے۔

    پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق یہ قافلے ہکلہ کے مقام پر ملیں گے اور یہاں سے اسلام آباد میں داخل ہونے کا سفر شروع کریں گے۔

    پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ ان قافلوں میں ہزاروں افراد موجود ہیں تاہم ان دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

  2. برہان کے مقام پر شدید شیلنگ اور آنسو گیس پھینکی جا رہی ہے: مشتاق غنی

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما مشتاق غنی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے مظاہرین پر برہان کے مقام پر شدید شیلنگ اور آنسو گیس پھینکی جا رہی ہے۔

    ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ ’ہمارے قافلے پر برہان کے مقام پر اس وقت شدید شیلنگ اور آنسو گیس پھینکی جا رہی ہے تاہم کارکنوں کے حوصلے پہلے سے بلند ہیں اور وہ ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔‘

  3. علی امین گنڈاپور کا قافلہ ناکہ توڑ کر ہرو پل کراس کر گیا

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی قیادت میں پشاور سے اسلام آباد آنے والا پی ٹی آئی کا قافلہ ناکہ توڑ کر ہرو پل کو پار کر گیا ہے۔

    یہ قافلہ اب کٹی پہاڑی کی طرف رواں دواں ہے جبکہ پولیس کی بھاری نفری وہاں موجود ہے۔

    دوسری جانب خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع سے روانہ ہونے والے قافلے ہکلہ انٹر چینج سے پہلے رک گئے ہیں۔ قافلے کے آگے پیچھے پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی جبکہ مظاہرین پر شیلنگ بھی کی گئی۔

  4. پی ٹی آئی کا احتجاج: کٹی پہاڑی کیا ہے اور یہ اسلام آباد سے کتنے فاصلے پر ہے؟, ثنا آصف ڈار، بی بی سی اردو

    صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں اتوار کی سہہ پہر پشاور سے روانہ ہونے والا قافلہ آج دوپہر اسلام آباد پہنچنے کا امکان ہے۔

    اس قافلے کے ساتھ موجود پی ٹی آئی کے ضلعی صدر عرفان سلیم نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اگر انھیں برہان انٹرچینج اور کٹی پہاڑی کے مقام پر زیادہ رکاوٹوں کا سامنا نہ کرنا پڑا تو وہ آج دوپہر 12 بجے تک اسلام آباد داخل ہو جائیں گے۔

    بی بی سی نے موٹروے پولیس سے رابطہ کر کے کٹی پہاڑی کے بارے میں سمجھنے کی کوشش کی ہے۔

    موٹروے پولیس کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا ہے کہ موٹروے پر جب بھی کسی پہاڑ کو کاٹ کر راستہ بنایا جاتا ہے تو اسے عرف عام میں ’کٹی پہاڑی‘ کہتے ہیں اور ایسا صرف ایک مقام پر نہیں۔

    انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’موٹروے پر راستہ بنانے کے لیے جہاں جہاں سے پہاڑوں کو کاٹا گیا انھیں ’کٹی پہاڑی‘ کہا جاتا ہے۔

    موٹروے پولیس کے اہلکار کے مطابق جس کٹی پہاڑی کا ذکر پی ٹی آئی والے کر رہے ہیں وہ برہان انٹرچینج سے تھوڑا آگے جہاں سے ہزارہ مووٹروے شروع ہوتی ہے، وہاں واقع ہے اور اس مقام سے اسلام آباد کا فاصلہ 50 سے 60 کلومیٹر بنتا ہے۔

    اس راستے پر موجود رکاوٹوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ جہاں سے پنجاب کی حدود شروع ہوتی ہے، وہاں سے ہر 10 یا 15 کلومیٹر کے فاصلے پر رکاوٹیں لگائی گئی ہیں۔

  5. اپنے پلان کے تحت پیش قدمی کر رہے ہیں، ہمیں کوئی جلدی نہیں، بیرسٹر سیف

    خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اپنے پلان کے تحت پیش قدمی کر رہی ہے۔

    بیرسٹر سیف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حکومت کے پاس گھڑیاں ہیں لیکن وقت ہمارے پاس ہے۔ ہمیں کوئی جلدی نہیں۔‘

    انھوں نے وفاقی حکومت کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ’حکومت مطالبات پورے ہونے کے بغیر پی ٹی آئی احتجاج کے خاتمے کا نہ سوچے۔‘

    بیرسٹر سیف نے مزید کہا کہ حکومت کے وزرا جتنی پریس کانفرنس کر لیں، ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’علی امین کی سربراہی میں عوام نے اس بار عمران خان کی رہائی کی مکمل ٹھان لی ہے۔‘

    پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیش نظر رکاوٹوں کے لیے جگہ جگہ کھڑے کیے گئے کنٹینرز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر سیف نے کہا کہ ’پورے پاکستان کے کنٹینرز اسلام آباد پہنچائے گئے ہیں۔‘

  6. وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور قافلے کے ساتھ روانگی کے لیے تیار

    پاکستان تحریک انصاف کے ایکس پر آفیشل اکاؤنٹ پر اب سے کچھ دیر پہلے ایک ویڈیو شیئر کی گئی ہے جس میں وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور اسلام آباد روانگی کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔

    پی ٹی آئی کے مطابق علی امین گنڈاپور نے قافلے کے ہمراہ اسلام آباد کی جانب پیش قدمی شروع کردی ہے۔

    واضح رہے کہ آج صبح اس قافلے کے ساتھ موجود پی ٹی آئی کے ضلعی صدر عرفان سلیم نے بی بی سی سے کو بتایا تھا کہ اس وقت وہ پی ٹی آئی کارکنان کے ساتھ اسلام آباد اور پشاور موٹروے پر ہرو پل کے ریسٹ ایریا میں موجود ہیں۔

    انھوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا تھا کہ یہ قافلہ آج دوہہر 12 بجے تک اسلام آباد میں داخل ہو جائے گا۔

  7. علی امین گنڈاپور کی قیادت میں پی ٹی آئی کا قافلہ موٹروے پر ہرو پل کے مقام پر پہنچ گیا, ثنا آصف ڈار، بی بی سی اردو

    صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں اتوار کی سہہ پہر پشاور سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہونے والا پی ٹی آئی کا قافلہ اس وقت موٹروے پر ہرو پل کے مقام پر موجود ہے۔

    اس قافلے کے ساتھ موجود پی ٹی آئی کے ضلعی صدر عرفان سلیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت پی ٹی آئی کے کارکنان ہرو پل کے ریسٹ ایریا میں موجود ہیں جہاں سے یہ قافلہ کچھ دیر بعد اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گا۔

    عرفان سلیم نے بتایا کہ پشاور سے روانگی کے بعد انھیں غازی بروتھا پل اور ہزارہ ایکسپریس وے سے پہلے ایک پہاڑی مقام پر سب سے زیادہ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔

    انھوں نے امید کا اظہار کیا کہ اگر برہان انٹرچینج اور کٹی پہاڑی کے مقام پر انھیں زیادہ رکاوٹوں کا سامنا نہ کرنا پڑا تو وہ آج دوپہر 12 بجے تک اسلام آباد میں داخل ہو جائیں گے۔

    جب عرفان سلیم سے سوال کیا گیا کہ اس قافلے میں کتنے لوگ ہیں تو انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے ساتھ تقریباً 40 ہزار افراد موجود ہیں۔

    عرفان سلیم نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں حکومت تو پی ٹی آئی کی ہے تاہم صوبے کی پولیس اور بیوروکریسی اس وقت وفاقی حکومت کے احکامات پر عمل کر رہی ہے۔

  8. پی ٹی آئی مظاہرین کے پتھراؤ سے 14 اہلکار زخمی ہوئے: پولیس, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیش نظر متعدد مقامات کو کنٹینرز لگا کر بند کیا گیا ہے تاہم پی ٹی آئی کارکنان اور پولیس کے درمیان ٹکراؤ کی اطلاعات ہیں۔

    پولیس کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا جبکہ پی ٹی آئی کارکنان کا دعویٰ ہے کہ پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کر رہی ہے جبکہ لاٹھی چارج بھی کیا گیا۔

    اسلام آباد پولیس کے مطابق پی ٹی آئی مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کی وجہ سے 14 اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جن کا پولی کلینک اور پمز ہسپتال میں علاج جاری ہے۔

    پولیس کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد سے 35 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اس کے علاوہ سوہان انٹر چینج سے 17 اور کھنہ پل سے سات مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔

    اسلام آباد پولیس کے مطابق ڈی چوک سے بھی چار افراد کو گرفتار کیا گیا۔ واضح رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کل کہا تھا کہ پولیس ڈی چوک کی نگرانی کر رہی ہے اور اگر کوئی بھی احتجاجی یہاں آئے گا تو اسے فوراً گرفتار کر لیا جائے گا۔

    اس کے علاوہ خیابان پلازہ کے پاس سے 29 افراد، 26 نمبر چونگی سے 42، روات ٹی کراس چوک سے دو افراد جبکہ بھارہ کہو سترہ میل سے تین مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔

  9. اسلام آباد میں پی ٹی آئی کا احتجاج: کل پورا دن کیا ہوتا رہا؟

    سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے 24 نومبر کو ملک کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاج کی کال دی، جس کے بعد کل یعنی اتوار کے روز ملک بھر سے قافلے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوئے۔

    کل اس حوالے سے ہونے والی کچھ اہم پیشرفت کچھ یوں ہیں:

    • پاکستان تحریک انصاف کی ’فائنل کال‘ کے لیے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں کل سہہ پہر پشاور سے روانہ ہونے والا احتجاجی قافلہ پنجاب کی حدود میں داخل ہو گیا ہے۔ اس قافلے میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی شامل ہیں۔
    • پاکستان تحریک انصاف پشاور ریجن کے صدر ارباب عاصم کے مطابق علی امین گنڈاپور کی قیادت میں قافلہ سوموار کی صبح اسلام آباد میں داخل ہو گا۔
    • آخر اطلاعات تک بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع سے پی ٹی آئی کے قافلے موٹروے پر پنڈی گھیب کے مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں پنجاب پولیس کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔
    • اسلام آباد کے داخلی راستوں پر کئی مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا جبکہ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کر رہی ہے اور کارکنان پر لاٹھی چارج بھی کیا گیا۔
    • اسلام آباد پولیس کے مطابق مجموعی طور پر اب تک پی ٹی آئی کے 380 کارکنوں کو مختلف مقامات سے حراست میں لیا گیا۔
    • وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاوہ صوبہ پنجاب اور بلوچستان میں بھی دفعہ 144 نافذ ہے۔
    • اسلام آباد انتظامیہ کے مطابق پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیشِ نظر فیض آباد انٹرچینج پر رینجرز تعینات ہیں۔
    • وفاقی دارالحکومت کے تمام تعلیمی ادارے آج بند رکھنے کا اعلان کیا گیا۔
    • اسلام آباد کے باسیوں کو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس تک رسائی اور واٹس ایپ سے ڈاؤن لوڈ اپ لوڈ میں دشواری کا سامنا ہے۔
  10. پی ٹی آئی احتجاج: بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع کے قافلے موٹر وے پر موجود

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے قافلے اس وقت موٹر وے پر پنڈی گھیب کے مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں پنجاب پولیس کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔

    پنڈی گھیب ضلع اٹک کی ایک تحصیل ہے۔

    بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق اس قافلے میں بڑی تعداد میں لوگ شامل ہیں۔ قافلے میں شامل لوگوں نے عیسیٰ خیل اور پھر داؤد خیل کے مقام پر رکاوٹوں کو عبور کیا ہے۔

    اس قافلے میں بلوچستان کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، لکی مروت اور جنوبی پنجاب کے لوگ شامل ہیں۔

    اس قافلے کی قیادت علی امین گنڈاپور کے بھائی عمر امین گنڈاپور اور پنجاب اور بلوچستان کے رہنما کر رہے ہیں۔

  11. علی امین گنڈاپور کی قیادت میں پی ٹی آئی کا قافلہ کہاں پہنچا ہے؟

    پاکستان تحریک انصاف کی ’فائنل کال‘ کے لیے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں آج سہہ پہر پشاور سے روانہ ہونے والا احتجاجی قافلہ چھج انٹر چینج کے قریب پہنچ چکا ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف پشاور ریجن کے صدر ارباب عاصم نے بی بی سی کے عزیز اللہ خان کو بتایا ہے کہ ان کا قافلہ وزیر اعلی علی امین گنڈہ پور کی قیادت میں اب سے تھوڑی دیر پہلے یعنی تقریباً 9 بجے چھج انٹر چینج کے قریب پہنچنے والا تھا۔

    ان کا کہنا تھا بشری بی بی سمیت دیگر قائدین بھی اس قافلے میں شامل ہیں۔

    ارباب عاصم نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اس قافلے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں اور ان کو عبور کرتے کرتے وقت لگ رہا ہے۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ کہ قافلے میں شامل قائدین نے بتایا ہے کہ ہو سکتا ہے آج رات موٹر وے پر ہی گزارنی پڑے اور صبح اسلام آباد میں داخل ہوں گے۔

  12. عمران خان کی 24 نومبر کی ’فائنل کال‘: آج پورا دن کیا ہوتا رہا ؟

    • پاکستان تحریک انصاف کی ’فائنل کال‘ کے لیے احتجاجی قافلہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں آج سہ پہر پشاور سے نکلا۔
    • اس قافلے میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی شامل ہیں۔ آخری اطلاعات آنے تک یہ قافلہ پنجاب کی حدود میں داخل ہو چکا ہے۔
    • پشاور کے علاوہ ملک کے دیگر شہروں سے بھی پی ٹی آئی کارکنان اسلام آباد کے لیے نکلے ہیں۔
    • تاہم اسلام آباد کے داخلی راستوں پر کئی مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین کی جانب سے پولیس پر شدید پتھراؤ کیا گیا ہے۔
    • پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کر رہی ہے اور پی ٹی آئی کارکنان پر لاٹھی چارج بھی کیا گیا ہے۔ تاہم بی بی اس کی تصدیق کرنے سے قاصر ہے۔
    • اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے اور پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاری کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
    • اسلام آباد پولیس کے مطابق مجموعی طور پر اب تک پی ٹی آئی کے 380 کارکنوں کو مختلف مقامات سے حراست لیا گیا ہے۔
    • اسلام آباد کی انتظامیہ کے مطابق پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیشِ نظر فیض آباد انٹرچینج پر رینجرز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔
    • اسلام آباد کی انتظامیہ کے مطابق شہر میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیشِ نظر فیض آباد انٹرچینج پر رینجرز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔
    • وفاقی دارالحکومت کے تمام تعلیمی ادارے کل بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
    • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پولیس ڈی چوک کی نگرانی کر رہی ہے، اگر کوئی احتجاجی آئے گا تو اسے فوراً گرفتار کیا جائے گا۔
    • سنیچر سے ہی اسلام آباد کے داخلی راستوں کو سیل کر دیا گیا تھا۔ موٹرویز کے علاوہ ٹرانسپورٹ اڈے بھی بند کیے گئے ہیں۔
    • اسلام آباد کے باسیوں کو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس تک رسائی اور واٹس ایپ سے ڈاؤن لوڈ اپ لوڈ میں دشواری کا سامنا ہے۔
  13. پی ٹی آئی کا قافلہ اٹک کے قریب، اسلام آباد کے داخلی راستوں پر کارکنان اور پولیس میں جھڑپوں کی اطلاعات

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کی ’فائنل کال‘ کے لیے احتجاجی قافلہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں اٹک کے قریب پہنچ چکا ہے، اس کے علاوہ دیگر صوبوں اور شہروں سے بھی پی ٹی آئی کارکنان اسلام آباد کے لیے نکلے ہیں۔

    تاہم اسلام آباد کے داخلی راستوں پر کئی مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔

    اسلام آباد پولیس کا دعویٰ ہے کہ کھنہ پل کے مقام پر مظاہرین نے پولیس پر شدید پتھراؤ کیا ہے جس کے نتیجے میں ایک اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

    پولیس کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین کی جانب سے پولیس گاڑی پر شدید پتھراؤ جاری ہے۔

    اس سے قبل شمس آباد کے مقام پر پولیس اور پی ٹی آئی کے کارکنان کے درمیان تصادم ہوا۔

    پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کر رہی ہے اور پی ٹی آئی کارکنان پر لاٹھی چارج بھی کیا گیا ہے۔ تاہم بی بی اس کی تصدیق کرنے سے قاصر ہے۔

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاری کا سلسلہ بھی جاری ہے اور مجموعی طور پر اب تک پی ٹی آئی کے 380 کارکنوں کو مختلف مقامات سے حراست لیا گیا ہے۔

    اسلام آباد کی انتظامیہ کے مطابق پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیشِ نظر فیض آباد انٹرچینج پر رینجرز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

  14. ’اپنی ساری طاقت راستہ کھولنے میں لگانی ہے‘ علی امین گنڈاپور

    وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی قیادت میں پی ٹی آئی کارکنان اسلام آباد کی جانب رواں ہیں اور قافلے میں عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی بھی شامل ہیں۔

    صوابی میں کارکنان سے خطاب میں علی امین گنڈا پور کا کہنا ہے کہ ’بھائیوں منظم ہو کر جانا ہے اور اپنی ساری طاقت راستہ کھولنے میں لگانی ہے۔‘

    صوابی انٹرچینج سے یہ قافلہ اسلام آباد کی جانب روانہ ہو چکا ہے۔

  15. راستے بند مگر پی ٹی آئی کے قافلے اسلام آباد کی جانب رواں

    پاکستان تحریک انصاف کے آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاج کے لیے پشاور سے احتجاجی قافلے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں روانہ ہو چکے ہیں جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی سے 350 کارکنان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

    پی ٹی آئی کے احتجاج کے لیے کی جانے والی تیاریاں اور حکومتی حکمت عملی کے حوالے سے تازہ ترین معلومات جانیے بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید سے۔

    فلمنگ اور ایڈیٹنگ: نعمان مسرور

  16. فیض آباد میں رینجرز تعینات، اسلام آباد کے تعلیمی ادارے کل بند رہیں گے

    اسلام آباد کی انتظامیہ کے مطابق شہر میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیشِ نظر فیض آباد انٹرچینج پر رینجرز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

    ادھر ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں موجودہ صورتحال کے پیش نظر تمام تعلیمی ادارے کل بند رہیں گے۔

    نوٹیفکیشن کا اطلاق وفاقی دارالحکومت کے تمام تعلیمی اداروں پر ہو گا۔

    ایکس پر پوسٹ میں ڈی سی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے نوٹیفکیشن کچھ ہی دیر میں جاری کر دیا جائے گا۔

  17. اسلام آباد میں پی ٹی آئی کا احتجاج: معاملات یہاں تک کیسے پہنچے؟

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کی ’فائنل کال‘ کے لیے پشاور سے احتجاجی قافلے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں راونہ ہو چکے ہیں، اس کے علاوہ دیگر صوبوں اور شہروں سے بھی پی ٹی آئی کارکنان اسلام آباد کے لیے نکلے ہیں۔

    اسلام آباد کے علاوہ پنجاب اور بلوچستان میں دفعہ 144 نافذ ہے اور اسلام آباد اور راولپنڈی سے احتجاج کرنے والے 350 کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    اسلام آباد پولیس نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ملک کے دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ ہے اور ’قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔‘

    سنیچر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اسلام آباد پولیس کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر شہر میں امن عامہ کے قیام کو یقینی بنایا جائے گا۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ کسی بھی غیرقانونی عمل کا حصہ نہ بنیں۔‘

    اب سے کچھ دیر قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پولیس ڈی چوک کی نگرانی کر رہی ہے، اگر کوئی احتجاجی آئے گا تو اسے فوراً گرفتار کیا جائے گا۔

    پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیش نظر سنیچر سے ہی اسلام آباد کے داخلی راستوں کو سیل کر دیا گیا تھا۔ موٹرویز کے علاوہ ٹرانسپورٹ اڈے بھی بند کیے گئے ہیں۔

    انٹرنیٹ، سوشل میڈیا ایپس اور واٹس ایپ تک رسائی میں خلل

    اسلام آباد کے باسیوں کو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس اور واٹس ایپ سے ڈاؤن لوڈ اپ لوڈ میں دشواری کا سامنا ہے۔

    پاکستانی حکومت نے عندیہ دیا تھا کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کے موقع پر ’سکیورٹی کے خدشات والے علاقوں‘ میں موبائل انٹرنیٹ اور وائی فائی سروسز بند کی جا سکتی ہیں۔

    سنیچر کو وزارتِ داخلہ کے ترجمان کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ صرف سیکورٹی کے خدشات والے علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ اور وائی فائی سروس کو بند کرنے یا نہ کرنے کا تعین کیا جائے گا۔

    وزارتِ داخلہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کے باقی حصوں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس معمول کے مطابق چلتی رہے گی۔

    تاہم ترجمان کی جانب سے یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ ’سکیورٹی کے خدشات‘ والے علاقے کون سے ہیں اور وہاں موبائل انٹرنیٹ یا وائی فائی سروس کتنے دورانیے کے لیے بند کی جائے گی۔

    اس سے قبل وزیر داخلہ محسن نقوی نے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر سے رابطہ کرکے انھیں بتایا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے تحت ان کی جماعت کو وفاقی دارالحکومت میں احتجاج کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔

    وزیر داخلہ نے پی ٹی آئی کے سربراہ کو اس حوالے سے آگاہ کیا کہ 24 نومبر سے 27 نومبر تک بیلاروس کے صدر کی قیادت میں 80 رکنی وفد اسلام آباد میں موجود ہوگا۔

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ’ہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے پابند ہیں۔ کسی جلوس، دھرنے یا ریلی کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’بیلاروس کا اعلی سطح کا وفد 24 نومبر کو اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔ بیلاروس کے صدر 25 نومبر کو پاکستان پہنچیں گے۔‘

    بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پارٹی سے مشاورت کے بعد حکومت کو حتمی رائے سے آگاہ کیا جائے گا۔ تاہم محسن نقوی نے اب سے کچھ دیر قبل بتایا ہے کہ بیرسٹر گوہر نے تاحال انھیں کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

    یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے وزیر داخلہ کو تحریک انصاف سے رابطہ کا حکم دیا تھا۔

    یاد رہے رواں مہینے 13 نومبر کو پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے اسلام آباد تک لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس مرتبہ ان کے کارکنان دارالحکومت چار مطالبات کے ساتھ آ رہے ہیں۔

    عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کیے جانے والے پیغام میں کہا گیا تھا کہ: ’میری تمام پاکستانیوں سے اپیل ہے کہ 24 نومبر کو اسلام آباد پہنچیں اور مطالبات کی منظوری تک گھروں کو واپس نہ جائیں۔‘

    وہ چار مطالبات کیا ہیں؟

    • عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی
    • 26ویں آئینی ترمیم کا خاتمہ
    • جمہوریت اور آئین کی بحالی
    • مینڈیٹ کی واپسی

    اگست 2023 میں عمران خان کی قید اور 2024 میں ملک میں عام انتخابات کے بعد پی ٹی آئی نے متعدد احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ اس دوران ان کے کئی رہنما، درجنوں کارکنان کو گرفتار کیا گیا اور ہر احتجاج کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں اور جماعت کے کارکنان کے درمیان تصادم دیکھنے میں آیا۔

    ہر احتجاج کے موقع پر راولپنڈی اور خصوصاً اسلام آباد میں کاروبارِ زندگی کبھی جزوی اور اور کبھی مکمل طور پر بند ہو گیا۔

    تازہ ترین احتجاج پی ٹی آئی کی جانب سے اکتوبر کے آغاز میں کیا گیا تھا جس کا ڈراپ سین اس وقت ہوا تھا جب اسلام آباد پہنچنے پر احتجاج کی سربراہی کرنے والے علی امین گنڈاپور احتجاج چھوڑ کر خیبرپختونخوا ہاؤس چلے گئے تھے جس کے بعد ان کے لاپتہ ہونے کی خبریں گردش کرنے لگی تھیں۔ تاہم ایک روز بعد انھیں خیبرپختونخوا اسمبلی میں خطاب کرتے دیکھا گیا تھا۔

    ایسے میں لوگوں کے ذہنوں میں سوال ہے کہ آج 24 نومبر کا احتجاج ماضی سے کتنا مختلف ہو گا؟

  18. اگر کوئی احتجاجی ڈی چوک آئے گا تو اسے فوراً گرفتار کیا جائے گا: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ڈی چوک کی نگرانی کر رہے ہیں، اگر کوئی احتجاجی آئے گا تو اسے فوراً گرفتار کیا جائے گا۔

    ڈی چوک پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے اس راستے پر آنے کی کوشش کی ہے جس بیلاروس کے وفد نے آنا ہے۔ مگر پولیس نے روٹ کلیئر کیا اور فیض آباد پر جتنے لوگ آئے تھے انھیں گرفتار کیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس بار سڑکیں اتنی بند نہیں، جتنا پچھلی مرتبہ بند کیں تھیں اور موبائل سروس چل رہی ہے ، موبائل پر انٹرنیٹ بند ہے۔

    محسن نقوی نے بتایا کہ انھوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر سے رابطہ کیا تھا مگر انھیں ابھی تک ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا ہے۔

  19. وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈا پور پی ٹی آئی کارکنان کے ہمراہ صوابی پہنچ گئے

    وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈا پور پی ٹی آئی کارکنان کے ہمراہ صوابی پہنچ گئے ہیں۔

    اس قافلے میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی موجود ہیں۔

  20. بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پور کی قیادت میں پی ٹی آئی کا قافلہ پشاور سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گیا

    عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی قیادت میں پی ٹی آئی کا قافلہ پشاور سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہو چکا ہے۔

    بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا کہنا ہے کہ رکاوٹیں ہٹانے کے لیے پورا پورا بندوبست کیا گیا ہے۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ گذشتہ رات حکومت نے رکاوٹیں ہٹانے والی مشینریوں پر فائرنگ کی اور آگ لگانے کی کوشش کی۔

    بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے آگ لگانے کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے ہمارے مطالبات پورے کریں، ورنہ بنگلہ دیش جیسی صورتحال کے لیے تیار رہیں۔